ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اس سے بڑھ کر دین کی کیا خدمت ہوگی خاد میں دین کو پیدا کرنا اور شریعت مقدسہ کی حفاظت کرنا سو اس کو مدارس عربیہ بحمدللہ عربی کی تعلیم دے کر اچھی طرح انجام دے رہے ہیں ـ
شریعت عربی میں ہے ـ بدون عربی کے شریعت کا تحفظ مشکل ہےـ
اقوال
( ملفوظ نمبر 46 )صرف جواب کافی نہیں معقول ہونا بھی ضروری ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جواب تو ہر بات کا ہوتا ہے مگر قابل دیکھنے کے یہ بات ہوتی ہے کہ وہ معقول ہے یا غیر معقول ایک غیر مقلد نے میرا رسالہ التنبیہ الطربی فی تنزیہ ابن العربی دیکھ کر ایک شخص سے کہا کہ اگر میرا فلاں رسالہ دیکھ لیتے تو وہ اپنے اس رسالے سے رجوع کر لیتے میں نے جواب دیا اگر وہ میرا یہ رسالہ دیکھ لیتے تو وہ اپنے رسالے سے رجوع کر لیتے اور یہ خاص مسائل تو سب علمی تحقیقات ہیں اور تحقیقات بھی غیر ضروری جن کا نہ جاننا ذرا بھی مضر نہیں اصل چیز عمل ہے اور اس میں اخلال مضر بدون عمل سب بیکار ہے ـ خواہ علم ظاہر ہو یا باطن اصل فضیلت عمل ہی کو ہے ـ عمل ہی سے دین کی تکمیل ہوتی
ہے ـ دیکھئے صحابہ کو کوئی کتابی علم کہاں تھا مگر مقبولیت اظہر من الشمس ہے وجہ کیا کہ علم سے زیادہ ان کے پاس عمل تھا ـ
( ملفوظ نمبر 45 ) وحدۃ الوجود اور وحدۃ الشہود
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ مجدد صاحب کے وقات تک وحدۃ الشہود ظاہر نہیں ہوا تھا ـ اس کو ظاہر کیا مجدد صاحب نے اور وحدۃ الوجود کو ظاہر کیا شیخ محی الدین ابن عربی مجدد صاحب کے ان کے اقوال کو باطل کہتے ہیں مگر خود شیخ کو مقبول مانتے ہیں اور باطل کہنے کی وجہ بظاہر یہ معلوم ہوتی ہے کہ مجدد صاحب کے سامنے شیخ کے نا تمام اقوال پیش کئے گئے ـ
( ملفوظ نمبر 44 ) پیر و مرید اور استاد و شاگرد کے درمیان فرق
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ پیر کو مرید پر ایسا اعتماد نہیں ہوتا جیسا استاد کو شاگرد کے تعلق پر اعتماد ہوتا ہے ـ وجہ اس کی یہ ہے کہ استاد سے علم حاصل ہوتا ہے وہ جاتا نہیں تو اس کا فیض ہر وقت شاگرد کو نظر آتا ہے ـ اور پیر سے تقوی حاصل ہوتا ہے اور وہ جا سکتا ہے ـ اس لئے اس کا فیض پیش نظر نہیں ہوتا ـ
(ملفوظ 43 )شرط دخول الطریق ـ یعنی راہ سلوک میں داخل ہونے کے آداب
( ملقب بشرط دخول الطریق ) یک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ان رسم پرست اور مدعیان طریق اور گمراہوں اور ڈاکوؤں سے بجائے دینی نفع کے بہت مخلوق گمراہ ہو چکی ہے اور نفع کیا ہوتا بقول شخصے جب سقاوہ ہی میں پانی نہ ہوتا تو بدھنی میں کیا آوے یہ لوگ فیض فیض گاتے پھرتے ہیں ہاں مرید سے ایسے پیر کو فیض ضرور ہو جاتا ہے مطلب یہ کہ دنیا حاصل ہوجاتی ہے ان لوگوں نے بچارے مریدوں کا دین تو خراب کیا ہی تھا لوٹ لوٹ کر ان کی دنیا بھی برباد کردی انکی آمدنیوں پر قبضہ کئے ہوئے ہیں مرید خواہ بیوی کو کچھ دے یا نہ دے خواہ بچے بھوکوں مریں مگر پیر صاحب کی خدمت فرض و واجب ہے جس کے نہ کچھ حدود ہیں نہ اصول نہ حرام کی خبر نہ حلال کی جائز کی تمیز نہ ناجائز کی غرض نہایت گڑ بڑ مچا رکھی ہے اور یہ اندھے مرید بھی ایسی ہی جگہ خوش یہتے ہیں سیدھی سادی باتیں ان کو پسند نہیں بس علاج بھیل ایسے بد فہموں کا یہی ہے اور تمام خرابی رسوم کی پابندی کی ہے ہم نے تو اپنے بزرگوکو ہمیشہ معاملہ میں مصالح پر شریعت کو مقدم رکھتے دیکھا اور رسوم مروجہ سے ہمیشہ ان کو طبعی نفرت رہی ان ہی رسوم میں سے آج کل اس پیری مریدی کا سلسلہ ہے اس میں بھی بالکل رسم کا اتباع کیا جاتا ہے چناچہ اصل مقصد کو چھوڑ بیٹھے اور محض مطلق بیعت کو مقصود بنالیا جس کا ایک نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بعض کو دیکھا کہ پہلے تو جوش کے ماتحت ہو کر مرید ہوگئے ہیں اور پھر بددل ہوکر پریشان پھر رہے ہیں اسی لئے مین لوگوں کو مشورہ دیا کرتا ہوںکہ بیعت میں جلدی نہ کرو حتی کہ جو شخص قرائن سے کامل بھی سمجھا جاتا ہو اس سے بھی بیعت کرنے میں جلدی نہ چاہیئے کیونکہ پہلے پیر کو بھی کامل سمجھ کر بیعت کی تھی پہلے عقلا جو نکاحوں میں کاوش کرتے تھے اس ہی لئے کہ کوئی بات بعد از نکاح کے ظاہر نہ ہو جس سے تعلقات میں بے لطفی پیدا ہو کیونکہ آخر زیست تک کا تعلق ہے سو بیعت کا قصہ تو اس سے بھی زیادہ نازک ہے اسلم یہ ہے کہ بیعت کا تعلق تو پیدا نہ کرےاور کام شروع کردے اس صورت میں سہولت ہے کہ جس روز اعتقاد بدلے سلسلہ تعلیم کا ختم کردے جس میں ضرورت اطلاع کی بھی نہیں اس طرز میں جانبین کو کتنی راحت ہے اسی طرح شیخ کو بھی چاہیئے کہ اگر مرید سے عدم مناسبت کا علم ہو جاوے اس کو اطلاع کردے کہ تم کو مجھ سے کوئی نفع نہ ہو گا کہیں اور جا کر تعلق پیدا کر لو اس طرز میں کوئی الجھن نہ ہوگی بخلاف اس کے اگر شروع ہی میں بیعت کا تعلق کرلیا اور بعد میں طرفین میں سے کسی کو عدم مناسبت محسوس ہوئی تو کلفت اور الجھن کا سبب ہوگا اور تمام متریہ خرابی عجلت کی ہے جو جوش سے پیدا ہوتی ہے اور واقع میں اعتقاد ہی معتبر ہے جو ہوش کے ماتحت ہو اور عجلت کی ہے جو جوش سے پیدا ہوتی ہے اور واقع میں اعتقادی ہی معتبر ہے جو جوش کے ما تحت ہو اس کا کیا اعتبار اسی لئے میں بیعت جلدی نہیں کرتا کیونکہ اگر میں بیعت کر بھی لوں تو عدم مناسبت کی بناء پر پھر تھوڑے دنوں کے بعد بیعت توڑنا پڑے گی اب اس احتیاط میں چاہیئے میر انقص ہو یا اس کا یہ دوسری بات ہے اور اس عدم مناسبت کی مثال ایسی ہے کہ بعض مرتبہ میاں بیوی میں باوجود صحت مزاج کے بوجہ عدم توافق انزالین کے اولاد نہیں ہوتی اسی طرح یہاں بھی باوجود صلاحیت شیخ و طالب کے بوجہ عدم تناسب کے نفع نہیں ہوتا جب یہ حالت ہے تو پھر بیعت پر اصرار کیوں کیا جاتا ہے اگر پیری مریدی میں یہ بھی اطمنان ہوجائے کہ ہمارا کبھی اعتقاد نہ بدلیگا تب بھی ہمیں کیا حرج ہے کہ بدون بیعت ہوئے پہلے تعلیم شروع کردے پھر اس تعلیم میں اگر دیکھے کہ نفع ہے اور روز افزوں محبت ہے جو دلیل ہے مناسبت کی بس اب لطف ہے بیعت کا ورنہ بیکار طریق کو بدنام کرنا ہے یہ ہے راز اس مشورہ کا اور ایک خرابی تعجیل میں یہ ہےکہ عقیدہ اکثر عوام کا یہ ہے کہ بدون بیعت نفع نہیں ہوتا اور بیعت ہوتے ہی ولی کامل ہوجائیں گے ان وجوہ سے میں اس میں احتیاط کرتا ہوں اس پر لوگ مجھ کو وہمی کہتے ہیں مگر جب بعد میں وہ احتمالات صحیح نکلتے ہیں تو اب یہ وہم کی باتیں ہوئیں فہم کی اور میرے احتمالات کا باوجود ظاھرا ان کے بعید ہونے کے صحیح نکلنا میرا کوئی کمال نہیں اللہ تعالی دل میں ڈال دیتے ہیں اس لئے ایک کے ساتھ کچھ معاملہ ہوتا ہے دوسرے کے ساتھ دوسرا معاملہ تیسرے کے ساتھ تیسرا معاملہ اور یہ فرق محض وجدانی ہے سب ان میں نہیں آسکتا اس بیان میں نہ آنے پر ایک شعر پڑھا کرتا ہوں مجھکو تو بہت ہی پسند ہے ـ
