ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل اکثر جگہ رذائل نفس کے ازالہ کا سلسلہ ہی نہیں صرف فقہی مسائل کی تحقیق ہے اور باتیں بھی ہیں مگر اس کا نام و نشان بھی نہیں اسی وجہ سے لوگوں کو اس طریق سے اجنبیت ہو گئی ہے سمجھتے ہیں کہ اگر یہ کوئی ضروری چیز ہوتی تو اور جگہ بھی تو ہوتی اور واقعہ یہ ہے کہ اگر یہ چیز اور جگہ ہوتی تو پھر میں اس کا اہتمام نہ کرتا اس لئے کہ مقصود تو حاصل ہو رہا ہے چنانچہ جو کام اور جگہ ہو رہا ہے یعنی فقہی مسائل ان کے متعلق یہاں پر رجوع کرنے والوں کو کہہ دیتا ہوں کہ یہ فقہی مسئلہ ہے دیوبند سہارنپور وغیرہ سے معلوم کر لو وہاں یہ کام ہو رہا ہے اسی طرح اگر اصلاح اعمال کا بھی اہتمام دوسری جگہوں میں ہوتا تو میں اس کو بھی ان ہی کے حوالہ کر دیتا مگر اس کا تو کہیں نام بھی نہیں یہی وجہ ہے کہ لوگوں کو وحشت ہوتی ہے کہ ساری دنیا میں جو باتیں نہیں وہ یہاں پر آ کر دیکھتے ہیں ۔
( ملفوظ 548) مالداروں اور متکبروں کو منہ نہ لگانا
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ان دنیا داروں کو خصوص مالداروں کو منہ نہیں لگانا چاہیے ان میں اکثر خر دماغ ہوتے ہیں جی چاہتا ہے کہ کوئی ان کو اسپ دماغ ملے تب ان کا دماغ ڈھیلا ہو آج کل مدارس والے ان باتوں کا قطعا خیال نہیں کرتے انہوں نے ان کے دماغ زیادہ خراب کر دئیے ، نااہلوں کی چاپلوسی اور ان کی تعظیم و تکریم کرنا بے حد مضر ہوتا ہے میں ایک مرتبہ مدرسہ میں گیا اتفاق سے ایک مولوی صاحب ایک مالدار کو پھانس کر لائے تھے ان مالدار کی درخواست پر مدرسہ کی جانب سے مجھ سے بیان کے لئے کہا گیا میں نے منظور کر لیا ہم لوگوں کا ایک ہی بیان ہوتا ہے اسی کے مختلف عنوان ہوتے ہیں اور وہ یہی ہے کہ اللہ سے تعلق بڑھاؤ غیراللہ سے تعلق گھٹاؤ چنانچہ میں نے جب دنیا کے متعلق بیان کیا اس شخص نے سن کر کہا کہ میں ایسے مدرسہ کی امداد نہیں کر سکتا جس میں ترک دنیا کی ترغیب دی جاتی ہو اور یہ بھی کہا کہ دیکھو مال کی مذمت کی جاتی ہے مگر مال ایسی چیز ہے کہ میں داڑھی منڈا ہوں بدافعال ہوں نہ شریعت کے موافق لباس ہے نہ اعمال ہیں ، محض مال میرے پاس ہے اس کی وجہ سے بڑے بڑے علماء میری تعظیم کو کھڑے ہو جاتے ہیں دیکھئے ان کی تعظیم و تکریم ایسی مضر ہوتی ہے میں کہا کرتا ہوں کہ متکبروں کی کبھی وقعت نہیں کرنا چاہیے چاہے ثقہ صورت ہوں ان متکبروں کو تو ہمیشہ نیچا ہی دکھانا چاہیے اور خصوص ان میں جو نیچری ہیں وہ تو یہ سمجھتے ہیں کہ دین کو بھی ہم ہی سمجھے علماء نہیں سمجھے بڑے بدفہم ہیں اور اس سب کا منشا تکبر ہی ہے یہ تکبر ایسی چیز ہے جس شخص میں یہ نہ ہو میں سمجھتا ہوں کہ اس میں سب کچھ ہے اور جس میں تکبر ہو اس میں اگر اور سب کچھ بھی خوبیاں ہوں تو میں سمجھتا ہوں کہ اس میں کچھ بھی نہیں اور اس میں امیر غریب کی قید نہیں کوئی بھی ہو حدیث شریف میں آیا ہے کہ رائی برابر ہی جس میں کبر ہو گا وہ جنت میں نہ جائے گا ایک صاحب نے سوال کیا کہ کیا کبر مطلقا مذموم ہے فرمایا کہ مطلقا تو کوئی خلق بھی مذموم نہیں باعتبار فعل کے اس کے انواع اور اقسام ہیں دیکھئے غصہ ہی ہے یہی غصہ سبب ہے جہاد کا اگر غصہ نہ ہو جہاد ہی نہیں کر سکتا تو یہ درجہ غصہ کا محمود ہے اسی طرح کبر کو سمجھ لیجئے چنانچہ جہاد میں خیلاء کو حدیث میں محبوب فرمایا گیا ہے اور درحقیقت وہ کبر نہیں ہوتا صورت کبر کی ہوتی ہے ۔
