( ملفوظ 250 )تصوف سے بے خبری

فرمایا کہ لوگ طریق کی حقیقت سے بے خبر ہیں ایک شخص کا خط آیا تھا لکھا تھا کہ میں ذکر و شغل کی حالت میں بھی کبائر میں مبتلا تھا اب سمجھا کہ طریق کیا چیز ہے پہلے ذکر و شغل کو طریق سمجھتے تھے جو کبائر کے ساتھ بھی جمع ہو سکتا ہے ۔ فرمایا کہ اللہ بچائے جہل سے ۔
11 ذیقعدہ 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم یک شنبہ

ملفوظ 249 )اعتقاد کا مطلب

ایک سلسلہ گفتگو میں کسی خاص معاملہ کی نسبت فرمایا کہ اس کو اعتقاد ہی نہیں کہتے ، اعتقاد تو اس کو کہتے ہیں جو جازم ہوتا ہے ٹل نہیں سکتا ہٹ نہیں سکتا ، جیسے کوئی کسی پر عاشق ہو جائے تو اس کو کوئی بات بھی ہٹا نہیں سکتی یہ حقیقت اعتقاد کی ۔

( ملفوظ 248 )مرد کی زیادتیوں کا ذکر

فرمایا کہ آج ایک بی بی کا خط آیا ہے ، عرصہ تقریبا چالیس برس کا ہوا ، یہ مجھ سے بیعت ہوئی تھیں ۔ یہ بی بی نہایت دیندار ہیں ، خاوند کے ستانے اور بے مروتی اور بے وفائی کی شکایتیں لکھی ہیں جس کو پڑھ کر بے حد دل کو قلق اور صدمہ ہوا ۔ فرمایا کہ ان عورتوں کے بارے میں عدم ادائے حقوق کے متعلق لوگوں نے بے حد ظلم پر کمر باندھ رکھی ہے ۔ اس غریب نے یہاں تک لکھا ہے کہ روتے روتے میری بینائی کمزور ہو گئی ہے ، کبھی کبھی جی میں آتا ہے کہ کپڑے پھاڑ کر باہر نکل جاؤں یا کنویں میں ڈوب مروں مگر دین کے خلاف ہونے کی وجہ سے کچھ نہیں کر سکتی ، دل کو سمجھا کر رک جاتی ہوں ، شب و روز سوائے رونے کے کوئی کام نہیں ، فرمایا کہ بڑے ظلم کی بات ہے آخر رونے کے سوا اور بے چاری کرے بھی کیا ۔ ان بی بی کے عقد ثانی کو تقریبا عرصہ سترہ برس کا ہوا ان صاحب نے بڑی آرزؤں اور تمناؤں سے ان بی بی سے نکاح کیا تھا اس وقت رنگ و روغن اچھا ہو گا اس وقت تو سفارشیں کراتے پھرتے تھے ، لٹو ہو رہے تھے اب ضعیفی کا وقت ہے اب بے چاری کو منہ بھی نہیں لگاتے ۔ حتی کہ نان نفقہ سے بھی محتاج ہے ۔ میاں عمر میں چھوٹے ہیں اور بیوی بڑی ہیں ، فرمایا کہ اتنے زمانہ تک رفاقت رہی ، یعنی سترہ برس اس کا ہی حق ادا کیا ہوتا کیا ٹھکانا ہے اس سنگ دلی اور بے رحمی کا ، کسی بات کا بھی اثر نہیں ، اگر وہ بے چاری کہتی بھی ہے کہ میری دیرینہ خدمات کا کیا یہی ثمرہ ہے تو کہتے ہیں کہ تو نے خدمات ہی کون سی کی ہیں ۔ فرمایا کہ نہ معلوم خدمات کی فہرست ان کے ذہن میں کیا ہے جس کو یہ پورا نہ کر سکیں ۔ میں آج کل ایک رسالہ لکھ رہا ہوں اس میں ان ہی عاجزوں کے حقوق کے متعلق بیان کیا گیا ہے ، حکومت کرنے کو تو سب کا جی چاہتا ہے محکوم پر اس کا مضائقہ نہیں مگر محکوم کے کچھ حقوق بھی تو ہیں ان کی بھی تو رعایت کی ضرورت ہے ۔ فرمایا کہ ذکر کرنے کی تو بات نہ تھی مگر چونکہ ضرورت ہے اس لیے کہتا ہوں کہ میرے گھر والوں سے معلوم کیا جائے میں اپنے گھر والوں پر کس قدر حکومت کرتا ہوں اور ان سے کیا کیا خدمتیں لیتا ہوں ، الحمد للہ میں نہ خود مقید ہوتا ہوں نہ دوسروں کو مقید کرتا ہوں ، بادشاہوں کی سی زندگی بسر ہوتی ہے ۔ میرا معمول ہے کہ گھر جا کر دیکھا کہ تازی روٹی نہیں پکی تو باسی روٹی کھا لی اور اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ دیکھا کہ وہ کسی کام میں مشغول ہیں خود اپنے ہاتھ سے روٹی لے لی ، پانی بھر کر پاس رکھ لیا ، برتن لے کر اپنے ہاتھ سے سالن لے لیا اور بیٹھ کر کھا لیا بلکہ یہاں تک کرتا ہوں کہ دیکھتا ہوں کہ روٹی وغیرہ پکانے میں مشغول ہیں اور ان کو کسی چیز کی ضرورت ہے ، اکثر گھروں میں ایسا ہوتا ہے مثلا پانی کی ضرورت ہے اپنے ہاتھ سے نل سے یا گھڑے سے لوٹا بھر کر دے دیتا ہوں اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جا کر جب دیکھا کہ فارغ ہیں تو کہہ دیا کہ کھانا لاؤ ، وہ بے چاری دے دیتی ہیں ، ان باتوں کی رعایت رکھنا ضروری ہے اور مشغولی عدم مشغولی ہی پر کیا موقوف ہے انسان ہی تو ہے ہر وقت طبیعت یکساں نہیں رہتی کسی وقت خادم کی طبیعت پر کسل ہوتا ہے اور اپنی طبیعت بشاش دیکھی ، اپنے سب کام اپنے ہاتھ سے کر لیے ، غرض یہ کہ اس کا کوئی معمول یا التزام نہیں کہ وہی کریں سو اگر حدود میں رہتے ہوئے اور ان کے راحت و آرام کا خیال کرتے ہوئے ان سے خدمت بھی لی جائے تو کوئی مضائقہ نہیں آخر ہیں کس مرض کی دعا لیکن بے مروتی اور بے رحمی اور ظلم کا درجہ تو نہ ہونا چاہیے ۔
