ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میرٹھ میں ایک صاحب تھے رئیس انہوں نے ایک عجیب اور مفید بات کہی کہ اکثر لوگ آمدنی بڑھانے کی فکر میں پڑ جاتے ہیں یہ غلطی ہے اس لئے کہ آمدنی بڑھانا غیر اختیاری ہے خرچ کم کرنے کی فکر چاہئے اور یہ اختیاری ہے یہ بات مجھ کو تو بہت ہی پسند آئی کہ رئیسوں کا ایسی مفید باتوں کی طرف ذہن بھی نہیں جاتا وہ تو شب و روز اور ہی دھن میں رہتے ہیں اور چونکہ اصول صحیحہ کا نہ علم نہ عمل تو بتلایئے کہ مسلمانوں کی تجارت چلے کیسے ایک عزیز تھے انہوں نے چاولوں کی تجارت کی جب جی چاہا گھر والوں نے چاول نکال لئے اور پلاؤ پکا لیا چند روز میں سب ختم ۔ ایک اور عزیز تھے گنگوہ میں انہوں نے کپڑے کی تجارت کی جب گٹھڑی آتی گھر والوں کو اجازت دی جاتی کہ اپنی پسند کے کپڑے نکال لو آخر نتیجہ یہ ہوا کہ سب ختم ایک آفت غیر محدود ادھار دے دینے کی ہے ایک شخص مجھ سے کہنے لگے کہ بدون ادھار کے دکان نہیں چلتی میں نے کہا کہ جی ہاں ایسی چلتی ہے کہ بلکل ہی چل دیتی ہے میرٹھ میں ایک بزاز تھا وہ ادھار نہیں دیا کرتا تھا اور ایک عجیب بات کہا کرتا جو عنوان میں تو ایک نکتہ ہے شاعرانہ مگر مضمون معنی خیز ہے کوئی گاہک آیا اور اس نے کپڑا پھڑوایا اور داموں کا کہا کہ پھر بھیج دوں گا وہ کپڑا اٹھا کر رکھ لیا کہا کرتا تھا کہ ہم اور ہمارا سودا یہ دو ہوئے اور وہ اس کے دام یہ دو ہوئے برابر کا مقابلہ ہے اب اگر ہم نے سودا دے دیا تو وہ اور دام اور سودا تین ہو گئے اور میں بے چارہ اکیلا رہ گیا تو ایک تین کا مقابلہ نہیں کر سکتا ۔
( ملفوظ 568) رنگون میں قد آدم شیشہ میں مجمع کا عکس
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ انسان کی حقیقت ہی کیا ہے اور کیا اپنی کسی چیز پر یا اپنے کمال پر ناز کر سکتا ہے جبکہ حسیات تک میں غلطیاں کرتا ہے ایک مرتبہ رنگون میں تماشہ ہوا جس کمرے میں ہم لوگ ٹھرے ہوئے تھے اس میں ایک شیشہ قد آدم سے بھی اونچا لگا ہوا تھا عشاء کی نماز پڑھ کر جو میں آیا اور ساتھی بھی ہمراہ تھے تو یہ معلوم ہوا کہ ادھر سے ایک مجمع چلا آ رہا ہے میں نے کہا کہ دیکھئے آرام کے وقت بھی لوگ پیچھا نہیں چھوڑتے چلے آ رہے ہیں ایک ساتھی نے کہا کہ صاحب سامنے شیشہ ہے اس میں ہم ہی لوگوں کا عکس پڑ رہا ہے اس وقت میرا اعتراض اس کا مصداق ہو گیا ۔
حملہ برخود میکنی اے سادہ مرد ہمچو آں شیرے کہ بر خود حملہ کرد ۔
9 ذی الحجہ 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم شنبہ
( ملفوظ 567)سرسید کا اپنے بارے میں ایک قول
