( ملفوظ 310 )دوسروں کی رعایت اسلام کا اولین سبق ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ دوسری قوموں کا جہاں تک صدیوں کے بعد ذہن پہنچ رہا ہے وہ اسلام کا بلکل اول سبق ہے ۔ چنانچہ حقوق کے متعلق ایک بزرگ کی حکایت ہے کہ ان کے ساتھ ایک شخص سفر میں چلے ، آپس میں یہ طے ہوا کہ ایک امیر ہو ایک مومور ۔ اس شخص کو یہ خیال ہوا کہ میں بزرگ صاحب کے سامنے کیسے امیر بن سکتا ہوں ، لہذا عرض کیا کہ آپ ہی امیر ہیں ، بزرگ نے قبول فرما لیا ، ایک مقام پر پہنچ کر خیمہ گاڑنے کی ضرورت ہوئی ۔ بزرگ صاحب نے اپنے ہاتھ سے خیمہ لگانا شروع کیا ۔ یہ شخص بولا کہ حضرت میں اس کام کو انجام دوں گا ، فرمایا کہ جو میں حکم دوں اس کا اتباع کرو اس لیے کہ میں امیر ہوں لہذا میں حکم کرتا ہوں کہ تم ہاتھ مت لگاؤ ، میں خود خیمہ نصب کروں گا ۔ اب تو یہ شخص بہت پچھتایا کہ بڑی غلطی ہوئی ، میں ہی امیر ہو جاتا تا کہ ان بزرگ صاحب کی خدمت کرنا تو نصیب ہوتی ۔ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم سفر میں تھے صحابہ ساتھ تھے ، کھانا پکانے کا انتظام کیا گیا ، سب کام صحابہ نے آپس میں تقسیم کر لیے ، یہ کسی کو یاد نہ رہا کہ لکڑیاں بھی جنگل سے آئیں گی ۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم جنگل میں تشریف لے گئے اور گٹھ لکڑیوں کا لے کر تشریف لائے ، تب صحابہ کو معلوم ہوا کہ یہ کام کسی کو یاد نہ رہا تو یہ رعایت اسلام کا اول سبق ہے جس پر آج دوسری قومیں نازاں ہیں ۔

ملفوظ 309 )عشر اور خراج کے مصرف میں فرق

( ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ خراج کا روپیہ رفاہ عام میں صرف ہو سکتا ہے مگر عشر کا یہ مصرف نہیں وہ زکوۃ کے مصرف میں صرف ہو سکتا ہے ۔

( ملفوظ 308 )زکوۃ کی برکات

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ زکوۃ ہی ایک ایسی چیز ہے کہ اگر انتظام سے خرچ کی جائے اور سب لوگ دیا کریں تو غریب مسلمانوں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو ۔

( ملفوظ 307 ) دین و دنیا کی رونق غرباء سے ہے

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ دین کی بھی رونق اور دنیا کی بھی رونق غرباء ہی سے ہے ۔ امراء تو ہمیشہ بے رونقی کے سبب بنے ہیں ۔

( ملفوظ 306 )دین و دنیا کی عزت اتباع سنت میں ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مسلمانوں کے لیے دین و دنیا دونوں کی عزت جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے اتباع ہی میں ہے باقی اس کے علاوہ سب اسباب ذلت کے ہیں ۔

( ملفوظ 305 )اپنے مشائخ کی طرف کھینچنا بے غیرتی ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ لوگوں کو اپنے اپنے مشائخ کی طرف کھینچ تان کر لانے میں اور ترغیب دینے میں اگر دوسرے بزرگوں کی تنقیص کی جائے تو یہ گناہ ہے ورنہ گناہ نہیں گو بے غیرتی ہے ۔

