( ملفوظ 37 ) کفئات فی النکاح میں اصل علت

کفئات کے متعلق ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ غور کرنے سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ کفئات کی قید معلل ہے علت کے ساتھ اور وہ علت عرفی عزت و ذلت ہے مثلا شیخ زادہ چاہے فاروقی ہو یا صدیقی ہو یا انصاری ہو یا عثمانی ہو ان کے آپس میں تناکح عرفا موجب استنکاف نہیں پس یہ سب باہم کفو ہوں گے ـ ان میں اس کی بھی قید نہیں ہوگی کہ ماں عربی النسل ہو کیونکہ عزت میں یہ سب برابر سمجھے جاتے ہیں حدیث کا انکار نہیں ـ

( ملفوظ 36 )عقل کی فضیلت اور سالک اور مجزوب میں فرق مراتب

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ عقل حق تعالی کی ایک بڑی نعمت ہے مگر اس کے استعمال کے بھی کچھ حدود ہیں حد سے تجاوز کرنے میں بجائے نعمت کے زحمت ہو جاتی ہے اور اس عقل ہی کی بدولت مجزوب سے سالک کا مرتبہ بڑا ہے میرے سامنے ایک مرید نے اپنے بدعتی جاہل پیر سے مسئلہ پوچھا کہ مجزوب افضل ہے یا سالک پیر نے جواب دیا کہ اس کا جواب اسی سے معلوم کر لو کہ شریعت نے شراب کو اس لئے حرام کر دیا کہ وہ عقل کو زائل کرتی ہے ثواب عقل کےشرف کے اسر سالک و مجزوب کے عاقل وغیرہ عاقل ہونے کو سوچ لو بیچارے پیر تھے تو بدعتی جاہل مگر بات کام کی کہی ـ

( ملفوظ 35 )جنون کے بعد نہ ایمان کا اعتبار نہ کفر کا

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اگر حالت کفر میں مجنون ہو جائے تو اس حالت کا ایمان معتبر نہیں اور اگر حالت اسلام میں مجنون ہو جائے تو اس حالت کا کفر معتبر نہیں غرض جس حالت پر جنون ہو وہ قانون شرع سے بدل نہیں سکتے جیسے موت جس حالت پر ہو اس ہی کے موافق حکم ہو تا ہے مثلا جس طرح موت کے بعد ولایت سلب نہیں ہوتی اسی طرح جنون سے بھی ولایت سلب نہیں ہوتی اگر ولایت کی حالت میں جنون ہو گیا وہ ولی ہے اور اگر عامی ہونے کی حالت میں ہو گیا وہ عامی ہے اگر مسلم ہونے کی حالت میں ہو گیا وہ مسلم ہے اگر کافر ہونے کی حالت میں ہو گیا وہ کافر ہے ـ

( ملفوظ 34 )مجزوب کی حالت جزب کا سبب :

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ مجزوب پر وارد اس قدر قوی ہوتا ہے کہ جو اس کی منونانہ حالت بنا دیتا ہے ـ

( ملفوظ 33 ) متصنع مصیبت میں رہتا ہے:

ایک سلسلہ گفتگو مین فرمایا کہ متصنع ہمیشہ مصیبت میں رہتا ہے چناچہ ہر سوال کے جواب مین اس کو تعب برداشت کرنا پڑتا ہے لا ادری کہنے کی اس کی ہمت ہی نہیں ہوتی حالانکہ لا ادری میں بڑی راحت ہے ـ

