ملفوظ 310: شیعوں کے ایک مسئلہ پر حضرت نانوتویؒ کی ظرافت

شیعوں کے ایک مسئلہ پر حضرت نانوتویؒ کی ظرافت فرمایا ! کہ حضرت مولانا محمد قاسم صاحبؒ نے شیعہ کے اثبات نسب بلواطت پر ظرافتہ لکھا ہے کہ ان صاحبوں کے پاس کوئی منتر ہو گا کہ نطفہ پیچھے سے آ گے چلا جاتا ہے اور یہ شعر لکھا ہے ؎ جو تھے مژگان پر خوں سب وہ خار دلنشیں نکلے ٭ جنوں یہ نیشتر کیسے کہیں ڈوبے کہیں نکلے

ملفوں 309: صوفیہ کے تذکرہ سے قلب میں حرارت پیدا ہونا

ملفوں 309: صوفیہ کے تذکرہ سے قلب میں حرارت پیدا ہونا فرمایا ! کہ مشائخ صوفیہ کے تذکرہ سے میرے بدن میں حرارت پیدا ہو جاتی ہے چنانچہ اس وقت بھی پسینہ آ رہا ہے اور علماء کے تذکرہ ٹھنڈک ہوتی ہے اس سے معلوم ہوا کہ علماء اقرب الی الرحمتہ ہیں جیسے صوفیہ اقرب الی المحبت ہیں گرمی عشق پر نور جہاں کا شعر یاد آیا ؎ درر لم بسکہ گرمی عشق است ٭ موئے برسینہ ام نمی روید ( میرے سینہ میں بے حد گرمی عشق کی ہے اسلئے میرے سینہ پر بال نہیں اگتے ) جہانگیر نے اس پر اشکال کیا کہ پس”” بر سر تو چگونہ روئید ،، اس نے جواب دیا ؎ ایں موئے نیست بر سر من بلکہ خار عشق ٭ درپائے من خلیدہ و از سر بر آمدہ ( میرے سر پر یہ بال نہیں ہیں بلکہ راہ عشق میں پیروں میں جو کانٹے چھبے تھے ـ وہ سر پر نکل آئے ہیں )

ملفوظ 308: حضرت سلیم چشتیؒ اور جہانگیر

حضرت سلیم چشتیؒ اور جہانگیر فرمایا ! کہ سلیم چشتیؒ سے جہانگیر ملنے آئے انہوں نے جوں دیکھنے کیلئے اپنی گڈری مرید کو دی اور خود حجرہ میں تشریف رکھتے تھے کواڑ حجرہ کے بند تھے خادم نے دروازہ کھٹکھٹایا دریافت فرمایا کیا ہے عرض کیا کہ بادشاہ آئے ہیں فرمایا لاحول والا قوۃ میں تو سمجھا تھا کہ کوئی بڑی سی جوں نکل آئی اس کو دکھلانے کیلئے بلاتا ہے ـ