یہ عورتوں کا طبقہ تو مردوں کے ہاتھ میں مردہ بدست زندہ کا مصداق ہوتا ہے ان کو ستانے سے کتنی رکعت کا ثواب ملتا ہے ۔ اگر ایسی ہی بہادری اور حکومت کا جوش ہے تو کسی قدرت والے پر آدمی حکومت کرے ہم تو جب جانیں مثلا کوئی ملازم ہو اور ہوٹرا اس کو ذرا کچھ کہیں میاں کو حکومت کی حقیقت معلوم ہو جائے ، بعض بے رحم تو حدود سے گزر کر عورتوں کو زدوکوب کرتے ہیں جس کے تصور سے بھی وحشت ہوتی ہے ، عورتوں پر اس قسم کے تشدد کرنا نہایت کم حوصلگی اور بزدلی کی دلیل ہے جو مرد کی شان کے بالکل خلاف ہیں ۔ یہ عرض کر رہا تھا کہ میں بہت سے کام اپنے ہاتھ سے کر لیتا ہوں تو مجھ کو کونسی تکلیف ہوتی ہے اور میرا کون سا کام ہونے سے رہ جاتا ہے بلکہ جیسی مجھے اس سے راحت ہوتی کہ وہ میری خدمت کرتیں اس سے بھی راحت ہوتی ہے کہ ان کو راحت مل گئی ۔ رات کو مجھ کو نیند کم آتی ہے تو گھر والوں کو سوتا دیکھ کر خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ ان کو تو نیند آ رہی ہے ورنہ دو قلق جمع ہو جاتے ، ایک اپنے نہ سونے کا اور نیند نہ آنے کا ایک ان کا پھر گھر سے چلنے کے وقت پوچھتا ہوں کہ کوئی ضروری کام میرے متعلق تو نہیں ، میں جا رہا ہوں اگر کہا کہ کوئی کام نہیں چلا آیا اگر کہا کہ ہے بیٹھ گیا ، مثلا کوئی خط ہی لکھوانا ہے سو اس کام کو پورا کر کے چلا آیا ۔ کھانا کھا کے فارغ ہوا اور پان کو جی چاہا پوچھ لیا کہ پاندان کہاں ہے انہوں نے بتلا دیا اس میں سے پان نکال کر کھا لیا ، آج کل کے نوجوان کا محاورہ ہے کہ بیوی کو رفیق زندگی کہتے ہیں ارے بھلے مانسوں رفاقت کا کوئی حق بھی ادا کرتے ہو یا محض الفاظ ہی الفاظ ہیں ۔ عملی صورت میں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ بے چاری کو فریق زندگی بنا رکھا ہے اور سنئے کہ خاوند کی طرف سے تو یہ ظلم اور تشدد اب وہ شکایت کرتی ہے ، ماں باپ سے اکثر وہ بھی اس کو دباتے اور دھمکاتے ہیں ۔ اب بیچاری کے پاس کوئی ذریعہ بظاہر نہیں رہا بجز اس کے کہ وہ خدا سے فریاد کرے اور کوسا کرے اور واقعی وہ کوسنا کوس نہ دو کوس اس قدر قریب ہوتا ہے کہ فورا قبول ہوتا ہے ، مظلوم کی آہ حق سبحانہ تعالی بہت قبول فرماتے ہیں ۔ ایک صاحب نے عرض کیا کہ عورتیں تو خود ہی گھر کے اس قدر کام کرتی ہیں اور مشقتیں اٹھاتی ہیں کہ کسی وقت چین سے نہیں بیٹھتیں تو وہ خود ہی اپنی راحت نہیں چاہتیں ۔ فرمایا ان کا ایسا کرنا ان کی ذاتی مصلحت ہے وہ یہ ہے کہ اس سے ان کی تندرستی ٹھیک رہتی ہے ، مثلا کھانا پکانا ہے ، پیسنا ہے ، کوٹنا ہے ، خود ہمارے گھروں میں سب کام اپنا اپنے ہاتھ سے کرتی ہیں ۔ حتی کہ اگر ضرورت ہو تو سیر دو سیر پیس بھی لیتی ہیں ۔ سو وہ اگر اپنی رائے اور مصلحت سے مشقت اختیار کریں ۔
یہ دوسری بات ہے مگر ان پر ظلم کی راہ سے مشقت ڈالنا نہایت بے رحمی اور بے مروتی کی بات ہے ۔ فرمایا کہ ان بی بی کے خاوند نے ایک مرتبہ مجھ سے خود شکایت کی تھی کہ یہ وظیفہ وظائف میں رہتی ہیں ۔ میری خدمت کی پروا نہیں کرتیں ، بندہ خدا ایسی کون سی خدمات ہیں جو بغیر وظائف ترک کیے ہوئے نہیں ہو سکتیں ، مرد کی خدمات ہی کیا ہیں چند محدود خدمات یہ دوسری بات ہے کہ خدمات کا باب اس قدر وسیع کر دیا جائے جن کا پورا کرنا ہی بے چاری پر دو بھر ہو جائے پھر فرمایا کہ ایک مقولہ مشہور ہے کہ مرد ساٹھا پاٹھا اور عورت بیسی کھیسی سو عورت کے اعضاء کا جلد ضعیف ہو جانا اس کا سبب بھی زیادہ یہی ہے کہ اس پر ہر وقت غم اور رنج کا ہجوم رہتا ہے ۔ سینکڑوں افکار گھیرے رہتے ہیں امور خانہ داری کا انتظام بے چاری کے ذمہ ڈال کر مرد صاحب بے فکر ہو جاتے ہیں وہ غریب کھپتی ہے مرتی ہے اگر یہ حضرت دو روز بھی انتظام کر کے دکھا دیں ہم تو اس وقت ان کو مرد سمجھیں باوجود ان سب باتوں کے کمال یہ ہے کہ اپنی زبان سے اظہار بھی نہیں کرتی کہ مجھ پر کیا گزر رہی ہے یہ سبب ہے عورت کے جلد ضعیف ہو جانے کا ۔ یہاں پر بعض عورتیں عیش اور راحت میں ہیں اور عمر ان کی تقریبا چالیس پینتالیس برس کی کم و بیش مگر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ابھی سال دو سال کی بیاہی ہوئی آئی ہیں اور ان کو کوئی پچیس برس کی عمر سے زائد نہیں بتلا سکتا تو بیوی کو عیش و آرام میں رکھنے میں ایک یہ بھی بڑی حکمت ہے کہ وہ تندرست رہے گی ، ضعیفی کا اثر جلد نہ ہو گا دراز مدت تک ان کے کام کی رہے گی مگر لوگ اپنی راحت و مصلحت کا خیال کر کے بھی تو ان کی رعایت نہیں رکھتے اور میں یہ نہیں کہتا کہ جورو کے غلام بن جاؤ ہاں یہ ضرور کہتا ہوں کہ حدود کی رعایت رکھو اور ظلم تک نوبت نہ پہنچاؤ ۔ اگر کبھی ضرورت ہو دباؤ بھی دھمکاؤ بھی کوئی حرج نہیں ، حاکم ہو کر رہنا چاہیے اور محکوم کو محکوم بن کر لیکن جیسے محکوم کے ذمہ حاکم کے حقوق ہیں اسی طرح حاکم کے ذمہ محکوم کے بھی حقوق ہیں ان کو پیش نظر رکھتے ہوئے برتاؤ کرنا چاہیے ایک مولوی صاحب فرماتے تھے کہ عورتوں کے ذمہ واجب ہے کھانا پکانا ۔ میری رائے ہے کہ ان کے ذمہ واجب نہیں میں نے اس آیت سے استدلال کیا ہے عدم وجوب پر ۔
و من ایاتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنوا الیھا و جعل بینکم مودۃ و رحمۃ
حاصل یہ ہے کہ عورتیں اس واسطے بنائی گئی ہیں کہ ان سے تمہارے قلب کو سکون ہو ، قرار ہو جی بہلے ، تو عورتیں جی بہلانے کے واسطے ہیں نہ کہ روٹیاں پکانے کے واسطے اور آگے جو فرمایا کہ تمہارے درمیان محبت و ہمدردی پیدا کر دی ہے ، میں کہا کرتا ہوں ، مودۃ یعنی محبت کا زمانہ تو جوانی کا ہے اس وقت جانبین میں جوش ہوتا ہے اور ہمدردی کا زمانہ ضعیفی کا ہے دونوں کا اور دیکھا بھی جاتا ہے کہ ضعیفی کی حالت میں سوائے بیوی کے دوسرا کام نہیں آ سکتا ۔ اس ضعیفی اور ہمدردی پر ایک حکایت یاد آئی ۔ ایک مقام میں ایک ولایتی رئیس تھے ، گورنمنٹ میں ان کا بڑا اعزاز اور بڑی قدر تھی یہ کابل سے یہاں پر آ کر رہے تھے ۔ گورنمنٹ نے کچھ گاؤں دے دیئے تھے ان کی بیوی کا انتقال ہو گیا ، کلکٹر صاحب تعزیت کے لیے آئے ، ملاقات ہوئی ۔ کلکٹر صاحب نے فرمایا کہ آپ کی بیوی کا انتقال ہو گیا ، ہم کو بڑا رنج ہوا اس پر یہ ولایتی صاحب اپنی ٹوٹی پھوٹی زبان میں فرماتے ہیں کلتر صاحب ( کلکٹر صاحب ) وہ ہمارا بیوی نہ تھا ہمارا اماں تھا ہم کو گرم گرم روتی ( روٹی ) کھلاتا تھا ، پنکھا جھلتا تھا ، تھندا تھندا ( ٹھنڈا ٹھنڈا ) پانی پلاتا تھا ، یہ کہتے جاتے اور روتے جاتے تھے ، خیر وہ تو ولایتی تھے کچھ ایسے لکھے پڑھے نہ تھے اپنی سادگی سے ایسا کہہ دیا مگر ایک ہندو لیڈر نے اپنے ایک لیکچر میں یہ ہی کہا کہ یہ میری بیوی نہیں اماں ہے یہ میں نے خود ایک اخبار میں دیکھا ہے
یہ تو تعلیم یافتہ بیرسٹری پاس کیے ہوئے ہے اس کو کیا سوجھی یہ بھی کوئی فخر کرنے کی بات تھی ۔ میں یہ کہہ رہا تھا کہ ضعیفی میں سوائے بیوی کے کوئی کام نہیں آ سکتا ، ایسے بہت سے واقعات ہیں ۔ شاہ جہان پور میں ایک صاحب نے نوے برس کی عمر میں شادی کی تھی ، لڑکے لڑکیاں بہوئیں سب خلاف تھے اور یہ کہتے تھے کہ ہم خدمت کو موجود ہیں ۔ آپ کو نکاح کی ضرورت ہی کیا ہے بڑے میاں نے کہا کہ تم میری مصلحت کو کیا سمجھ سکتے ہو ، اتفاق سے بڑے میاں بیمار ہو گئے اور بیماری بھی دستوں کی اور ان دستوں میں تعفن بے حد کہ مکان تک سڑ جاتا تھا ، لڑکے لڑکیاں وغیرہ میں سے کوئی پاس نہ آیا ، سب نفرت کرتے تھے ، اس بیوی بے چاری نے خدمت کی اور ذرا نفرت نہیں کی ، باوجود اس کے کہ نئی شادی ہو کر آئی تھی اور عمر بھی تھوڑی تھی ایسا تعلق ہوتا ہے بیوی کو خاوند سے جس کی خاوند صاحب کو قدر بھی نہیں ہوتی ۔
دوسرا واقعہ ایک صاحب بڑے آدمی تھے انہوں نے نکاح کیا مگر ان کو ضعف تھا کشتوں وغیرہ سے کام چل جاتا تھا ایک طبیب نے نہایت گرم کشتہ دے دیا جس سے ان کو جذام کا مرض ہو گیا ، تمام بدن پھوٹ نکلا ، کوئی پاس جانا بھی گوارا نہ کرتا تھا مگر بیوی کے اولاد ہوتی تھی تو ایسی حالت میں بھی اس نے نفرت نہ کی اور کسی خدمت سے عذر نہ کیا ، کیا ٹھکانا ہے اس تعلق اور ایثار کا دوسرا کر نہیں سکتا ۔
تیسرا واقعہ حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے آخر وقت میں نکاح کیا تھا محض اس وجہ سے کہ حضرت کو ناسور کا مرض ہو گیا تھا اس کی دیکھ بھال سوائے بیوی کے ہو نہیں سکتی تھی وہ بی بی بیچاری برابر اپنے ہاتھ سے شب و روز میں کئی کئی مرتبہ دھوتیں اور صاف کرتیں تھیں ، نہایت خوشی کے ساتھ کوئی گرانی یا نفرت ان کو نہ ہوتی تھی ، دنیا میں کوئی اس تعلق کی نظیر پیش نہیں کر سکتا ۔
