( ملفوظ 559)عالم ہو کر بھی کسی کے سامنے جا کر پامال ہونا ضروری ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں تو کہا کرتا ہوں کہ عالم ہو کر کتابیں پڑھ کر بھی کسی کے سامنے جا کر پامال ہو جائے کسی کی جوتیاں سیدھی کرے تب انسانیت اور آدمیت پیدا ہوتی ہے ۔

( ملفوظ 558)امراء سے انقباض ہوتا ہے نفرت نہیں

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بعض حرکات سے نفرت تو نہیں ہوتی ہاں انقباض ہوتا ہے ایک صاحب کے جواب میں فرمایا کہ انقباض اور چیز ہے نفرت اور چیز ہے ایسے ہی امراء سے انقباض ہوتا ہے نفرت نہیں ہوتی میں جب کسی امیر کے پاس بیٹھتا ہوں تو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کسی کو پنجرے میں بند کر دیا اور آج کل کے امراء تو اکثر متکبر ہوتے ہیں اور اہل دین کو نظر حقارت سے دیکھتے ہیں میں تو ہمیشہ علماء کو خصوص اہل مدارس کو مشورہ دیتا ہوں کہ ان سے چندہ نہ مانگو مگر یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ مدرسہ کا کام بدون چندہ چل نہیں سکتا میں کہتا ہوں کہ کوئی خاص حد مدرسہ کی واجب یا فرض ہے اس مقدار تک تو مدرسہ ہے ورنہ نہیں جب یہ نہیں تو قلیل آمدنی میں مدرسہ مختصر رکھو دوسرے جیسے مدرسہ آپ کے نزدیک ضروری چیز ہے ایسے ہی دین کی وقعت اور عظمت کی حفاظت بھی تو اس سے زیادہ ضروری ہونا چاہیے پھر مدرسہ کا کام تو غرباء سے بھی چل سکتا ہے چندہ غریبوں سے کر لو امیروں سے ہر گز نہ کرو مگر مصیبت تو یہ ہے کہ امیرانہ پیمانہ غریبوں کے چندہ سے کیسے کام چلے مگر اس کی بھی ایک صورت ہے وہ یہ کہ غرباء کی زیادہ تعداد وصول کرے مثلا ایک امیر سو روپیہ تنہا دیتا ہے وہ سو روپیہ سو غرباء سے لے لو نہ ہو سکے دو سو سے وصول کر لو باقی یہ خیال کہ کام نہ چلے گا محض خیال ہی خیال ہے خلوص کا کام نہیں رکا کرتا مگر ہر حال میں متکبر امراء کو تو منہ ہی نہ لگانا چاہئے مجھ کو تو علماء کے اس متعارف طرز سے دلی نفرت ہے مگر آج کل مدارس میں منجملہ اور کمالات کے ایک یہ بات بھی کمال میں داخل ہے کہ کسی مالدار دنیادار کو مسخر کر کے لایا جائے اس کا بھی نتیجہ سن لیجئے آنولہ کے ایک تاجر رئیس کو ایک مولوی صاحب مدرسہ دیوبند میں پھانس کر لائے اتفاق سے ان کے زمانہ قیام میں میں بھی دیوبند گیا ہوا تھا انہوں نے مہتمم صاحب کے واسطہ سے میرا بیان سننے کی خواہش کی مہتمم صاحب کے اصرار پر میں نے وعظ کہنا منظور کر لیا ہم لوگوں کا بیان ایک ہی ہوتا ہے ایک ہی سبق یاد ہے کہ اللہ سے تعلق پیدا کرو دنیا سے تعلق گھٹاؤ یہ وعظ ان رئیس صاحب نے سن کر کہا کہ میں ایسے مدرسہ کی خدمت نہیں کرنا چاہتا جس میں دنیا کے چھوڑ دینے کی تعلیم دی جاتی ہو باوجود اس کے کہ میں نے یہ بھی بیان کر دیا تھا کہ کسب دنیا مذموم نہیں ہے ، حب دنیا مذموم ہے کیونکہ کسب دنیا اور چیز ہے حب دنیا اور چیز ہے مگر اس تفصیل پر بھی خوش نہ ہوئے اور یہ کہا کہ مال دنیا کی مذمت کی جاتی ہے حالانکہ مال وہ چیز ہے کہ ہم داڑھی منڈے ہیں فاسق فاجر ہیں مگر اس کی بدولت بڑے بڑے علماء ہمارا احترام کرتے ہیں تعظیم کو کھڑے ہو جاتے ہیں اس قدر خر دماغ آدمی تھے میں تو اسی وجہ سے متکبرین کو منہ نہیں لگاتا کہ یہ دین اور اہل دین کو حقیر اور ذلیل سمجھتے ہیں ان کو یہ دکھلاتا ہوں کہ تم اگر خر دماغ ہو تو ملانوں میں بھی اسپ دماغ ہیں اور اکثر یہ مالدار ہوتے بھی ہیں