ملفوظ 307: حضرت شاہ فضل الرحمن گنج مراد آبادیؒ

ملفوظ 307: حضرت شاہ فضل الرحمن گنج مراد آبادیؒ فرمایا ! کہ میں حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب کی خدمت میں کانپور سے زیارت کیلئے حاضر ہوا رات عشاء کے بعد پہنچا ـ کیونکہ راستہ بھول گیا بڑی پریشانی ہوئی ـ اسی وقت رات کو ملا ـ ڈانٹ کر فرمایا کون ہو کہاں سے آئے ہو کیوں آئے ہو ـ میں نے کہا کہ طالب علم ہوں کانپور سے زیارت کیلئے آیا ہوں ـ فرمایا یہ آنے کا وقت ہے ـ میں نے خیال کیا کہ واقعی اتنی رات کو جانا خلاف سنت ہے فرمایا اس وقت کھانا کہاں سے لاؤں تمہارے پاس کچھ پیسے ہیں ـ میں نے کہا کہ ہاں فرمایا کہ کچھ لے کر کھا لو اور صبح کو چلے جاؤ اور خادم سے فرمایا کہ فلاح جگہ ٹھہرا دو پھر تھوڑی دیر میں بلایا میں نے دل میں سوچا کہ کچھ اور یاد آیا ہوگا ـ مگر میرے دل میں کوئی رنج نہ تھا ـ میں پہنچا اور چٹائی پر بیٹھ گیا ـ فرمایا کہ یہں تخت پر بیٹھو ـ خادم سے فرمایا کہ کھانا لاؤ ـ کھانا آیا ـ ایک پیالہ میں دال اور اسی پر روٹی ـ خادم سے فرمایا تو بڑا بدتمیز ہے ـ اس طرح مہمان کے لئے کھانا لایا کرتے ہیں ــ پھر مجھ سے دریافت فرمایا کہ کیا کھانا ہے میں عرض کیا کہ ارہر کی کی دال اور روٹی ہے فرمایا کہ آہا بڑی نعمت ہے تم تو لکھے پڑھے ہو مولانا محمد یعقوب سے پڑھا ہے اچھے آدمی تھے دیکھو صحابہ کیسی کلفت میں رہتے تھے ہم تو بہت نعمت میں رہتے ہیں ـ ذکر صحابہ کے جوش میں اٹھے میرے پاس آئے اور میری کمر پر ہاتھ رکھ کر جوش میں اشعار و احادیث پڑھتے رہے ـ پھر مجھ سے دریافت فرمایا کہ بیر لاؤں میں نے کہا کہ تبرک ہے فرمایا تبرک کیا ہوتا ـ یہ بتاؤ بیر کھا کر تمہارے پیٹ میں درد تو نہیں ہوتا میں نے کہا کہ نہیں بیر لائے ـ اس کے بعد فرمایا کہ عشاء کی نماز پڑھ کر سو جاؤ اور پھر صبح کو ملنا ـ میں نے اس وقت تک عشاء کی نماز نہ پڑھی تھی ـ میں نماز عشاء پڑھ کر سو رہا ـ صبح کی نماز اٹھ کر پڑھی اور بعد نماز ہماری طرف منہ کر کے اور مراقبہ کر کے بیٹھے ـ جمعہ کا دن تھا ـ ایک اور مہمان تھے ـ اور امیر شخص تھے ان کی جانب متوجہ ہوئے ـ دریافت فرمایا کب جاؤ گے ـ عرض کیا کہ جمعہ کی نماز کے بعد فرمایا کیا ہوگا جمعہ کی نماز کے بعد ـ انہوں نے عرض کیا کہ پھر نماز جمعہ کہاں پڑھوں گا فرمایا ـ ہم کوئی تمہاری نماز جمعہ کے ذمہ دار ہیں غرض ان کو نکال دیا ـ میں سمجھا کہ اب تیرا نمبر ہے ـ میں نے خود ہی اجازت لیلی فرود گاہ تک مجھ کو پہنچانے تشریف لائے پھر میں واپس آ گیا ـ اس کے بعد کانپور میں سلام کہلا کر بھیجا کرتے تھے ـ میں نے حج کو جاتے وقت دعا کیلئے لکھا اس پر اپنے قلم سے یہ جواب دیا از فضل الرحمن سلام علیلم ـ دعائے خیر نمودم ـایک مرتبہ اور جانا ہوا تو شروع ہی سے اچھی طرح پیش آئے ـ گرمیوں کے رمضان شریف تھے ـ دو پہر کا وقت تھا لطف کی باتیں شروع کیں کہ ہم جب سجدہ میں جاتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے پیار کر لیا اور فرمایا کہ ہماری تمنا ہے کہ ہم کو قبر میں نماز کی اجازت مل جائے ـ عجیب و غریب ہوتی تھیں ـ جذب غالب رہتا تھا مگر اس پر بھی اتباع سنت کا نہایت اہتمام فرماتے تھے ـ ایک مرتبہ ایک جذامی کو اپنے ساتھ کھانا کھلایا کیونکہ سنت ہے فرماتے تھے کہ وہ اتباع سنت کی برکت سے اچھا ہو گیا ـ اس دفعہ ہم لوگوں کو کئی دن تک اپنے پاس ٹھہرایا اور دونوں وقت میں کھانا امیرانہ آتا تھا ـ ایک واقعہ اس بار میں یہ ہوا ـ کہ حضرت کے پوتے گھر میں پٹاخے چھوڑ رہے تھے فرمایا ہم نے نہیں دیکھا پٹاخا ہم کو بھی دکھلاؤ کیا ٹھکانہ ہے کبھی پٹاخا بھی نہ دیکھا تھا ـ پٹاخے لائے گئے جب ایک چھوڑا گیا تو ڈر گئے فرمایا ہائے ری ـ پھر دوبارہ چھوڑا گیا تو نہیں ڈرے پانچ چھ چھوٹ جانے کے بعد فرمایا کہ بس جاؤ اب ہم کو ڈر لگتا ہے ـ