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک شخص کہتے تھے کہ میں نے سرسید سے سنا کہ میری تصنیفات دیکھ کر کوئی مسلمان عیسائی تو نہیں ہو سکتا ہاں دہری ہو سکتا ہے اپنی تصنیفات کی برکات کا خود ہی اقرار ہے ۔
( ملفوظ 565 )شبہات کا علاج صرف محبت و عظمت ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ احکام میں جو شبہات پیدا ہوتے ہیں بجائے جزئی جوابوں کے اس کا جو اصلی سبب ہے اس کا علاج کرنا چاہئے اور وہ سبب خدا کی محبت اور عظمت کا نہ ہونا ہے پس اس کا علاج یہ ہے کہ کسی کی جوتیوں میں جا کر پڑ جائے انشاء اللہ تعالی اس سے وہ عظمت و محبت پیدا ہو گی اور اس سے تمام شبہات کا ازالہ خود بخود ہو جائے گا مولانا رومی اسی کو فرماتے ہیں :
قال را بگذار مرد حال شو پیش مردے کاملے پامال شو
پھر تو یہ حالت ہو گی ۔
ما اگر قلاش و گر دیوانہ ایم مست آں ساقی و آں پیمانہ ایم
اوست دیوانہ کو دیوانہ نشد مرعسس رادید و درخانہ نشد
غرض طریقہ یہ ہے کہ نہ کہ قیل و قال اور خود تو قال و قیل بہت بعید ہے ان حضرات کی تو یہ حالت ہے کہ دوسرے کی قیل و قال کا بھی جواب نہیں دیتے ۔
بامدعی مگوئید اسرار عشق و مستی بگذار تا بمیرددر رنج خود پرستی
اور اپنے لئے وہ طریق عمل اختیار کرتے ہیں جیسی ایک حکایت ہے کہ ایک شخص بانسری بجا رہا تھا اس کا گوز نکل گیا تو اس نے منہ پر سے بانسری ہٹا کر اسفل کی طرف لگا دی کہ لے بی تو ہی بجا لے اگر تو ہی اچھا بجانا جانتی ہے اس میں ایک لطیفہ بھی ہے کہ مدعی کو ایک گندی چیز سے تشبیہ دی گئی ہے ۔
( ملفوظ 565)درویش کے دربان کو بادشاہ کی پرواہ نہیں ہوتی
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ پہلے بزرگ نے بادشاہوں کی بھی پرواہ نہیں کرتے تھے اپنے والد ماجد مرحوم سے سنا ہے کہ کوئی بادشاہ ایک درویش سے ملاقات کے لئے پہنچے خادم نے بادشاہ کو دروازہ پر روک دیا یہ خدام بھی غضب کے ہوتے ہیں ان کی نظر میں سوائے اپنے شیخ کے اور کسی کی کچھ بھی وقعت نہیں ہوتی اور یہ کہا کہ بدون اجازت کے اندر جانے کی ممانعت ہے بادشاہ رک گیا مگر غصہ میں بھر گیا غرض خادم نے اطلاع کی وہاں سے داخلہ کی اجازت ہو گئی بادشاہ درویش کے پاس پہنچے بیٹھتے ہی کہا مصرع نہ در درویش را درباں نباید ۔ وہ بزرگ فرماتے ہیں بباید تا سگ دنیا نیاید ۔ کیسی جرات اور ہمت کی بات ہے پھر بادشاہ کچھ نہیں بولا دم بخود رہ گیا ۔
