ملفوظ 320: اظہار عیوب میں شیخ سے شرمانے کی وجہ

اظہار عیوب میں شیخ سے شرمانے کی وجہ ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اظہار عیوب میں شیخ سے شرمانے کی دو ہی وجہ ہو سکتی ہیں یا تو اس سے متعلق یہ خیال ہے کہ وہ امراض کو سن کر اس کو حقیر سمجھے گا یا یہ کہ کسی سے کہے گا ـ تو شیخ میں یہ دونوں احتمال بالکل مفقود ہوتے ہیں اگر ایسا نہیں تو وہ شیخ نہیں ـ

ملفوظ 319: اپنی اصلاح کی طرف سے توجہ سے مسرت

اپنی اصلاح کی طرف سے توجہ سے مسرت فرمایا : کہ جی یوں چاہتا ہے کہ دنیا اپنی اصلاح میں لگی رہے اور جب خدا تعالی بصیرت دوسروں کی اصلاح کی عطا فرمائیں تو پھر دوسروں کی اصلاح میں بھی مشغول ہو جاؤ مجھے تو بڑی مسرت ہوتی ہے جب کوئی مسلمان اپنی اصلاح کی جانب توجہ کرتا ہے ـ

ملفوظ 318: حصول تواضع کا طریقہ

حصول تواضع کا طریقہ ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت یہ کیسے معلوم ہو کہ مجھ میں تواضع ہے فرمایا کہ اگر یہ خیال ہوا کہ مجھ میں تواضع ہے تو یہ کبر ہے اس کے تواضع ہونے کی طرف خیال نہ کرے اپنے کو مٹاتا رہے ـ خلاصہ یہ ہے کہ بہترین علاج اس کا یہ ہے کہ اپنے امراض وحالات کی اطلاع اپنے شیخ کو دیتا رہے وہ جو تعلیم کرے اس پر عمل کرتا رہے اس کی تعلیم اور اس کے اقوال میں مزاحمت نہ کرے ـ اگر فرضا اپنے امراض کسی کو معلوم نہ ہوں جس سے اطلاع کر سکے تو وہ فضائل کا اکتساب کر لے جیسے شکر توکل وغیرہ ـ بس کسی نہ کسی طرح لگا ہے انشاءاللہ ایک روز ایسا آئے گا کہ یہ بالکل رذائل سے پاک و صاف ہو جائے گا اسی لگے رہنے کو فرماتے ہیں ؎ اندریں رہ می تراش ومی خراش ٭ تادم آخر دمے فارغ مباش ( اس راستہ میں اتار چڑھاؤ ہیں آخردم تک ایک دم کے لئے غافل مت ہو )

ملفوظ 317: تواضع کے بغیر طریق بے کار ہے

تواضع کے بغیر طریق بے کار ہے ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ جس شخص کو داخل طریق ہو کر تواضع میسر نہیں ہوئی وہ باکل محروم ہے جیسے ایک امیر کبیر لڑکی سے کسی نے شادی کی لیکن وہ رتقاء ( بانجھ) تھی ـ تو مقصود نکاح تو حاصل نہ ہوا ـ خاوند کی نظر میں دو کوڑی کی نہیں ـ اسی طرح بدوں تواضع داخل طریق ہونا بیکار ہے ـ فرماتے ہیں ؎ ایں ہمہ ہاست لیکن ہست نیست ٭ نا فرشتہ لا نشد اہر یمنے ست ( یہ تمام چیزیں موجود ہیں مگر وجود حقیقی ان کا نہیں ہے ـ جب تک فرشتے کو درجہ فنا کا حاصل نہ ہو تو شیطان ہے )

