( ملفوظ 77 ) حضرت حاجی صاحب کی ایک عجیب تعلیم

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت حاجی صاحب کی عجیب و غریب تحقیقات اور حکمتیں ہوتی تھیں ایک مرتبہ حضرت حاجی صاحب نے کیسی حمکت کی بات فرمائی کہ جب کسی

( ملفوظ 76 ) محبت زبانی جمع خرچ نہیں عمل سے ہوتی ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ محبت خاص تو عمل ہی سے معلوم ہو سکتی ہے محض زبانی جمع خرچ سے کیا ہوتا ہے یہاں کے ایک بزرگ بٹوت میں رہتے تھے محبت کے جوش میں مولد شریف بہت
کرتے تھے انہوں نے حضور اقدس ﷺ کی خواب میں زیارت کی ارشاد فرمایا کہ ہم اس سے زیادہ خوش نہیں جو
ہماری بہت تعریف کرے ہم تو اس سے خوش ہوتے ہیں جو ہمارا اتباع کرے ـ

( ملفوظ 75 )حضرت حاجی صاحب کے یہاں جمعیت قلب کا اہتمام

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت حاجی صاحب ؒ کی ہر معاملہ سے یہ ہوتی تھی کہ حضرت یہ چاہتے ہیں کہ جو غیر ضروری بات جمعیت قلب کے خلاف ہو اسکو ترک کر دو اور ایسی چیزوں سے اکثر منع فرماتے تھے ـ

( ملفوظ 74 )رونق تو خلوت و وحدت میں ہے

ایک صاحب نے عرض کیا کہ اس زمانے میں اہل علم اور طلبہ کا کافی مجمع رہا بڑی رونق رہی فرمایا کہ یہ بھی کوئی رونق ہے کہ مجمع رہا تھا اس سے بڑھ کر یہ رونق ہے کہ اب کوئی نہیں سوائے ایک کے مگر ایک بات اس جماعت کی قابل قدر ہے کہ کثرت کے کوئی بات کلفت کی پیش نہیں آئی نہایت ادب اور تہزیب سے کئی روز گزار گئے مگر یہاں پر وہ رہ کر جانے والوں پر بعض لوگ اعتراضات کا نشانہ بنایا جاتا ہے اس قدر راجنبیت ہوگئی ہے طریق سے ـ

( ملفوظ 73 )دعا میں جی نہ لگنا

ایک صاحب نے عرض کی کہ حضرت دعا میں جی نہیں لگتا فرمایا کہ جی نہ لگنے کی اصل وجہ یہ
ہے کہ اس کا اثر فورا نظر نہیں آتا مثلا کوئی دعا میں روپیہ مانگنے اور فورا جھجھن ہونے لگے یا سیب مانگنے
اور فورا آپڑے پھر دیکھیں کیسے جی نہ لگے بس جی نہ لگنا مترادف اس خیال کا ہے کہ اس کو کچھ ملے گا
نہیں سو یہ خیال خود محرومی کی دلیل ہے مانگنے کے وقت تو یہ استحضار ہونا چاہیئے کہ ضرور دیں گے باقی
دینے کی حقیقت یہ ہے کہ انکی طرف سے یہ وعدہ ہے کہ ہم سے جو کوئی خیر طلب کرتا ہے ہماری رحمت خاص اس طرف متوجہ ہو جاتی ہے تو دعا کا اثر رحمت خاصہ ہے کہ خاص قیود مطلوبہ مثلا کسی سائل نے کسی سے روپیہ مانگا اور اس نے اشرفی دیدی جنکی وہ قیمت نہیں جانتا تو اسکو غلطی ہوگی کہ روپیہ ہی کیوں نہ ملا تو جیسے وہاں حقیقت نہ جاننے کی وجہ سے نہیں سمجھا کہ روپیہ کے بجائے اس سے زیادہ قیمتی چیز یعنی اشرفی مل گئی ایسے یہاں حقیقت نہ سمجھنے کی بدولت اپنے کو محروم سمجھتا ہے مثلا مانگنے تھے سو روپے مگر دو نفلوں کی توفیق ہوگئی تو یہ کیا کچھ کم رحمت ہے مگر یہ سمجھتا ہے کہ میری درخواست منظور نہیں ہوئی ـ