( ملفوظ 564)جانور تک حضور صلی اللہ علیہ و سلم پر نثار تھے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم تو بڑی چیز ہیں وہ اگر رسول پر فدا ہوں تو کیا عجیب ہے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی تو وہ ذات ہے کہ جانور تک آپ پر نثار تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے حجۃ الوداع میں تریسٹھ اونٹ اپنے دست مبارک سے ذبح کئے اور بقیہ حضرت علی سے کرا کر سو پورے فرما دیئے اور تریسٹھ کے عدد میں ایک لطیفہ ہے کہ شاید کہ یہ اشارہ ہو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی سنین عمر کے عدد کی طرف تو ذبح کرنے کے وقت ہر ایک اونٹ آپ کی طرف سبقت کرتا تھا کہ پہلے حضور صلی اللہ علیہ و سلم مجھ کو ذبح کریں حدیث کے یہ الفاظ ہیں :
کلھن یزدلفن الیہ اور اس سے جیسی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی شان محبوبیت معلوم ہوتی ہے ۔ اسی طرح شان سلطنت معلوم ہوتی ہے کیونکہ سو اونٹ تو عادۃ کوئی بادشاہ بھی ذبح نہیں کرتا اور اگر کسی بادشاہ نے اس قدر اونٹ قربانی کر بھی دیئے تو یہ محبوبیت تو نصیب نہیں ہو سکتی میں آپ کی اس شان محبوبیت پر ایک شعر پڑھا کرتا ہوں ۔
ہمہ آہوان صحرا سر خود نہادہ برکف بامید آنکہ روزے بشکار خواہی آمد
( ملفوظ 563)امراء کے پاس فلوس غرباء کے پاس خلوص
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ متکبر امراء کو تو منہ ہی نہ لگانا چاہئے ان کے دماغوں میں فرعونیت بھری ہوتی ہے الا ماشاء اللہ غرباء بے چارے محبت سے پیش آتے ہیں میں تو اکثر کہا کرتا ہوں کہ امراء کے پاس فلوس ہوتا ہے اور غرباء کے پاس خلوص ہوتا ہے جو امراء کے پاس کم ہوتا ہے اس پر ایک واقعہ بیان فرمایا کہ جلال آباد کے ایک رئیس خاں صاحب ملاقات کے لئے آئے اور پچیس روپیہ مجھ کو دینا چاہے تو میں نے دس روپیہ لے لئے اور پندرہ روپیہ واپس کر دیئے اس لئے کہ اس روز مجھ کو دس ہی روپیہ کی ضرورت تھی لکڑیاں ادھار لے لی تھیں ان خاں صاحب نے اصرار بھی کیا مگر میں نے نہیں لئے بعد میں خاں صاحب نے لوگوں سے بیان کیا کہ میں نے اول دس ہی روپیہ کی نیت کی تھی مگر خیال ہوا کہ دس روپیہ میری شان کے بھی خلاف ہے اور اس کی بھی اس لئے پندرہ روپیہ اور ملا لئے غرض دس روپیہ خلوص کے تھے اور پندرہ ریا کے پھر فرمایا کہ ایسے پیسہ میں برکت بھی نہیں ہوتی غریبوں کو لوگ حقیر سمجھتے ہیں حالانکہ ان کے ہر کام میں ہر بات میں سادگی اور خلوص ہوتا ہے گو فلوس نہیں ہوتا مگر باوجود قلیل ہونے کے اس میں برکت ہوتی ہے اس پر ایک غریب سقہ کی حکایت بیان فرمائی کہ لکھنؤ میں مولوی عبدالرزاق صاحب ایک برزگ تھے درویش بھی تھے عالم بھی تھے ان کی ایک سقہ نے دعوت کی جس وقت مولوی صاحب کھانا کھانے چلے راستہ میں ایک بد دماغ رئیس مل گئے اور یہ معلوم کر کے کہ کہاں جا رہے ہیں کہا کہ ایسی جگہ جانے جانے سے ذلت ہوتی ہے مولوی صاحب نے لطیفہ کیا کہ اس سقہ سے کہا بھائی ذلت کو کون گوارا کرتا ہے اس لئے میں اب دعوت میں نہیں جاتا وہ رونے لگا اور ہاتھ جوڑنے لگا