گر مصور صورت آں دلستان خواہد کشید لیک حیرانم کہ نازش را چسپاں خواہد کشید
( اگرچہ مصور اس محبوب کی تصویر تو کھینچ دے گا مگر میں حیران ہوں کہ محبوب کے ناز دادا کی تصویر کس طرح کھینچے گا 12 ـ)
حاصل یہ ہے کہ امور ذوقیہ بیان میں نہیں آسکتے ان میں محض دلائل ظاہرہ پر زیادہ مدار نہیں اصل مدار ذوق پر ہے خواہ وہ دلائل ہی سے پیدا ہوا ہوصحابہ کے مناظرہ کا یہی رنگ تھا جس کے متعلق ممکن ہے کہ آجکل یہ شبہ ہو کہ یہ کیسا منظرہ نہ دلیل کا زیادہ اہتمام نہ اس کا کافی جواب اور مناظرہ ختم دیکھے حضرت عمر فاروق اور حضرت ابوبکر صدیق کا مناظرہ مانعین زکوۃ سے قتال کے بارہ میں کس شان کا ہوا یہ اپنی کہتے رہے اور اپنی مگر اسی سے حضرت عمر فاروق کو شرح صدر ہو گیا جمع قرآن کے مشورہ میں بھی یہی ہوا کہ ایک فرمارہے ہیں ـ واللہ ھو خیر ۔ اور یہ ہی کہتے رہنے سے دوسری جانب شرح صدر ہوگیا ظاہرا کیا یہ کوئی مناظرہ تھا مگر درحقیقت علوم اصلی وہی تھے اصلی مناظرہ وہی تھا کہ واللہ ھو خیر ۔ کہنے ہی سے مناظرہ ختم ہو گیا یہ اثر طلب کی نیت کا تھا وعدہ ہے حق تعالی کا والذین جا ھدوا فینا لنھدینھم سبلنا مناظرے اب بھی ہوتے ہیں مگر حق واضح نہیں ہوتا اس کا اصلی سبب یہ ہے کہ طلب حق کا قصد نہیں ہوتا بلکہ حق کو قلب میں آنے سے دفع کرتے ہیں آجکل کے مناظرہ کا اصل مقصد غلبہ ہوتا ہے ہیٹی نہ ہو سکی نہ ہونی چاہیئے آخرت میں ذلت اور سبکی ہو حضرت امام صاحب نے اپنے صاحبزادے کو مناظرہ سے منع فرمایا تھا صاحبزادہ نے عرض کیا آپ بھی تو مناظرہ کرتے تھے امام صاحب نے عجیب بات فرمائی کہ بھائی ہمارے تمہارے مناظرہ میں فرق ہے ہم دل سے یہ چاہتے ہیں کہ خصم کے منہ سے حق بات نکلے اور ہم اس کو قبول کر لیں اور مناظرہ بند کردیں گو ہم ہار ہی جائیں اور تم یہ چاہتے ہو کہ خصم کے منہ سے حق بات نکلے کہ ہم کو قبول کرنا پڑے اس لئے ہمکو مناظرہ جائز تھا اور تم کو نا جائز اور اس وقت تو نہ وہ صورت رہی نہ یہ صرف یہ پیش نظر ہوتا ہے حق کو رد ہی کرنا پڑے او اسی نیت کی درستی کے لئے مناظرہ میں میں ایک اور شرط لگایا کرتا ہوں کہ جس سے گفتگو ہو اس سے بے تکلفی ہو اس میں یہ مصلحت ہے کہ بے تکلف دوست کی بات مان کر عدتا میں ہارتا ہوا شرماؤں اور نہ عجز کا اقرار کرتے شرماؤں اور ایسی بے تکلفی دوستوں میں ہوتی ہے یا استاد شاگرد میں ہوتی ہے باقی یہ آجکل جو اہل باطل سے مناظرہ کرتے پھرتے ہیں اگر اہل باطل کے اسکات کی ضرورت ہو تکہ دیکھنے والوں والوں پر ان کا عجز ظاہر ہو جاوے اس کو میں منع نہیں کرتا باقی قبول کی توقع سے بیکار ہے میرا جو طرز خاص اعتراض کے جواب میں مین اسکو ایک واقعہ کے پیرایہ میں بیان کرتا ہوں تحریکات کے زمانہ میں ایک مولوی صاحب سے مکاتبت ہوئی وہ یہاں پر اسی میں گفتگو کرنے کے لئے آنا چاہتے تھے میں نے ان کو جواب لکھا جس کا حاصل یہ ہے کہ گفتگو کی کئی قسمیں ایک افادہ اور ایک استفادہ اور ایک مناظرہ اب اگر افادہ مقصود ہے تو اجازت ہے مگر میرے ذمہ اس کا جواب نہ ہو گا بس سن لوں گا یہ تو آپ کی طرف سے تبلیغ ہو گی جب فرض ادا کردیا تو جائے اور اگر استفادہ مقصود ہے تو اس کے لئے تردد شرط ہے اور تردد آپ کو ہے نہیں اس لئے کہ آپ اپنی رائے کا اعلان کر چکے تردد کی حالت میں اعلان نہیں ہوا کرتا اور اگر اب تردد ہو گیا تو اب اعلان کر دیجئے کہ اب مجھ کو
