فرمایا کہ ایک مرتبہ میں ریل میں سفر کر رہا تھا میرے ایک دوست ڈپٹی صاحب میرے
ہمراہ تھے وہ محاسن الاسلام وعظ دیکھ رہے تھے ایک ہندو آریہ اسی ڈبہ میں ہمارے قریب بیٹھا ایک
دوسرے شخص سے گفتگو کر رہا تھا اندازہ سے معلوم ہوتا تھا کہ اپنے مذہب کا جاننے والا ہے اور
بولنے والا ہے وہ شخص جس سے وہ ہم کلام تھا ایک اسٹیشن پر اتر گیا اب اس طرف متوجہ ہوا اور ڈپٹی
صاحب سے کہا کہ یہ کیا کتاب ہے یہ کہ کر وہ وعظ بغرض دیکھنے کے ہاتھ سے لے لیا اور دیکھنا
شروع کیا کچھ دیر دیکھنے کے بعد دفعتہ اس کے منہ سے سبحان اللہ نکلا نہ معلوم کون سے مضمون پر اس
کی یہ حالت ہوئی اسلئے کہ وعظ تو اس کے ہی ہاتھ میں تھا فرمایا سیدھی اور سچی بات کا قلب پر اثر ہوتا
ہے اگرچہ کافر ہی ہو یہ وعظ محاسن الاسلام زمانہ فتنہ ارتداد میں ایک موضع ہے ایجو پی ضلع میرٹھ میں
وہاں پر ہوا تھا بیحد مفید ثابت ہوا اس قرب و جوار کے بعض دیہاتی ارتداد کی طرف مائل ہو گئے تھے
اسی ضرورت سے یہ وعظ ہوا تھا بفضلہ تعالی اس وعظ کو سن لینے کے بعد ان میں سے ایک شخص بھی
ارتداد کی طرف مائل نہیں رہا ـ معترضین کے تمام اعتراضوں کے جوابات اس میں دیدئے گئے ہیں
واعظین اور مبلغین کیلئے بے حد مفید چیز ہے ـ
28 شعبان المعظم 1350ھ مجلس بعد نماز جمعہ
اقوال
ملفوظ 23 : مسجد کے معاملہ میں مسلمان کی مداخلت
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت ایک مقام پر مسجد کے متعلق ہندو مسلمانوں میں جھگڑا ہو
رہا ہے ایک مسلمان جس کا نام جمال الدین ہے وہ ہندوؤں کی طرف سے مسجد کے معاملہ
میں رخنہ اندازی کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں گھر میں نماز پڑھ لیا کروں گا اور ہندوؤں سے کہتا ہے
کہ مسجد مت بننے دو میری بات توجھبی رہے گی فرمایا جمال الدین نہیں وہ تو زوال الدین ہے
عرض کیا کہ ایک بہت بڑے بزرگ سے مرید ہے ـ فرمایا کہ اس رسمی پیری مریدی کا کیا اثر ہو سکتا ہے لوگ بزرگوں کو بھی بدنام کرتے ہیں اور مسلمانوں کو جب ضعف ہوتا ہے مسلمانوں ہی کی بدولت ہوتا ہے ـ
فرمایا کہ کس قدر دلیری اور گستاخی کی بات ہے کہ مسجد کے معاملہ میں مسلمان
ہو کر مخالفت ! ایسی بات سنکر بھی دل ڈرتا ہے حق سبحانہ تعالی کے قہر سے ڈرنا چاہئے ـ جمال الدین
پر یاد آیا ریاست بھوپال میں منشی جمال الدین صاحب وزیر ریاست تھے اس وقت وزارت
منصب برائے نام ہی رہ گیا ہے اس زمانہ میں وزیر ہی سلطنت کا مالک ہوتا تھا اور ان سے رئیسہ
نے نکاح بھی کر لیا تھا اس کی وجہ سے اعزاز اور بھی بڑھ گیا تھا ـ منشی جمال الدین کے نام سے مشہور
تھے مگر عالم تھے اور نہ منشی کا لقب بھی اس وقت معمولی نہ تھا ـ
غرضیکہ ان کا بہت بڑا اثر اور اعزاز تھا ـ ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ مسجد میں لوگوں نے ان کو نماز پڑھانے کیلئے مصلے پر کھڑا کر دیا باوجود دنیا کی حیثیت سے بڑا ہونے کے انمیں حق پرستی
بہت ہی بڑھی ہوئی تھی اور جن رئیسہ سے نکاح ہوا تھا وہ بوجہ اپنی ریاست کے انتظام کے پردہ نہ کرتی تھیں ـ
یہ جس وقت مصلے پر پہنچ چکے اتفاق سے ایک مسافر ولایتی مولوی صاحب بھی وہاں
