مبتدی کو مختلف بزرگوں کے پاس بیٹھنا مناسب نہیں ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ مبتدی کو مختلف اہل حق کے پاس بیٹھنا بھی مضر ہے چہ جائیکہ اہل باطل یا اہل بدعت کے پاس بیٹھے ہاں اگر اہل حق کا مذاق متحد ہو تو مضائقہ نہیں ـ جن کے مذاق متحد نہیں میں اپنے لوگوں کو ایسے بزرگوں کے پاس بیٹھنے سے بھی منع کرتا ہوں چاہے وہ اپنے ہی بزرگوں میں سے کیوں نہ ہوں نہ اس لئے کہ یہ معصیت ہے بلکہ اس لئے کہ اس میں طالب کا قلاب مشوش ہوجاتا ہے ـ
اقوال
ملفوظ 329: غیر مقلد اور بد تہذینی
ملفوظ 329: غیر مقلد اور بد تہذینی ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ غیر مقلدوں میں بد گمانی کا مرض بہت زیادہ ہے ـ ایک غیر مقلد صاحب محض اس وجہ سے مقلد ہو گئے کہ ان میں حقیقی دین نہ دیکھا اور یہ کہتے تھے کہ میں نے غیر مقلدوں کو دیکھا کہ ان میں تقوی طہارت تو ہے ہی نہیں پکے دنیا دار ہیں بس نماز روزہ ہی کے پابند ہیں معاملات بہت ہی گندے ہیں حقوق العباد کا تو ذرہ برابر ان لوگوں کو خیال نہیں الا ماشاء اللہ ـ اور فرمایا کہ اکثر پکے محب دنیا ہیں ـ بزرگوں سے بد گمانی اس قدر بڑھی ہوئی ہے جس کا کوئی حد حساب نہیں اور اس سے آگے بڑھ کر یہ ہے کہ بد زبانی تک پہنچے ہوئے ہیں ادب اور تہذیب ان کو چھو بھی نہیں گئے ہاں بعضے محتاط بھی ہیں وقلیل ماھم ـ
ملفوظ 328: والدین اور بچوں کی تربیت
والدین اور بچوں کی تربیت ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت ! میرے لڑکے بہت ہی بد شوق ہیں تعلیم کی طرف ان کو قطعا التفات اور رغبت نہیں اس سے میرا قلب پریشان رہتا ہے ـ فرمایا کہ قلب کے پریشان اور مشوش رکھنے کی کیا ضرورت ہے مومن کو پریشان کرنے والی چیز بجز ایک چیز کے اور کوئی چیز نہیں وہ حق تعالی کی عدم رضا ہے اس سے تو مومن کے قلب میں جتنی بھی پریشانی ہو اور جو بھی حالت ہو وہ تھوڑی ہے اور جبکہ رضا کا اہتمام ہے اپنی وسعت اور قدرت کے موافق تو کوئی وجہ نہیں کہ مومن کا قلب پریشان اور مشوش ہو ـ اس لئے کہ تدبیر ہمارے ذمہ ہے مثلا تعلیم اولاد کیلئے شفیق استاد کا تلاش کر دینا کاغذ ، قلم دوات کا مہیا کر دینا کتابیں قرآن شریف کا خرید دینا اور مزید بر آں علم کے منافع اور علم دین کے فضائل سنا کر ترغیب دیدینا وقتا فوقتا نگرانی اور دیکھ بھال کر لینا ـ بس اگر یہ سب کچھ ہے تو ہم صرف اسی کے مکلف تھے آ گے ثمرہ کے ہم ذمہ دار نہیں اس لئے کہ ثمرہ کا مرتب ہونا یا نہ ہونا ہمارے اختیار سے باہر ہے ـ خلاصہ یہ ہے کہ اختیاری کاموں کو انسان کر لے اور غیر اختیاری کے پیچھے نہ پڑے ـ اصل سبب پریشانی کا غیر اختیاری کاموں کے کاموں کے درپے ہونا ہے ـ بھائی اکبر علی مرحوم بہت ہی دانش مند تھے اپنے بچوں کی تعلیم کے اسباب جمع کر دیے تھے اور کہا کرتے تھے کہ اسباب سب جمع ہیں اب