ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ انتظام و سلیقہ کی ہر چیز میں ضرورت ہے جو شخص انتظام پر قادر نہ ہوگا وہ فسخ انتظام میں بھی گڑ بڑ کرے گا یہ تجربہ کی بات ہے کہ پھوھڑ عورت کی حکایت ہے ایک روز خاوند سے کہا کہ میاں لاؤ گگلے پکا لو خاوند نے جواب دیا کہ تیرے بس کا کام نہیں تو رہنے ہی دے کہا کہ میں بالکل ہی پھوھڑ ہوں کہ کچھ کر ہی نہین سکتی غرض اس نے آٹا اور مٹھائی لے کر پانی ڈالکر ملانا شروع کیا پانی زیادہ پڑگیا پتلا ہو گیا آٹا کڑہی میں پھیل گیا خاوند نے کہا کہ میں نے پہلے ہی کہا تہا کہ تیرے بس کا نہیں کہا کہ میں چلے پکا لوں گی اس نے کہا تجھ سے یہ بھی نہ ہوگا کہا کہ واہ ایسی کیا بات ہے غرض چلے بنانے بیٹھی آٹا توے پر سے ٹپکنے لگا اس کی اطلاع خاوند کو دی اس نے کہا کہ میں تو پہلے کہ چکا ہوں کہ تیرے بس کا کام نہیں ہے کہ میں لپسئی بنا لوں گی اس نے کہا یہ بھی تیرے بس کا کام نہیں غرض ہنڈیا چڑھا کر پکانا شروع کیا ہنڈیا جل گئی اس کی اطلاع خاوند کو دی اس نے کہا کہ میں پہلے ہی کہ چکا ہوں کہ تیرے بس کا کچھ نہیں کہا میں پھینک آونگی اس نے کہا کہ تجھ سے یہ بھی نہ ہوگا غرض چھت پر جا کر راستہ میں پھینک دیا کوئی معزز آدمی جا رہا تھا ہنڈیا اس کے سر پر پڑی اس نے گالیاں دیں اور الٹھ لے کر چڑھ گیا تب خاوند نے کہا دیکھا میں نے نہکہتا تھا کہ تیرے بس کا نہیں پٹوانیکا انتظام کر دیا دیکھیے ہر انتظام کی فسخ میں بھی بے انتظامی ظاہر ہوئی ـ
اقوال
( ملفوظ 26 ) مرید ایسے کو کرے جسے کچھ کہہ سکے
ایک سلسلہ میں فرمایا کہ مرید ایسے شخص کو کرے کہ پیر کم از کم اس کو نالائق گدھا احمق تو کہہ سکے اور ان امراء و سلاطین کو مرید کر کے ایسا نہیں کر سکتے اس لئے مرید کر کے ان کی اصلاح کرنا بھی دشوار ہے بلکہ ان امراء کا تو پیر بننا بھی خطرہ سے خالی نہیں سلطان عبدالحمید خان مرحوم کے پیر کا واقعہ سنا ہے کہ کسی مخبر نے سلطان کو ایک پرچہ سے جس کو اسوقت کمرہ خاص کے لیٹربکس میں ڈالا جاتا تھا خبر دی کے پیر صاحب اسوقت سفیر روس کے پاس بیٹھے ہیں اور یہ وہ وقت تھا کہ پیر صاحب سلطان کے پاس موجود تھے اس لئے واقعہ کا جھوٹ ہونا ثابت ہو گیا اور بچ گئے ورنہ بیچاروں کی خیر نہ تھی البتہ بعض امراء باطنا فقیر ہوتے ہیں وہ اس سے مستثنی ہیں جیسے نواب ٹونک کا واقعہ ہے یہ سیدھا صاحب سے بیعت تھے حضرت سید صاحب کی بیوی آئیں نواب صاحب نے ایک منزل پر پہنچ کر پیرانی صاحبہ کا استقبال کیا اور ایک طرف سے کہا کو پالکی میں سے ہٹا کر خود پالکی کو کندھا دے کر لائے ان یہ نواب صاحب نے سفارش قبول کرنے سے کچھ عزر کیا انہوں نے نواب صاحب کے ایک دھول بھی