پر موجود تھے انہوں نے ان کا ہاتھ پکڑ کر مصلی پر سے کھینچ لیا کہ تمہاری بی بی پردہ میں نہیں رہتی تم کو
حق نماز پڑھانے کا نہیں کوئی اور نماز پڑھائے اب وزیر صاحب کی وجہ سے مصلے پر جائے کون ! کس کی
ہمت تھی بالخصوص ایسے گڑبڑ کے وقت جبکہ وزیر صاحب کی ناگواری کا اندیشہ تھا جب کوئی
آگے نہ بڑھا وہ مولوی صاحب ولایتی خود مصلے پر پہنچے اور اللہ اکبر کہ کر نماز کی نیت باندھ لی ـ
وزیر صاحب بے چارے کچھ نہیں بولے اور باجماعت نماز پڑھ اور سیدھے مسجد سے اس رئیسہ کے پاس
پہنچے اس وقت وہ رئیسہ اجلاس میں تھی برسر اجلاس سب کے سامنے اس رئیسہ کو مخاطب کرکے وزیر صاحب نے کہا کہ بی بی تمہارے پردہ نہ کرنے کی وجہ سے یہ واقعہ ہوا یا تم اس وقت وعدہ کرو
کہ میں پردہ میں بیٹھونگی اگر وعدہ نہیں کرتی تو تین طلاق ـ حق پرستی کا کیا ٹھکانہ اللہ اکبر !کہ برسر
اجلاس صاف کہ دیا اور ذرا جھجک نہ ہوئی ـ
بات یہ تھی کہ گو رئیسہ تھی مگر تھی قدر دان ـ اور پھر آخر بیوی ہی تھی ـ انہیں کا ایک دوسرا واقعہ ہے
تعظیم دین کا ـ ایک مرتبہ ان کے یہاں کوئی تقریب تھی اس میں بڑے بڑے لوگ مدعو تھے اہل محفل کو کھانا رکھا جا رہا تھا کہ ایک بھنگی آیا آکر عرض کیا کہ میاں سلام میں مسلمان ہونا چاہتا ہوں
وزیر صاحب نے سب کام چھوڑ چھاڑ اسے مسلمان کیا اور خدمتگار کو حکم دیا کہ اس کو حمام میں لے
جا کر غسل کراؤ اور ہمارے جوڑوں میں سے ایک جوڑہ پہنا کر لاؤ تمام حاضرین کو حیرت ـ خدمتگار
نے غسل دلا کر جوڑہ پہنا کر حاضر کر دیا کہ د ستر خوان پر بٹھلاؤ ـ د سترخوان پر بڑے بڑے لوگ تھے ـ یہ دیکھ کر لوگوں کے تیور بدل گئے منشی صاحب نے فرمایا کہ آپ صاحب پریشان نہ ہوں آپ
کے ساتھ اس کو نہ کھلاؤں گا اس کے ساتھ میں کھاؤں گا ـ یہ اس قدر پاک صاف ہے کہ اس وقت
مجلس میں بھی کوئی ایسا پاک صاف نہیں یہ ابھی مسلمان ہوا ہے اس کے تمام گناہ معاف ہو چکے ہیں
اس کے ساتھ کھانے کی دولت میں نے اپنے لئے تجویز کی ہے ـ آپ حضرات کی قسمت ایسی کہاں کہ
ایسے شخص کے ساتھ کھا کر برکت اور شرف حاصل کرو تم گھبراؤ مت میں اس کے ساتھ کھاؤں گا ـ
غرضیکہ اس نو مسلم کے ساتھ اسی وقت بیٹھ کر کھانا کھا لیا ـ کس قدر بے نفسی اور حق پرستی کی بات ہے ـ فرمایا کہ ایک مرتبہ ساری عمر میں مجھ کو ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا ـ
میں کالپی گیا تھا ایک شخص نہایت صاف ستھرا لباس پہنے ہوئے جامع مسجد میں نماز پڑھنے آیا ـ بعض لوگوں نے مجھ
سے کہا کہ یہ نو مسلم ہے پہلے بھنگی تھا اب مسلمان ہو گیا ہے یہاں کے چودھری ساتھ کھلانا تو بڑی
بات ہے اس کی چھوئی ہوئی ہاتھ کی چیز کو بھی قبول نہیں کرتے میرا وہاں پر جانا ایک جلسہ کی وجہ سے
ہوا تھا اس جلسہ میں بڑے بڑے لوگ جمع تھے اور وہ نو مسلم بھی تھا ـ
بعض لوگوں نے مجھ سے کہا کہ اس موقع پر ان لوگوں کو سمجھا دو کہ ایسا بچاؤ اور پرہیز
مسلمان ہو جانے کے بعد نہیں کرنا چاہئے اس میں اس کی دل شکنی ہے میں نے دل میں خیال کیا
کہ دل شکنی بھی نہیں اس میں تو دین شکنی کا بھی اندیشہ ہے مگر نرے سمجھانے اور زبان سے کہہ دینے سے کیا کام چلے گا ـ یہ لوگ پرانی وضع کے ہیں اثر قبول کریں گے ـ میں نے کہا بہت اچھا !