تردد ہو گیا میری رائے سابق پر عمل نہ کیا جائے اس طرح جب یہاں پر آئیں تقریر کروں گا اور اگر مناظرہ مقصود ہے تو اس کے نافع ہونیکے لئے بے تکلفی شرط ہے اور آپ کی مجھ سے بے تکلفی ہے نہیں ایسی حالت میں گفتگو کا نتیجہ یہ ہو گا کہ آپ کو اپنی بات کی بیچ ہوگئی مجھ کو اپنی بات کی بے تکلفی یہ ہونے کی وجہ سے دوسرے کی بات قبول
کرتے ہوئے شرم دامن گیر ہوگی کہ اگر قبول کر لیا تو ہٹی ہو گی سبکی ہوگی ایسی حالت میں گفتگو کا کوئی نتیجہ نہ ہو گا میرا اور آپکا وقت فضول بیکار جائے گا اس کا جواب آیا کہ ہم کو اس کو اس کا جواب نہیں آتا حاضری کی اجازت دے دی جائے بجائے میں نے لکھا کہ آجایئے سو وہ تو نہیں آئے درسرے مولوی صاحب آئے مولوی صاحب نے مجھ سے کہا کہ میں خلوت میں گفتگو کرنا چاہتا ہوں میں نے خلوت میں گفتگو کرنے سے انکار کر دیا اور وجہ اس کی میں نے یہ بیان کی کہ مجمع میں گفتگو کرنے میں تو آپ کو خطرہ ہے کہ حکومت کے خلاف گفتگو ہو گی مگر اس خطرہ کے لئے آپ تیار ہیں کیونکہ آپ رائے کا اعلان کر چکے ہیں آپ کو نہ جیلخانہ کا ڈر مشینگنوں کا ڈر نہ توپوں کا ڈر اور
فوجوں کا ڈر خلوت میں گفتگو کرنے میں مجھ کو خطرہ ہےکہ مجھ پر اشتباہ ہوگا اور میں اس کے لئے تیار نہیں غرض خلوت میں گفتگو کرنے میں آپ کی کوئی مصلحت نہیں اور جلوت میں گفتگو کرنے میں میری مصلحت ہے اس لئے آپ مجمع میں گفتگو کریں یہی مناسب ہے مولوی صاحب نے بکراہت جلوت میں گفتگو کرنے کو قبول کر لیا اور وقت
گفتگو کا بعد نماز مغرب طے ہوا میں نے ملفوظاات ضبط کرنے والوں سے کہا کہ تم پنسل کاغز لے کر بیٹھ جانا اور مولوی صاحب جو فرمائیں اس کو ضبط کر لینا مصلحت اس ضبط میں یہ ہے کہ میں مولوی کا معاملہ ہے اور بیان کے وقت آدمی پورے طریق پر غور نہیں کر سکتا اور بعد میں اگر غور کرے تو کل تقریر کا دماغ ہیں محفوظ رہنا مشکل ہے اس لئے ضبط کا انتظام کیا گیا غرضیکہ بعد نماز مغرب میں معمول سے فارغ ہو کر بیٹھ گیا اور مولوی صاحب سے عرض کیا کہ میں اس وقت فارغ ہوں آپ تقریر شروع فرما دیں اس وقت ایک مجمع خانقاہ میں موجود
دیکھ کر مولوی صاحب سمجھے کہ اس نے تو اچھا خاصہ محکمہ قائم کر لیا خاموش رہے تقریر شروع فرمائی مجھے قرائن سے محسوس ہو کہ اس وقت انہیں گرانی ہے میں نے رعایت کی اور یہ رعایت تعلق قدیم کی بنا پر تھی مجھے ان کا ادب بھی ہے اور ان کو بھی مجھ سے محبت ہے تعلقاات کے حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے کہا کہ اس وقت ایک اور بات سمجھ میں آئی وہ یہ کہ جسے میں نے اپنی مصلحت کی وجہ سے تقریر کے ضبط کا انتظام کیا ہے کہ کوئی بات غور کرنے سے نہ رہ جاوے ایسے ہی آپ کی مصلحت پر بھی نظر ہے تاکہ بعد میں آپ کو بھی افسوس نہ کہ فلاں بات بیان سے رہ گئی اس لئے مناسب یہ ہے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس وقت گفتگو ملتوی کیجئے اور اپنے مستقر پر واپس تشریف لےجایئے کتابیں دیکھ کر علماء و لیڈروں سے مشورہ کیجئے اس کے بعد تقریر لکھئے وہ تقریر جامع
ہوگی اور تحریر بزریعہ ڈاک میرے پاس بھیجدیجئے اس میں میں آپ کی اور میری دونوں کی مصلحت محفوظ رہے گی آپ کو ضبط تقریر کا بہترین موقع ملے گا ـ