بے عقل اور ان کا بے عقل ہونا خود ان کا اقراری ہے چنانچہ کہتے ہیں کہ سو روپیہ میں ایک بوتل کا نشہ ہوتا ہے اگر کسی کے پاس ہزار روپیہ ہے تو اس کو دس بوتلوں کا نشہ ہوا اتنے نشہ میں پھر عقل کا کیا کام اس اقراری لقب پر ایک اور قصہ یاد آیا ایک طالب علم کو کسی دنیادار نے مسجد کا مینڈھا کہا تھا اس نے کہا کہ دنیا کے کتوں سے تو پھر اچھے ہیں اس جواب میں ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ مسجد کا مینڈھا تو ان کا دعوی ہے جس میں دلیل کی ضرورت ہے اور دنیا کا کتا ہونا اقرار ہے جو خود دلیل ہے اب تو ان دنیا پرستوں کی بدتمیزی یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ایک شخص نے مجھ سے ایک ایسے امام کی نسبت جن کے اعضا قدرتی طور پر ناقص اور ضعیف تھے پوچھا تھا کہ کیا صحت امامت کے لئے امام کے ہاتھ پاؤں کا صحیح اور قوی ہونا بھی شرط ہے میں نے کہا کہ یہ شبہ کاہے سے ہوا کہنے لگے میں یہ سمجھا کہ جیسے قربانی میں شرط ہے شاید اس میں بھی شرط ہو یہ سوال محض تمسخر سے تھا میں نے تو ایک دنیا دار سے اس کا گھمنڈ توڑنے کے لئے کہا تھا کہ تم جو ہم مسکین طالب علموں کو اپنا محتاج سمجھتے ہو یہ محض ناحقیقت شناسی ہے حقیقت سنو کہ ایک چیز ہمارے احتیاج کی تمہارے پاس یعنی مال اور ایک چیز تمہارے احتیاج کی ہمارے پاس ہے یعنی دین مگر اتنا فرق ہے کہ جو چیز تمہارے پاس ہے وہ تو بقدر ضرورت بحمد اللہ ہمارے پاس بھی ہے اور جو چیز ہمارے پاس ہے وہ تمہارے پاس بقدر ضرورت بھی نہیں تو ہم تو عمر بھر بھی تم سے مستغنی رہ سکتے ہیں اور تم ایک منٹ بھی ہم سے مستغنی نہیں رہ سکتے سو آپ کے پاس تو آپ کے اس دعوی کی کہ اپنے کو محتاج الیہ کہتے ہو کوئی دلیل نہیں اور ہمارے پاس پمارے اس دعوی کی کہ تم کو اپنا محتاج کہیں دلیل ہے حاصل یہ کہ ہر مسلمان کو دو چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے بقدر ضرورت دنیا کی بھی اور آخرت کی بھی تو اس احتیاج باہمدگر دنیا میں تو ہم اور آپ دونوں شریک ہیں مگر اوپر کے تفاوت سے ہم تو تمہارے دروازہ سے ہمیشہ مستغنی رہ سکتے ہیں اور آپ ہمارے دروازہ سے ایک منٹ کے لئے بھی مستغنی نہیں ہو سکتے غرض مالداروں سے اس طرح رہنا چاہیے اور میں تو ایک اور بات کہا کرتا ہوں کہ خواہ کسی کے دل میں چاہے طمع ہی ہو مگر دین کی عزت سنبھالنے کے لئے علماء کو یہی طرز استغناء کا اختیار کرنا چاہیے گو ریاء ہی سے ہو ایک شخص بمبئی کے علاقہ کے یہاں پر آئے تھے چمڑے کی تجارت کرتے تھے انہوں نے مجھ کو کچھ ہدیہ دیا اس کے بعد مجھ سے ایک مسئلہ پوچھا میں نے بتلا دیا کہنے لگے کہ القاسم میں اس طرح لکھا ہے میں نے کہا کہ کیا میں دنیا بھر کا ذمہ دار ہوں اور میں نے کہا کہ اگر اس پر عقیدہ ہے تو پھر مجھ سے کیوں پوچھا اور اگر عقیدہ نہیں تو میرے بتلانے پر اسے کیوں پیش کیا اور میں نے ان کا وہ ہدیہ واپس کر دیا پس ہوش بجا ہو گئے ان کے دماغ اس طرح درست ہوتے ہیں مجذوبین کو دیکھ لیجئے کہ وہ امراء کو گولیاں دیتے ہیں پھتر مارتے ہیں اور یہ ہیں کہ ہاتھ جوڑے سامنے کھڑے ہیں اور مزید برآں کوئی روپیہ پیش کر رہا ہے کوئی مٹھائی پیش کر رہا ہے وہاں یہ گت بنتی ہے اور پھر معتقد اور جو تہذیب کے سبب ان کی رعایت کرتا ہے یہ لوگ اس کے سر پر سوار ہو جاتے ہیں بس فرق یہی ہے کہ مجذوبین کو مستغنی سمجھتے ہیں اور رعایت کرنے والوں کو اپنامحتاج ۔