میں سمجھاتا ہوں ایک لوٹے میں پانی منگاؤ غرضیکہ پانی آیا میں نے اس نو مسلم سے کہا کہ اس کو ٹونٹی
سے منہ لگا کر پانی پیو اس نے پیا ـ اس کے ہاتھ سے لوٹا لے کر اور اسی طرح منہ لگال کر اس کا بچا ہوا
پانی جھوٹا میں نے پیا پھر میں نے اس مجمع کی طرف مخاطب ہو کر کہا تم بھی پیو اس وقت سوائے
مان لینے اور پانی کے کسی کو کوئی عذر نہ ملا سب نے طوعا و کراہا پیا ـ اس کے بعد میں نے ان
لوگوں سے کہا کہ دیکھو اب اس نو مسلم سے پرہیز نہ کرنا کہنے لگے کہ جی اسے پرہیز کرنے کا ہمارا
منہ ہی کیا رہا تم نے تدبیر ہی
ایسی اختیار کی کہ ہمارا سارا دھرم ہی لے لیا ـ اب اطمینان رکھو اس
کو تو ہم ساتھ کھلا پلا بھی لیا کریں گے ـ
فرمایا کہ مجھے یاد ہے کہ میں پی تو گیا مگر اندر سے جی رکتا تھا اللہ معاف کرے اور کچھ یہ بات اسی کے ساتھ خاص نہیں بلکہ کسی کا جھوٹا پانی یا کھانا مجھ سے نہیں کھایا جاتا ـ کچھ اندر سے
رکاوٹ ہوتی ہے اگر سبب اس کا کبر ہے تو حق تعالی معاف فرمائیں اور اگر سبب اس کا ضعف طبیعت ہے تو معذور ہے یا اگر زیادہ تاویل کوئی معتقد کرے تو یہ کہ لطافت ہے نفس بھی عجیب چیز ہے
خود ہی ایک خوب صورت عنوان تراش کر بتلا دیا میں نے کبھی بزرگوں کا جھوٹا پانی یا کھانا بھی
نہیں کھایا پیا الانادرا ـ مگر پھر بھی اللہ تعالی کا فضل و احسان ہے کہ ان کی کسی برکت سے محروم نہیں
رکھا ـ اپنے بزرگوں کے یہاں اصلی ہی چیزیں اس قدر تھیں کہ ان کی ہی برکت کافی ہو گئی ـ ان
زائد چیزوں
کی حاجت ہی نہیں ہوئی اور یہ نکتہ شاعرانہ تھا دل خوش کرنے کو بیان کر دیا ورنہ کوئی چیز
بھی ان حضرات کے یہاں زائد نہ تھی سب اصلی ہی تھیں لیکن اصلی دوسری اصلی کا بدل تھا ـ
غرض یہ حکایت ہے جو مجھ کو تمام عمر میں ایک مرتبہ پیش آئی اس پر میں حق سبحانہ تعالی کا شکر ادا کرتا ہوں کہ گو طبعا کراہت ہوئی مگر الحمداللہ عقلا اس کو نہایت خوشی کے ساتھ دل نے قبول کرلیا ـ خلاصہ یہ ہے کہ اسی حق تعالی سے ڈرنا چاہیے اس کی وہ قدرت ہے کہ کافر کو چاہیں مومن
کر دیں اور مومن کو چاہیں تو نعوذباللہ کافر کردیں خوب کسی نے کہا ہے ؎
کعبہ میں پیدا کرے زندیق کو ٭ لاوے بت خانہ سے وہ صدیق کو یہ گلزار ابراہیم کا شعر ہے یہاں صدیق سے مراد حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں جیسا کلام اللہ میں حق تعالی فرماتے ہیں
:انہ کان صدیقا نبیا وہ بت خانہ سے کعبہ میں آئے اور
زندیق سے مراد ابو جہل ہے ـ
حضرت خدا سے ڈرنا چاہئے اپنے ایمان پر کبھی انسان نازاں نہ ہو اور کسی کو حقیر نہ سمجھنا چاہئے ـ
