ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بعض دفعہ انعامات کے تواتر سے ڈرا کرتا ہوں کہ اللہ کی حجت تمام ہو رہی ہے ۔ دعا کیجئے کہ استدراج نہ ہو ۔
( ملفوظ 478) بہادر رحم دل ہوتا ہے اور بزدل شقی القلب
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ یہ بیہودہ ذبح انعام پر عدم ترحم کا اعتراض کرنے والے کیا جانیں ترحم کی حقیقت کیا ہے الفاظ رحم اور ترحم کے یاد کر لیے ہیں میں تو اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہوں کہ گائے کے گوشت کے کھانے والے میں ترحم ہوتا ہے اور اس کے ترک میں قساوت اور بعض لوگوں کو جو مخالفین ذبح پر رقت قلب کا شبہ ہو جاتا ہے تو تراحم اور ضد قساوت سمجھا جاتا ہے ۔ سو وہ تراحم نہیں جبن اور ضعف ہے اور قساوت کے منافی نہیں بلکہ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ جبن اور قساوت میں تلازم ہے ایک فلسفی کا قول ہے کہ شجاع میں ترحم نہ ہونا محال ہے ساری دنیا کی قوموں میں سب سے زیادہ شجاع ترک ہیں اور نہایت رحم دل اور ترکوں ہی میں کیا سب ہی مسلمانوں میں یہ صفت ہے جس کا سبب ایک تو شجاعت دوسرا سبب خدا تعالی کی تعلیم اور وہ یہ تعلیم یہ ہے کہ تم احکام کے سامنے اپنی جان سے بھی محبت نہ رکھو البتہ اس حیثیت سے کہ وہ اللہ کی امانت ہے یہ سمجھ کر اسکی حفاظت کرو ، اپنی سمجھ کر نہیں اس حفاظت پر بھی اجر اور ثواب ہو گا اسی لیے ہم کو خودکشی سے منع فرمایا ہے ۔ گویا یہ حکم ہے کہ وہ ہماری چیز ہے اس لیے تم بلا اذن اس میں تصرف نہ کرو اور یہی راز ہے اس کا بھی کہ دوزخ میں جانے کے کام کرنا حرام ہے کیونکہ وہ اس حکم حفاظت کے خلاف کرنا ہے پس وہاں جانے سے حفاظت کرنے کا حکم ہے اور اس کی یہی صورت ہے کہ کفر سے شرک سے اور ہر قسم کی معصیت سے اجتناب کیا جائے ۔ غرض یہ سب فرع اس کی ہیں ہماری جان ہماری مملوک نہیں ، حق تعالی کی مملوک ہے ، اس پر ایک واقعہ یاد آ گیا ۔ ایک تحصیلدار صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ طاعون سے بھاگنا کیوں ناجائز ہے حلانکہ وہاں رہنا عقل کے خلاف ہے اس لیے کہ جان کی ہلاکت کا اندیشہ ہے میں نے کہا کہ لڑائی سے سپاہی کا میدان جنگ چھوڑ کر بھاگنا کیوں جرم ہے حالانکہ وہاں طاعون سے بھی زیادہ جان کی ہلاکت کا خوف ہے ۔ یہاں تو موت میں رہنا عقل کے خلاف اور وہاں رہنا عقل کے خلاف نہیں ، ایک نام کا بادشاہ تو بیس روپیہ مہینہ دے کر جان کا مالک ہو جائے اور حق تعالی اس کو پیدا کر کے بھی مالک نہ ہوں ۔ یہ جواب سن کر وہ بے حد مسرور ہوئے اور بہت دعائیں دیں ۔ بس یہی ذبیحہ پر جواب ہے اور سیدھا جواب جس میں کوئی اینچ پینچ نہیں اور یہ ناشی ہے واقعات کے تجربہ سے جو بوڑھوں کو حاصل ہو جاتا ہے اسی لیے میں کہا کرتا ہوں اپنے نوجوان اہل علم سے کہ علم میں تو تم بڑھے ہوئے ہو مگر بڑھاپے میں ہم بڑھے ہوئے ہیں اور یہ سب تو ظاہر ہے اور اصل سبب دعا و توجہ ہے ۔ بزرگوں کی چنانچہ اللہ تعالی کا فضل ہے کہ حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ جن کی علمی شان یہ تھی کہ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ چار مسئلوں میں مجھ کو شرح صدر ہے تقدیر ، روح ، وحدۃ الوجوہ ، مشاجرات صحابہ رضی اللہ عنہم جو مسائل عظیمہ ہیں ایسی شان والے کو اس ناکارہ کی طرف ایسا متوجہ فرما دیا کہ حضرت اکثر تقریر فرما کر فرما دیا کرتے تھے کہ اگر کسی کی سمجھ میں نہ آیا ہو تو اشرف علی سے کچھ سمجھ لینا مگر حضرت کے اس برتاؤ کی وجہ سے بعضے سالہا سال کے رہنے والے پرانے خادموں پر یہ اثر ہوا کہ مجھ سے جلنے لگے اس لیے میں وہاں سے جلدی ہی چلا آیا ۔
( ملفوظ 477)چھوٹوں سے زیادہ ڈرنا چاہیے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں تو اپنے تجربہ سے کہا کرتا ہوں کہ بڑوں سے ڈرنے کی اتنی ضرورت نہیں جس قدر چھوٹوں سے ڈرنا چاہیے مثلا وائسرائے سے زیادہ ڈرنے کی ضرورت نہیں کانسٹیبل سے بہت ڈرنے کی ضرورت ہے ۔ وجہ یہ کہ بڑوں کو حوصلہ ہوتا ہے چھوٹوں کو نہیں ہوتا ۔
( ملفوظ 476) تبحر فی العلوم فرض عین بن گیا
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ تبحر فی العلوم اصل میں فرض کفایہ ہے مگر اب ایسے حالات ہو گئے ہیں کہ تقریبا فرض عین ہے اس لیے کہ دین کی حفاظت فرض ہے اور وہ بدون علم کے ہو نہیں سکتی اور اتباع کا مادہ اب لوگوں میں نہیں رہا ہے اس لیے خود علم کافی حاصل کرنے کی ہر شخص کو ضرورت ہوئی اس لیے چند روز سے یہ خیال ہوا ہے کہ ایسا تبحر فی العلوم اس زمانہ میں عجب نہیں کہ فرض عین ہو اور باوجود تبحر کے بھی ایک دوسری چیز بھی گویا فرض عین ہے یعنی صحبت اہل اللہ کی اس لیے کہ لکھے پڑھے لوگ بھی گڈمڈ ہو جاتے ہیں اس لیے میں ان دونوں چیزوں کو یعنی تبحر فی العلوم اور صحبت اہل اللہ کو ایک درجہ میں فرض عین کہتا ہوں اس لیے کہ دین کی حفاظت ان ہی دو چیزوں پر موقوف ہے خصوص دوسری چیز پر ۔
( ملفوظ 475)ہر ایک کی استعداد کے موافق معاملہ کرنا
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہ بہت ہی بڑا معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کو مریدی کی ترغیب دے کر بھیجا جاوے ، بڑی غیرت کی بات ہے ، مجھ کو اگر شبہ بھی ہو جاتا ہے کہ یہ کسی کا ترغیب دیا ہوا آیا ہے اس کو جمنے نہیں دیتا ، اب تو یہ آفت ہو گئی ہے کہ یہ باتیں مشائخ کو ناگوار نہیں ہوتیں ، اچھی خاصی ایجنسی ہو رہی ہے معتقد لوگ دوسروں کو پھانس کر لاتے ہیں اور وہ دھڑا دھڑ مرید کرتے ہیں کیا خرافات ہے طالب کو مطلوب ، مطلوب کو طالب بنا رکھا ہے اور اصل یہ ہے کہ اپنی اپنی رائے ہے ہم کیوں کسی کے