( ملفوظ 557) تصویر کی حرمت کے منکر ایک صاحب

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک مرتبہ میں دہلی گیا تھا احمد مرزا فوٹو گرافر کی دکان پر قیام تھا ایک صاحب تصوف کے حامی مگر شریعت میں بدنظامی دکان پر آ کر کہنے لگے کہ ذرا مرزا جی کو سمجھائیے انہوں نے اسلام کو بڑا صدمہ پہنچایا کہ فوٹو سے توبہ کر لی میں نے کہا کہ معصیت کے ترک سے اسلام کو کیا صدمہ پہنچا بلکہ قوت ہوئی کہنے لگے کہ اس میں معصیت کی کیا بات ہے میں نے کہا کہ آپ تو ایسے پوچھ رہے ہیں کہ جیسے کبھی آپ کی دکان میں بھی یہ بات نہ پڑی ہو کیا اس کے لئے اتنا سمجھ لینا کافی نہیں کہ نھی عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ہم غلام ہیں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے اس کے بعد کس تحقیق کی ضرورت ہے اور اگر ہم اس پر بھی اپنی تحقیق پر احکام کا مدار رکھیں اور تمام احکام کے علل معلوم کیا کریں تو وہ تو اپنی تحقیقات کا اتباع ہو گا اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا تو اتباع نہ ہوا اور اگر ایسے ہی علل پر مدار ہے احکام کا تو بتلاؤ زنا کی حرمت کی کیا علت ہے کہنے لگے کہ یہ تو معلوم نہیں میں نے کہا میں بتلاتا ہوں اس میں دو علتیں ہیں ایک خلط نسب دوسرے مردوں میں باہم تقاتل و تجادل ۔ بڑے خوش ہوئے کہنے لگے بہت ٹھیک ۔ میں نے کہا کہ عورت کو ایسی دوا کھلا دی جائے جس سے علوق کا احتمال نہ رہے نیز زانی مردوں میں باہم ایسا تعلق و تعشق ہو جس میں تجادل و تقاتل کا بھی احتمال نہ رہے تو کیا پھر زنا حلال ہو جائے گا بس دم بخود رہ گئے یہاں پر ایک ڈپٹی کلکٹر آئے تھے مجھ سے کہنے لگے کہ میں آپ سے کچھ پوچھ سکتا ہوں یہ ان کا اجازت لینا برائے نام ہوتا ہے یہ بھی ایک رسم ہے کہ یہ الفاظ ضرور کہے جائیں اس لئے کہ اگر اجازت نہ ہو تو اس پر ناگواری ہوتی ہے شکایتیں کرتے ہیں میں اتنے ہی کہنے سے سمجھ گیا کہ کوئی ایسا ہی سوال کریں گے جس خیال کے ہیں یہ بھی ان جدید تعلیم یافتوں میں مرض ہے کہ نصوص میں عقلی شبہات نکالا کرتے ہیں شبہ کرنا ہی دلیل ہے جہل کی اس لئے شبہ ناشی ہوتا ہے جہل سے اس لئے وہ جلدی ان کے ذہن میں آتا ہے کیونکہ جاہل کو جہل سے زیادہ مناسبت ہے اور جواب ناشی ہوتا ہے علم سے اس لئے وہ ان کی سمجھ میں جلدی نہیں آتا کیونکہ جاہل کو علم سے زیادہ مناسبت نہیں غرض میں نے ان کو اجازت دے دی اس پر انہوں نے سوال کیا کہ سود کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے میں نے کہا کہ میرا خیال ہونا آپ کو معلوم ہے کہ میں مذہبی شخص ہوں قرآن و حدیث کا حکم ظاہر کر دینا میرا کام ہے ۔ فلسفی شخص نہیں ہوں نہ فلسفیات کا ذمہ دار قرآن و حدیث سے جواب دوں گا اس میرے جواب پر اور ان اصول موضوعہ کی بناء پر ان کے سوالات کا بہت بڑا ذخیرہ تو ختم ہو گیا میں نے کہا کہ جواب سنئے وہ یہ کہ حق تعالی فرماتے ہیں :