حتی کہ کسی کافر کو بھی حقیر ذلیل نہ سمجھنا چاہئے ـ کہ شاید مسلمان ہو جائے نہ کہ مسلمان
ہونے کے بعد بھی ذلیل سمجھا جائے یہ نعوذ باللہ خدا کا مقابلہ ہے ـ خدا جانے آئندہ کیا ہونے والا
اور ہمارے ساتھ کیا معاملہ پیش آئے ـ
ملفوظ 22: تد فین کے لئے نماز جمعہ کا انتظار نہ کریں
ایک صاحب نے سوال کیا کہ نماز فجر کے بعد بروز جمعہ اگر کسی شخص کا انتقال ہو جائے تو
قبل از جمعہ اس کو دفن کیا جائے یا بعد از نماز جمعہ ؟ فرمایا کہ جلد سے جلد دفن کر دینا چاہئے جمعہ کے بعد کا انتظار
نہ کیا جائے عرض اس وجہ سے دیر کرتے ہیں کہ نماز جمعہ کے بعد نمازی زیادہ
ہو نگے ـ فرمایا مسئلہ نہ معلوم ہونے کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں بے چاروں کو خبر نہیں دیر کرنے پر سخت وعید آئی ہے ـ
عرض کیا کہ یہ بھی سنا ہے کہ جمعہ کے روز جو مر جاتا ہے اس کا حساب قیامت
تک فرشتے نہیں لیتے فرمایا اس حدیث کا صحیح محمل یہی ہے مگر یہ بھی یاد رکھنے کی بات ہے کہ یہ یوم
جمعہ کی فضیلت ہے نماز جمعہ سے قبل یا بعد کو کوئی دخل نہیں ـ
ملفوظ 21: گناہ کبیرہ اور صغیرہ کا سوال
فرمایا کہ ایک خط آیا ہے پوچھتے ہیں کہ تصویر کا رکھنا کبیرہ ہے یا صغیرہ ؟
جواب : میں نے لکھا ہے کہ کہ کبھی کپڑوں کے بکس میں کبھی آ گ رکھتے ہوئے بھی یہ تحقیق کی ہے کہ یہ چھوٹی چنگاری ہے یا بڑا انگارہ ـ
ملفوظ 20 تصوف کی پہلی شرط اسلام ہے
ایک صاحب نے دریافت کیا کہ ایک ہندو میرے پاس آتا ہے اس کو تصوف کی باتوں
سے بے حد دل چسپی ہے اس سے اس قسم کی باتیں ہوتی ہیں تو وہ سن کر بے حد خوش ہوتا ہے اب یہاں تک نوبت آ گئی ہے کہ اس نے مجھ سے کہا کہ کچھ پڑھنے کو بتلاؤ میں نے اس خیال سے کہ اچھا ہے
اس کو اسلام سے اور قرب و محبت ہو گی ذکر کی تعلیم کی ـ اب بے حد معتقد ہو گیا ہے اور کہتا ہے
کہ مجھ کو جو تم نے پڑھنے کو بتلایا اس سے بڑا ہی جی خوش ہوتا ہے ـ آج تک کسی اپنی مذہبی چیز کے
پڑھنے سے یہ بات نہیں پیدا ہوئی تھی اب اسلام کی بہت تعریف کرتا ہے ـ حضرت والا ان
کی یہ تمام گفتگو سن کر فرمایا یہ طریق مضر ہے ـ صوفی ہونے کی اول اور اعظم شرط اسلام ہے جب
تک یہ نہ ہو سب بے کار ہے ـ اور اس طریق سے اس کو اس کے ساتھ قرب نہ ہوگا بلکہ بعد ہوگا اور
یہ باریک بات ہے جس کے سمجھ لینے کی ضرورت ہے ـ
لو سنو ! ایک شخص ہندو جو ایک بزرگ سے بیعت تھا ان کی وفات کے بعد وہ حضرت مولانا گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں حضرت مولانا کے ایک معتقد مولوی صاحب کا سفارشی