چوتھا واقعہ حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے آخر عمر میں نکاح کیا ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت پیرانی صاحبہ نابینا ہو گئیں تھیں ۔ حضرت نے محض خدمت کی غرض سے نکاح کیا تھا ۔ یہ بی بی حضرت کی بھی خدمت کرتیں اور پیرانی صاحبہ کی بھی ۔ ان واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ عورت محض شہوت ہی کے لیے تھوڑا ہی ہوتی ہے اور بھی مصالح اور حکمتیں ہیں ۔
ایک صاحب نے عرض کیا کہ بعض عورتیں پھوہڑ ہوتی ہیں اس وجہ سے بعض اوقات خاوند کو اس کی حرکات سے بد دلی پیدا ہو جاتی ہے ۔ فرمایا کہ عورت کا پھوہڑ ہونا تو اپنے ایک خاص اثر کے سبب ایسے کمال کی صفت ہے جو نہایت ہی محبوب اور قدر کی چیز ہے اور وہ خاص اثر عفیف ہونا ہے پھوہڑ عورتیں اکثر عفیف ہوتی ہیں بخلاف غیر عفیف عورتوں کے کہ وہ ہر وقت بناؤ ، سنگھار اور تصنع اور ظاہری تہذیب و صفائی میں رہتی ہیں ۔ اسی طرح بعض عورتیں بد مزاج ، اور بد خلق ہوتی ہیں مگر یہ بھی ان کے کھرے پن کی دلیل ہوتی ہے ۔ بعض تو خاوند تک کو منہ نہیں لگاتیں مگر مجھ کو ایسی عورتوں کی عفت میں شبہ نہیں ہوتا اور غیر عفیف بس چکنی چپڑی رہتی ہیں اور پھر ظاہری اخلاق بھی شائستہ ہوتے ہیں خطرناک ہوتی ہیں اپنی چالاکیوں سے اپنی شرارتوں کو بلی کے گوہ کی طرح چھپاتی ہیں اور مرد کو گرویدہ بنائے رکھتی ہیں ۔ ایسی عورتوں پر مجھے اطمینان نہیں اور پھوہڑ عورت کا پھوہڑ پن گو طبعا ناگوار ہوتا ہے وہ اس لیے کہ بھنگن سی بنی ہوئی ہے نہ بات میں مزا نہ اٹھنے بیٹھنے کی تمیز نہ کھانا پکانے کا سلیقہ ، نہ بچوں کی خبر گیری اور خدمت مگر ایک صفت عفت کی وجہ سے اس کی تمام برائیاں اور بدتمیزیاں مبدل بکمال ہو جاتی ہیں کہ وہ عفیف ہوتی ہیں مجھ کو ایسی عورتوں پر بے حد اطمینان ہے عفیف ہونے کی وجہ سے وہ بناوٹی باتوں سے مستغنی ہے اس بناء پر یہ عورت کا ایک بہت بڑا جوہر ہے اس کی قدر کرنی چاہیے ۔ خیر سب کچھ سہی مگر ہر حال میں ہر شے کی حدود ہیں عورتوں کو مجبور اور کمزور سمجھ کر ظالم تو نہ بننا چاہیے بادشاہ اپنی رعیت پر حکومت کرے گوارا مگر ظلم گوارا نہیں اور یہاں تو خاوند اور بیوی میں محض حاکم اور محکومیت ہی کا علاقہ نہیں بلکہ دو علاقہ ہیں ایک حکومت کا دوسرا محبوبیت کا ، دونوں کے حقوق ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔ بڑا شبہ بعضے مردوں کو اس سے ہوتا ہے کہ مرد تو اظہار محبت کرتا ہے اور عورت اظہار محبت نہیں کرتی مگر اس کی وجہ یہ ہے کہ مرد کے لیے تو اظہار محبت زینت ہے اور عورت کے لیے عیب ہے اس کو شرم و حیاء مانع ہوتی ہے گو دل میں میں اس کے سب کچھ ہوتا ہے جس کا رات دن واقعات سے مشاہدہ ہوتا ہے مزاحا فرمایا کہ اگر مجھ کو سلطنت مل جائے تو میں سب سے پہلا اعلان یہ کروں کہ جو عورتیں ستائی جائیں اور ان پر ظلم ہو تو وہ میرے یہاں درخواست کریں میں تحقیق کے کے فیصلہ اور راحت رسانی کا انتظام کروں گا مگر خدا گنجے کو ناخن ہی کیوں دینے لگا جب پہلے ہی سے یہ نیت ہے کہ مردوں کو ماروں گا مرد ووٹ نہیں دیں گے گو عورتیں روٹ پکا کر کھلائیں کیونکہ ان کی نصرت اور اعانت ہو گی اس لیے کہ آج کل سلطنت ووٹ پر موقوف ہے ۔ ایک صاحب نے عرض کیا کہ قرآن میں عورتوں کو مکار فرمایا گیا ہے فرمایا سب کا مکار ہونا تو کہیں قرآن میں نہیں آیا ۔ البتہ حدیث شریف میں ناقص العقل والدین فرمایا ہے پھر حضور نے اس ناقص ہونے کی شرح بھی فرما دی ہے تا کہ اعتقاد میں حدود سے تجاوز نہ ہو جائے ۔ مثلا دین کا نقصان اس کو فرمایا کہ یہ حیض میں نفاس میں نماز نہیں پڑھ سکتیں اور نقصان عقل اس کی شہادت کا نصف ہونا فرمایا ۔ سو یہ نقصان عقل و دین کوئی معصیت نہیں جو مقتضی ہو ان پر تشدد کرنے کو پھر فرمایا کہ آج عورتوں کی میں نے بے حد نصرت کی ہے اس لیے اس ملفوظ کا نام نصرۃ النساء کہہ دینا مناسب ہے ۔
11 ذیقعدہ 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم یک شنبہ