اڑ گئی مگر کچھ نہیں بولے جب دربار ختم ہو چکا تو تنہائی میں پیر بھائی سے یہ بات کہی کہ ویسے تو اگر سر بازار میرے جوتے بھی لگا دو تو تم کو حق ہے مگر دربار میں ایسا کرنا مناسب نہیں اس لئے کہ خدمت خلق میرے سپرد ہے اور اس کے لئے ھیبت کی ضرورت ہے اور ایسی بات ہیبت میں مضر ہوگی کیا ٹھکانا ہے اس کسر نفسی کا سوا ایسے لوگ امراء کب ہیں یہ کامل مکمل فقراء ہیں میں ایک مرتبہ بھوپال گیا ہوا تھا بیگم صاحبہ سے ملاقات کرانے کی بعض احباب نے کوشش کرنا چاہا مجھ کو پسند نہ مگر انکار موھم کبر تھا بس میں نے صرف ایک شرط لگائی وہ یہ کہ بیگم صاحبہ کو خود بولنے کی اجازت نہ ہوگی اپنے بیٹے کے ذریعے سے گفتگو کریں یہ شرط ملاقات کے لئے ایسی تھی جیسے حتی یلج الجمل فی سم الخیاط ان کی نظر میں تو یہ شرط اچھی خاصی بد تہزیبی کی دلیل تھی مگر ان امراء کی نظر میں مردود ہی رہنا چاہیئے اسی میں خیر ہے ـ
12 ذی الحج 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم پنجشنبہ
( ملفوظ 24)دین کے آسان ہونے کا مطلب اور چند بزرگوں کی حکایات
( ایک مولوی صاحب کے سوال جے جواب میں فرمایا کہ دین کے آسان ہونے میں کوئی شبہ نہیں اگر کسی کو شبہ ہوتا ہے حقیقت کہ نہ سمجھنے سے ہوتا ہے ایک شخص نے مولانا فضل الرحمن صاحب گنج مراد آبادی سے عرض کیا کہ حضرت مفقود کے مسئلہ میں تو بڑا حرج ہے فرمایا کہ بڑا حرج لئے پھرتا ہے جہاد میں بھی تو حرج ہے جان دینی پڑتی ہے اس کو بھی قرآن شریف سے نکال دو ـ مولانا پر جزب کا غلبہ رہتا تھا اسی رنگ کا جواب دیا جزب کے مناسب ایک واقعہ مولانا کا بیان فرمایا کہ وقار الامر ادء حیدر آبادی ملاقات کو آئے مولانا نے حکم دیا نکال دو صاحب زادہ نے سفارش کی فرمایا اچھا دو بجے رات تک اجازت ہے وہ بھی نہایت ہی ادب سلیم الطبع تھے دو بجے چلے گئے بعض لوگوں نے کہا بھی کہ صبح کو چلے جائیں مگر انہوں نے جواب دیا کہ خلاف ادب ہے یہاں پر قیام کرنا مولانا کا اس کے بعد ٹھرنے کا حکم نہیں یہ اس زمانہ کے امراء کی حالت تھی خصوص حیدر آباد کے امراء نہایت ہی مخلص اور فقراء سے نہایت خوش اعتقاد تھے ہمارے ماموں صاحب کا فرمانا یاد آیا کہ حیدر آباد کے فقراء تو دوخی ہیں اور امراء کا تعلق تو فقراء سے دین کی وجہ سے ہے اور فقراء کا تعلق امراء سے دنیا کی وجہ سے ہے ان کی دنیا پرستی پر نظام دکن کا ایک مقولہ نقل کیا کہ ان سے کہا کہ مرید ہو جاؤ دریافت کیا کس سے کہا کہ آپ کے شہر میں بہت سے سے مشائخ ہیں کہا کہ وہ تو خود میرے مرید ہیں کہ با ارادہ دنیا میرے پاس آتے ہیں میں ان کا کیا مرید ہوتا کہی تو سمجھ اور کام کی بات میں جو حیدر آباد گیا وہاں پر چند قدم روز