پرچہ لیکر بغرض تجدید بیعت حاضر ہوا اور حضرت مولانا سے درخواست کی کہ مجھ کو بیعت فرما لیں
مولانا نے جواب میں صاف فرما دیا کہ پہلے اسلام لے آؤ ـ وہ مسلمان نہیں ہوا ـ اور واپس چلا گیا ـ
اس پر بعض حاضرین نے حضرت مولانا سے عرض کیا کہ اگر حضرت بیعت فرما لیتے تو اسلام سے
اس شخص کو کچھ قرب ہی ہو جاتا ـ حضرت مولانا نے فرمایا کہ نہیں تم اس کو نہیں سمجھ سکتے اس کو اسلام
سے زیادہ بعد ہو جاتا وجہ یہ کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ذکر و شغل میں جو یکسوئی ہوتی ہے اس سے بعض
اوقات کشف وغیرہ ہونے لگتا ہے جو کہ کوئی کمال مقصود نہیں مگر اس سے وہ ذاکر غلطی سے یہ سمجھنے لگتا ہے کہ
وصول الی اللہ کے لئے اسلام بھی شرط نہیں حالانکہ وصول سے ان چیزوں کو کوئی تعلق نہیں ـ
دوسری بات یہ ہے کہ اس سے دوسرے لوگوں کے عقائد خراب ہونے کا اندیشہ ہے ـ بعض لوگ یہ
خیال کرتے کہ تصوف میں اسلام بھی شرط نہیں ـ
اب رہا یہ سوال کہ ان بزرگ نے اس ہندو کو کیوں مرید کر لیا تھا بات یہ ہے جن بزرگ
سے وہ مرید ہوا تھا وہ مجذوب تھے ان لوگوں کی حالت ایسی ہی ہوتی ہے اگر نظر ہو گئی تو چھوٹی چھوٹی
اور معمولی معمولی باتوں پر ہو جاتی ہے اور نہ ہو تو بڑی سے بڑی بات پر نہیں ہوتی ـ اس لئے کہ جذب کی وجہ سے استغراق کیفیت ان حضرات پر غالب رہتی ہے اس لئے ان کا فعل حجت نہیں ـ
فرمایا کہ کیسی عجیب و غریب حضرت مولانا نے تحقیق بیان فرمائی واقعی یہ حضرات حکیم ہوتے ہیں
محققانہ شان ان کی نظر حقیقت پر پہنچتی ہے ـ
ملفوظ 19 : جدت بھی ایک آفت ہے
فرمایا کہ آج کل کا طرز معاشرت دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ لوگ اکتا گئے ہیں بزرگوں
کے طریق سے ـ مگر یہ جدت بھی ایک آفت ہے ـ
ملفوظ 18: حضرت سے تعلق کا نتیجہ
ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت آج سہارن پور سے سوار ہونے کے وقت
اسٹیشن پر ساتھیوں کی وجہ سے اسباب زائد ہونے کا شبہ ہوا کیونکہ ان کا بھی اسباب تھا اس پر میں
نے بابو سے وزن کرنے کو کہا بابو انکار کرتا تھا اور میں اصرار کرتا تھا ـ اس واقعہ کو ایک اور ہندو دیکھ
رہا تھا جب گاڑی چھوٹ گئی تو اس نے ریل میں مجھ سے سوال کیا کہ آپ جو اسباب کے بارہ میں
اس قدر احتیاط اور بابو سے اصرار کر رہے تھے آپ کا تعلق مولانا اشرف علی صاحب سے معلوم ہوتا ہے
حضرت والا نے سن کر فرمایا کہ بعض بات میں آدمی بدنام ہو جاتا ہے اس پر ایک دوسرے مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت تقوی کا حاصل تو یہی ہے تبسم آمیز لہجہ میں فرمایا اس کا دوسرا لقب آپ نے سنا ہوگا تو ہم !
