ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بزرگوں کی توجہ اور عنایت بڑی دولت ہے اس کی قدر کرنا چاہیے میں تو اپنے متعلق عرض کرتا ہوں کہ جو کچھ بھی ہے سب اپنے بزرگوں کی نظر اور توجہ کی برکت ہے ۔ یہاں پر جو مدرسہ ہے کوئی مستقل اس کی آمدنی نہیں ، شان و شوکت نہیں مگر حضرت مولانا گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک مرتبہ یہاں کی نسبت فرمایا تھا کہ بینائی نہیں رہی ورنہ ایک مرتبہ تھانہ بھون جا کر دیکھتا بزرگوں کی نظر جو اس پر ہے اصل چیز اس کو سمجھتا ہوں اسی سلسلہ میں ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ ضروری چیز تو لکھنا پڑھنا ہی ہے مگر اس کو تو کثرت سے لوگ کر رہے ہیں باقی جس کام کو کوئی کر نہ رہا ہو وہ من وجہ اس سے بھی زیادہ ضروری ہے وہ میں نے لے لیا اور اس کو نہ کرنے کی وجہ سے لوگوں کو اس سے اجنبیت ہو گئی ہے اسی وجہ سے لوگ مجھ سے خفا ہیں کہتے ہیں کہ فلاں جگہ گئے فلاں بزرگ کے پاس گئے کہیں بھی کوئی کچھ نہیں کہتا سنتا سب سے الگ اور سب سے جدا تعلیم یہیں پر ہوتی ہے ۔ حضرت حدیثوں میں بھی تو یہ سب تعلیم موجود ہے بولنے کی چالنے کی نشست کی برخاست کی اس کو کیا کہو گے ۔
( ملفوظ 239)متکلفین متکبرین کی رسم
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ یہ تو فطری خلقی جبلی بات ہے کہ آدمی اپنے مقصد کو صاف صاف بیان کرے ، باقی اشارات کنایات سے کام لینا دوسرے کو تکلیف دینا ہے ۔ یہ تو متکلفین متکبرین کی رسم ہے کہ اشارہ کنایہ سے باتیں کیا کرتے ہیں مجھ کو تو اس سے بڑی نفرت ہے ۔
( ملفوظ 238 )جس کو ہو جان و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں
ایک گاؤں کا رہنے والا شخص بہت دیر سے مجلس میں بیٹھا ہوا تھا ، دفعتا اٹھا اور اہل مجلس کے کاندھوں پر کو پھاندتا ہوا حضرت والا کے قریب آ کر بیٹھا دریافت فرمایا کہ کچھ کہنا ہے عرض کیا کہ آپ کی زیارت کو آیا ہوں ، فرمایا کہ زیارت تو ہو گئی مگر جس کام کو آئے ہو وہ تو بھی کہہ لو ، عرض کیا کہ اور کچھ نہیں کہنا فرمایا کہ تم کو اختیار ہے اس وقت تو میں سننے کو تیار ہوں ، پھر اگر کہو گے تو نہ سنوں گا اور نہ تمہارا کام کروں گا اور ایک کوتاہی یہ کی کہ یہ بھی نہیں بتلایا کہ کہاں سے آئے ہو ، عرض کیا کہ فلاں گاؤں سے آیا ہوں ، فرمایا کہ یہاں سے کتنی دور ہے عرض کیا کہ قریب پانچ کوس کے ہو گا ، فرمایا کہ اتنی دور کا سفر کیا اور کام کچھ بتلاتے نہیں میں پھر کہتا ہوں کہ اگر کوئی کام ہو اب بھی کہہ لو کبھی پھر پچھتاؤ اور مجھ کو دق اور پریشان کرو اس پر وہ شخص خاموش رہا ۔ حضرت والا نے فرمایا کہ تم جانو کچھ دیر کے بعد اس شخص نے عرض کیا کہ مولوی جی اب میں جاؤں گا ، فرمایا اچھا بھائی جاؤ اللہ حافظ عرض کیا کہ ایک تعویذ دے دو ، فرمایا کہ جب کیا مکھی نے چھینک دیا تھا ان گاؤں والوں کے ساتھ کتنی ہی رعایت کرو مگر گنوار پن سے باز نہیں آتے ۔ حضرات سب دیکھ رہو کہ کس قدر کھود کرید کر کے پوچھتا رہا مگر وہی دہقانی پن ظاہر کر کے رہا ، فرمایا کہ پہلے کیا زہر مل گیا تھا چل کھڑا ہو ، دور ہو کہتا ہے کہ زیارت کو آیا ہوں ، یہ زیارت کو آیا تھا دق کرنے آیا تھا ان گنواروں کی اصلاح بڑی مشکل ہے آخر گنوار پن کی بھی تو کوئی حد ہونی چاہیے اس نے تو کوئی حد ہی نہ رکھی ، خیر یہ تو گاؤں کا ہے گنوار ہے جو شہر کے ہیں ، تعلیم یافتہ ہیں وہ بھی اس مرض میں مبتلا ہیں سب ایک مٹی کے پیدا ہوئے ہیں ، مجھ کو تو شب و روز سابقہ پڑتا رہتا ہے میں ان کی نبض پہچانتا ہوں میں اچھی طرح ان کے رگ و ریشہ سے واقف ہوں جیسا مجھے ستاتے ہیں ویسے ہی خوش ہو کر جاتے ہیں پھر بدنام کرتے ہیں خیر خوب بدنام کریں کیا ہوتا ہے بلانے کون جاتا ہے اسی کو کسی نے خوب کہا ہے :
ہاں وہ نہیں وفا پرست جاؤ وہ بے وفا سہی
( ملفوظ 237 ) بلا وجہ تحریر اور گفتگو کو جمع کرنا مناسب نہیں
ایک صاحب نے پرچہ پیش کر کے زبانی بھی کچھ عرض کرنا چاہا ، فرمایا کہ یہ خلط بحث کیسا کہ پرچہ بھی زبانی بھی یا تو سب زبانی ہی کہا ہوتا یا سب پرچہ ہی میں لکھ دیا ہوتا اور اگر کسی مصلحت سے دونوں ہی کام کرنے تھے تو اس کا بھی طریقہ یہ تھا کہ پہلے زبانی کہتے اور اس میں پرچہ پیش کرنے کا ذکر کرتے اب دونوں کے جمع کرنے سے میں پریشان ہوں کہ پرچہ میں جو مضمون ہے آیا زبانی اس کے علاوہ کہنا چاہتے ہیں یا جو پرچہ میں لکھا ہے اسی کو زبانی بھی کہنا چاہتے ہیں ایسی باتوں سے بلا وجہ الجھن ہوتی ہے ان لوگوں کو تو محسوس نہیں ہوتا مگر دوسرے کو تو تکلیف ہوتی ہے ۔ ساری دنیا ان کی طرح تو بے حس نہیں ، نہیں معلوم ساری دنیا بد فہموں ہی سے آباد ہے یا ایسے چھنٹ چھنٹ کر میرے ہی حصہ میں آ گئے ، فرمایا کہ اس میں کیا مصلحت تھی کہ پرچہ بھی پیش کر دیا ، زبانی کہنا بھی شروع کر دیا ، عرض کیا کہ غلطی ہوئی اور جو تکلیف میری وجہ سے حضرت والا کو ہوئی ، اس کی معافی کا خواستگار ہوں آئندہ ایسی بیہودہ حرکت نہ کروں گا ، اس پر حضرت والا نے کچھ سکوت کے بعد فرمایا ، اچھا کہو زبانی جو کہنا ہے کیا کہتے ہو ، عرض کیا کہ صبح جو پرچہ لیٹر بکس میں ڈالا تھا اس میں غلطی ہو گئی تھی ۔ دریافت فرمایا کیا غلطی ہو گئی تھی سب بات پوری بیان کرو مجھے بات یاد نہیں ، عرض کیا کہ میں نے اس پرچہ میں یہ لکھ دیا تھا کہ اگر آپ کی خوشی ہو مرید کر لیں دریافت فرمایا تو کیا لکھنا چاہیے تھا ، عرض کیا کہ یہ لکھنا چاہیے تھا کہ میری خوشی ہے کہ مرید کر لیں ، فرمایا غلطی کو کیا خاک سمجھے ، سوچ سمجھ کر معقول جواب دو ، گھبراؤ نہیں اس پر وہ صاحب خاموش رہے ، فرمایا کہ دریافت کرنے پر خاموش رہنا اور جواب نہ دینا خود ایک مستقل غلطی ہے کوئی باریک بات تو نہیں پوچھتا یہ پوچھ رہا ہوں کہ کیا مضمون ہونا چاہیے تھا جب تم نے یہ محسوس کر لیا کہ ایسا لکھنا غلطی ہے تو پھر کیا لکھنا چاہیے تھا اس کا جواب تم نہیں دیتے عرض کیا مجھ کو مہلت دی جائے ، پھر کسی وقت سوچ سمجھ کر جواب دوں گا ، فرمایا کہ خیر یہ بھی ایک جواب ہے یہی اول بار میں کہہ دیا ہوتا کہ اتنی دیر دوسرا منتظر تو نہ رہتا خیر پھر یہی جواب دیجئے گا ، باقی اس سے بے فکر رہو کہ مجھ کو انتظار جواب کا نہ ہو گا اس لیے کہ غرض تمہاری ہے اگر جواب معقول ہو تو مجھ سے بیان کیجئے گا ورنہ نہیں اس لیے کہ صبح سے دو مرتبہ دق کر چکے ہو اب کی مرتبہ اگر گڑبڑ کی تو میں صاف کہے دیتا ہوں کہ تغیر ہو گا اور پھر میں ویسا ہی برتاؤ کروں گا ۔ جیسا گڑبڑ کرنے والوں کے ساتھ کیا کرتا ہوں ، یہ فرما کر دریافت فرمایا کہ جو کچھ میں نے اس وقت کہا آپ نے اچھی طرح اس کو سمجھ لیا ، عرض کیا جی سمجھ گیا فرمایا کہ بات ختم ہو چکی یا اور کچھ کہنا ہے اگر کہنا ہو کہہ لو ورنہ پھر میں اپنے کام میں مشغول ہوتا ہوں ، آج ڈاک میں خطوط بھی زائد ہیں ان کو ختم کرنا ہے عرض کیا کہ اور کچھ نہیں کہنا ، فرمایا چلو چھٹی ہوئی ۔
( ملفوظ 236 )عین مواخذہ کے وقت اپنے کو بدتر سمجھنا
ایک صاحب نے حضرت والا کی خدمت میں پرچہ پیش کیا ۔ ان صاحب کی صورت دیکھ کر فرمایا کہ یہ تو سب بات ہو چکی تھی ۔ اب نئی بات کون سی پیش آئی جس کے لیے پرچہ کی ضرورت ہوئی ، اٹھاؤ پرچہ کو زبان سے کہو جو کہنا ہے کوئی راز کی بات نہیں اس پر وہ صاحب خاموش رہے ، فرمایا کہ پھر بیہودگی شروع کی ، میں تو اپنے کاموں کو چھوڑ کر تمہاری طرف متوجہ ہوں اور تم خاموش ہو ، کیا سب نے مل کر قسم کھا لی ہے کہ خوب دق کریں گے ، سیدھی بات کا بھی جواب نہیں اور کس طرح پوچھوں ، صاف بات کہہ رہا ہوں اس پر وہ صاحب نہایت دبی ہوئی آواز سے بولے جس کو کوئی بھی نہ سن سکا نہ حضرت والا ہی نہ اہل مجلس ہی حضرت والا نے اہل مجلس کی طرف مخاطب ہو کر دریافت فرمایا کہ کسی صاحب نے کچھ سنا کہ انہوں نے کیا کہا سب نے عرض کیا کہ کوئی کچھ نہیں سن سکا ، حضرت والا نے ان صاحب سے فرمایا کہ اور چپکے چپکے بولو میں سن نہ لوں ، بڑا گناہ ہے زور سے بولنا ، ارے بھائی تنگ نہ کرو ، دق نہ کرو ، پریشان نہ کرو ، ابھی دیکھ رہے ہو کہ آہستہ بات کرنے کو منع کیا ہے ( کیونکہ ایک صاحب کو منع کر چکے تھے ) اس سے دوسرے کو تکلیف ہوتی ہے مگر تم نے بھی وہی صورت اختیار کی یہ نزاکت کہاں سے نکالی ، سب اودھ کے نواب زادے ہی بن گئے یہ اچھا ادب نکالا جس سے دوسرے کو تکلیف ہو جائے ، چلو اٹھو جسے بات کرنا ہی نہ آئے اس کا کام کیسے ہو ، آتے ہیں ، اپنی غرض لے کر اور دوسروں کو پریشان کرتے ہیں ، آخر کہاں تک دوسرے کو تغیر نہ ہو ، پھر مجھ کو کہتے ہیں بد اخلاق ہے اپنے حسن اخلاق کو بھی دیکھتے ہو آ کر کیا نور برساتے ہو ، خبردار جو کبھی یہاں آئے یا خط بھیجا یہ فرما کر حضرت والا نے اہل مجلس کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا کہ ان آخری الفاظ کو مصلحتا کہا گیا اس سے دماغ سیدھا ہو جائے گا ، بے چاروں کو محبت تو ہے مگر عقل نہیں میں سچ عرض کرتا ہوں کہ میں کسی کو کہہ سن کر خوش نہیں ہوتا ، ہاں پچھتاتا بھی نہیں اور عین مواخذہ کے وقت بھی اپنے کو مخاطب معتوب سے بدتر اور ذلیل سمجھتا ہوں اس وقت بحمد اللہ پوری طرح اس کا استحضار ہوتا ہے کہ ممکن ہے کہ خدا کے نزدیک یہ مقبول ہو اور اپنی مقبولیت کا دعوی نہیں ہو سکتا پھر بھی جو کچھ کہتا سنتا ہوں ان کی ہی مصلحت سے کہتا ہوں ، میری کوئی مصلحت نہیں ہوتی ، ہاں میری بھی ایک مصلحت ہوتی ہے وہ یہ کہ اگر یہ سنور گئے اور ان میں دین پیدا ہو گیا تو شاید یہی میری نجات کے سبب بن جائیں ۔ حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر پیر مرحوم ہو گا مرید کو جنت میں لے جائے گا اور اگر مرید مرحوم ہے تو پیر کو جنت میں لے جائے گا ۔ حضرت مجھ کو اپنی حالت اچھی طرح معلوم ہے کہ میں کیسا ہوں شاید دوستوں ہی کی بدولت نجات ہو جائے ، ان کی ہی خدمت حق تعالی قبول فرما لیں ، یہی بڑا فضل خداوندی ہے جی چاہتا ہے کہ جتنے تعلق رکھنے والے ہیں سب میں دین کا فہم اور سلیقہ پیدا ہو جائے جس میں اس کی کمی دیکھتا ہوں ، برداشت نہیں ہوتی فورا تغیر ہو جاتا ہے اور بیچارے محبت کی وجہ سے سب برداشت کرتے ہیں ۔ اہل محبت ہی کا یہاں پر گزر ہے ورنہ بناؤٹی تو ایک منٹ بھی یہاں پر نہیں ٹھر سکتا نہ تو وہی ٹھر سکتا ہے نہ میں ہی ٹھرنے دیتا ہوں ، اہل فہم اور اہل محبت اگر دو چار بھی ہوں وہی کافی ہیں کوئی نام کرنا یا فوج جمع کرنا تھوڑا ہی ہے ۔
( ملفوظ 235 ) آہستہ بات کرنے پر مواخذہ
ایک صاحب نے تعویذ مانگا مگر نہایت آہستہ آواز سے اور یہ بھی نہیں کہا کہ کس ضرورت کے لیے تعویذ چاہیے ۔ حضرت والا نے فرمایا کہ کیا تم عورت ہو عورت کی آواز تو بے شک عورت ہوتی ہے اس کو آہستہ بولنا چاہیے کوئی کبھی آواز سن کر عاشق نہ ہو جائے اس کے زور سے بولنے میں فتنہ ہے اس لیے زور سے نہ بولنا چاہیے مگر تم کو کیا ہوا ، کیا عادتیں خراب ہو گئی ہیں میاں زور سے بولو کیا سب نے قسم ہی کھا رکھی ہے کہ ضرور دق کریں گے اگر آدمیوں کی طرح خدمت لی جائے میں خدمت کو حاضر ہوں ، پریشان کر کے کام لینا یہ کون سا طریقہ ہے پریشان کرنا اور خدمت لینا یہ آدمیت نہیں یہ تو حیوانیت ہے پھر ذرا آواز سے عرض کیا کہ تعویذ دے دو ، فرمایا کہ خیر بولے تو مگر بات پھر بھی ناتمام ہی کہی اس لیے جو کچھ تم نے کہا میں سمجھا نہیں جب وہ بتلانے پر بھی نہ سمجھے اس پر حضرت والا نے فرمایا کی جاؤ ہٹو پیچھے بیٹھو ۔ ایک صاحب نے عرض کیا کہ اگر لکھ کر دے دیا کریں ، یہ اچھا ہے زبانی کہنے سے فرمایا کہ بات تو اچھی ہے مگر جب سلیقہ نہیں لکھنے میں بھی گڑبڑ ہی کریں گے ۔
( ملفوظ 234 )حضرت کے ملفوظات و مواعظ اور تجدید تصوف و سلوک
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ میرے مواعظ کثرت سے دیکھا کریں اس سے انشاء اللہ تعالی بہت نفع ہو گا اور جلد ہو گا ، وعظوں میں خدا کے فضل سے سب کچھ ہے اور ملفوظات مواعظ سے بھی زیادہ نافع ہیں اس لیے کہ ان میں خاص حالت پر گفتگو ہوتی ہے جو طالب کے لیے بے حد مفید ہے اور وعظوں میں سے بھی ایسے مضامین جو کہ طالبین کے حالات کے موافق ہوں طالبین انتخاب کر سکتے ہیں پھر وعظوں کے متعلق فرمایا کہ مجھے جب کوئی شخص بیعت کی درخواست کرتا ہے