ملفوظ 306: قبول دعا کرامت نہیں

قبول دعا کرامت نہیں ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا ! کہ قبول دعا کرامت نہیں اس لئے کہ دعا تو عوام کی بلکہ کفار کی بھی قبول ہوتی ہے ـ دیکھو اکفر الکفرۃ افجر الفکرۃ ( سب کافروں سے بڑھ کر کافر ـ اور سب فاجروں سے بڑھ کر فاجر ) شیطان تک کی دعا قبول ہوئی اور دعا بھی کیسی جو ممتنع عادی ہے اور حسب تصریح فقہاء سوء ادب ہے ـ شیطان نے کہا تھا انظرنی الی یوم یبعثون اور وہ دعا قبول ہو گئی پھر ایسے وقت میں جبکہ عتاب ہو رہا تھا مگر کم بخت عابد تھا سمجھتا تھا کہ یہ حالت بھی مانع قبول عرض نہیں ـ

ملفوظ 304: کفار کے سود کا حکم

کفار کے سود کا حکم فرمایا ! کہ سود لینے والے اگر ابتدائی حالت میں غور کریں تو ایک ذلت اور شرمندگی محسوس ہوتی ہے یہ ذوقی دلیل ہے ـ معلوم ہوا کہ سود ہندوستان میں کفار سے اگر حلال بھی ہو تب بھی اس کی یہ خاصیت ہے جیسے کوئی لطیف المزاج اوجھڑی کھائے تو گو جائز ہے لیکن تکدر ضرور ہوگا ـ میں اس بارہ میں مستفتی کو لکھ دیا کرتا ہوں کہ میری رائے تو عدم جواز کی ہے ـ باقی دوسرے علماء کا قول جواز پر ہے ـ لہذا اختلاف سے فی الجملہ گنجائش ہے

ملفوظ 303: جہلاء کو اتنا تر نہ ہونا چاہئے

جہلاء کو اتنا تر نہ ہونا چاہئے فرمایا ! ایک صاحب نے لکھا تھا کہ کافر سے سود لینا کیوں حرام ہے میں نے لکھا کہ کافر عورت سے زنا کرنا کیوں حرام ہے ـ اس کا تو کوئی جواب نہیں شکایت کا خط آیا ـ لکھا تھا کہ علماء کو اتنی خشکی نہ چاہئے ـ جواب کیلئے ٹکٹ نہ تھا اس لئے جواب نہیں دیا گیا اگر ٹکٹ ہوتا تو یہ جواب دیتا کہ جہلاء کو بھی اتنی تری نہ چاہئے کہ اس میں ڈوب ہی جائیں ـ پھر ان صاحب سے اتفاقا قصبہ رام پور میں ملاقات ہوئی وہ وہاں سب انسپکٹر پولیس تھے کہنے لگے کہ آپ نے تو مجھ کو پہچانا نہ ہوگا میں نے کہا کہ نہیں کہا کہ میں فلاں شخص ہوں جس نے یہ سوال کیا تھا ـ میں نے کہا کہ آہا آپ سے تو پرانی دوستی نکل آئی کہنے لگے کہ آپ نے ایسا خشک جواب کیوں دیا تھا ـ میں نے کہا کہ تم تھانہ دار ہو ـ کیا ؟ مخصوصین اور عوام سب سے برتاؤ برابر ہے یا فرق ہے انہوں نے کہا کہ نہیں بلکہ فرق ہے ـ میں نے کہا کہ یہی حق ہم کو ہے آپ سے پہلے خاص تعلق نہ تھا اس لئے ایسا لکھا اب تعلق ہو گیا ہے اب ایسا نہ لکھوں گا لیکن جب تعلق کا اثر مجھ پر ہے اور میں ایسا جواب نہ دوں گا ایسا ہی اثر آپ پر ہوگا کہ آپ بھی ایسا سوال نہ کریں گے ـ میں نے سوچا کہ جب میں بندھا رہا ہوں ان کو کیوں نہ باندھوں تاکہ پھر ایسا بیہودہ سوال ہی نہ کریں ـ