( ملفوظ 72 ) ایک ضدی کا دوسری ضد کے لئے سبب بننا اور اس میں ایک مغالطہ :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بعض لوگ مجھ پر اکثر عنایت فرماتے رہے ہیں ( یعنی اعتراض )
کہتے ہیں کہ یہ جو بعض دفعہ ہدایا وغیرہ لینے سے انکار کر دیتے ہیں یہ بھی ایک تدبر ہے کہ بہت سا آئے یا
نہ لینے کی حکمت بیان کی ٖخیر یہ تو خواہ حکمت ہو یا نہ ہو مگر اس سے ایک مسئلہ نکل آیا کہ ایک ضد کبھی دوسری ضد کا سبب بن جاتی ہے جیسے صورۃ نہ لینا اور حقیقتا زیادہ لینا اسی طرح تکبر کبھی بصورت
تواضع ظاہر ہوتا ہے اور ریاء کبھی بصورت خلوص ظاہر ہوتی ہے اب اس کو سنکر بعض لوگ دوسرے وہم میں
مبتلا ہوجاتے ہیں کہ ان کو اپنے تمام افعال میں ان کی ضد کا شبہ اور وسوسہ ہو جاتا ہے یعنی اخلاص میں وسوسہ ہوتا ہے کہ شاید اس میں مخفی ریاء ہو سو اس کے متعلق میں یہ کہتا ہوں کہ ان اوہام کی طرف التفات نہ کرو یہ وساوس ہیں اگر آویں آنے دو انکی فکر ہی میں نہ پڑوس ان کا قصد نہ کرو اور ان کے اقتضاء پر عمل
نہ کرو ان کی فکر میں پڑنا یہ بھی شیطان اور نفس ک شرارت ہے کہ اس میں مشغول کر کے اللہ کی مشغولی سے باز رکھنا چاہتے ہیں بس کام میں لگو انشاءاللہ تعالی کشتی پار لگ جائے گا ـ

16 ذی الحجہ 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم شنبہ

( ملفوظ 71 ) سماع سے متعلق ایک جاہل صوفی کا سوال اور اس کا جواب

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ان جاہل صوفیوں کی بدولت طریق بدنام ہو گیا ورنہ طریق بالکل
بے غبار اور واضح ہے ـ اس پر ایک واقعہ بیان فرمایا کہ ایک شخص صوفی الہ آباد میں ملے صاحب تصینیف تھے ـ انہوں نے مجھ سے سماع کے متعلق سوال کیا میں نے سوچا کہ یہ بتلایئے اس طریق کی روح کیا ہے جو حاصل ہے سلوک کا کہا کہ مجاہدہ میں نے کہا کہ مجاہدہ کی کیا حقیقت ہے کہا کہ
نفس کی مخالفت میں نے کہا کہ اب یہ بتلاؤ کہ تمھارا نفس سماع کو چاہتا ہے یا نہیں کہا کہ چاہتا ہے میں نے کہا کہ ہمارا نفس بھی چاہتا ہے مگر فرق یہ ہے کہ تم نفس سماع کو چاہا ہوا کرتے ہو اور ہم نہیں کرتے تو اس
حالت میں صاحب مجاہدہ تم ہوئے یا ہم درویش تم ہوئے یا ہم صوفی تم ہوئے یا ہم چپ رہ گئے اورکچھ سکوت کے بعد کہا کہ آج غلطی پر تنبیہ ہوا اور سمجھ میں آگئی پھر تائب ہو گئے ـ

( ملفوظ 70 ) اھل خدمت کا وجود

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اہل خدمت اکثر مجاذیب ہوتے ہیں ـ اور ان کے اسرار اکثر سمجھ میں نہیں آتے ـ اس قسم کے مضامین میں نے ایک وعظ میں بیان کئے ـ ایک عالم خشک نے اعتراض کیا
کہ یہ قرآن و حدیث سے ثابت نہیں کہ اہل خدمت بھی کوئی چیز ہوتے ہیں میں نے راوی سے کہا کہ ان سے پوچھنا چاہئے کہ حضرت خضر علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعات کو کیا کہو گے گو یہ
اصطلاح قرآن میں نہ آئی ہو مگر عنوانات تو مقصود نہیں ہوتے ـ معنون مقصود ہوتا ہے ـ ایک صاحب کو سوال کو جواب میں واقعات خضریہ کے توجیہ میں فرمایا کہ غالبا پہلے شرائع میں کشف و الہام حجت ہوگا اور ہماری شریعت میں وہ حجت نہیں پھر اگر کسی بزرگ سے کوئی امر قولی یا فعلی جو ظاہرا منکر ہو ٖصادر ہو
اس میں دوسری تاویل کریں گے ـ بدگمانی کر کے ان حضرات کو ملحد اور دہری کہنا بڑے ظلم اورغضب کی بات ہے ـ پھر بطور تفریح کے فرمایا کہ ہم لوگوں کو وہابی کہتے ہیں کسی وہابی کے کلام میں تو صوفیا کی حمایت دکھلادو ـ

( ملفوظ 69 )قبض بھی نافع ہوتا ہے :

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ قبض بھی تربیت میں بافع ہوتا ہے ـ

( ملفوظ68 ) سب کے ساتھ مساوی برتاؤ ضروری نہیں

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ میں خود ایک زمانہ تک اس غلطی میں مبتلاء رہا کہ سب کے ساتھ مساوی برتاؤ رکھنا چاہئے اب تو میں غلطی ہی کہوں گا چونکہ حدیث شریف میں ہے کہ حضورﷺ
بھی سب کے ساتھ مساوات نہ فرماتے تھے خود مجالس میں بھی جیسی توجہ اور بے تکلفی حضرات شیخین کے
ساتھ فرمائی جاتی تھی کسی کے ساتھ بھی نہ تھی ۔