( ملفوظ 247 ) فناء تجویزات اور ترک تعلقات

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میرا مسلک تو فناء تجویزات اور ترک تعلقات ہے مگر یہاں پر تعلقات سے مراد غیر ضروری تعلقات ہیں بدون اس فناء کے زندگی راحت کی میسر نہیں ہو سکتی
10 ذیقعدہ 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم شنبہ
نصرۃ النساء
مردوں کے ظلم اور تعدی کی بناء پر حضرت والا نے عورتوں کے حقوق اور ان کے ساتھ ذندگی کے دستور العمل کے متعلق احکام شریعت کے ماتحت حسب ذیل تقریر فرمائی ۔

( ملفوظ 246 )حضرت رائے پوری کا حلم

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ حضرت رائے پوری تو اس قدر حلیم اور کریم تھے کہ کسی شخص نے دوا دی ، لے لی ، کھا لی ۔ اب اس سے تکلیف ہو رہی ہے مگر جب وہ شخص پوچھتا ہے کہ حضرت کیا اثر ہوا ، فرماتے ہیں بڑا نفع ہوا ۔ یہ تو ان کی شان تھی اور ایک میں ہوں کہ لوگ مجھ کو محبت کی وجہ سے نسخہ بتلاتے ہیں حتی کہ طبیب تک آتے ہیں وہ تجویز کرتے ہیں مگر میں صاف کہتا ہوں کہ میرے معالج فلاں حکیم صاحب ہیں ان کو مشورہ دو ، وہ مجھ سے کہہ دیں میں براہ راست کسی کی بتلائی کوئی دوا استعمال نہ کروں گا ۔

( ملفوظ 245 )مورثی پیر اور حضرت رائے پوری

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جہل سے بھی خدا ہی بچائے ، بہت ہی بری چیز ہے اور ان جاہل پیروں کی بدولت طریق تصوف کی تو وہ گت بنی ہے کہ بیان سے باہر ہے ۔ ایک گاؤں کے کچھ گوجر لوگ حضرت مولانا رائے پوری رحمہ اللہ سے بیعت ہو گئے ، کچھ روز کے بعد اس گاؤں کا مورثی پیر آیا اس نے سنا کہ فلاں فلاں لوگ مولانا سے بیعت ہو گئے ، بھڑک اٹھا اور کہنے لگا ارے بیوقوفو ! رانگھڑ راجپوت بھی کہیں بزرگ ہوئے ہیں ۔ ایک گاؤں والا بولا تھا ہوشیار اجی یہ تو تم ہی جانتے ہو مگر ایک بات کی تو ہمیں بھی خبر ہے ، مولانا نے یہ کہہ دیا ہے کہ اپنے پرانے پیر کے بھی حق حقوق دیتے رہنا تو فورا کہتا ہے کہ خیر کچھ ڈر نہیں ان سے مرید ہو گئے وہ بھی بزرگ آدمی ہیں اچھے آدمی ہیں یہ پیر رہ گئے ۔ مطلب یہ ہوا کہ اگر ہماری آمدنی میں فرق آئے تو نہ وہ بزرگ نہ عالم نہ نیک اور اگر آمدنی میں فرق نہ آئے تو پھر وہ سب کچھ ہیں ان ظالموں نے گمراہ کر دیا مخلوق کو ۔