اور مجھ کو غور کرنے کا اس لئے کہ اس وقت کے ضبط کرنے میں کوئی نہ کوئی بات رہ جائے گی ـ سب ضبط نہیں ہوگی غرض یہ صورت اس سے بہتر ہے اور میں وعدہ کرتا ہوں کہ اگر آپ کی تحریر کو دل نے قبول کر لیا تو میں رجوع کر لوں گا ـ بلکہ اخباروں میں چھپوا دونگا اور اگر دیکھنے اور غور کرنے کے بعد دل نے قبول نہ کیا تو خاموشی اختیار کروں گا ـ جس سے محض آپ ہی سمجھ سکیں گے کہ قبول نہیں کیا ـ عام لوگوں کو اس کا علم بھی نہ ہوگا ـ میں یہ رعایتیں اس لئے کیں کہ میں ہمیشہ اہل علم کی عزت کو برقرار رکھنے کی تدابیر اختیار کرتا ہوں ـ اس کی سبکی اور ذلت کبھی گوارا نہیں ہوتی ـ
غرض واپس تشریف لے گئے مگر آج تک بھی وہ تبلیغ نہ آئی ـ اس کے بعد پھر میرا اشتہار دیکھ لیا کہ یہ تحریک فتنہ ہے پھر نہ آئے اور نہ مکاتبت ہوئی اور اسی واقعہ میں اگر بے تکلفی ہوتی تو مناظرہ کا بھی مضائقہ نہ تھا ـ ٹھنڈے دل سے گفتگو ہو سکتی تھی ـ یہ اصولی بات ہے جو میں اس وقت بیان کر رہا ہوں ـ ایک مولوی صاحب نے مجھے اپنے ایک مناظرہ کی کتاب سے ایک دلیل بیان کی میں نے کہا کہ مولانا میں قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا اس استدلال کو آپ اپنی ضمیر سے صحیح سمجھتے ہیں کہا کہ نہیں میں نے کہا پھر کیوں ایسا استدلال کیا کہا کہ اجی مناظرہ میں یوں ہی کام چلا کرتا ہے ـ بس آج کل یہ مناظرہ کی حقیقت ہے اسی سلسلہ میں ایک صاحب کو سوال کے جواب میں
فرمایا کہ ان اصول صحیحہ کے موافق بھی مناظرہ استاد اور شاگرد میں تو نا مناسب نہیں مگر پیر مرید میں اس
طرح بھی مناسب نہیں اگر شیخ کی کوئی بات سمجھ میں نہ آوے دوسرے وقت پر چھوڑ دو اس سے معارضہ نہیں کرنا چاہئے اگر ایسا کرے گا فیض نہ ہو گا ـ
مناظرہ کی طرح ایک بے اعتدالی یہ بھی ہے کہ شیخ کے متعلق اگر کوئی شبہ ہو تو اسی سے پوچھتے ہیں ایسا نہ چاہیئے اول تو شبہ ہی کو جگہ نہ دے اور جو بہت ہی غلبہ ہو تو کسی دوسرے محقق سے شبہ رفع کر لے ـ البتہ اگر اس سے تعلق قطع کر لے تو پھر اس سے پوچھنے کا بھی مضائقہ نہیں ـ غرض یہ تعلق باطنی اور قیل و قال جمع نہیں ہو سکتے ـ اس کو ظاہری تلمز کے تعلق
پر قیاس نہ کرنا چاہیئے ہمارے حضرت مولانا یعقوب صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ہر طالب علم کہ چوں و چرا نہ کند ، ہر درویشے کہ چوں چرا نہ کند ہر دورا در چراگاہ باید فرستاد ( جو طالب علم چوں چرا نہ کرے اور جو مرید چوں چرا
کرے دونوں کو چراگاہ میں بھیج دیا جائے ) یہ مسئلہ کہ پیر پر شبہ نہ کرے عوام میں بھی یہ مشہور ہے کہتے ہیں کہ پیر کی پیری سے کام اس کے افعال سے کیا کام ہے ـ اس میں ایک تفصیل ہے وہ یہ کہ یہ دیکھنا چاہئے کہ ایسی باتیں
شبہ کی زیادہ ہیں یا کم اگر زیادہ ہوں تو چھوڑ دے تاویل بضرورت کی جاتی ہے اور یہاں ضرورت نہیں اور اگر ہیں تو اس
وقت یہ تعلیم ہے کہ اس کو نہ چھوڑو تایل کرو اور تاویل بھی سمجھ میں نہ آوے اس کے درپے نہ ہو یہ کیا ضرور ہے
کہ ہر بات سمجھ ہی میں آ جایا کرے گو اس کی نظر میں وہ بظاہر لغزش ہی ہو تب بھی اس سے خلاف نہ کرے ـ
بدگمانی نہ کرے اور اگر اس پر بھی دین کی ضرورت ہے چھوڑے تو بدگمانی نہ ہو صرف یہ نیت ہو کہ وسوسہ میں اجتماع خاطر نہ ہوگا اور جب اجتماع نہ ہو گا تو فیض نہ ہو گا ـ یہ ہیں آداب اس طریق کے ـ
( ملفوظ 42 )جاہل صوفیوں کی باتیں