( ملفوظ 304 )ہدیہ پیش کرتے وقت کوئی غرض نہیں ہونی چاہیے

ایک صاحب کے ہدیہ پیش کرنے کے وقت ان کی ایک خاص غلطی پر تنبیہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ ہدیہ پیش کرتے ہیں اور غرض دنیا کی لے کر آتے ہیں ہم کو تو غیرت آتی ہے کہ ہم کو ہدیہ دے کر کوئی دنیا کی خدمت ہم سے لے بلکہ اگر دین کی بھی خدمت لے وہ بھی شان ہدیہ کے خلاف ہے ہدیہ تو بالکل خالص محبت کی بناء پر ہونا چاہیے ۔ حق تعالی فرماتے ہیں :
انما نطعمکم لوجہ اللہ لا نرید منکم جزاء و لا شکورا
سو دینے والے کو تو یہ حکم ہے کہ اور لینے والے کو حکم ہے : “کافئوہ ”
( یعنی بدلہ دو مکافات کرو 12 ) سو دینے والے کو تو منع کیا گیا ہے مکافات طلب کرنے سے اور لینے والے کو حکم ہے کہ مکافات کرو اور بزرگوں نے تو ہدیہ میں سنت کے موافق یہاں تک احتیاط کی ہے کہ اگر انتظار کے بعد کوئی چیز آئے اس سے بھی انکار کر دیا ہے کہ خلاف سنت ہے محبت تو یہ ہے کہ انتظار کی بھی تکلیف نہ دے اس لیے کہ اگر انتظار ہو گا تو تکلیف ضرور ہو گی یہ ہیں بعض آداب ہدیہ کے جس کی کوئی دینے والا رعایت نہیں کرتا مگر ان کا بھی قصور نہیں آج کل رسمی مشائخ نے اسی قسم کے ڈھونگ بنا رکھے ہیں اور بتا بھی رکھے ہیں جس سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر نہ دیا ناراض ہوں گے کہ اب کہ مرتبہ اس نے کچھ نہیں دیا بڑا نا معقول ہے ۔ ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اس انتظار میں بھی تفصیل ہے اگر انتظار ایسا ہے کہ اگر چیز نہ ملی کلفت ہوئی شکایت ہوئی ۔ یہ انتظار تو اشراف ہے اور اس حالت میں لینا خلاف سنت ہے اور اگر تکلیف نہ ہو تو محض خیال اور احتمال ہے اور وسوسہ کا درجہ ہے ایسے وقت میں لے لینا جائز ہے یہ اشراف نہیں ہے ۔

( ملفوظ 303 ) پیر کو لوگ بخشوانے کا ذمہ دار سمجھتے ہیں

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک صاحب یہاں پر آئے تھے ، بیعت ہونے کی درخواست کی ، میں نے شرائط بیعت بیان کیے ، کہنے لگے کہ مرید کر کے آپ چھوڑ دیں ، شرطیں پوری کرنے نہ کرنے کا میں ذمہ دار ہوں ، میں نے کہا ایسا چھوڑ دیں جیسے سانڈ کو چھوڑ دیتے ہیں خواہ کسی کے چنے کھائے خواہ چناں کھائے خواہ چنیں کھائے ۔ اس پیری مریدی کو آج کل لوگوں نے ایک مشن بنا رکھا ہے جیسے پارٹی بندی ہوتی ہے اور وہ بھی دین کے واسطے نہیں بلکہ دنیا کے واسطے یہ تو عملی فساد ہے پھر اور اس کے متعلق عقیدہ بھی عوام کا خراب کر رکھا ہے ۔ یہ سمجھتے ہیں کہ پیر بخشوا لیتے ہیں چاہے پیر ہی مارے مارے پھریں کہ میری ہی دستگیری کر لو ، معلوم بھی ہے کہ جہاں سفارش ہو گی ادھر سے اشارہ ہو گا کہ سفارش کر دو ورنہ کیا مجال ہے کسی کی اپنی رائے سے سفارش کر سکے ۔