فرمایا کہ میرے ایک دوست ہیں مدارس کے انسپکٹر ـ ایک مرتبہ دورہ میں ایک مدرسہ
میں ٹھہرنے کا اتفاق ہوا ـ اہل مدرسہ نے مغرب کے بعد اس کمرہ میں روشنی کا انتظام کیا جس میں
ان کا قیام تھا انہوں نے کہا کہ اگر یہ روشنی مدرسہ کی ہے تو مجھ کو ضرورت نہیں اتفاق سے وہاں
پر امیر شاہ صاحب ٹھہرے ہوئے تھے انہوں نے جب یہ بات سنی سنتے ہی فرمایا کہ یہ فلاں شخص ہے ( مراد میں تھا ) تعلق رکھنے والے معلوم ہوتے ہیں اور پھر بہت محبت سے ملے ـ فرمایا کہ ایک اور واقعہ سنئے !
ایک بزرگ اپنی ہی جماعت کے ہیں ان کا قیام مدرسہ جونپور میں تھا وہاں پر مسجد میں
ایک طالب علم مسجد کی روشنی میں کتاب دیکھ رہے تھے اور خاص وقت ہو جانے سے فورا وہ چراغ
گل کر دیا اور اپنا روشن کر لیا وہ طالب علم کچھ دنوں یہاں پر رہ گئے تھے وہ بزرگ بے ساختہ فرماتے
ہیں یہ طالب علم وہاں سے تعلق رکھنے والا معلوم ہوتا ہے میرا نام لیا یہ بد نام ہی ہونے کی بات ہے ـ
ایک واقعہ عجیب فرمایا کہ ایک مرتبہ میں بارہ اکبرپور ضلع کانپور گیا تھا وہاں پر وعظ بھی ہوا تھا ـ وعظ
کے بعد واپسی کے لئے تیاری ہوئی اسٹیشن وہاں سے تقریبا چھ سات کوس کے فاصلہ پر تھا اور کچھ
ایسا زمانہ تھا کہ کبھی کبھی بارش ہو جاتی تھی اسی لئے میں احتیاطا ظہر کے وقت روانہ ہو گیا گو ریل
رات کے نو بجے جاتی تھی اتفاق سے اس وقت بھی تھوڑی تھوڑی بارش ہو رہی تھی ـ وہاں کے لوگوں
نے تانگہ پر اچھی طرح سائبان کا انتظام کردیا تھا میں مع ہمراہیوں کے سوار ہو کر چلدیا ـ اکبر پو
میں ایک صاحب منصف تھے وہ میرے شناسا تھے ان کو معلوم ہوگیا کہ وہ اس وقت اسٹیشن پر آ رہا ہے
انہوں نے اسٹیشن ماسٹر کو ایک رقعہ لکھا کہ فلاں شخص اسٹیشن آ رہا ہے شب کی گاڑی سے سوار ہوگا
اس کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو کوئی خاص کمرہ آرام کے لئے تجویز کر دیا جائے وجہ اس کی یہ تھی کہ وہ
اسٹیشن جنگل میں تھا اور بہت مختصر جیسا یہ تھانہ بھون کا اسٹیشن ہے کوئی جگہ اس پر ایسی نہ تھی کہ مسافر
آرام کر سکے یہاں پر تو بحمداللہ مسافر خانہ بھی تیار ہو گیا ہے اور منصف صاحب نے مجھ کو اس کی
اطلاع نہیں کی کہ میں اسٹیشن ماسٹر کو لکھ چکا ہوں اب جس وقت اسٹیشن پر پہنچے ادھر تو بارش ہو رہی
ادھر کوئی جگہ ایسی نہ تھی کہ کپڑے ہی بچا سکیں ادھر نماز کا وقت تھا عجب کشمکش تھی کہ وہ بابو آیا
اس نے مجھ سے میرا نام دریافت کیا نام سنکر اس نے ایک کمرہ میں ہم کو ٹھہرا دیا اور کہا کہ اس
میں آرام فرمائیے ـ منصف صاحب کا میرے نام پرچہ آیا ہے کہ فلاں شخص اسٹیشن پر آ رہا ہے اس کو
کوئی تکلیف نہ ہو ـ وہ کمرہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اسباب وغیرہ کے رکھنے کا تھا وہاں پر آرام سے نمازیں ادا کیں جب مغرب کے وقت اندھیرا ہو گیا تو اس بابو نے ریلوے ملازم کو حکم دیا کہ دیکھو
اس کمرہ میں روشنی کا انتظام کر دو ـ یہ سن کر مجھ کو بڑی فکر ہوئی اور زیادہ اس وجہ سے کہ بابو ہندو تھا وہ