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جاہل صوفیوں کے علوم بھی عجیب و غریب ہیں جو جی میں آیا کرلیا جو منہ میں آیا بک دیا چناچہ نفس کی نسبت اکثر کہتے ہیں کہ نفس کافر ہے مگر معلوم بھی ہے کہ نفس کون ہے تم ہی تو ہو اگر وہ کافر ہے تو تم کون ہوئے اسی طرح بہت سی باتیں داہی بتاہی گھڑ رکھی ہیں جن کے سر ہے نہ پیر ہے یہ علوم ہیں یہ اسرار ہیں لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم ـ ایسے ہی ایک پیر کی حکایت ہے کہ ان کے ایک مرید نے اس سے ایک خواب بیان کیا کہ میں نے یہ خواب سنکر فرمایا کہ کیوں نہ ہو تو دنیا کا کوئی کتا ہے اور ہم بزرگ اللہ والے ہیں مرید نے کہا کہ حضرت ابھی خواب پورا بیان نہیں ہو کچھ باقی ہے وہ یہ کہ یہ بھی دیکھا کہ تمھاری انگلیاں میں چاٹ رہا ہوں اور میری انگلیاں آپ چاٹ رہے ہیں یہ سن کر پیر صاحب بہت اچھلے کودے ـ واقعی مرید نے حقیقت کا اظہار کیا خواہ خواب دیکھا ہو یا نہ دیکھا ہو وہ حقیقت یہ تھی کہ پیر کا تعلق تو مرید سے دنیا کی وجہ سے تھا جو مثل پاخانہ کے ہے اور مرید کا تعلق پیر سے دین کی وجہ سے تھا جو مثل شہد کے ہےہمارے ماموں صاحب فرمایا کرتے تھےکہ فلاں جگہ کے امراء تو جنتی اور فقراء دوزخی ہیں مطلب یہ کہ امراء جو فقراء سے تعلق رکھتے ہیں دین کی وجہ سے اور فقراء جو امراء سے تعق رکھتے ہیں دنیا کی وجہ سے وجہ سے بات تو بڑے کام کی فرمائی بس ایسے پیروں کے یہ علوم اور معارف ہیں ان جاہلوں نے حقائق اور معارف کو بالکل مستور کر دیا مگر اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اب ہمارے اکابر کی برکت سے انکے جہل کی حقیقت لوگوں پر منکشف ہو گئی ـ
( ملفوظ 41 ) الاذھاب للاعجاب یعنی عجب کا علاج
( ملقب بہ الاذھاب الاعجاب ) ایک سلسلہ گفتگو میں چند امور فرمائے جو علاج ہیں عجب کے ایک یہ کہ اعمال پر جنت اور القاء حق کا ترتب یہ محض فضل ہے ورنہ خود اعمال میں یہ قوت نہیں کہ ان پر اتنی بڑی جزا مرتب ہو سکے پس اعمال پر کبھی ناز نہ کرے بلکہ اعمال کو ہیچ سمجھ کر اس نعمت کا مستقلا سوال کرتا رہےاسی مراقبہ سے علاج ہو جاؤیگا عجب کا کہ عمل طاعات سے بڑا مقصود جنت میں داخل ہو کر رضاء حق اور دیدار حق کا حاصل کرنا ہے عشاق کا تو مذہب ہی یہ ہے کہ جنت کو وہ دوست کی ملاقات کا مقام سمجھتے ہیں اور اسی طرح دوزخ کو دوست کے فراق کی جگہ تصور کرتے ہیں اور دوسراامر یہ فر مایا کہ استعداد کا مسئلہ بڑا اہم مسئلہ ہے قصہ آدم علیہ السلام اور ان کی تعلیم اسماء میں اور فرشتوں کے عجز عن الجواب کی بناء پر یہی استعداد ہے ان علوم اسماء کے اخز کرنے کی استعداد آدم علیہ السلام میں تھی ملائکہ میں نہ تھی اس لئے آدم علیہ السلام کو جو عطا ہوا وہ فرشتوں کو عطا نہیں ہوا پس اس سے یہ اشکال رفع ہو گیا کہ آدم علیہ السلام کو جن علوم خاصہ کی تعلیم دی گئی اگر ملائکہ کو دی جاتی تو وہ بھی ان علوم سے متصف ہو جاتے پھر آدم علیہ السلام کا کمال کیا ہوا وجہ دفع تقریر بالا سے ظاہر ہے آدم علیہ السلام کو کوئی خفیہ تعلیم نہیں دی گئی مگر ملائکہ میں ان علوم کو استعداد نہ تھی اس لئے ان کی تلقی نہیں کر سکے باقی یہ سوال کہ ان کے عجز عن الجواب کے بعد پھر ـ قال یا اٰدم انبئھم باسمائھم کے کیا معنی اس وقت وہ علم انکو کیسے حاصل ہو گیا اس کا جواب یہ ہے کہ وہ تعلیم محض الفاظی اطلاع تھی معنوی نہ تھی معنوی اطلاع صرف آدم علیہ السلام کو عطا فرمائی گئی تھی مگر آدم علیہ السلام کے اخبار سے ملائکہ کو یہ معلوم ہو گیا کہ ان کو جو حقیقت معلوم ہے ہمکو معلوم نہیں