( ملفوظ 32 )اولیا ء اللہ کے نام پر نذر نیاز کا حکم اور اس کی علمی تحقیق

ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت جو لوگ الیاء اللہ کے نام پر کسی جانور کو ذبح کرتے ہیں یا ان کے مزار پر نزر و نیاز کی مٹھائی وغیرہ چڑھاتے ہیں اس میں دو قسم کے عقائد لے لوگ ایک تو یہ کہ ان کو حاجت روا سمجھ کر کرتے ہیں اس کے تو شرک ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور ایک صورت یہ ہے کہ ذبح تو کرتے ہیں اللہ ہی کے نام پر مگر اولیاء کو ایصال ثواب کرتے ہیں اور انکو مقبول سمجھ کر ان سے دعاء کے طالب ہوتے ہیں اس میں کیا حکم ہے فرمایا کہ اس کی حرکت کی کوئی دلیل نہیں مگر عوام کا کچھ اعتبار نہیں اس لئے اس میں بھی احتیاط ضروری ہے سو یہ ایک واقعہ میں اختلاف ہے حکم میں اختلاف نہیں وہ کہتے ہیں کہ سب عوام کی بیت شرک نہیں ہوتی اور ہم کہتے ہیں قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ سب کی شرک کی ہوتی ہے تو یہ ایک واقعہ میں اختلاف ہوا حکم میں اختلاف نہیں باقی غالب واقعہ یہی ہے کہ نیت عوام کی یہ ہی ہوتی ہے کہ وہ راضی ہو کرخوش ہو کر ہماری حاجت کو پورا کر دیں گے بس یہی شرک ہے اور بعضے اہل کی تفسیر ذبح سے کر کے اس مذبوح بہ نیت تقرب الی غیراللہ و علی اسم اللہ کو حلال کہتے ہیں سو یہ ان کی غلطی ہے اور اگر ان کی تفسیر کو مان لیا جاوے اور مااہل لغیراللہ ( اور وہ جانور جو غیراللہ کے نام زد کر دیا گیا ہو ) میں داخل نہ مانا جاوے تب بھی وہ ذبح علی النصب ( اور جانور جو غیر پرستش گاہوں پر ذبح کیا جاوے ) میں داخل ہونا تو قطعی ہے اس لئے کہ وہ عام ہے ہر منوی لغیر اللہ جس میں اللہ کے سوا کسی دوسرے کے تقرب کی نیت کی گئی ہو ) کو گو مذبوح باسم اللہ ( اللہ کا نام لے کر ذبح کیا گیا ہو ) ہی ہوا اس لئے سب ایک ہی حکم میں داخل ہیں البتہ قرائن سے یہ عموم حیوانات کو شامل ہوگا غیر حیوان کو جیسے شیرینی وغیرہ کو شامل نہ ہو گا یعنی اس کو عام نہ ہوگا اشتراک علت سے حکم عام ہوا اور گو لفظ مااھل ظاہر اس کو بھی عام ہے مگر عموم وہی معتبر ہے جو مراد متکلم سے متجاوز نہ ہو حدیث لیس من البر الصیام فی السفر ( سفر میں روزہ رکھنا ضروری نہیں ) اس کی دلیل ہے چناچہ جمہور فقہا کا مذہب ہے کہ سفر میں روزہ افطار کرنا واجب نہیں کیونکہ قرائن سے مراد متکلم کی حدیث میں وہی صوم ہے جو سبب ورود یعنی مشقت شدید تک مفضی ہو بہرحال اس عموم لفظی مین ایک حد ہوتی ہے یہ اور بات ہے کہ قرائن میں کلام ہو مرادآباد کے ایک وعظ میں میں نے یہ مسئلہ عموم کے محدود ہونے کا بیان کیا تھا جسمیں مولانا انور شاہ صاحب بھی شریک تھے انہیں نے بہت پسند کیا ـ
ف ـ احقر اشرف علی کہتا ہے کہ ضابطہ ملفوظات اس مضمون کو کافی طور پر ضبط نہیں کر سکتے اس لئے میں خلاصہ لکھے دیتا ہوں خلاصہ یہ ہے کہ ما اھل بہ لغیر اللہ کو بعض نے خاص کیا ہے اس جانور کے ساتھ جس کو غیر اللہ کا نام لے کر ذبح کیا جاوے اور جو اللہ کا نام لے کر ذبح کیا جاوے گو اصل نیت تقرب الی غیر اللہ کی ہو اس کو حلال کہا ہے اور منشا اس کا یہ ہے کہ بعض مفسرین نے اس میں عند الذبح ( ذبح کے وقت ) کی قید لگادی ہے مگر یہ قول محض غلط ہےدوسری آیت ماذبح علی النصب میں ما عام ہے اور وہاں کوئی قید نہیں اور مذبوح باسم اللہ کو بھی شامل ہے سو اس کی حرمت کی علت بجز نیت تقرب کے کیا ہے اسی طرح ما اھل لغیر اللہ بھی عام ہوگا اور دونوں کے مفہوم میں اتنا فرق ہوگا کہ ما اھل نہ لغیر اللہ میں غیراللہ کے لئے نامزد ہونا قرینہ ہوگا قصد تقرب بغیر اللہ کا اگوچہ انصاب بتول پر ذبح نہ کیا جاوے اور ماذبح علی النصب میں ذبح علی الانصاب اس مقصد کا قرینہ ہو گا اگرچہ غیر اللہ کے نامزد کیا گیا ہو پس دونوں میں عموم و خصوص من وجہ ہوگا اور یہی تغایر مبنی ہوگا ایک کے دوسرے پر معطوف ہونے کا سورہ مائدہ میں پس علت حرمت کی قصد مذکور ہوگا یہ قرآن مجید سے استدلام ہے ما اھل بہ لغیراللہ میں عندالذبح کی قید نہ ہونے کی اور فقہاء نے مذبوح القدم الامیر ( جو امیر کے آنے کے وقت اس کے تقرب کے لئے ذبح کیا ہو ) کی حرمت میں اس کی تصریح کی ہے و ان ذبح علی اسم اللہ تعالی ( اگرچہ اللہ کا نام لے کر ذبح کیا ہو ) اور یہ علت بیان کی ہے ـ لانہ مااھل بہ لغیراللہ
بس معلوم ہو کہ عندالذبح کی قید التفاتی جز ما علی العادۃ ہے یا اس قید سے یہ مقصود ہے کہ ذبح کے وقت تک وہ نیت تقرب کی رہی ہو یعنی اگر ذبح کے قبل تو بہ کر لی تو پھر حرمت نہ رہے گی اور تفسیر احمدی میں جو بقر منزورۃ الاولیاء ( اولیاء اللہ کو ثواب پہچانے کے لئے جو جانور ذبح کیا جاوے ) کو حلال کہا ہے وہ اس تحقیق کے خلاف نہیں ہے کیونکہ منہیہ میں یہ تاویل کی ہے کہ ذبح للہ ہے اور نزر سے مقصود ان کو ایصال ثواب ہے تو یہ اختلاف واقعہ کی تحقیق میں ہوا کہ ان کے نزدیک عوام کی نیت تقرب کی نہیں نہ کہ منوی للتقرب ( جس میں تقرب کی نیت کی گئی ہو ) کی حرمت میں اس تاویل سے جو ظاہر ہے کہ منوی للتقرب کو وہ بھی حرام سمجھتے ہیں اور بعض نے ما اھل بہ کو ایسا عام کہا ہے کہ حیوان وغیرہ دونوں شامل ہے یعنی طعام و شرینی بھی اسمیں داخل ہے مگر تامل و قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں مقصود بیان کرنا احکام حیوان کا رہا ما کے عام ہونے سے استدلال سو محقق یہ ہے کہ اس عموم میں ایک قید بھی ہے وہ یہ کہ متکلم سے متجاوز نہ ہوا ہو اور یہاں مجاوز ہو جاؤیگا مگر اس سے حلت لازم نہیں آتی بلکہ اشتراک علت سے حکم بھی مشترک ہوگا حیوان میں نص قطعی سے اور غیر حیوان میں قیاس ظنی سے واللہ علم ـ