مولوی صاحب نے فرمایا کہ اگر ان کو بھی لے چلے تو میں چلوں وہ ان کی خوشامد کرنے لگا انہوں نے بہانے کئے مگر وہ برابر خوشامد سے اصرار کرتا رہا ان رئیس صاحب کے بعض معاصرین وہاں آ گئے انہوں نے مجبور کیا کہ ایک غریب مسلمان خوشامد کر رہا ہے کیوں نہیں جاتے آخر گئے وہاں پہنچے تو دیکھا کہ ایک ایک فرلانگ تک چھڑکاؤ ہو رہا ہے اور دو سو ڈھائی سو سقہ قطار باندھے ادب سے کھڑے ہیں اور فرش اور روشنی کا بھی معقول انتظام ہے غرض کہ ہر بات سے محبت اور خلوص معلوم ہوتا تھا پھر کھانے میں بھی بے حد خاطرداری اور نیازمندی کا برتاؤ ہو رہا تھا آخر اسی مجلس میں رئیس صاحب کی رائے بدل گئی کہ عزت واقعی غریبوں ہی سے ملنے میں ہے خدمت کرتے ہیں اور احسان مانتے ہیں بخلاف متکبرین امراء کے اگر کچھ کرتے بھی ہیں تو وہ بھی اس طریق سے جیسے دوسرے پر کوئی بڑا احسان کیا حضرت مولانا محمد قاسم صاحب غرباء سے بہت محبت کرتے تھے جب کوئی غریب مہمان ہوتا اچھے اچھے کھانے کھلاتے اور امراء کو ساگ دال ایسی چیزیں اور پوچھنے پر بطور لطیفہ کے فرماتے کہ مہمان کو لذیذ کھانا کھلانا چاہئے اور کل جدید کے قاعدہ سے جدید کھانا لذیذ ہوتا ہے اور غرباء کے لئے وہ جدید ہے اور امراء کے لئے یہ ۔
( ملفوظ 562)بہت تحمل فرمانا
ایک صاحب کی غلطی پر مواخذہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ میں بہت تحمل کرتا ہوں مگر جب ایذا کی برداشت نہیں ہو سکتی تب ضابطہ کی شرطیں لگاتا ہوں جس پر مجھ کو بدنام کیا جاتا ہے ۔
( ملفوظ 561) اکثر عقل کی کمی سے محبت عشقیہ ہوتی ہے
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ محبت عشقیہ اکثر عقل کی کمی سے ہوتی ہے جیسے ماں کو ایسی ہی محبت عقل ہی کی کمی کی وجہ سے ہوتی ہے بخلاف باپ کے کہ محبت اس کو بھی ہوتی ہے مگر وہ عقل کی وجہ سے اس سے مغلوب نہیں ہوتا ۔
( ملفوظ 559 ) امراء تعلق کی وجہ سے نہیں تملق کی وجہ سے حقیر سمجھتے ہیں
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ خوش اخلاقی اور حسن معاشرت اور تعلق اور چیز ہے تملق اور چیز ہے تملق کا رنگ جدا ہوتا ہے اعتدال و حدود کے ساتھ تعلق اتنی نفرت کی چیز نہیں تملق نہایت بری چیز ہے امراء جو حقیر سمجھتے ہیں وہ صرف تملق کی وجہ سے سمجھتے ہیں اہل علم کی شان کے بالکل خلاف ہے کہ وہ امراء کے دروازوں پر جائیں اس میں دین کی تحقیر ہوتی ہے یہ تو وہ طبقہ ہے کہ پہلے زمانہ میں نقل کرنے والے بھی اس سے پرہیز کرتے تھے ۔ عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ جب تخت نشین ہوئے اور لوگوں کو انعام تقسیم ہوا ایک بہروپیا بھی آیا عالمگیر نے پہچان لیا اور یہ فرمایا کہ جب دھوکہ دو گے تب انعام ملے گا وہ چلا گیا مختلف وقتوں میں مختلف روپ بدل کر آیا مگر عالمگیر دھوکے میں نہ آئے اس کو معلوم ہوا کہ فلاں مہم پر بادشاہ جانے والے ہیں کچھ مدت قبل سے رستہ کی منزل پر پہنچ گیا اور درویشانہ لباس اور صورت بنا کر بیٹھ گیا شہر میں شہرت ہو گئی کہ بہت بڑے درویش آئے ہوئے ہیں لوگوں کا اژدہام رہتا تھا عالمگیر جب اس منزل پر پہنچے حسب معمول وزیر سے دریافت کیا کہ یہاں کوئی درویش یا عالم ایسے ہیں جن سے ملاقات کی جائے وزیر نے عرض کیا کہ حضور ایک بہت بڑے درویش یہاں مقیم ہیں فرمایا کہ ہم ضرور ان سے ملاقات کریں گے یہ فرما کر اور وزیر کو ساتھ لے کر اور بغرض ہدیہ کچھ اشرفیاں لے کر وہاں پہنچے ملاقات ہوئی بعض تصوف کے مسائل عالمگیر نے دریافت کئے جن کا جواب نہایت تسلی بخش دیا یہ لوگ اپنے فن کی تکمیل کے لئے سب چیزیں سیکھا کرتے تھے اس کے بعد عالمگیر نے وزیر کی طرف اشارہ کیا وزیر نے ہدیہ پیش کیا اس نے لینے سے انکار کیا ، اس پر عالمگیر کو زیادہ عقیدت ہو گئی اور یہ سمجھا کہ درویش کامل ہے غرض عالمگیر واپس ہوئے تو پیچھے پیچھے یہ بھی ذرا فاصلہ سے ہو لیا جب عالمگیر دربار میں بیٹھے تو اس نے بھی پیش ہو کر جھک کر سلام کیا عالمگیر نے دیکھ کر غور کیا تو پہچانا اور اس کے کمال فن کا اقرار کیا اور انعام دیا مگر معمولی جیسا ان لوگوں کو ملا کرتا ہے اس نے شکریہ ساتھ قبول کیا اور سلام کیا پھر اس سے پوچھا کہ ہم اس وقت جو دے رہے تھے اب اتنا تھوڑا ہی دے سکتے ہیں مگر اس وقت کیوں نہیں لیا عرض کیا کہ حضور اب جو بھی عطا فرمایا وہی میرے لئے سب کچھ ہے باقی اس وقت لینے سے میرے کمال میں یعنی فن نقالی میں کھنڈت پڑتی وہ نقل صحیح نہ ہوتی کیونکہ نقل صحیح وہ ہوتی ہے جو اصل کے مطابق ہو اور یہ بات درویشی کے خلاف ہے کہ وہ دنیا کو حاصل کریں اور میں نے ان کی صورت بنائی تھی اگر لیتا تو نقل صحیح نہ ہوتی عالمگیر کو اس کی اس بات کی بڑی قدر ہوئی اور مکرر انعام دیا غرض اہل دین کا وہ طبقہ ہے کہ ان کی نقل کرنے والے بھی دنیا کی طرف توجہ نہیں کرتے تھے اور اب تو اصل ہی میں گڑبڑ ہو رہی ہے شب و روز مال ایٹھنے کی فکر میں رہتے ہیں اسی لئے منکرات پر روک ٹوک نہیں کرتے ۔ محض اس خیال سے کہ کہیں یہ لوگ غیر مقلد معتقد نہ ہو جائیں جس کا نتیجہ یہ ہو کہ پھر آمدنی کا سلسلہ بند ہو جائے میاں صحیح صورت ہی بنا لے آدمی اس میں بھی برکت ہوتی ہے نقل ہی اگر صحیح ہو جائے تو خدا اصل تک پہنچا دیتا ہے جیسا حدیث میں ہے کہ اگر رونا نہ آئے تو صورت ہی رونے کی بنا لو اور یہ تو اختیاری ہے ۔
8 ذی الحجہ 1350 ھ مجلس ، بعد نماز جمعہ

You must be logged in to post a comment.