اگر کوئی کہے کہ وہ استعداد فرشروں کو کیوں نہ دیدی گئی جواب یہ ہے کہ وہ استعداد خواص آدم سے تھی اگر ملائکہ کو عطا ہوتی تو فرشتہ فرشتہ نہ رہتا اسی کے متعلق ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ انبیاء جو نبیئھنم باسمائھم ہم کا مادہ ہے مطلق اخبار کو کہتے ہیں اور تعلیم جو علم آدم کا مادہ ہے حقیقت کا منکشف کردینا ہے پس انباء سے تعلیم لازم نہیں آتی غرض استعداد خاص عطا ہونا یہ بھی محض موہبت ہے کسی عمل کا ثمرہ نہیں چناچہ حضرت آدم علیہ السلام سے کوئی عمل سابق نہیں ہوا تھا بس یہ بھی علاج ہے عجب کا تیسرا امر یہ فرمایا کہ حضرت غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے کسی ایک مرید نے ایک واقعہ نقل کیا ہے اور عجیب واقعہ ہے یہ غالبا میں نے شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی کتاب میں دیکھا کہ ایک مرتبہ حضرت غوث اعظم رحمہ اللہ علیہ نماز تہجد کے لئے معمول کے موافق اٹھے اور خانقاہ سے جانب صحراء تشریف لے چلے اور یہ خادم بھی ساتھ ہو لیا تھوڑی دیر چلکر ایک شہر میں پہنچے یہ مرید بھی ہمراہ رہے وہاں ایک مکان میں داخل ہوئے اس مکان میں ایک مجمع ہے وہ لوگ آپ کو دیکھ کر کھڑے ہو گئے آپ مسند پر بیٹھ گئے یہ مرید بھی کسی گوشہ میں جا بیٹھے قریب کوئی کوٹھڑی اس میں کسی مریض کے کراہنے کی آواز رہی ہے تھوڑی دیر کے بعد وہ آواز بند ہو گئی پھر ایسا معلوم ہوا کہ جیسے کسی غسل کے وقت پانی گر رہا ہے پھر وہ آواز بھی موقوف ہو گئی اور چار شخص ایک جنازہ لئے ہوئے نکلے ان کے ساتھ ایک بوڑھے شخص بھی ہیں اور وہ جنازہ لا کر حضرت کے سامنے لا کر رکھ دیا گیا آپ نے نماز جنازہ پڑھائی اور ہمراہ ہی لوگ جنازہ کو لے کر چلے گئےاور حضرت پھر اسی طرح اپنی جگہ پر آبیٹھے مع اپنے مجمع سابق ہی کےکچھ دیر گزری تھی ایک شخص نصرانی حاضر ہوا ـ حضرت نے اس کے گلے سے سلیب اتارلی اور اس کا زنار توڑا اور کلمہ پڑھا اس مجمع سے یہ فرما کر یہ ہے وہاں سے واپس تشریف لے چلے اور مکان پر تشریف لے آئے اور نماز تہجد میں مشغول ہو گئے شب گذر جانے کے بعد مرید نے صبح کے وقت حضرت سے سوال کیا کہ رات کیا معاملہ تھا حضرت نے فرمایا کہ وہ مقام شہر موصل تھا اور وہ جماعت ابدال کی تھی اور وہ بیمار بھی اسی جماعت کا ایک فرد تھا اس جماعت نے باطنی طور پر مجھ کو اطلاع دی تھی کہ یہ قرب مرگ ہیں ان کی جگہ کسی کو معین فرما دیجئے اس لئے میں وہاں گیا تھا جب ان کا انتقال ہو گیا میں جناب باری تعالی سے ان کی جگہ کسی کو مقرر کرنے کے لئے عرض کیا حکم ہو کہ روم میں ایک نصرانی کنیسہ میں صلیب پرستی میں مشغول ہے اس کو ان کی جگہ کر دیا جاوے میں نے عرض کیا کہ اس کو کیسے حاضر کیا جاوے سو وہ خرق عادت کے طور پر حاضر ہو گیا اور اسی وقت مسلمان کر کے ابدال کے رتبہ پر فائز کردیا گیا اور یہ بتلا دیا گیا کہ کوئی کسی کو حقیر نہ سمجھے اور اپنے کمال پر ناز نہ کرے سب کچھ ہمارے فضل پر ہوقوف ہے ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء واقعی بات ہے انسان اپنے کسی کمال یا عبادت پر کیا ناز کرے اس کی عبادت ہی کیا اور کمال ہی کیاـ
( ملفوظ 40 )عقل کی بمقدار انسان مکلف ہے