( ملفوظ 547)لوگوں کو دوزخ جنت کی حقیقت معلوم نہیں
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ لوگوں کو دوزخ جنت کی حقیقت معلوم نہیں اس لئے بے فکر ہیں ورنہ یہی غالب ہو جائے ضلع بارہ بن کی میں ایک گونگا تھا اس نے دوزخ جنت میدان حشر میزان پل صراط یہ سب خواب میں دیکھ لئے پہلے قطعا نماز نہ پڑھتا تھا یہ خواب دیکھ کر نماز شروع کر دی اور اشاروں سے دوزخ جنت وغیرہ کے واقعات بیان کرتا تھا میں نے خود اس گونگے کو دیکھا ہے اور اشاروں سے جو واقعات بتلاتا تھا اس کا بھی مشاہدہ کیا ہے ان اشاروں کے وقت رونگٹا کھڑا ہو جاتا تھا وہ بڑا ذہین تھا ، ایسے کافی اشارہ کرتا تھا کہ بالکل نقشہ کھینچ دیتا تھا پھر فرمایا کہ ذہانت پر ایک قصہ یاد آیا ایک مصور نے ایک وکیل کا فوٹو لیا اور معمول عام ہے کہ تصویر لینے کے وقت بڑے بنے ٹھنے رہتے ہیں اسی سلسلہ میں وکیل صاحب کے ہاتھ کوٹ کی جیب میں دکھلا گئے تھے ایک گنوار کا مقدمہ تھا وہ بھی اتفاق سے ایسے وقت آ گیا جبکہ وکیل صاحب کی تصویر دیکھی جا رہی تھی اس گنوار نے پوچھا کہ جی کیا دیکھ رہے ہو اس سے لوگوں نے کہا کہ تیرے دیکھنے کی بات نہیں تو کیا سمجھے گا اس پر اس گنوار نے اصرار کیا تو اس کو بھی دکھلا دیا گیا وکیل صاحب کی تصویر کھینچی گئی ہے اس کو دیکھ رہے ہیں اس نے دیکھ کر گردن ہلائی پوچھا کہ تو کیا سمجھا کہا اجی تصویر تو غلط ہے پوچھا کیوں کہا کہ ان کی تصویر میں تو ان کے ہاتھ اپنی جیب میں ہیں بس یہی غلطی ہے اس لئے کہ ان کے ہاتھ تو دوسروں کی جیب میں ہوتے ہیں تمام مجمع یہ سن کر دنگ رہ گیا واقعی کیا ٹھکانا ہے اس ذہانت کا ۔
یہ گاؤں کے لوگ بڑے ہوشیار ہوتے ہیں گو الفاظ ان کے پاس نہیں ہوتے مگر اظہار حقیقت ان ہی ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں ایسا کر دیتے ہیں کہ لکھا پڑھا نہیں کر سکتا یہ تو اگرچہ مگرچہ ہی میں رہ جاتے ہیں ذہانت پر ایک اور حکایت یاد آئی رنجیت سنگھ لاہور میں جس وقت برسر اقتدار تھا اس وقت اس نے حکم دیا کہ ہماری تصویر لی جائے بڑے بڑے مصور چکر میں آ گئے اس لئے کہ یہ یک چشم تھا اب اگر صحیح تصویر لیتے ہیں تو عیب ظاہر کیا جاتا ہے اور اگر صحیح نہ لیں تو تصویر ہی غلط ہوتی ہے ایک مصور آیا اس نے کمال کیا کہ سامنے ایک شکارگاہ قائم کیا اور اس میں ایک ہرن چھوڑا اور رنجیت سنگھ کے ہاتھ میں ایک بندوق دی گویا نشانہ لگا رہا ہے نشانہ میں ایک آنکھ بند ہوتی ہی ہے اس طرح تصویر لی یہ ذہانت کی بات ہے ۔
7 ذی الحجہ 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم پنجشنبہ
( ملفوظ 546) ڈاک اللہ تعالی کی نعمت ہے
(ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ڈاک بھی اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے ۔ دور بیٹھے اپنے مافی الضمیر کو کیسا ظاہر کر سکتا ہے اور جواب کیسی آسانی سے مل سکتا ہے ۔
( ملفوظ 545) اطمینان معاش کی قدر کرنی چاہیے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آجکل لوگ عموما فکر معاش میں مبتلا ہیں ایسے میں اگر حق تعالی کسی کو اطمینان معاش نصیب فرما دیں بڑی نعمت ہے اس کی قدر کرنا چاہیے مگر اکثر قدر زوال پر معلوم ہوتی ہے عارف نظامی فرماتے ہیں ۔
خوشا روزگارے کہ دارد کسے کہ بارار حرصش نباشد بسے
بقدر ضرورت یسارے بود کند کارے از مرد کارے بود
( ملفوظ 544) اصلاح کے بجائے لوگ اوراد کو مقصود سمجھتے ہیں
ایک صاحب کا خط آیا تھا جس میں حضرت والا سے بیعت اور اوراد کی درخواست تھی اس پر حسب ذیل جواب تحریر فرمایا گیا ۔ ( جواب ) ان دونوں کی غایت کیا ہے اور کیا وہ غایت ان دونوں پر مرتب ہو سکتی ہے پھر اس پر فرمایا کہ بجائے اصلاح اعمال کے لوگ اوراد کو مقصود طریق سمجھتے ہیں کس قدر جہل عام ہو گیا ہے ۔
( ملفوظ 543) تجارت اور گھریلو معاملات میں مشورہ پر حضرت کا جواب
فرمایا کہ آج خط آیا جس میں اپنے خاص امور تجارت و خانگی معاملات میں مشورہ چاہا ہے میں نے جواب لکھ دیا ہے کہ مشورہ دینا اس شخص کا کام ہے جو آپ کے واقعات حالیہ سے اور ان کی بناء پر آپ کے مصالح مآلیہ سے واقف ہو اور میں واقف نہیں ۔
( ملفوظ 542)حضرت کی اپنے نفس پر نظر اور مؤاخذہ کا خوف
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ میں جب کسی کو کوئی خدمت کرنے سے منع کرتا ہوں تو میں اس وقت اس الٹ پلٹ میں رہتا ہوں اور اس کا فیصلہ نہیں کر سکتا کہ میری اس ممانعت کا منشا کیا ہے آیا میں نے اس کو اس قدر حقیر سمجھا کہ خدمت کے قابل بھی نہ سمجھا یا اپنے کو مخدومیت کے قابل نہیں سمجھا یا محض طبعی گرانی کے سبب ایسا کیا گیا حلانکہ بظاہر اس ممانعت کا منشا تواضع ہے مگر ساتھ ہی دوسرے احتمالات بھی ہیں غرض کسی کو نہیں چاہیے کہ وہ اپنے نفس سے بے فکر ہو جائے بعض مرتبہ وجدانا اطمینان کے ساتھ معلوم ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ ایسا برتاؤ کرنا چاہئے اور اکثر اس طرح کرنا آخیر میں مفید اور مصلحت بھی ثابت ہوتا ہے مگر پھر بھی نفس پر پورا اطمینان نہیں ہوتا اس لئے احتمال خلاف پر استغفار کرتا ہوں اور یہ دعا بھی کرتا ہوں کہ اہے اللہ مجھے تو علما و عملا کمزور اور نکما ہی سمجھ کر معاف فرما دیجئے اور میں تو بقسم عرض کرتا ہوں کہ اس سے بھی ڈرتا ہوں کہ میں جو دوسروں سے بہت کھود و کرید کرتا ہوں اور لمبے چوڑے مواخذہ کرتا ہوں کہیں مجھ سے بھی لمبا چوڑا حساب نہ ہو بہت ہی ڈرتا ہوں پھر یہ بھی دیکھتا ہوں کہ اور مشائخ کے یہاں لوگوں کی قدر و منزلت ہوتی ہے اور یہاں آ کر یہ غذا ملتی ہے مجھے اس کا بھی رنج ہوتا ہے مگر یہ رنج طبعا ہوتا ہے عقلا نہیں ہوتا اس لئے کہ ان کی اصلاح اور تربیت اسی کی مقتضی ہوتی ہے کہ جو مناسب ہو وہی برتاؤ کیا جائے اور کبھی یہ بھی خیال ہوتا ہے کہ تو ہی انوکھا بن کر کیوں دنیا میں رہتا ہے تو بھی وہی کر جو سب کر رہے ہیں مگر دیکھتا ہوں کہ ایسا کرنے میں خاص اصلاح اور تربیت کا باب جو صدیوں سے بند ہو چکا تھا پھر اسی طرح بند پڑا رہے گا اسی خیال سے اپنی بدنامی وغیرہ کی پرواہ نہیں کرتا اور نہ اپنی مصلحت کو آنے والوں کی مصلحت پر مقدم رکھتا ہوں ۔