قیام رہا اور چند وعظ بھی ہوئے میرے چلے آنے کے بعد حفظ الایمان کی عبارت لکھ کر اور اس پر ایک فتوی بنا کر وہاں کے مشائخ کے دسخط کرا کر نظان کے سامنے پیش کیا کہ آئندہ کے لئے اس شخص کا حدود ریاست میں داخلہ بند کر دیا جائے اگر یہ شخص ایک دو بار آیا سب کو گمراہ کر دے گا نظام نے کہا کہ جس شخص کی یہ عبارت ہے وہ زندہ ہے اس سے اس کا مفہوم دریافت کرو اور جب وہاں سے جواب آجاوے ہمکو دکھلاؤ ہم اس وقت رائے قائم کریں گے اب کون لکھتا ہے وہ تو شرارت تھی نظام بڑے دانشمند ہیں اسی سلسلہ میں یہ بیان کیا کہ میں جب حیدر آباد تھا تو بعض احباب نے چاہا کہ نظام سے ملاقات ہو مگر میں دعا کرتا تھا کہ سامنا نہ ہو نظام کو بھی کوئی دلچسپی نہ ہوتی اور بھی الجھن ہوتی دوسرے عوام کا نقصان ہوتا ان کو خیال ہوتا کہ یہ بھی دنیا کے لئے آیا تھا اب جو وعظوں سے اثر ہوتا وہ جاتا رہتا رہا کچھ وظیفہ وغیرہ اگر ہو جاتا تو غریب تو ہدایا اس لئے بند کردیتے کہ اب پیر کو کیا پرواہ رہی اور وہ بھی کسی بات پر بد اعتماد ہو کر اگر وظیفہ بند کر دیتے ہیں بس ہم تو کسی طرف کے بھی نہ رہتے اس لئے ہمارے یہی حجمان جو ہیں آٹھ آنہ چار دو آنہ والے وہی ٹھیک ہیں اور الجھن پر حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب کا مقولہ نقل کیا کہ وہ فرمایا کہ امراء کے پاس بیٹھ کر قلب میں دین کا اثر کمزور ہو جاتا ہے اور دنیا کا اثر قوی ہو جاتا ہے اور یہ اثر اس وجہ سے ہوتا ہے ان کے پاس تابع بنکر جاتے ہیں اور جو شخص کسی کے پاس قصد کر کے جائے گا اس پر اسی کا اثر ہوگا چناچہ گر امراء قصد کر کے اہل دین کے پاس آئیں تو ان ہر دین اثر ہوگا اور اگر اہل دین امراء کے پاس قصد کر کے جائیں گے ان پر دنیا کا اثر ہوگا غرض تابع بنکر اس کے پاس رہے تو اس پر اثر ہوگا اور دین پیدا ہوگا اگر نیک آدمی بد صحبت اختیار کرے اور اس کے پاس رہے تو اس پر اثر بدی کا ہوگا ـ
( ملفوظ 23 ) ہر کام طریقہ اور قاعدہ سے ہونا چاہئے
ایک صاحب کی غلطی پر تنبیہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ طریقہ درخواست کا بتلا دیا گیا ہے جس وقت قاعدہ اور سلیقہ سے درخواست کی جائے گی فورا سلسلہ تعلیم جاری کر دیا جائے گا اور اگر اس طریقہ اور قاعدہ پر کوئی اعتراض ہے جیسے بعض بد فہم قانون سے گھبراتے ہیں تو نماز میں بھی قاعدہ اور طریقہ ہے مثلا وضو ہے قبلہ رخ ہونا ہے طہارت ہے وغیرہ وغیرہ اب اگر اسیر کوئی کہے کہ بس جی ان قیود کا مقصود تو یہ ہے کہ نماز ہی نہ پڑھو جیسے استفادہ طریق کے قوانین کے متعلق ناواقف یہی شبہ کرتے ہیں کہ انکا حاصل تو طریق کا تنگ کرنا ہے تو اس کا کسی کے پاس کیا علاج ہے.
( ملفوظ 22 ) نفلی عبادات میں کمی زیادتی شیخ کے مشورہ سے ہونی چاہئے
ایک مولوی صاحب کو سوال کے جواب میں فرمایا کہ تلاوت قرآن اور کثرت نوافل سب سے افضل عبادت ہے اور یہ مقاصد ہیں ان ہی دو چیزوں کی صلاحیت کےلئے طریق میں ذکر و شغل کی تعلیم ہوتی ہے اور وہ سب مقدمات ہیں اور ان میں شیخ بھی ضرورت ہے اس لئے کہ اس میں بعض اوقات کچھ خطرات بھی پیش آتے ہیں اور مقاصد میں کوئی خطرہ نہیں پھر یہ دونوں ذکراللہ پر بھی مشتمل ہیں ان دونوں کی بھی روح اعظم ذکر ہی ہے وہ خود ان میں مضمر ہے باقی مستقل اذکار مثلا سبحان اللہ ، یا لا الہ الا اللہ ان سب سے تلاوت قرآن و نماز افضل ہے نماز اور قرآن کی آجکل کے اکثر مشائخ کے دل میں وقعت و عظمت نہیں تمام زور ذکر پر دیا جاتا ہے حالانکہ ان میں ایک لطیف فرق بھی ہے وہ یہ کہ جب کوئی ذکر زیادہ کرتا ہے اسمیں عجب پیدا ہو جاتا ہے اور نماز اور تلاوت قرآن سے عجب کم پیدا ہوتا ہے اس کا اصلی سبب یہ ہے کہ اکثر عوام ذکر کو خواص کا فعل سمجھتے ہیں اور نماز و تلاوت قرآن کو عوام کا فعل سمجھتے ہیں تھوڑی سی دیر بیٹھ کر ذکر کرلیا الا اللہ الااللہ یا للہ بس خواص میں داخل ہو گئے ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا ایسی حالت میں ذکر و شغل چھوڑ دینا چاہیئے مگر یہ سب امور شیخ کی تجویز پر موقوف ہیں کہ کس وقت کیا مناسب ہے چناچہ بعض اوقات وہ یہ مشورہ دے گا ـ کہ خاص ہیت سے بیٹھ کر ذکر کیا جاوے چلتے پھرتے پڑھ لیا کروکیونکہ اس طور سے تمکو کوئی ذاکر نہ سمجھے گا یہ گردن جھکا کے بیٹھنا اور ادھر ادھر گردن ہلانا اس سے لوگ ذاکر سمجھتے ہیں غرض کہ ہر حالت میں شیخ کامل کی ضرورت ہے اپنے اپنے کو اس کے سپرد کردینے کے بعد مطمئن ہو جانا چاہیئے ـ
( ملفوظ 20 ) وہم بری بلا ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ وہم خود ایک مستقل مرض ہے مومن خان شاعر رمضان شریف میں جس مسجد میں تراویح پڑھتے تھے ایک ڈوم بھی نماز پڑھنے آتا تھا اس نے خان صاحب سے کہا کہ جس سورت کا نام نہیں لیا کرتے ( مراد سورہ یسین ) وہ جس روز آوے بتلا دیجؤ میں اس روز نہ آؤں گا یہ وہم اس پر سوار تھا کی مرنے کے وقت ہی اس کو سناتے ہیں اور اس کے بعد مر جاتا ہے خان صاحب نے ایک روز اس سے کہا ارے مجھ کو کہنا یاد نہیں رہا وہ تو رات پڑھی گئی بس اس نے سب سے ملنا جلنا اور خطا قصور معاف کرانا شروع کردیا دوسرے تیسرے روز مرگیا ـ
( ملفوظ 21 ) حصول بصیرت کے لئے فضول کلام کا ترک