( ملفوظ 244 )گورنمنٹ سے ڈرنے کا الزام اور اس کا جواب

ملقب بہ اصلاح المخبوط بالقول المضبوط ۔ ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت آج کل تو ایسی گڑبڑ ہو رہی ہے کہ اہل علم تک غلط مسائل بتانے لگے اور احکام شرعیہ میں تحریف کرنے لگے ۔ فرمایا کہ جی ہاں بے سری فوج ایسی ہی ہوا کرتی ہے ہر شخص آزاد ہے کوئی سر پر تو ہے نہیں جو جس کے جی میں آتا ہے کرتا ہے ، احکام شریعت کو اپنے اعراض و مقاصد کا آلہ کار بنا رکھا ہے ۔ یہ سب خرابیاں قلب میں خدا کی خشیت نہ ہونے سے ہو رہی ہے ۔ عرض کیا کہ بتلانے اور سمجھانے پر یہ جواب دیتے ہیں کہ تم پرانے خیال کے ہو ، اب وہ زمانہ نہیں رہا ، اب زمانہ ترقی کا ہے ، فرمایا کہ پرانی تو بہت چیزیں ہیں ان کو بھی چھوڑ دینا چاہیے ، زمین بھی پرانی ہے ، آسمان بھی پرانا ہے اور اس میں جو ستارے ہیں مثلا چاند ہے سورج ہے یہ بھی پرانے ہیں ، ان سے بھی انتفاع نہیں کرنا چاہیے ۔ خواجہ صاحب نے ایک مسٹر کی بے پردگی کی حمایت پر ایک رسالہ نظم میں لکھا ہے اس کا نام مسٹر اور ملا کی نوک جھونک ہے اس میں کچھ اشعار مسٹر نے پرانی ہی پاتوں کی تحقیر پر لکھے ہیں ۔ خواجہ صاحب نے ان اشعار کا خوب جواب دیا ہے وہ اشعار مجھ کو یاد نہیں ، بڑے مزے کے اشعار ہیں ۔ ( احقر جامع عرض کرتا ہے کہ مسٹر کے بعد وہ اشعار جن میں پرانے لوگوں کی اور پرانی دلیلوں کی تحقیر کی ہے یہ ہیں :
پرانی یہ دلیلیں ہیں نہیں ان میں اثر باقی نہ ہونا دیکھ اب اس راہ میں سرگرم جولانی
مرے مردوں کو سونے دے نہ قبریں کھود اب انکی ہوئی مدت کہ رخصت ہو چکا دنیا سے خاقانی
اس کے جواب میں خواجہ صاحب کے اشعار حسب ذیل ملاحظہ ہوں ۔ فرماتے ہیں :
پرانی جو دلیلیں تھیں نہ سمجھا تھا اثر جن میں نئی تیری دلیلوں پر انہیں سے پھر گیا پانی
پرانوں کی ذرا تو سوچ کر تحقیر کر مسٹر پرانے تو بہت سے ہیں نہیں صرف ایک خاقانی
پرانا تیرا پردادا پرانی تیری پردادی پران تیرا پرنانا پرانی تیری پرنانی
پرانے چاولوں کو پا نہیں سکتے نئے چاول پکالے ان سے خشکہ پک نہیں سکتی ہے بریانی
جو ہے ایسی ہی نفرت ہر پرانی چیز سے تجھ کو نہ اس دنیا میں بھی رہ بنا اک عالم ثانی
( احقر جامع 12 منہ ) کہتے ہیں یہ ترقی کا زمانہ ہے تو گویا سلف سے اس وقت تک تنزل
ہی رہا نالائقوں کو خبر نہیں کہ مسلمانوں کی اصل ترقی کیا ہے ۔ دوسری قوموں کی ترقی کو اپنی ترقی کا بھی معیار سمجھنے لگے ، اگر ملک اور مال جاہ ثروت ہی ترقی کا معیار ہیں تو پھر شداد نمرود ، فرعون ، ہامان ، قارون تو انبیاء علیہم السلام سے بھی بہت زیادہ ترقی یافتہ تھے خدا معلوم ان بد فہموں کی عقلوں کو کیا ہو گیا ، سمجھتے ہی نہیں ارے مسلمانوں کی ترقی کا معیار ہے دین اگر دین درست ہے اور اللہ راضی ہے یہ ان کی ترقی ہے اور اگر دین درست نہیں اور اللہ ناراض ہے تو تنزل ہے آخر کفر اور اسلام میں فرق ہی کیا ہوا ، ہاں اگر دین کے ہوتے ہوئے دنیا بھی تمہارے پاس ہو تو کون منع کرتا ہے بلکہ اس کی وجہ سے اشاعت دین تبلیغ دین میں امداد ملے گی پھر وہ دنیا دنیا ہی نہ ہو گی بلکہ عین دین ہو گا ۔ فرمایا کہاں تک بیان کروں اہل علم ہی کی بدولت عوام زیادہ گمراہی میں پھنسے ۔ تحریک خلافت کے زمانہ میں وہ ہر بونگ مچایا کہ الاماں الحفیظ نہ احکام کی پرواہ نہ حدود کی رعایت جو جی میں آیا کیا جو منہ میں آیا بکا ، مجھ پر ہی قسم قسم کے بہتان باندھیں گے ، الزام لگائے گئے ایک صاحب نے میری نسبت میرے ایک دوست سے کہا کہ گورنمنٹ سے تنخواہ پاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا اس سے تو معلوم ہو گیا کہ اس کو گورنمنٹ سے خوف تو نہیں ورنہ تنخواہ دینے کی کیا ضرورت تھی ہاں طمع ہے تو اس کا بہت سہل علاج یہ ہے کہ گورنمنٹ تین سو روپیہ ماہوار دیتی ہے تم پانچ سو روپیہ دے کر دیکھو ۔ جب طمع ہی ٹھری تو تمہارے ساتھ ہو جائیں گے ۔ ایک مولوی صاحب سے سوال کیا گیا کہ سچ مچ جیسا زبان سے کہہ رہے ہو ایسا ہی دل میں بھی سمجھتے ہو کہ حاشا و کلا پوچھا گیا کہ پھر کیوں ایسا کہتا ہو تو اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ اپنی آواز کو زور دار بنانے کیلئے یہ صاحب عالم تھے ، واعظ تھے اور دین اور دیانت کی یہ کیفیت ذرا غور کیا جائے یہ بھی اس زمانہ میں کہا گیا کہ ان کے چھوٹے بھائی سی آئی ڈی میں ہیں ۔ انہوں نے ڈرا رکھا ہے کسی کو کیا خبر وہ خود نہیں ڈرے وہ مجھے کیا ڈراتے ، ایک وقت میں میری نسبت یہ بھی شہرت دی گئی کہ وہ بھی خلافت میں شریک ہو گیا تو ان بھائی سے ایک بہت ذمہ دار حاکم نے پوچھا کہ معلوم ہوا کہ وہ بھی خلافت میں شریک ہوں گے اس کی کیا اصل ہے ۔ انہوں نے بجائے اس کے کہ نفی کرتے جو مطابق واقع کے بھی تھی اور حاکم کی خوشنودی کی مؤجب بھی تھی جواب میں یہ کہا کہ ہو گئے ہوں گے ان کی علیحدگی کسی دنیوی مصلحت سے نہیں تھی ، دین کی مصلحت سے تھی اگر دین کی مصلحت شرکت میں سمجھی ہو گی تو شریک ہو گئے ہوں گے وہ مذہبی آدمی ہیں یہ جواب دیا سو وہ مجھ کو کیا ڈراتے ، جب خود ہی نہیں ڈرے اور میں تو کہتا ہوں کہ اپنے ضروری مصالح پر نظر کر کے اگر کوئی خطرات سے احتیاط بھی کر لے اور اہل قدرت سے ڈرے تو وہ ایسا ہے جیسے شیر سے سب ڈرتے ہیں ۔ میرے متعلق یہ کہنا کہ گورنمنٹ سے ڈرتا ہے بھائی میں تو سانپ سے بھی ڈرتا ہوں ، بچھو سے ڈرتا ہوں حتی کہ بھڑ ، مچھر اور پسو سے بھی ڈرتا ہوں جتنی چیزیں موذی ہیں سب س ڈرتا ہوں تو حکام کی ذد سے نہ ڈرنے کے کیا معنی اور یہ تو ایک فطری چیز ہے جو چیزیں ڈرنے کی ہیں ان سے ڈرنا ہی چاہیے اور ہر ڈر نہ نقص ہے اور نہ مذموم بلکہ بعض موقع پر اس کا عکس نقص ہو گا یہ تو عقل کی بات ہے اور عقل کا اقتضاء ہے کہ ہی چیز اپنی حد پر رہے ورنہ بے حس سمجھا جائے گا جیسے ایک شخص تندرست ہے اس کے تو کوئی سوئی چھبو کر دیکھے تو مزا آ جائے اور ایک مفلوج ہے اس کے اگر چاقو بھی جسم میں گھونپ دیا جائے اس کو خبر بھی نہ ہو گی ۔ اب آپ ہی سے پوچھتا ہوں کہ اس میں بہادری اور عدم بہادری کی کیا بات ہوئی ۔ ایک میں حس ہے ایک بے حس ہے حضرت امور طبعیہ فطریہ وہ چیزیں ہیں کہ انبیاء علیہم السلام جو سب سے زیادہ قوی القلب تھے ان پر بھی ان کا اثر ہوتا تھا ۔ قرآن پاک میں متعدد جگہ حق تعالی نے حضرت موسی علیہ السلام کے واقعات کو ارشاد فرمایا ہے ان میں صریح دلالت ہے کہ ایسی چیزوں سے انبیاء علیہم السلام بھی متاثر ہوتے تھے میں ان واقعات کو عرض کرتا ہوں ۔ حق تعالی فرماتے ہیں موسی علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کو حکم ہوتا ہے :
اذھبا الی فرعون انہ طغی فقولا لہ قولا لینا لعلہ یتذکر او یخشی
دونوں عرض کرتے ہیں : ” قالا ربنا اننا نخاف ان یفرط علینا او ان یطغی ” اس پر حق تعالی فرماتے ہیں : ” قالا لا تخافا اننی معکما اسمع و اری ” اور سنئے موسی علیہ السلام اژدھا سے طبعا ڈرے یہ واقعہ بھی قرآن پاک میں موجود ہے حق تعالی فرماتے ہیں :
و الق عصاک فلما راھا تھتز کانھا جان ولی مدبرا و لم یعقب یموسی لا تخف انی لا یخاف لدی المرسلون اور حق تعالی فرماتے ہیں : ” یموسی اقبل و لا تخف انک من الامنین ”
ایک اور واقعہ قرآن پاک میں مذکور ہے جب موسی علیہ السلام حکم خداوندی سے عصا کو زمین پر ڈالتے ہیں تو وہ دوڑتا ہوا سانپ بن جاتا ہے اس پر حکم ہوتا ہے :
خذھا و لا تخف سنعیدھا سیرتھا الاولی
پکڑو ، ڈرو نہیں اور ایک واقعہ مذکور ہے کہ جب جادوگروں نے اپنا جادو شروع کیا اور سانپ بننے شروع ہوئے تو موسی علیہ السلام کے دل میں خوف کے آثار پیدا ہونے لگے ۔ خواہ خوف کا سبب کچھ ہی ہو جس کو حق تعالی فرماتے ہیں :
فاوجس فی نفسہ خیفۃ موسی قلنا لا تخف انک انت الاعلی
غرض جو چیزیں ڈرنے کی ہیں ان سے ڈرو اور جو نہ ڈرنے کی ہیں ان سے مت ڈرو اور بالکل خوف نہ ہونا نقص ہے ، فطری کمی ہے ، کمال یہی ہے کہ خوف بھی ہو اور قوت بھی ہو اور امور طبعیہ کا اثر ہونے میں بڑی حکمتیں ہیں ، سب میں بڑی حکمت تو یہ ہے کہ انسان کو اپنا عجز اور ضعف معلوم ہو کر شان عبدیت کا استحضار رہتا ہے جو روح ہے تمام مجاہدات اور ریاضات کی ہمارے حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ زمانہ غدر میں شریک جنگ ہوئے ۔ اول مرتبہ جو بندوق چلی ثقات نے بیان کیا کہ بیہوش ہو گئے ، اس کے بعد تلوار لے کر خود لڑے ، سو یہ کوئی نقص کی بات نہیں ، طبعی بات ہے عقلی بات جو تھی وہ یہ کہ جنگ میں شرکت کی ، اس میں خوف نہیں ہوا ، دوسری مثال سنئے مثلا حکم ہے کہ طاعون سے بھاگنا جائز نہیں ، آگے دو صورتیں ہیں ایک تو طبعی خوف ہے اس سے اگر وحشت دہشت کے زوال کی تدابیر کرے یا مبتلاء ہو کر علاج کرے جائز ہے بلکہ علاج کرنا ضروری ہے دوسرا عقلی خوف ہے وہ مذموم ہے کہ وہاں سے بھاگے امور طبعیہ کے وجود و عدم کا مدار ایمان یا کفر پر نہیں اس میں سب شریک ہیں ۔ اب اگر کوئی شخص کہنے لگے کہ میں شیر سے نہیں ڈرتا تو یہ کوئی بہادری کی شرط نہیں ، بہادری یہی ہے کہ گو ڈرے بھی مگر جب موقع آ جائے تو مقابلہ کرے ، ساتھ ہی بچنے کی تدبیر کرے اور اگر عدم خوف مطلقا کمال ہے تو اگر کوئی کہنے لگے کہ میں خدا سے نہیں ڈرتا تو کیا یہ عقل کی بات ہو گی یا بیوقوفی کی ظاہر ہے کہ محض بے وقوفی ہے جیسے ایک بہادر قوم کے ایک بزرگ جنگل میں رہا کرتے تھے ۔ کچھ لوگ زیارت کو گئے ان میں سے ایک نے کہا جنگل میں رہتے ہیں شیر بھیڑیوں سے ضرور ڈر لگتا ہو گا ، وہ بزرگ جواب میں فرماتے ہیں کہ شیر بھیڑیوں سے تو میں کیا ڈرتا ، میں خدا سے تو ڈرتا نہیں ۔ ایک اور اسی قوم کے ایک بزرگ کی حکایت ہے ان کے معتقد ان کی تعریف کر رہے تھے ۔ دوسرے شخص نے کہا یا تو وہ اس قوم کے نہ ہوں گے یا بزرگ نہ ہوں گے ۔ معتقد نے کہا ان میں دونوں وصف جمع ہیں اس نے کہا چلو امتحان کریں چنانچہ وہاں پہنچے جا کر ادب سے سلام کیا ، مصافحہ کیا ، بیٹھ گئے ، وہ غیر معتقد شخص بولا کہ دو تین روز ہوئے ایک عجیب واقعہ ہوا ، کسی جولاہا سے اس قوم کے ایک شخص کی لرائی ہو گئی ، جولاہا نے اس شخص کو خوب پیٹا یہ کہنا تھا کہ وہ بزرگ بگڑ گئے اور غصہ میں فرمایا کہ سسرا وہ شخص اس قوم کا نہ ہو گا جو جولاہا کے ہاتھ پٹ گیا ، بھلے مانس نے ظالم غیر ظالم کا بھی سوال نہ کیا ، علی الاطلاق حکم لگا دیا تو صاحب اگر یہی بہادری ہے تو اللہ تعالی ایسی بہادری سے پناہ دے ، غرض ہر شے اپنے محل پر محمود ہوتی ہے ، بہادری بھی احتیاط بھی خوف بھی عدم خوف بھی تو ہر جگہ یہ الزام دینا کہ فلاں شخص ڈر گیا ، محض بے اصول الزام ہے حقیقت کو سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے ۔