و احل اللہ البیع و حرم الربوا
کہنے لگے حسن نظامی دہلوی تو ربوا کی یہ تفسیر کرتے ہیں میں نے کہا کہ آپ قانون کی جن دفعات کی بناء پر فیصلے دیتے ہیں آپ وہ قانون اور وہ دفعات مجھے دیجئے میں اس کی شرح کروں گا آپ اس میری شرح کے ماتحت فیصلہ لکھا کریں پھر دیکھئے کہ گورنمنٹ کی طرف سے آپ پر کیسی لتاڑ پڑتی ہے اور جواب طلب ہوتا ہے اس جواب طلب ہونے پر اگر آپ گورنمنٹ سے کہیں کہ فلاں شخص نے قانون کی یہی شرح لکھی ہے وہ شخص عربی فارسی اردو سب جانتا ہے اس سے میں نے یہ فیصلہ لکھا ہے تو یہی جواب ملے گا کہ زبان دانی اور چیز ہے قانون دانی اور چیز ہے طالب علم ہونا اور چیز ہے قانون دان ہونا اور چیز ہے بس یہی جواب اس تفسیر کے متعلق ہمارا اس شخص کی تفسیر ایسی ہی ہے کہ جیسے میں قانون کی شرح لکھوں تو حسن نظامی ہونا اردو داں ہونا اخبار نویس ہونا اور بات ہے مفسر ہونا اور چیز ہے کہنے لگے مگر ترقی بدون سود کے نہیں ہوتی میں نے کہا کہ اگر ترقی ایسی ہی مقصود بالذات ہے چاہے وہ مقصود چوری سے حاصل ہو جائے ڈکیتی سے حاصل ہو تو اختیار ہے ان ذرائع سے ترقی کرو مگر احکام میں کیوں کتربیونت کرتے ہو اور شریعت مقدسہ میں کیوں تحریف کرتے ہو اس کی صورت یہ ہے کہ سود کو حرام سمجھ کر لیا کرو ترقی ہو گی کیونکہ ترقی کو اس سے کیا غرض کہ کیا حلال ہے کیا حرام ہے اور اس کو اس نیت کی کیا خبر کہ کس نیت سے لیتا ہے تو ترقی تو حرام سمجھتے ہوئے بھی ہو رہے گی سو ترقی کی یہ صورت ہے یہ سن کر بڑے خوش ہوئے اور ساتھیوں سے کہنے لگے کہ یہ ہے بڑا فلسفہ میں نے یہ بھی کہا کہ حرام سمجھ کر لینے میں محض جرم ہو گا مگر بغاوت نہیں ہو گی اور بہ نسبت بغاوت کے کہ اس کو حلال سمجھ کر لیتے حرام سمجھ کر لینے میں کم پٹو گے باقی میرا یہ کہنا کہ حرام سمجھ کر لو یہ خود بتلا رہا ہے کہ میں نے لینے سے منع کیا ہے نہ یہ کہ اجازت دی ہے مگر اس سمجھنے کے لئے بھی عقل اور فہم کی ضرورت ہے اور یہ لوگ پہلے ہی سے اس سے کورے ہوتے ہیں اگر یہ کم فہمی نہ ہو تو یہ شبہات ہی کیوں پیدا ہوں یہ میںنے اس لئے کہہ دیا کہ کبھی میرے کلام سے اجازت سمجھ لیتے حقیقت یہ ہے کہ ان اختراعی مصالح نے لوگوں کے دین کا ناس کیا ہے حالانکہ سالن جب ہی مزیدار ہوتا ہے کہ جب مصالح کو خوب پیس دیا جائے غرض مصالح شریعت مقدسہ پر مقدم نہیں ہیں بلکہ شریعت مصالح پر مقدم ہے حضرت مجدد صاحب فرماتے ہیں کہ شرائع میں حکمت اور مصلحت ڈھونڈنا مرادف ہے انکار نبوت کا کیونکہ اگر نبوت کے قائل ہیں تو نبی کا حکم سن کر پھر ماننے اور عمل کرنے میں انتظار کس چیز کا ہے اور کیوں ہے ۔