تو میں اول اس کو یہ ہی لکھتا ہوں کہ میرے مواعظ کو دیکھو اور اس سے جو حالت میں تغیر ہو اس سے اطلاع دو اس طرح پر وہ نفع ہوتا ہے کہ دس برس کے مجاہدہ پر بھی نہیں ہوتا میں نے تو ایک مرتبہ خواجہ صاحب سے کہا تھا کہ میں تو اول ہی دفعہ میں طالب کو خدا تک پہنچا دیتا ہوں ، مراد اس سے یہ ہے کہ اول ہی روز طالب کے سر پر فکر سوار کر دیتا ہوں کہ جب فکر ہوتی ہے تو خود راستہ تلاش کرتا ہے اس جویائی اور فکر کی بدولت فضل خداوندی دستگیری کرتا ہے راہ پر لگ جاتا ہے ۔ یہی حقیقت ہے اس طریق کی جس کی بدولت بندہ کو تعلق مع اللہ صحیح معنوں میں حاصل ہو جاتا ہے اور یہ سب تدابیر کا درجہ ہے جس سے مقصود تک رسائی ہوتی ہے باقی اوراد وہ اصلی تدابیر بھی نہیں ، صرف معین مقصود ہیں ۔ یہ جہلا نے خلط کر رکھا ہے کہ مقصود کو غیر مقصود اور غیر مقصود کو مقصود سمجھنے لگے بحمد اللہ اب فن تصوف صدیوں کے لیے صاف ہو گیا ۔
13 شوال المکرم 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم یک شنبہ
( ملفوظ 233 )بعض مرتبہ گردن جھکا کر بیٹھنے سے عجب ہو جاتا ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بعض مرتبہ گردن جھکا کر بیٹھنے سے اور ذکر کرنے سے عجب کا اندیشہ ہوتا ہے اس کو شیخ ہی سمجھتا ہے وہ ایسے وقت ذاکر سے کہے گا کہ چلتے پھرتے اللہ اللہ کرو گردن جھکا کر نہ بیٹھو ، اس سے شہرت ہو گی ، نفس میں عجب پیدا ہو گا ، آج کل ان تعلیمات کا اکثر مشائخ کے یہاں نام و نشان نہیں ۔
( ملفوظ 232 ) امر بالمعروف ہر ایک کیلئے جائز ہے
فرمایا کہ آج کل غیر اہل فن بھی تو فن میں دخل دیتے ہیں ، میں نے ایک صاحب سے ان کے بے محل دوسرے شخص کو نصیحت کرنے پر باز پرس کی تھی تو وہ مجھ سے کہنے لگے کہ امر بالمعروف بھی تو عبادت ہے اور عبادت ہی کے واسطے یہاں ٹھرے ہوئے ہیں ، میں نے کہا کہ عبادت کے کچھ شرائط اور حدود بھی ہوتے ہیں یا نہیں ۔ مثلا نماز بھی تو عبادت ہے اگر کوئی بے وضو ٹرخانے لگے تو کیا صحیح ہو جائے گی ۔ اسی طرح امر بالمعروف کی بھی شرائط ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ عین امر بالمعروف کے وقت ناصح اپنے کو مخاطب سے کمتر اور بدتر سمجھے ، ایسا شخص امر بالمعروف کر سکتا ہے کیا تمہاری اس وقت یہ حالت تھی ، کہنے لگے نہیں میں نے کہا کہ جب شرط نہ پائی گئی تو پھر عبادت کہاں ہوئی ۔
( ملفوظ 231 ) مربی کی تعلیم کے خلاف نہ کرے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مربی کی تعلیم کے کبھی خلاف نہ کرنا چاہیے ویسے تو اس کی مخالفت سے موقت ( وقتی ) نقصان ہو ہی گا مگر اس سے جو عادت خلاف کرنے کی پیدا ہو گی ۔ یہ آئندہ ہمیشہ کے لیے قوت استعداد کو فنا کر دے گی پھر مصلح کی موافقت کی نظیر میں فرمایا کہ کل ہی کا میرا واقعہ ہے کہ حکیم صاحب نے مجھ کو ایک رقعہ لکھا کہ کل دوائیں چھوڑ دو ، میں نے ایک دم چھوڑ دیں ، قلب میں اس کا وسوسہ بھی نہیں آیا کہ ایک دم کیوں سب چھڑا دیں ۔

You must be logged in to post a comment.