فکر یہ ہوئی کہ مسافر خانہ تو ہے نہیں اگر مسافر خانہ ہوتا تو یہ خیال ہوتا کہ اس میں ریلوے قانون سے
روشنی جائز تھی یہ تو اسباب کا کمرہ ہے صرف ہماری رعایت سے روشنی کی جاتی ہے تو اس صورت
میں ریلوے کے تیل سے انتفاع جائز نہیں ہو سکتا اس لئے بڑی کش مکش ہوئی ـ اگر بابو سے منع کیا
جاتا ہے تو یہ ہندو ہے بے وقوف بنادے گا اور ہنسے گا بات کو سمجھے گا نہیں ـ اب کیا کیا جائے اس
وقت یہی سوجھی کہ دعاء کرنا چاہئے لہذا میں نے دعا کی کہ اے اللہ ! بچنے کی صورت گو اختیاری ہے
مگر یہ ضعیف ہے کہ اظہار پر شرم دامن گیر ہے اسلئے آپ ہی حفاظت فرمانے والے ہیں آپ ہی
حفاظت فرمائیں یہ خیال دل میں آنا تھا کہ فورا اسٹیشن ماسٹر نے اس نوکر کو آواز دے کر کہا کہ دیکھو
ریلوے کی لالٹین وہاں پر روشن نہ کرنا بلکہ ہمارے نج کی لالٹین روشن کر دینا یہ سن کر حق تعالی کے
انعام کا مشاہدہ ہو کر اس قدر جوش ہوا کہ میں بیان نہیں کر سکتا ـ
اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا ـ اب اس سے یعنی ہندو بابو سے کوئی پوچھتا کہ اس کو یہ
خیال کیوں پیدا ہوا خبر نہیں کیا جواب دیتا ـ یہ حق سبحانہ تعالی کی رحمت ہے کہ اپنے بندوں کی حفاظت فرماتے ہیں ـ ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا ـ (جو شخص تقوی اختیار کرنا چاہتا ہے حق تعالی اس کیلئے بچنے کی راہ نکال دیتے ہیں )
ملفوظ 17: سیدنا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خطا اجتہادی
فرمایا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے واقعہ پر یاد آیا ایک شخص نے ایک کم علم مگر ذہین
مولوی صاحب سے دریافت کیا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ میں جو جنگ ہوئی اس میں حضرت معاویہ کا یہ فعل کس درجہ کا ہے ـ مولوی صاحب نے فرمایا کہ
بھائی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی اجتہادی خطاء ہے اور اس لئے وہ امر خفیف ہے حضرت والا نے فرمایا کہ
یہ ہی ہمارے بزرگوں کا عقیدہ ہے ـ یہ سن کر وہ شخص کہتا ہے کہ جس درجہ کا شخص ہوتا ہے اسی درجہ کی
اس کی خطاء ہوگی اس لئے اس خطا پر بھی شدید سزا ہونی چاہئے ـ مولوی صاحب نے فرمایا کہ ارے یہ کیا تھوڑی سزا ہے کہ ایک صحابی پر ہم نالائق یہ حکم کریں کہ انہوں نے خطاء کی ورنہ ہمارا کیا منہ تھا ہم گندے ناپاک اور وہ صحابی ـ
فرمایا واقعی عجیب و غریب جواب ہے ان ہی مولوی صاحب کا دوسرا واقعہ جس سے
ان کی حالت حب رسول کا پبہ چلتا ہے جیسا پہلا واقعہ حب صحابہ پر دال ہے یہ ہے کہ اول انہوں
نے یہ قصہ لکھا ہے کہ باوجود حضور ﷺ کی کوشش کے ابوطالب ایمان نہیں لائے اس کے بعد لکھا ہے
کہ اگر بجائے ابوطالب کے مجھ کو حق تعالی دوزخ میں بھیج دیں اور ابو طالب کو جنت میں تو میں
راضی ہوں کیونکہ میرے نبی ﷺ کی تو آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں یہ ان کی حالت ہے جن کا شمار
بڑے لوگوں میں نہیں مگر محبت کا اثر ہے بزرگوں کی ـ یہ لوگ خشک ہیں انہیں کو وہابی کہتے ہیں ـ
ملفوظ 16 ادب تعظیم کا نہیں راحت رسانی کا نام ہے