( ملفوظ 302 ) ایک غیر مقلد کی درخواست بیعت

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک غیر مقلد کا خط آیا تھا ، لکھا تھا کہ مجھ کو بیعت کر لو اور کچھ ذکر و شغل کی تعلیم کر دو ، میں نے محض فہم کا اندازہ کرنے کیلئے لکھا کہ تم آئمہ کی تو تقلید نہیں کرتے مگر یہ بتلاؤ کہ اس میں میری بھی تقلید کرو گے یا نہیں ؟ لکھا کہ بہت سوچا کوئی جواب بھی سمجھ میں نہ آیا ۔ اشکال یہ ہوا کہ اگر تقلید نہ کرتے تو بدون اتباع کے اصلاح کیسے ہو گی اور اگر کرتے ہیں تو غیر مقلدی کے خلاف ہے ، میں نے کہا کہ بندہ خدا مجھ ہی سے جواب پوچھ لیتا ، میں ہی جواب سکھلا کر اپنے کو لاجواب کر لیتا ، وہ جواب یہ ہے کہ تقلید کی شق اختیار کرتے اب اس پر آئمہ کی تقلید نہ کرنے کا اشکال پڑتا اس کا جواب یہ لکھتے کہ آئمہ کی تقلید تو احکام میں کرائی جاتی ہے اور تمہاری تقلید احکام میں نہیں ہو گی بلکہ تدابیر اصلاح میں تقلید کروں گا ۔ اکثر غیر مقلیدین کے اس قسم کے خطوط آتے ہیں میں اول ان سے یہی سوال کرتا ہوں کہ تقلید کو کیسا سمجھتے ہو بعض لکھتے ہیں کہ ہم جائز سمجھتے ہیں واجب نہیں ، ایسوں کو بیعت کر لیتا ہوں اور بعض لکھتے ہیں کہ ہم حرام اور شرک سمجھتے ہیں میں ایسوں کو لکھ دیتا ہوں کہ اتباع کا تعلق کرنا ایسے شخص سے کب جائز ہے جو حرام اور شرک میں مبتلا ہو ۔

( ملفوظ 301 )نا اہل کے سامنے علمی تقریر فضول ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک صاحب سکول کے مدرس یہاں آئے اور کہنے لگے کہ تقدیر کے مسئلہ پر مجھ کو کچھ شکوک ہیں ، میں نے کہا کہ اس کے سمجھنے کے لیے تبحر علمی کی ضرورت ہے ، کہنے لگے کہ آپ تقریر کر دیں میں سمجھوں یا نہیں شاید سمجھ ہی لوں ، میں نے کہا کہ میرا مفت کا دماغ نہیں ۔ ہاں ایک صورت ہے کہ آپ کسی درسیات پڑھے ہوئے طالب علم کو بلا لائیے وہ مجھ سے پوچھے میں اس کے سامنے تقریر کروں گا ، اس سے آپ کو دو باتوں کا اندازہ ہو جائے گا ۔ ایک تو یہ کہ ملانوں کے پاس جواب ہے ۔ دوسرا یہ کہ آپ سمجھ نہیں سکتے اور ایسی حالت میں طبیعت پھر تقریر کرتے ہوئے الجھتی ہے تقریر کا جوش مخاطب کے جذب پر موقوف ہے جیسے ماں کے دودھ میں جوش ہوتا ہے بچے کی طلب پر ایک اور کام کی بات عرض کرتا ہوں وہ یہ کہ طبیب کے مطب میں دو قسم کے لوگ حاضر ہوتے ہیں ایک مریض اور ایک شاگرد اگر شاگرد کہے کہ اس نسخہ میں گل بنفشہ کیوں لکھا ہے اس کے سامنے طبیب تقریر کرے گا ، سمجھائے گا اس لیے کہ وہ فن کو حاصل کر رہا ہے اس لیے اس کا حق ہے سوال کا اور اگر مریض یہی بات پوچھئے ، کان پکڑ کر نکال دیا جائے گا اس لیے کہ اس کو حق نہیں ، سوال کرنے کا اس کا مطلب صرف معالجہ ہے نہ کہ فن اور معالجہ اس تحقیق پر موقوف نہیں ۔ اسی طرح بے علم کو چاہیے کہ وہ حکم معلوم کرے اس کی علت دریافت کرنا ضروری کیا جائز بھی نہیں ۔ ہاں طالب علم علت مسئلہ کی اگر سمجھنا چاہے گا تو اس کے سامنے تقریر کی جائے گی وہ بھی خاص قیود سے نہ کہ ہر حالت میں چنانچہ بعض طالب علم مجھ سے پوچھتے ہیں کہ فلاں مسئلہ کی تحقیق کیا ہے میں لکھ دیتا ہوں کہ استاد سے پوچھو وہ لکھتے ہیں ، پوچھا تھا تسلی نہیں ہوئی ، میں لکھتا ہوں کہ ان کی تقریر لکھو اور جو تم اس سے سمجھے ہو وہ لکھو پھر اس میں جو شبہ ہو وہ لکھو اگر وہ تقریر اس شبہ کے رفع کے لیے کافی نہ ہو گی پھر میں تقریر کا ذمہ دار ہوں ، انشاء اللہ بتاؤں گا میں اس قدر سستا نہیں ہوں کہ مجھ کو ہر وقت مشغلہ بنا لیا جائے ۔