یہ پڑھیں یا نہ پڑھیں تشدد سے کام نہ لیتے تھے اور یہ بھی کہا کرتے تھے کہ اب پڑھیں یا نہ پڑھیں ان کو اختیار ہے مجھے کوئی حسرت نہیں واقعی بڑے ہی کام کی اور سمجھ کی بات ہے ـ بھائی مرحوم کی باتیں قریب قریب دانش مندی کی ہوتی تھیں یہ بھی کہا کرتے تھے کہ زیادہ کاوش اچھی نہیں معلوم ہوتی ـ صاحب علم ہونا ضروی نہیں مسلمان ہونا ضروری ہے ـ فرمایا کہ ایک اور تدبیر نافع اس وقت ذہن میں آئی وہ یہ کہ علماء صلحاء کی صحبت میں کبھی کبھی بچوں کو بھیج دیا جایا کرے ـ بحمداللہ علماء صلحاء کی صحبت سے اتنا ضرور ہو جائیگا کہ دین اور اہل دین سے تعلق اور مناسبت پیدا ہو جائے گی ـ بزرگ بچوں کی بیعت کا اہتمام نہ کرتے تھے لیکن حضور مجالس اکابر کا ان کو بہت اہتمام تھا ـ
ملفوظ 327: اچھا کھانا ، اچھا پہننا خود مذموم نہیں
اچھا کھانا ، اچھا پہننا خود مذموم نہیں ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اچھا کھانا اچھا پہننا فی نفسہ مذموم تھوڑا ہی ہے مگر شیخ کا بعض کو ان چیزوں سے منع کرنا ایسا ہے کہ جیسے طبیب مرض کے وقت کسی مریض کو اچھی غذاؤں سے مثلا دودھ گھی سے منع کر دیتا ہے تو اس ممانعت سے ان چیزوں کا برا ہونا تھوڑا ہی سمجھا جائے گا ـ 20 رمضان المبارک 1350ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم جمعہ
ملفوظ 326: نفع کا مدار مناسبت پر ہے
نفع کا مدار مناسبت پر ہے ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ اس طریق میں نفع کا مدار مناسبت پر ہے پہلے مناسبت پیدا کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے میں جو لوگوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ کچھ روز یہاں پر آ کر قیام کرو اور زمانہ قیام میں مکاتبت مخاطبت نہ ہو اس کی صرف یہی وجہ ہے کہ مناسبت پیدا ہو جائے لوگ اس کو بہت ہی سخت شرط بتلاتے ہیں حالانکہ اس کی ہی سخت ضرورت ہے جب تک یہ نہ ہو مجاہدات ریاضات مراقبات مکاشفات سب بیکار کوئی نفع نہ ہوگا ـ ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت اگر طبعی مناسبت نہ ہو اور عقلی پیدا کر لی جائے فرمایا کہ کوئی بھی ہو ـ ہونا چاہئے نفع اسی پر موقوف ہے ـ
ملفوظ 325: صحیح اللہ کی یاد وہ ہے
صحیح اللہ کی یاد وہ ہے جو فکر اصلاح کیساتھ ہو فرمایا ! کہ بعض لوگ انا جلیس من ذکرنی سے استدلال کرتے ہیں کہ صرف اذکار ہی اصلاح کیلئے کافی ہیں کیونکہ ذکر سے قرب ہو گا اور قرب سے معاصی سے نفرت و اجتناب ہو گا اور تدابیر کی ضرورت نہیں ـ حالانکہ یہ بالکل غلط ہے کیونکہ ذکرنی میں خود تدابیر اصلاح بھی داخل ہیں تو بدوں معالجہ امراض کے ذکر ہی محقق نہیں ـ دیکھو حص حصین میں ہے بل کل مطیع اللہ فھو ذاکر ( جو اللہ تعالی کی اطاعت کرتا ہے وہی ذکر کرنے والا ہے ) سنئے ذکر کے معنی ہیں یاد ـ تو یاد تو سب طریقہ سے ہوتی ہے نہ کہ محض زبان ہی سے نام لے لے ـ کیا یہ یاد ہے کہ جس کی یاد کا دعوی ہے نہ اس سے بات کرے نہ اس کے خط کا جواب دے نہ اس سے ملے نہ اس کا کہنا مانے ـ یہ ہرگز یاد نہیں ـ تو جو ذکر بدوں اصلاح کے ہو وہ ایسی ہی یاد کی طرح سے ہے ـ