( ملفوظ 556) ایک غیر مقلد کا گستاخانہ خط

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ادب محض تعظیم و تکریم کا نام نہیں اصل ادب یہ ہے کہ دوسرے کو دل آزاری سے بچانا اور راحت کا اہتمام کرنا ( کما فی القاموس حسن التستاول فی الصراح نگاہ داشت حد ہر چیزاہ و داخل ما ذکر فیہ ) ایک غیر مقلد صاحب کا خط آیا تھا نہایت گستاخانہ میں نے ان کو نہایت نرم جواب دیا اور اس میں ضروری اصول کی رعایت رکھی ۔ میں نے لکھا کہ اگر آپ کو مجھ سے استفادہ مقصود ہے تو یہ لہجہ استفادہ کا نہیں اور اگر افادہ مقصود ہے میں نہایت خوشی سے اجازت دیتا ہوں کہ آپ مجھ کو میری غلطیوں پر اطلاع دیں لکھا ہے کہ مجھ کو استفادہ مقصود ہے افادہ وہ کر سکتا ہے جس کو مساوات کا درجہ حاصل ہو میں تو خادم ہوں جوتیوں کے برابر بھی درجہ نہیں رکھتا مگر پھر بھی تحریر کا رنگ مناظرانہ ہے عجیب حالت ہے لوگوں کی ایک ہی وقت میں ایک ہی تحریر میں دو متضاد باتیں جمع پھر اس پر دعوے علم کا ۔ میں نے لکھ دیا ہے کہ یہ تو مشاہدہ ہو گیا کہ یہ لہجہ افادہ کا ہے پس اب آپ مجھ کو میری غلطیوں پر اطلاع دیں میں نہایت ٹھنڈے دل سے انشاء اللہ غور کروں گا لیکن اسی کے ساتھ آپ کو جواب نہ دوں گا اگر غلطی سمجھ میں آ جائے گی تو ترجیح الراجح میں شائع کر دوں گا اس کے بعد فرمایا کہ میرے عنایت فرماؤں نے درحقیقت مجھ پر بڑا احسان کیا ہے کہ میرے لئے سہولت پیدا کر دی وہ یہ کہ میں نے تصانیف کیں جن کی تصحیح کے لئے اگر میں اہتمام کرتا تو کتنا روپیہ خرچ ہوتا اب انہوں نے غور کر کے غلطیاں نکالیں اور میں نے ترجیح الراجح میں شائع کر دیں اور کہتا رہتا ہوں تو مفت میں اتنا بڑا کام ہو گیا اور خدا نہ کرے مجھ کو ضد تھوڑا ہی ہے یہ تو دین ہے اس میں سب ہی مسلمانوں کی شرکت ہے سب مل کر خدمت کریں ان معترض صاحب کا ایک اخبار بھی شائع ہوتا ہے یہ صاحب اس میں کفار کی مدح بھی لکھتے ہیں اسی بناء پر میں نے ان کو لکھ دیا کہ اپنا اخبار میرے پاس نہ بھیجا کریں اس میں کفار کی مدح ہوتی ہے غضب یہ کیا ہے اس شخص نے کہ اولی الامر منکم میں کافر حکام کو داخل کیا ہے کچھ تاویل سوچ لی ہو گی اور تاویل کون سی بڑی مشکل چیز ہے ۔ ایک مولوی صاحب فرمایا کرتے تھے کہ تاویل کا اتنا بڑا پھاٹک ہے کہ اگر دو ہاتھی اوپر نیچے کھڑے کر کے نکال دیئے جائیں تو بے تکلف نکل سکتے ہیں ۔ یہ حالت ہے سمجھ اور فہم کی کہ محض دنیوی اغراض کے لئے آیات و احادیث میں بھی تحریف کرتے ہیں کتنی بڑی جہالت ہے اگر ایسے جاہل سے خطاب کیا جائے ، کیا امید ہے سمجھنے کی جبکہ مخاطب میں فہم بھی نہ ہو تدین بھی نہ ہو اگر ایسی فضولیات کے روکنے کی طرف متوجہ ہوا جائے تو ضروری کام سب چوپٹ ہو جائیں اس لئے :
و اذا خاطبھم الجاھلون قالوا سلاما پر عمل کیا جاتا ہے ۔