ملفوظ 302: جہلاء صوفیہ اور آیت روح کی تفسیر

جہلاء صوفیہ اور آیت روح کی تفسیر فرمایا کہ قل الروح من امر ربی میں جہلا صوفیہ نے عجب گڑبڑ کی ہے جب ہی تو ابن تیمیہ وغیرہ صوفیہ پر خفا ہوتے ہیں ـ ایک اصطلاح ہے کہ عالم دو ہیں عالم امر یعنی مجردات اور عالم خلق یعنی مادیات اس اصطلاح پر آیت کی تفسیر کر لی کہ روح عالم امر سے ہے یعنی مجرد ہے تو اس کا تجرد قرآن سے ثابت کیا مگر یہ استدلال محض لغو ہے کیونکہ اصطلاح خود مقرر کی اور پھر قرآن کو اس کا تابع بنایا قل الروح من امر ربی سے تو مقصود یہ ہے کہ تم روح کی حقیقت نہیں سمجھ سکتے اتنا سمجھ لو کہ روح اللہ تعالی کے امر سے پیدا ہوئی بس اس سے آ گے کسی تفسیر کا دعوی محض گھڑت ہے ـ

ملفوظ 301:مقصود کے لئے صرف شیخ سے تعلق رکھنا چاہئے

مقصود کے لئے صرف شیخ سے تعلق رکھنا چاہئے فرمایا ! کہ ایک صاحب نے جو کہ اور بزرگ سے مرید ہیں لکھا تھا کہ میں بڑا خوش قسمت ہوں کہ مجھ سے وہ بھی راضی ہیں اور آپ بھی خوش ہیں دونوں طرف سے مطلوب حاصل ہو سکتا ہے ـ میں نے ان کی غلطی پر متنبہ کیا کہ مقصود کیلئے شیخ ہی سے تعلق ہونا چاہیے ـ اس کے تعلق کی تو یہ شان ہونا چاہئے ؎ ہمہ شہر پر ز خوباں مسنم و خیال ما ہے ٭ چہ کنم کہ چشم بد خونکند بکس نگا ہے (سارا شہر حسینوں سے بھرا ہوا ہے مگر میں اپنے ہی چاند کے خیال میں ہوں کیا کروں یہ کمبخت آنکھ کسی اور کی طرف دیکھتی ہی نہیں ) ـ

ملفوظ 300: سوال کا سلیقہ

سوال کا سلیقہ فرمایا ! کہ ایک صاحب نے لکھا تھا کہ مجھ کو سلوک کی تعلیم دیجئے میں نے لکھ دیا کہ سلوک کی حقیقت کیا ہے فرمایا کہ ایک صاحب نے خوب لکھا تھا کہ مجھ کو مطلوب کی حقیقت معلوم نہیں مگر اتنا معلوم ہے کہ کوئی شے ایسی ہے جو بزرگوں سے طلب کی جاتی ہے وہ شے اور اس کے طلب کرنے کا طریقہ بتا دیجئے مجھ کو یہ طرز بہت پسند آیا ـ یہ سلیقہ اور فہم کی بات ہے ـ