ـ ملفوظ 316: مثنوی سے استفادہ کا طریقہ

مثنوی سے استفادہ کا طریقہ فرمایا ! کہ حضرت حاجی صاحبؒ فرمایا کرتے تھے کہ میرے اشکالات باطنی مثنوی مولانا روم رحمتہ اللہ علیہ سے حل ہو جاتے ہیں ـ اور حضرت گنگوہیؒ فرمایا کرتے تھے کہ میرے ایسے اشکالات مکتوبات قدوسیہ سے حل ہوتے ہیں ـ اور اسی سلسلہ میں یہ بھی فرمایا کہ تجربہ سے معلوم ہوا کہ مثنوی سے خالی الذہن شخص کا استنباط گمراہی ہے ـ صحیح طریق یہ ہے کہ مسائل دوسری جگہ سے معلوم کر لے پھر اس پر مثنوی کو منطبق کر لے یہ مثنوی دانی کا بڑا کمال ہے اس فائدہ اور اصل کو ہیش نظر رکھو تو فائدہ کامل ہو گا ـ

ملفوظ 315: حدیث جبرئیلؑ کا ایک جملہ

حدیث جبرئیلؑ کا ایک جملہ فرمایا ! حدیث جبرئیلؑ جو مشکوۃ میں ہے عجبنالہ یسالہ و یصدقہ اس میں شبہ یہ ہے کہ استاذ رات دن شاگردوں کے سوال پر تقریر کرتا ہے اور شاگرد بجا وغیرہ کہتا ہے تو اس اجتماع میں تعجب کی کیا بات ہے جواب یہ ہے کہ لہجہ کا فرق منشاء ، تعجب کا ہے شاگرد کا بجا کہنا اور لہجہ سے ہے اور استاد کا یہ کہنا کہ ٹھیک ہے اور لہجہ سے یعنی شاگرد کا لہجہ نیاز مندانہ ہوتا ہے اور استاد کا حاکمانہ لہجہ ہوتا ہے تو وہاں حدیث میں لہجہ استادانہ تھا اس لئے تعجب ہوا کہ جب معلوم ہے تو پوچھتے کیوں ہیں ـ

ملفوظ 314: کلید مثنوی میں چند چیزوں کا التزام

کلید مثنوی میں چند چیزوں کا التزام فرمایا ! کہ میں نے شرح مثنوی میں ان امور کا التزام کیا ہے کہ نہ شریعت سے خروج ہو ـ نہ فن تصوف سے خروج ہو اور توجیہ میں تکلف نہ آنے پائے ـ

ملفوظ 313: زکوۃ کی رقم اور اہل مدارس

زکوۃ کی رقم اور اہل مدارس فرمایا ! کہ اہل علم کو بھی چاہئے خصوص اہل مدارس کو ـ کہ زکوۃ کا روپیہ جو مدرسہ میں دیا جاتا ہے اس کو فورا تملیک کر کے مدرسہ میں داخل کرنا چاہئے ورنہ بصورت عدم تملیک اگر مزکی ( زکوۃ دینے والا) مر گیا تو اس مال زکوۃ میں میت کے ورثاء کا حق متعلق ہو جائے گا نیز حولان حول کے بعد اس پر زکوۃ بھی واجب ہو گی اگر وہ بقدر نصاب ہوا

ملفوظ 312: مشائخ کے ترکہ کے تبرکات میں ورثاء کا حق

مشائخ کے ترکہ کے تبرکات میں ورثاء کا حق فرمایا ! کہ یہ آجکل لوگوں کی بڑی غلطی ہے کہ بعض مشائخ اکابر کے ملبوسات وغیرہ کو ان کی وفات کے بعد صرف جانشین سجادہ نشین رکھ لیتا ہے حالانکہ اس میں سب ورثاء کا حق ہے اس میں بڑی احتیاط اور توجہ کی ضرورت ہے ـ

ملفوظ 311: سردی میں رساول رات کو نہ کھانا

سردی میں رساول رات کو نہ کھانا ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ سردی میں رساول رات کو تندرست کو بھی نہ کھانا چاہئے اگر نمونیہ نہ ہوگا تو نمونیہ کا مونہ تو ہو سکتا ہے ـ