ایک خط کے سلسلہ میں فرمایا کہ بعض آدمیوں میں فہم کا قحط ہوتا ہے ان کی تقریر اور تحریر
سے دوسروں کو کلفت ہوتی ہے اگرچہ وہ اپنے نزدیک ادب ہی کا قصد کرتے ہیں بات یہ ہے کہ
آجکل ادب نام رہ گیا ہے تعظیم کا ـ حالانکہ اصل ادب ہے راحت کا اہتمام اور جس چیز سے دوسرے کو تکلیف پہنچے اس کا نام ادب نہیں یہ سب رسموں کی خرابیاں ہیں ہمارے حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب ؒ سختی سے منع فرمایا کرتے تھے کہ اپنی جگہ سے بیٹھے ہوئے میری تعظیم
کیلئے مت اٹھا کرو اس حالت میں یہ ہی ادب تھا کہ نہ اٹھا جائےپھر اسی سلسلہ میں مہمانی کے
آداب کا تذکرہ ہونے لگا اس کے ذیل میں فرمایا کہ ایک مرتبہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے عام
د ستر خوان پر ایک بدوی بیٹھا ہوا کھانا کھا رہا تھا دیہاتیوں کی طرح بڑے بڑے لقمے بنا کر کھا رہا تھا ـ
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے بوجہ خیر خواہی کے فرمایا کہ اے شخص اپنی جان پر رحم کر اور
چھوٹا لقمہ بنا کر کھا کہیں گلے میں نہ اٹک جائے یہ کہنا تھا کہ فورا د ستر خوان سے وہ بدوی اٹھ گیا اور
چل دیا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس کو روکا اس نے کہا زیبا نہیں کہ کوئی شریف آدمی آپ کے
د ستر خوان پر کھانا کھائے آپ مہمانوں کے لقمے تکتے ہیں کہ کون بڑا لیتا ہے اور کون چھوٹا ـ آپ کو
اس سے کیا تعلق کہ کوئی کس طرح کھاتا ہے آپ کو د ستر خوان پر مہمانوں کو بٹھلا کر اس طرف نگاہ
اٹھا کر بھی نہ دیکھنا چاہئے البتہ کھانے کی کفایت کی نگرانی ضروری ہے یہ کہہ کر چلتا ہوا ـ
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے بے حد اس کی کوشش کی کہ کھانا کھا کر جائے مگر وہ نہیں مانا فرمایا کہ آداب میزبانی کے خلاف ہے مہمان کو کھاتے ہوئے تکنا اس سے اس پر شرم دامن گیر
ہوتی ہے اور پیٹ بھر کر کھانا کھا نہیں سکتا ـ کیا ٹھکانہ ہے اس وقت کے بدوی ایسے ہوتے تھے آج
کل یہ باتیں مد عیان تمدن بھی نہیں معمولی لوگ بے چارے تو کس شمار میں ہیں ـ
ملفوظ 15 حلال ، جلال اور جمال
ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ فلاں صاحب مرید ہونے کو کہتے ہیں اور یہ کہتے
تھے کہ ارادہ تو بہت دنوں سے ہے مگر حضرت مولانا کے جلال کی وجہ سے پورا نہیں ہوا تھا اب یہ
ارادہ کر لیا ہے کہ چاہے ماریں یا پیٹیں اب تو ضرور ہی کہوں گا ـ فرمایا کہ خدا معلوم لوگ کیا سمجھتے
ہیں ـ میں بلاوجہ تھوڑا ہی کچھ کہتا ہوں تبسم فرما کر بطور مزاح فرمایا کہ لوگ تو مجھے حلال ( ذبح )
کرتے ہیں میں جلال بھی نہ کر لوں میرے جلال کو دیکھتے ہیں اپنے جمال کو نہیں دیکھتے معلوم نہیں
یہاں کون سا سامان جلال وہیبت کا ہے بعض لوگ قلیل الکلام ہوتے ہیں اس سے بھی رعب ہوتا ہے اور
میں اس قدر بکی ہوں کہ ہر وقت بولتا رہتا ہوں مگر پھر بھی نہ معلوم لوگ کیوں اس قدر مجھ کو ہوا بنائے ہیں ـ
28 شعبان 1350 ھ بروز جمعہ مجلس خاص بوقت صبح

You must be logged in to post a comment.