مقلد بنیں ہم تو جو اپنے جی میں آئے گا وہ کریں گے پھر مریدی میں کیا رکھا ہے اگر کوئی چیز اہتمام کی ہے وہ شریعت مقدسہ ہے اور ایسی مریدی سے طالبوں کا کوئی بھی تو نفع نہیں کہ جو آیا مرید کر لیا اس میں تو مرید متبوع ہو گیا حالانکہ اس کو کام کرنے والا ہی جانتا ہے کہ کس کے لیے کس وقت کیا ضرورت ہے جیسے روٹی پکانے والی سمجھتی ہے کہ اب تیز آنچ کی ضرورت ہے یا نرم آنچ کی ضرورت ہے تو دوسرا اس میں کیوں دخل دے اور کیوں رائے دے ، میرے متعلق یوں سمجھتے ہیں کہ یہ مرید کرنے سے یا مرید کو بنانے سے پہلو تہی کرتا ہے کسی کو کیا خبر میں نے دس دس برس بیس بیس برس نباہا ے ان کو کوئی ایک ہی مہینہ نباہ کر کے دکھا دے مگر جس میں گنجائش ہی نہ ہو اول ہی سے ان کو جواب مل جاتا ہے پھر وہ بعد میں ایسے ہی ثابت ہوتے ہیں اور میں دعوی سے تو نہیں کہتا مگر واقعہ ہے اور اس کے خلاف کا وقوع شاذ و نادر ہی ہوتا ہے وہ یہ کہ یہاں پر جو کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے اس کی ایک تمثیل یاد آ گئی گو ظاہرا ایسا کہنا تو نہیں چاہیے مگر تفہیم کی ضرورت سے کہتا ہوں وہ یہ کہ حق تعالی کا جو قانون ہے کافروں کے متعلق کہ ان کو جہنم میں ابدالآباد تک رکھیں گے اس پر ایک سطحی شبہ ہوتا ہے کہ ہزار دو ہزار برس سزا دے کر چھوڑ دیں ، اس سزا سے تو ان کی تمام شرارت فنا ہو جائے گی ، میں کہتا ہوں کہ اگر ان کو سزا دے کر چھوڑ دیا جائے اور ان کو امتحان کا موقع دیا جائے تو واللہ ثم واللہ وہ پھر ویسے ہی ثابت ہوں گے جیسے پہلے تھے اسی کو فرمایا :
ولو تری اذ وقفوا علی النار فقالوا یا لیتنا نرد ولا نکذب بآیات ربنا و نکون من المؤمنین بل بدالھم ما کانوا یخفون من قبل ولو ردوا لعادوا لما نھوا عنہ و انھم لکاذبون
( اور اگر آپ اس دیکھیں جبکہ یہ دوزخ کے پاس کھڑے کیے جائیں گے تو کہیں گے ہوئے کیا اچھی بات ہو کہ ہم پھر واپس بھیج دیئے جائیں اور اگر ایسا ہو جائے تو ہم رب کی آیات کو جھوٹا نہ بتا دیں اور ہم ایمان والوں سے ہو جائیں بلکہ جس چیز کو اس سے قبل دیا کرتے تھے وہ ان کے سامنے آ گئی ہے اور البتہ لوگ پھر اس میں بھی بھیج دیئے جائیں تب بھی یہ وہی کام کریں گے جس سے ان کو منع کیا گیا تھا اور یقینا یہ لوگ بالکل جھوٹے ہیں ۔ 12 )
اسی طرح فاسد الاستعداد یا فاقد المناسبت لوگوں کی اگر رعایت کی جائے وہ بعد میں ایسے ہی رہیں گے مگر معاملہ تو اپنے ہی علم کے موافق کیا جائے گا ۔
( ملفوظ 474)دست بوسی کی خواہش کا جواب
فرمایا کہ ایک خط آیا ہے کہ حضرت کی دست بوسی کو بہت دل چاہتا ہے میں نے لکھا ہے کہ مجھ سے بھی پوچھا کہ میرا دل بھی چاہتا ہے یا نہیں تکلفات کا یہی جواب ہے ۔
( ملفوظ 473)پہلے طویل خطوط اب مختصر