6 ذی الحجہ 1350 ھ مجلس خاص بعد نماز ظہر یوم چہار شنبہ
( ملفوظ 541) بزرگ آئینہ ہوتے ہیں
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ کانپور میں ایک شخص تھے حقہ پینے کی بہت عادت تھی میں نے ان کو منع کیا اور شاید انہوں نے چھوڑ بھی دیا ۔ ایک روز میرے پاس آئے اور اپنا ایک خواب بیان کیا کہ میں نے روضہ مبارک میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو نعوذ باللہ حقہ پیتے دیکھا تم مجھ کو منع کرتے تھے میں نے کہا کہ توبہ کرو استغفر اللہ نعوذ باللہ حضور حقہ پیتے ہیں تو حضور تو آئینہ ہیں تم نے اپنی حقیقت دیکھی ۔ اس آئینہ ہونے پر ایک حکایت یاد آئی ۔ ایک شخص ایک بزرگ کی ملاقات کو حاضر ہوئے مگر بوقت ملاقات اس شخص کو ان بزرگ کی صورت کتے کی نظر آئی اس لئے یہ شخص مل کر کچھ شگفتہ نہ ہوا جیسا کہ قاعدہ ہے کہ جب کسی کے پاس عقیدہ کے ساتھ جاتا ہے تو ملکر اس کو ایک قسم کی خوشی اور مسرت ہوتی ہے ۔ سو یہ نہ ہوا اور کیونکر ہوتا ان بزرگ نے دریافت کیا کیا بات ہے تم پر پژمردگی کیوں ہے ، عرض کیا کہ حضرت کہنے کی بات نہیں اس کا اظہار بہت بڑی گستاخی ہے فرمایا کوئی گستاخی نہیں میں خود پوچھ رہا ہوں تم صاف کہو جو بات ہے عرض کیا کہ حضرت کی صورت مجھ کو کتے کی نظر آ رہی ہے معلوم نہیں کیا معاملہ ہے فرمایا کہ بالکل صحیح ہے کوئی ڈر کی بات نہیں اور ان بزرگ نے اس شخص کو کچھ پڑھنے کے لئے بتایا کہ ایک ہفتہ یہ پڑھو اس کے بعد ہم سے ملاقات کرو ایک ہفتہ بعد یہ شخص ملا تو دیکھا کہ ان بزرگ کی صورت بلی کی سی ہے ، اس کے بعد ایک ہفتہ اور پڑھنے کو فرمایا ، اس کے بعد پھر ملاقات کی تو اس سے بھی کم اس کے بعد پھر ایک ہفتہ پڑھنے کو فرمایا جب اس کے بعد ملاقات کی تو وہ بزرگ اپنی اصلی صورت پر نظر آئے تب اس نے دریافت کیا کہ حضرت یہ کیا معاملہ تھا فرمایا کہ یہ تم اپنی صورت اعمال کی دیکھ رہے تھے اس تعلیم اور ذکر کی برکت سے اب تمہارے اعمال کی صورت بدل گئی ہے میں تمہارا محض آئینہ تھا یہ ہے حقیقت ان واقعات کی کبھی اس کے خلاف خیال نہیں کرنا چاہیے جیسا کہ اس شخص نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو حقہ پیتے دیکھا اور یہ خیال کر لیا کہ حضور بھی حقہ پیتے ہیں ۔
استغفر اللہ لا حول ولا قوۃ الا باللہ
( ملفوظ 540)میرا مرض انتظام ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میرا بڑا مرض جس پر لوگ معترض بھی ہیں وہ انتظام کا ضبط ہے چاہتا ہوں کہ تمام امور کا انتظام ہو وہ امور خواہ اقوال ہوں ، خواہ افعال ہوں ، خواہ احوال ہوں حتی کہ اگر سختی بھی ہو تو اس میں بھی انتظام ہو ، غرض یہ کہ کوئی بات انتظام کے خلاف نہ ہو ۔

You must be logged in to post a comment.