ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک مولوی صاحب کا کہنا ہے مجھ کو تو بہت ہی پسند آیا کہ مسلمان خوف سے متاثر نہیں ہوتے مگر بعضے طمع سے متاثر ہو جاتے ہیں ۔ اب وہ طمع بہت سی قسم کی ہے مثلا مال کی طمع جاہ اور بڑائی کی طمع اس طمع کے سبب بعضے علماء نے بھی احکام کی پروا نہ کی ، زیادہ سبب یہ ہی ہوتا ہے کتمان حق کا اگر علماء اپنی تھوڑی سی اصلاح کر لیں ، یعنی باخدا ہو جائیں تو خود ان اثر لوگ قبول کرنے لگیں ۔
28 ذیقعدہ 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم چہار شنبہ
( ملفوظ 468 ) تحریک خلافت کے بعد سب نے آ کر معافی مانگی
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک مولوی صاحب معافی کے لیے آئے تھے یہ کہتے تھے کہ میں نے زمانہ خلافت میں کچھ کہا تھا معاف کر دیجئے ، میرا آخری وقت ہے میں نے کہا کہ میں تو پہلے ہی سب کو معاف کر چکا ہوں اور اب بھی معاف کرتا ہوں آپ بھی معاف فرمائیں ، اس پر بہت خوش ہوئے ، مجھ کو معافی دینے میں کیا عذر تھا اس لیے کہ کسی کے برا کہنے سے میرا نقصان ہی کیا خصوصا جبکہ ان تحریکات میں جو بعضے ایسے لوگ شریک تھے جن کی نیت شرارت کی نہ تھی صرف حرارت تھی جس میں خیساندہ پینے کی ضرورت تھی ۔ چنانچہ فہم و انصاف کے خیساندہ سے وہ حرارت جاتی رہتی اور یہ اللہ کی رحمت ہے کہ میں ہر بات میں سب سے کم مگر مجھ کو کسی کے سامنے جھکنا نہیں پڑا وہی آ کر جھکے ۔
( ملفوظ 467 )مالی تحریک میں کسی کو تنگ نہ کرنا
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اللہ کا فضل ہے کہ ہم مالی تحریک میں کسی کو تنگ نہیں کرتے اور الحمد للہ نہ کسی کی طرف نظر ہے اور اسی میں مدرسہ کا کام بھی چل رہا ہے اپنی ذات کا بھی غریب مسکینوں کا بھی ۔
( ملفوظ 466 ) دو عرب سائلوں کی خانقاہ آمد
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ صبح دو شخص سائل عرب کے آئے تھے تھوڑے بہت پر اکتفا نہ کرتے تھے ارب ہی کی تلاش تھی ، میں نے کچھ خدمت کرنا چاہی قبول نہیں کیا حلانکہ جب یہ لوگ پھرنے والے ہیں تو آنے دو آنہ دس جگہ سے لے سکتے ہیں جس جس کا مجموعہ مقدار کثیر ہو سکتا ہے مگر یہ ایک ہی جگہ سے لینا چاہتے ہیں سو یہ مشکل ہے گو ایسے مد کا روپیہ میرے پاس آتا ہے مگر وہ زیادہ مقدار میں نہیں ہوتا پھر یہ کہ ضرورت مند زیادہ ہوتے ہیں ان کو تھوڑا تھوڑا پہنچا دیتا ہوں اور اس میں اول ان کو جن کی شان ہے کہ ” لا یسئلون الناس الحافا ” یعنی کسی سے نہیں کہہ سکتے مگر اہل غرض سمجھتے نہیں جس کی خدمت نہ کی جائے وہ مجھ کو روکھا سوکھا سمجھتے ہیں میں ان کو عقل سے سوکھا سمجھتا ہوں ۔
( ملفوظ 465 )قربت مقصود حمل ہے
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ جماع سے مقصود حبل یعنی حمل جس سے نسل کا بقاء رہتا ہے ، شہوت رانی مقصود نہیں ۔
( ملفوظ 464 )عام حالات میں عورت کا چار ماہ سے زیادہ نہ صبر کرنا
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ عورت چار ماہ سے زیادہ شوہر کے بدون صبر نہیں کر سکتی مگر صحیح المزاج ہونا شرط ہے ورنہ ضعف اعضاء کی وجہ سے زیادہ بھی صبر کر سکتی ہے ۔ یہ تجربہ کاروں کا قول نقل کرتا ہوں پھر اس کی تائید میں حضرت عمر کا قصہ بیان فرمایا کہ آپ شب کو گشت فرما رہے تھے ایک مکان میں سے کچھ اشعار پڑھنے کی آواز آئی ، نہایت دلکش وہ شوہر کو یاد کر رہی تھی ، آپ حضرت حفصہ کے پاس تشریف لے گئے کہ اے بیٹی میں ایک بات بضرورت دینی دریافت کرتا ہوں ، اس میں حجاب نہ کرنا بتلا دینا ، وہ یہ کہ عورت بدون مرد کے کتنا صبر کر سکتی ہے ، انہوں نے نہایت جبر کر کے جواب دیا کہ چار ماہ پھر اس کے بعد تکلیف ہوتی ہے ۔ یہاں پر ایک بات قابل غور ہے کہ حضرت عمر فاروق نے بیٹی سے دریافت کیا ، بیوی سے کیوں نہ پوچھا ، سو وجہ اس کہ ہے کہ ان کو یہ خیال ہوا کہ شاید اس میں اپنی غرض سمجھ کر نہ بتلائیں ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے اس وقت تمام امراء اور سپاہی اور لشکروں کو حکم دیا کہ کوئی سپاہی یا افسر چار ماہ سے زائد باہر نہ روکا جائے ، گھر آنے کیلئے اس کو رخصت دے دی جایا کرے ۔