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ پہلے میرے خطوط میں بڑے بڑے مضامین ہوتے تھے اس زمانہ میں ایک صاحب کا خط آیا تھا اس میں اسی ( 80 ) سوالات تھے میں نے سب کا جواب لکھا مگر اب تجربہ سے معلوم ہوا کہ رعایت کرنے سے لوگ حدود میں نہیں رہتے اس لیے اب طرز بدل دیا آج ہی ایک صاحب کا خط آیا اس میں سات سوالات ہیں اور اس پر یہ لکھا ہے کہ یہ امراض کا بیان تو اجمالی ہے میں نے جواب میں لکھا ہے کہ امراض کا بیان تو اجمالی ہو سکتا ہے مگر علاج کا بیان اجمالی نہیں ہو سکتا اور تفصیلی کا وقت نہیں لہذا ایک لفافہ میں ایک ہی مرض کا ظاہر کر کے علاج پوچھا جائے ۔
( ملفوظ 472) یہاں مسلمانوں کو اپنا انتظام کرنے کی وجہ
ایک صاحب نے مہمانوں کے متعلق سوال کیا کہ ہمارے بزرگ مہمانوں کا انتظام کرتے تھے اور یہاں مہمانوں کو خود اپنا انتظام کرنا پڑتا ہے ۔ آخر کیا فرق ہے جواب میں فرمایا کہ یہ کیا تھوڑا فرق ہے بہت بڑا فرق ہے کہ وہ قوی الطبیعت تھے اور میں ضعیف الطبیعت ہوں ان حضرات کے یہاں مہمانوں کا یہ معمول نہ تھا جو میرے یہاں ہے ان کے یہاں اہتمام ہوتا تھا میں اس قدر ضعیف طبیعت کا ہوں کہ میں کوئی اہتمام نہیں کر سکتا یہاں تو بس یہ ہے کہ آؤ کھاؤ جاؤ ہم کو نذرانہ دینے کی ضرورت نہیں ۔ ایک وجہ یہ کہ اس زمانہ کے عوام میں اور اس زمانہ کے عوام میں بھی بڑا فرق اسی واسطے ایسے امور انتظامی سب بدل گئے ایک اور بھی فرق سمجھ میں آیا وہ یہ کہ یہ حضرات سب کام اپنے ہاتھ سے نہ کرتے تھے اوروں سے بھی کام لیتے تھے میں خود اپنے ہاتھ سے کام کرتا ہوں اس لیے میں کسی اور کام کے لیے فارغ نہیں ہو سکتا خصوص کھانے پینے کے انتظام میں
( ملفوظ 471)فقہاء کی عبارت سمجھنا
فرمایا کہ ایک خط آیا ہے جس میں فقہاء پر سب و شتم کیا ہے میں نے لکھا ہے کہ اللہ اللہ اس جہل کی بھی کوئی حد ہے معلوم ہوتا ہے تم کو فہم سے عقل سے دین سے خدا کی خشیت سے ذرا بھی لگاؤ نہیں تم سے کون خطاب کرے تم کو چاہیے کہ عار استکبار کو دل سے نکال کر کسی عالم سے فقہاء کی عبارت کے مطلب کو سمجھو ورنہ ضلوا فاضلوا کے مصداق ہو جاؤ گے اور ایسے بدفہم شخص کو فتوی دینا بھی حرام ہے ۔
( ملفوظ 470) تعمیرات کے کام سے توحش کی وجہ
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ تعمیر کے کام سے مجھ کو بہت تنگی ہوتی ہے اس میں کوئی صرفہ کی انتہا ہی نہیں رہتی اندازہ کرو سو روپیہ کا اور صرف ہو جائیں دو سو ، اڑھائی سو ، گو ضرورت کی وجہ سے کرنا پڑتا ہے مگر دل گھبراتا ہے بزرگوں کو تو اس سے بڑی نفرت تھی اس میں بڑے خرچ کی ضرورت ہے ، مسلمانوں کے پاس اس مد میں روپیہ صرف کرنے کو کہاں اور اگر ہو بھی تو اس زمانہ میں پیسہ کی حفاظت کی ضرورت ہے اس کی حفاظت کرنی چاہیے اور سوچ سمجھ کر صرف کرنا چاہیے بڑا ہی نازک زمانہ ہے ۔

You must be logged in to post a comment.