ایک سلسہ گفتگو میں فرمایا کہ بعض لوگوں میں بہت ہی سادگی ہوتی ہے یہاں پر ایک عورت عابدہ زاہدہ تھیں وہ مجھے اپنےافلاس کے واقعات بیان کرنےلگیں جس میں کسی قدر تطویل ہوگئی پھر دفعتا گھبرا کر کہنے لگیں کہ مولوی جی میں زیادہ کہتی بھی نہیں کبھی اللہ میاں یوں کہیں کہ میرے عیب کھولتی پھرے ہے ایک عورت ضعیفہ نے مجھ سے سوال کیا کہ مولوی جی تمہیں تو اللہ میاں کے گھر کی سب خبر ہے میں یوں پوچھوں کیا اللہ میاں رندہ ہیں میں سوچا کہ اگر علمی مضمون بیان کیا یہ بیچاری کیا سمجھے گی بے علمی تو اس سوال کا سبب ہی ہے میں نے اس کے فہم کی رعایت کرتے ہوئے کہا کہ اچھا یہ بتلا کہ مینہ کون برساتا ہے اولاد کون دیتا ہے کہا کہ اللہ میاں میں نے کہا کہ بھلا مرکر بھی کوئی کام کرسکتا ہے کہا کہ نہیں میں نے کہا کہ بس تو اب تم خود ہی سمجھ لو بہت خوش ہوئی اور دعائیں دیں ایک عورت نے بنت میں ایک مولوی صاحب کے وعظ میں سنا کہ ایک وقت ایسا ہوگا کہ سوائے اللہ کی ذات کے کوئی نہ ہوگا اس پر نہایت حسرت سے بولی کہ اکیلے اللہ میاں کا جی نہیں گھبرائے گا نعوذ باللہ ایسے لوگوں کی باتیں ایسی ہیں کہ جیسے کہ ایک شخص کا واقعہ حدیث میں آیا ہے کہ نہایت گنہگار تھا موت کے قریب بیٹیوں کو وصیت کی کہ میرے مرجانے کے بعد مجھ کو قبر میں دفن نہ کیا جاوے بلکہ میری لاش کو لکڑی جمع کرکے اسمیں جلا دیا جاوے اور جو کچھ میرے لاش کی راکھ ہو اس کو نصف دریا میں چھوڑ دی جاوے اور نصف آندھی میں اڑا دی جاوے اس کے بعد بھی اگر میں اللہ تعالی نے حکم فرمایا سب مٹی جمع ہوگئی اس میں روح پھونک کر سامنے حاضر کردیا گیا حق تعالی نے سوال فرمایا کہ ایسا کیوں کیا عرض کیا کہ اے اللہ آپ کے خوف سے ایسا کیا اس پر حق تعالی نے مغفرت فرمادی اب دیکھنا یہ ہے کہ عقیدہ اس شخص قدرت کے متعلق کامل نہ تھا بلکہ ناقص تھا مگر اس پر کوئی مواخزہ نہیں فرمایا گیا کیونکہ اس کی عقل اتنی ہی تھی اس لئے معزور قرار دیا گیا ایک اور واقعہ ہے ایک گنوار نے وعظ میں سناکہ حق تعالی ہاتھ پیر وغیرہ سب سے مبرا اور منزہ ہے اس نے واعظ کو جواب دیا کہ ( نعوذباللہ ) تیرا خدا بطخ شامی ہو گا ہمارے خدا کے تو ہاتھ پیر سب کچھ ہیں ہمارے تو ہاتھ پیر ہوں ان کے نہ ہوں بس اسکا فہم اس سے زیادہ نہ تھا مدار تکلیف کا عقل ہی ہے بس جتنی عقل اتنی تکلیف ـ
( ملفوظ 39 )حسین ابن منصور کے لقب حلاج کا مطلب اور پیشہ کا بیان
ایک صاحب کےسوال کے جواب میں فرمایا کہ ان کا منصور نام مشہور ہو گیا یہ ابن منصور ہیں نام حسین تھا حلاج لقب ہے ان کا یہ پیشہ نہ تھا بلکہ ایک کرامت کی بناء پر یہ لقب ہو گیا مگر اس کی بناء پر دھنیے اپنے کو ان کی طرف نسبتا نسبت کرنے لگے یہ بالکل غلط ہے اور خواہ مخواہ لوگ اپنے نسب کو چھپاتے اور بدلتے پھرتے ہیں عالی نسب نہ ہونا کوئی عیب کی بات نہیں ہے اس لئے کہ اختیاری نہیں وہ حقیقتا نقص نہیں مثلا سقہ ہونا قصائی ہونا دھنیا ہونا جو چیز اختیاری نہیں اس لئے اس میں کوئی نقص نہیں ـ
( ملفوظ 38 ) اصل وجد تو علوم پر آنا چاہئے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ صوفیوں کو قوالی اور ڈھولک سارنگی پر بڑا وجد ہوتا ہے جو مطلق نفسانی ہے در حقیقت وجد کے قابل تو یہ صورت ہے ) جس وقت علوم مبارکہ کا بیان ہوتا ہے اور تحقیق ہوتی ہے اس وقت ایک عجیب لطف اور کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور جب علم میں یہ لطف ہے تو عمل میں کیا کچھ ہوگا اور پھر حال میں کیا ہوگا اور پھر مقام میں کیا ہوگا ـ

You must be logged in to post a comment.