( ملفوظ 463 ) کثرت ازدواج کے اعتراض کا جواب
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ کثرت ازواج کے باب میں معترضین نالائقوں نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنے اوپر قیاس کیا ہے اس لیے شہوت پرستی کا ناپاک اعتراض کیا ، حضور صلی اللہ علیہ و سلم میں جتنی قوت تھی اس پر نظر کر کے تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے نفس کے تقاضے کا پورا پورا مقابلہ فرمایا کیونکہ حدیث میں آیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم میں تیس مردوں کی قوت تھی اور بعض محققین نے کہا ہے کہ مرد بھی کون سے جنت کے مرد اور جنت کے ہر مرد میں سو مردوں کی قوت ہو گی ۔ خیر اگر یہ بھی نہ سہی تو یہیں کے مرد سہی تب بھی اس قوت کے ہوتے ہوئے تو پھر اکتفا کرنے میں کیا ٹھکانا ہے ۔ ضبط کا اس وقت کے قوی ایسے تھے کہ ایک صحابی کا واقعہ ہے کہ تمام شب بیوی سے مشغول رہتے ، اس قدر قوت ممسکہ تھی سو حضور صلی اللہ علیہ و سلم میں ایسے تیس مردوں کی قوت تھی تو اس اعتبار سے تو آپ نے نکاح میں بہت تقلیل فرمائی ۔ اسی طرح معترضین کا یہ بھی غلط الزام ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے ساتھ آپ کو متعارف عشق کا درجہ تھا ۔ آپ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس نویں دن تشریف لاتے تھے اگر ایسے عشق کا درجہ ہوتا تو آٹھ دن کیسے صبر ہوتا پھر حضور صلی اللہ علیہ و سلم میں ضعف بھی نہ تھا بلکہ شیخوخت میں بھی شباب کی قوت تھی ، نہایت صحیح قوی تھے اور یہ شبہات جو پیدا ہوئے یہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے اخلاق کریمانہ سے پیدا ہوئے مگر یہ رعایت حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی اپنے متعلقین کے ساتھ شان حاکمانہ تھی ، عاشقانہ نہ تھی نیز یہ بھی غور کرنے کی بات ہے کہ گھر میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا جو وقت گزرتا تھا زیادہ تر یاد الہی اور اطاعت میں گزرتا تھا شب کو بھی ، دن کو بھی اگر ( نعوذ باللہ ) نفس پرستی ہوتی تو زیادہ وقت اس میں گزرتا مگر وہاں تو اصل چیز یہ عبادت ہی رچی ہوتی تھی قلب میں اس کے علاوہ اور چیزیں بقدر ضرورت تھی پھر ایسے شبہات محض کور چشمی ہے ۔
( ملفوظ 462 ) حیات المسلمین کے لکھنے میں پریشانی
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حیات المسلمین میں جو دقت مجھ کو ہوئی وہ اس کے سہل بنانے کی وجہ سے ہوئی ، ساتھ ہی یہ بھی خیال تھا کہ کوئی ضروری بات رہ بھی نہ جائے ۔ پھر مضمون کی مقدار برابر رکھنے میں بھی کہ ہر مضمون دو دو ورق کا رہے دقت ہوئی فرمایا کہ میں نے یہ سوچا تھا کہ مدت دراز تک ضروری مضامین کے دو دو ورق مہینہ میں لکھ دیا کروں گا مگر اب جو دیکھتا ہوں تو تمام ضروری مضمون اس میں آ گئے ، سلسلہ جاری رکھنے کی ضرورت نہ ہوئی ، میں نے کہا اللہ کا شکر ہے کہ جلدی فراغت ہو گئی ۔
( ملفوظ 461 )زمینداری سے متعلق فقہی احکام جمع کرنے کا ارادہ
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ میں زمینداری اور دوسرے نئے معاملات کے متعلق احکام جمع کرنا چاہتا تھا اور اس کے لیے بہت لوگوں سے کہا کہ سوالات جمع کر کے دو تا کہ ان کے احکام معلوم کیے جائیں اس لیے کہ واقعات کو تو ہم جمع نہیں کر سکتے ، واقعات تو وہی جمع کر سکتا ہے کہ جس کو ان کی ضرورت پیش آتی رہتی ہو مگر کسی نے بھی مدد نہ کی نہ محکمے والوں نے نہ تجار نے نہ ملازموں نے زمینداروں نے پھر مزاحا فرمایا کہ پھر آسماں داروں ہی کو جمع کرنے کی کیا ضرورت تھی ، باقی اس وقت تو کچھ ہمت تھی اور اب تو اگر سوالات بھی مل جائیں تب بھی جوابات کی ہمت نہیں ۔
( ملفوظ 460 )علماء کے برابر کسی کو سلیقہ نہیں ہوتا
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حقیقت میں مولویوں کی برابر دوسروں کو سلیقہ ہو ہی نہیں سکتا ۔ آج کل کہ تعلیم یافتہ انگریزی خواں بیچاروں کو تو ان کے سامنے کیا سلیقہ ہوتا ۔

You must be logged in to post a comment.