( ملفوظ 31 ) بعض روایات پر جنت کے درختوں کا حال

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں نے کتاب میں لکھا دیکھا تھا جنت کے درختوں کی جڑ اوپر ہوگی اور شاخیں نیچے مجھ کو بڑا تعجب ہوا کہ اس کی کیا صورت ہو گئی کیا یہ صورت ہو گی کہ کسی چھت پر الٹی لگی ہو مگر یہ صورت تو بہت مستعبد ہے پھر کوئی اسکا مساعد بھی نہیں پھر یہ سمجھ میں آیا کہ کسی اونچے پشتہ پر جڑ قائم کی جائے اور اس کے اطراف میں شاخیں نیچے کو آجائیں جیسے سنا ہے میں نے خود نہیں دیکھا کہ بعض آم بیلدار ہوتے ہیں ان کو اونچے پر لگایا جاتا ہے اور انکی شاخیں نیچے پھیل جاتے ہیں شاید ایسا ہو ـ

( ملفوظ 30 ) عالم ہونیکے لئے مصنف ہونا ضروری نہیں

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ ہاں حضرت مولانا یعقوب صاحب کتنے بڑے عالم ہیں مگر صاحب تصانیف نہیں ـ ہر صاحب کمال رنگ جدا ہے ـ

(ملفوظ 29 )

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میری طبیعت کچھ اس قسم کی واقع ہوئی ہے کہ مضمون خود تو لکھنا آسان ہے مگر دوسرے کو نہیں لکھا سکتا ـ

(ملفوظ 28)خرچ کے انتظام کے لئے تھوڑے سے بخل کی ضرورت ہے

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ خرچ کے انتظام کے لئے تھوڑے سے بخل کی ضرورت ہے مگر وہ بخل لغوی ہے شرعی نہیں بدون اس کے انتظام ہونا دشوار ہے یہ تجربہ کی بات ہے کہ اس سے حضرت حاجی صاحب کے ایک قول کی تائید ہوتی ہے کہ افعال رذیلہ بھی اپنی ذات میں مذموم نہیں اس کو اگر صحیح محل میں صرف کیا جاوے تو محمود ہے ـ
مولانا ارشاد فرماتے ہیں

شہوت دنیا مثال گلخن ست ، کہ از وحمام تقوی روشن است

( دنیا کی شہوت مثل بھٹی کے ہے کہ اس سے تقوی کا حمام روشن ہے 12 )