ملفوظ 324: علم بھی بڑی نعمت ہے
علم بھی بڑی نعمت ہے ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ مجھ پر ایک وقت ایسا گزرا ہے کہ میں جہل کی تمنا کرتا تھا پھر معلوم ہوا کہ یہ تمنا غلط تھی ـ کیونکہ حقیقت بھی اس علم ہی سے سمجھ میں آتی ہے لوگ کہتے ہیں کہ تبحر فی العلوم فرض کفایہ ہے وظنی انہ فی ھذا الزمان زمان مفسدۃ وقحط الرجال فرض عین ـ ( میرا گمان یہ ہے کہ اس فساد اور قحط الرجال کے زمانہ میں فرض عین ہے ) معقول و فلسفہ بھی جس پر اعتقاد نہ ہو ـ محض استعداد کے لئے پڑھا جائے خدا کی نعمت ہیں ان سے دینیات میں بہت معاونت و مدد ملتی ہے لطیف فرق ان ہی سے سمجھ میں آتے ہیں فلسفہ ـ سفہ سے تو اچھا ہے ـ
ملفوظ 323: امراض کے علاج کا طریقہ
امراض کے علاج کا طریقہ ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ علی التعاقب اپنے امراض کا علاج کرے اس طرح کہ جو اس کے نزدیک اہم ہو اس کو مقدم کرے ـ اسی طرح ایک ایک کو مصلح سے دریافت کرے جب ایک مرض کے علاج میں رسوخ ہو جائے تو دوسرا شروع کر دے اور اول کی مقاومت بھی نہ چھوڑے پھر تیسرا شروع کر دے اور پہلے دو کو نہ بھولے ـ آخری بات یہ ہے کہ امراض کا معالجہ شروع کر دے اور اتفاقی تقصیر پر استغفار کرتا رہے اس فکر میں نہ پڑے کہ کتنا نفع ہوا اور کتنا باقی رہا ـ ورنہ اسی حساب میں رہے گا اس کو چھوڑ کر کام میں لگے اور یوں سمجھے کہ میں کچھ بھی نہیں ہوا ـ روز اول ہی جیسا اہتمام رکھے اور اپنے کو معالجہ اور استغفار ہی میں ختم کر دے ـ
ملفوظ 322: حدیث من صلی صلوتنا و اکل ذبیحتنا سے ایک اشارہ
حدیث من صلی صلوتنا و اکل ذبیحتنا سے ایک اشارہ فرمایا ! حدیث میں ( جس کے یہ الفاظ ہیں من صلی صلوتنا واستقبل قبلتنا واکل ذبیحتنا فذلک المسلم الخ اکل ذبیحتنا سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ذبیحہ جو مخصوص ہو اہل اسلام کے ساتھ اس کا کھانا بھی شعائر اسلام میں داخل ہے نیز ایک لطیف اشارہ ہے اس طرف کہ آئندہ ایک زمانہ میں بعض لوگ نماز نہیں پڑھیں گے صرف گوشت کھانے کے مسلمان ہونگے ان کے اسلام کی یہی علامت ہو گی ورنہ حلی صلوتنا کے بعد اس کی کیا ضرورت تھی ـ غرض ایسوں کو بھی حقیر نہ سمجھے ـ
ملفوظ 321: اصلاحی خطوط کا مطالعہ
ملفوظ 321: اصلاحی خطوط کا مطالعہ ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ میں نے بہت سے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ میرے اصلاحی خطوط جمع کر کے مطالعہ کرتے رہا کرو ـ یہ بہت ہی مفید ہے ـ

You must be logged in to post a comment.