( ملفوظ 243 ) حضرت کا والد کے انتقال کے بعد ورثاء کو حق پہنچانا

ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت کے والد صاحب مرحوم کے انتقال کو زمانہ ہوا ، اس قدر زمانہ کے بعد اہل حقوق کو حق پہنچانا بڑا مشکل ہے ۔ حضرت کو اس میں بڑی کلفت ہوئی ہو گی ، فرمایا کہ اہل حقوق کے حق پہنچانے کی مسرت اور خوشی اس قدر قلب پر تھی کہ کچھ گرانی نہیں ہوئی ، وقت تو صرف ہوا ورثاء کی تحقیق میں اور اس میں کہ کون کہاں ہے اور کس کا کس قدر ہے باقی پریشانی یا کلفت کچھ نہیں ہوئی ، غیب سے حق تعالی نے ایسے وسائل اور ذرائع پیدا فرما دیئے ، اپنے فضل سے بآسانی سب کا پتہ معلوم ہو گیا ، کوئی مدینہ طیبہ میں کوئی مکہ معظمہ میں ، کوئی ممبئی میں کوئی کلکتہ میں کوئی لاہور میں کوئی دہلی میں کوئی بھوپال میں غرض کہ چہار طرف پھیلے ہوئے ہیں اور اب بحمد اللہ تعالی قریب قریب سب کا پتہ معلوم ہو گیا اور جو باقی ہیں ان کا بھی عنقریب انشاء اللہ تعالی پتہ معلوم ہو جائے گا ۔ واقعہ یہ ہے کہ حق تعالی ہی کا فضل شامل حال تھا جو اس قدر بڑا کام اس سہولت سے انجام پا گیا کہ میں پھولوں سے بھی زیادہ ہلکا رہا اور کام ہو گیا ، جب کوئی نیک کام کا ارادہ کرتا ہے حق تعالی مدد فرماتے ہی ہیں اور اس کام کی تکمیل کے لیے اتنی زندگی کی تمنا اور ہو گئی کہ میرے سامنے سب اہل حقوق کے حقوق ادا ہو جائیں ، بعد مر جانے کے پھر کوئی ادا کرے یا نہ کرے اور اگر کسی کو فی الحال ادا کی قدرت نہ ہو تو نیت تو رکھے ادا کی ، شریعت میں تنگی نہیں اس لیے نادار کی نیت بھی بجائے ادا کے ہے مگر اس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ صرف نیت کر لینا کافی ہے صرف نیت سے کام نہ چلے گا ، ادا کرنا بھی شروع کر دے ، پورا نہیں تھوڑا تھوڑا سہی مثلا کسی کے ذمہ ہزار روپیہ ہے مگر پاس ہیں صرف پانچ روپے ، ان ہی پانچ کو ادا کر دے ۔ غرض صرف نیت معتبر نہیں جس وقت جس قدر ہو سکے ادا کرتا رہے اور اس کے ساتھ ہی نیت رکھے سب کی ادا کی اس طرح کی نیت معتبر ہو گی مثلا سب مسلمانوں کی نیت ہے حج کی مگر جس نے اہتمام شروع کر دیا اسی کی نیت معتبر ہو گی اور جس نیت کا معتبر ہونا میں نے بیان کیا اس میں بڑی چیز یہ ہے کہ عمل مامور بہ کا برابر ثواب ملتا رہتا ہے ۔ گویا گھر بیٹھے رحمت کا مستحق بن رہا ہے ۔

( ملفوظ 242 )تقوی زائد دنیاوی سامان سے توحش

فرمایا کہ آج ایک استفتاء آیا ہے ایک طالب علم ہیں دیوبند میں تھوڑی عمر ہے مگر بہت پاک صاف طبیعت ہے ، انہوں نے ایک واقعہ کے متعلق استفتاء کیا ہے وہ واقعہ یہ ہے کہ ان کے والد اور والدہ کا تو انتقال ہو چکا ، والد کی جائیداد معقول ہے وہ ان کو پہنچی اب ان کو خیال ہوا کہ والد صاحب کہ ذمہ دین مہر ہے اور جائیداد ان کی مجھ کو پہنچی تو جس قدر دیون ہیں وہ اس ترکہ سے متعلق ہیں جس کو میں لیے بیٹھا ہوں ، گو دنیا کے قانون سے ان کے ذمہ اب مہر کا مطالبہ نہیں رہا مگر دین کے قانون سے وہ اپنے ذمہ سمجھتے ہیں اس کے متعلق تحقیق کی ہے ایسی باتوں سے جی خوش ہوتا ہے اور خیال ہوتا ہے کہ سب مسلمانوں کو ادائے حقوق کی فکر ہونا چاہیے اگر یہ باتیں مسلمانوں میں پیدا ہو جائیں تو ان کو کوئی پریشانی نہ رہے ، یہ سب پریشانیاں دین کے خلاف کرنے سے پہنچ رہی ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ دین کے خلاف کرنے سے خدا ناراض ہوتا ہے اس ناراضی پر یہ سب وبال نحوست پیدا ہوتی ہیں ۔ اس بلا میں ہم بھی مبتلاء ہیں واقعہ یہ ہے کہ ایک روز بیٹھے ہوئے اچانک یہ خیال قلب میں پیدا ہوا کہ والد صاحب مرحوم نے چار شادیاں کیں تو چار دین مہر کے والد صاحب قرض دار ہوئے اور اس قرض کا ادا یا اس سے ابراء مشکوک جس کا کچھ پتہ نہیں اور والد صاحب مرحوم نے کافی ترکہ چھوڑا تو وہ دیون ترکہ سے متعلق ہو گئے اور اس ترکہ سے من جملہ اور بھائیوں کے مجھ کو بھی حصہ پہنچا تو اسی نسبت سے دین میرے ذمہ بھی ہو گیا ۔ گو اس زمانہ میں معافی مہر کی رسم غالب عام تھی اس لیے مجھ کو تردد ہوا مگر صاحب غرض ہونے کی وجہ سے اپنی رائے پر وثوق نہیں کیا بلکہ چند علماء سے تحریری بھی اور زبانی بھی استفتاء کیا جس کے جواب میں علماء کے مختلف جوابات آئے مگر یہی طے کیا شبہ کی حالت میں دوسروں کا حق دے دینا چاہیے اپنا لینا نہیں چاہیے ، اگر اپنا حق ہو بھی تو معاف کر دینا چاہیے اس لیے میں نے ایک عالم سے فرائض نکلوا کر اور حساب لگا کر اس قدر رقم کو اپنے قلب سے جدا ہی کر دیا جس قدر کہ میرے ذمہ بیٹھی ۔ اگر حاجت سے زائد ذخیرہ رکھنے کی عادت اور اس سے دلچسپی ہوتی تو شاید قلب میں اس قدر رقم کے جدا ہونے سے خیال بھی پیدا ہوتا مگر الحمد للہ کبھی اپنی عمر میں ایسا ذخیرہ جمع کر کے رکھنے کی عادت ہی نہیں ہوئی ، زیادہ سامان بھی اگر ضرورت سے زائد گھر میں دیکھتا ہوں تو قلب میں ایک وحشت ہوتی ہے بعض پیروں کی حکایتیں سنی ہیں کہ جو آثار رہتا ہے سب جمع کرتے رہتے ہیں اور باقاعدہ اس سامان کی حفاظت کی جاتی ہے ۔ مثلا برسات گزر جانے پر دھوپ میں سکھانا اہتمام کرنا خدا معلوم کیسے قلوب ہیں بکھیڑوں سے نہیں گھبراتے ۔

( ملفوظ 241 )حضرت پر غلبہ خوف و خشیت

ایک مولوی صاحب کے سوال کے سلسلہ میں فرمایا کہ حضرت ایمان پر خاتمہ ہو جائے ، چاہے ، ادنی ہی درجہ کا ایمان سہی بڑی دولت ہے پھر خوف کے لہجہ میں فرمایا ، اللہ کے سپرد ہے بدون ان کے فضل کے کچھ نہیں بن سکتا ۔
14 شوال المکرم 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم دو شنبہ