( ملفوظ 555)دنیائے ناپائیدار کی حقیقت

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ خاصان حق کی نظر میں اس دنیا ناپئیدار کی کچھ بھی حقیقت نہیں حضرت ادہم کا واقعہ ہے کہ آپ کے مکان میں گیارہ کوٹھڑیاں تھیں ایک گر گئی دوسری میں چلے گئے ، دوسری گر گئی تیسری میں چلے گئے ، غرض یہ کہ اسی طرح گیارہویں میں پہنچ کر انتقال ہو گیا ۔ مرمت ایک کی بھی نہیں کرائی وجہ یہ تھی کہ اس کی واقعی حقیقت ان کی نظر میں نہ تھی آج کل کے جو عقلاء ہیں وہ ان ناپئیدار چیزوں کو مایہ فخر سمجھتے ہیں اور اپنے بڑے قیمتی وقت کو اس کے حاصل کرنے کے لئے صرف کرتے ہیں ۔
8 ذی الحجہ 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم جمعہ

( ملفوظ 554) نیک کام میں رہنا اللہ کا فضل ہے

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ غریب انسان کا اختیار ہی کیا ہے وہ اپنے کو کسی طرف لگائے رکھے یہ سب فضل پر موقوف ہے مگر ہاں طلب شرط ہے یہ اپنا کام کرے آگے ان کا کام ہے کہ وہ اس کو قبول فرما لیں ورنہ اس بے چارے کی حقیقت ہے کیا اسی لئے کبھی ناز نہ کرنا چاہیے ۔
کہ میں یہ کہہ رہا ہوں بلکہ فضل اور رحمت پر نظر رکھنا چاہیے کہ انہوں نے توفیق عطا فرما دی اور اپنے کام میں لگا لیا بس اسی میں اس کی خیر ہے اور یہ بندہ بندہ ہے ورنہ گندہ ہے کہ اعمال کے صدور کو اپنا کمال سمجھے اس ہی لئے کامل کی صحبت کی ضرورت ہے تا کہ وہ رہبری کر کے اس نازک راہ سے گزار دے ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ دلائل صحیحہ سے تو مطلق اختیار ثابت ہے مگر وقوع کے وقت معلوم ہوتا ہے کہ وہ اختیار مستقل نہیں ہے ۔

( ملفوظ 553) حکمتوں کے پیچھے پڑنا خطرناک ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آجکل لوگ علل اور حکم کے بہت پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور یہ نہایت خطرناک چیز ہے مثلا کہتے ہیں کہ جماعت کی نماز سے مقصود باہمی اتحاد ہے سو اگر کسی اور ذریعہ سے یہ مقصود حاصل ہو جائے تو لوگ نماز ہی کو خیر باد کہہ دے گے کیونکہ جو مقصود تھا نماز کا وہ تو حاصل ہو گیا پھر نماز کی کیا ضرورت رہی دین کو لوگوں نے کھیل بنا رکھا ہے جو جی میں آتا ہے ہانک دیتے ہیں اس کے انجام پر نظر نہیں کرتے یہ آجکل کے عقلاء ہیں ۔

( ملفوظ 552) شیخ کے پاس دوسرے کو ساتھ نہیں لے جانا چاہیے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آجکل یہ بھی آنے والوں کے قریب قریب ایک عام سی عادت ہو گئی ہے کہ دوسروں کو اپنے ساتھ لگا کر لاتے ہیں ۔ یہ طرز بہت برا ہے اور اس میں بہت سی خرابیاں ہیں مولانا فضل الرحمن رحمۃ اللہ علیہ گنج مرادآبادی نے مولوی محمد علی صاحب سے فرمایا تھا کہ کسی کو ساتھ مت لایا کرو اس سے تکلیف ہوتی ہے ، حاصل یہ تھا کہ تمہارے ساتھ اور معاملہ ہے اور آنے والوں کے ساتھ نہ معلوم کیا برتاؤ مناسب ہے ، تمہارے ساتھ ہونے کی وجہ سے اس کی رعایت کرنی پڑتی ہے ، کیسی اصولی بات فرمائی ہے ، حالانکہ مجذوب تھے مگر نہ معلوم کس طرح یہ اصول قلب میں آتے تھے اب تجربہ کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ واقعی ایسا ہی کرنا چاہیے اس لئے کہ اس میں دو صورتیں ہیں اگر ایسے شخص کے ساتھ آئے کہ جس سے پہلے سے بے تکلفی یا مناسبت نہیں اور اس شخص نے کچھ بے عنوانی کی اور اس پر سیاست جاری کی گئی تو اس کے ساتھ اس کے ساتھی بھی بہت سی باتوں سے محروم جاتے ہیں ، جیسا کہ آج ہی کا واقعہ ہے کہ دو شخص ایک صاحب کے ہمراہ آئے تھے ان صاحب کی بعض کوتاہیوں پر جو ان سے برتاؤ کیا گیا وہ دونوں بھی کچھ نہ کہہ سکے اور اگر ایسے شخص کے ساتھ آئے کہ اس سے بے تکلفی اور مناسبت ہے اور اس وجہ سے ان کے ساتھ بھی معاملہ خوش خلقی کا برتا گیا تو اس میں دو خرابی ہیں ایک تو یہ کہ جس کے پاس آئے بعض اوقات باوجود خلاف مذاق ہونے کے ان سے برتاؤ کیا گیا تو اس کو کلفت اور گرانی ہوئی اور ایک یہ کہ ان کو اس برتاؤ سے اس لئے کوئی نفع نہ ہوا کہ ان کی حالت کے مناسب یہ برتاؤ نہ تھا اس لئے کہ ہر شخص کے ساتھ جدا برتاؤ ہوتا ہے جس سے اس کی حالت کی رعایت ہوتی ہے ۔

( ملفوظ 551)سمجھدار لوگ محبت کرتے ہیں

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مجھے اس سے مسرت ہے کہ سمجھ دار لوگ مجھ سے محبت کرتے ہیں چاہے وہ دس ہی ہیں بخلاف اس کے کہ بدفہم لوگ محبت کرتے اور ہزار ہوتے اس کی کچھ مسرت نہیں بس یہ زیادہ لذیذ ہے کہ فہیم اور سمجھدار لوگ محبت رکھتے ہیں ۔

( ملفوظ 550)طبائع نرمی سے اصلاح قبول نہیں کرتی

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ لوگ میری کتابیں دیکھ کر معتقد ہو جاتے ہیں سخت غلطی ہے یہاں آ کر کہتے ہوں گے کہ تصنیف میں تو چہرہ ایسا دلفریب اور یہاں دیکھو تو اورنگزیب اس لئے کہ میں اصلاح اور تربیت کی بناء پر روک ٹوک اور تعلیم کرتا ہوں اگر کوئی بیہودگی کرتا ہے تو مؤاخذہ کرتا ہوں اس وجہ سے مجھ کو سخت سمجھتے ہیں لیکن اگر یہ طرز اختیار نہ کروں تو اصلاح کیسے ہو آج کل اکثر طبائع شریف نہیں رہیں کہ نرمی سے اصلاح قبول کر لیں ۔