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ آپ کو بیٹھے بیٹھے کچھ زیادہ بولنے کا شوق معلوم ہوتا ہے سوال چاہے ضروری ہو یا غیر ضروری اس کی پروا ہی نہیں مولوی صاحب اب تو ضرورت اس کی ہے کہ قیل و قال چھوڑ کر مولانا رومی کے قول پر یا شاید اور کا قول ہو عمل کرہ فرماتے ہیں ـ
جملہ اوراق و کتب درناکن سینہ راز نور حق گلزار کن
( ساری کتابوں کو آگ لگا دو سینہ کو نور حق سے گلزار بنا لو ( یعنی صرف علوم ظاہری بغیر نور باطن کے کار آمد نہیں ہیں )
اہل علم کو دو مرحلے طے کرنے پڑتے ہیں ایک تو کتابوں کا ختم کرنا پھر دوسری معنے کو ختم کرنا یعنی بھلا دینا میں آپ کو ایک نہایت مفید اور کار آمد مشورہ دیتا ہوں جو تجربہ کی بناء پر ہے وہ یہ کہ چند روز اگر آدمی خاموش رہے تو بصیرت پیدا ہو جاتی ہے بدون چند روز خاموش اختیار کئے بصیرت نہ ہوگی اور اپنی اصلاح کے لئے کسی کو تجویز کرنے میں کسی طرف رائے قائم نہیں کر سکتا اگر کی بھی تو قابل اعتماد نہ ہو گی یہ اس وقت میں نے آپ کو نہایت مفید مشورہ دیا ہے بشرطیکہ آپ اس کی قدر کریں اور اسکو آپ اپنا دستورالعمل بنائیں ـ
( ملفوظ 19 ) بدون اعمال صالحہ کے فضل کی امید رکھنا حماقت ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آجکل لوگ فضل و رحمت کے نصوص سنکر معصیت پر دلیر ہو گئے ہیں بیشک نجات کا مدار تو فضل ہی پر ہے مگر یہ اعمال بھی تو فضل ہیں بدون اعمال کے تو توقع رکھنا بالکل ایسا ہے جیسے یہ سنکر کہ آدم علیہ السلام مٹی سے پیدا ہوئے اور ان سے حوا علیہ السلام پیدا ہوئیں اور حضرت مریم علیہ السلام سے بدون شوہر عیسٰی علیہ السلام پیدا ہوئے نکاح نہ کرنے اور اولاد کا متوقع رہے ـ
( ملفوظ 18 ) شریعت کو عقلی مصالح پر مقدم رکھنا
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ کسی کا کوئی طرز ہو میرا تو یہ مسلک ہے کہ شریعت کو مصالح پر مقدم رکھتا ہوں میرے یہاں مصالح پیس دیئے جاتے ہیں کیونکہ مصالح کو جتنا پیسا جائے زیادہ لزیز اور مزیدار ہوتا ہے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق کو دیکھئے جب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی طرح طرح کے فتنے کھڑے ہوئے ان میں ایک جماعت مانعین زکوۃ کی پیدا ہو گئی کہ باوجود دعویٰ اسلام کے زکوٰۃ سے انکار کرنے لگے ایسے وقت میں مانعین زکوٰۃ سے جہاد کا اعلان فرما دیا ایسے خطرناک وقت میں مسی مصالح پر نھی عمل نہ فرمایا کہ میں ضرور ان سے قتال کرنگا حتی کہ اگر کوئی بھی میرا ساتھ نہ دے گا تو تنہا ما نعین زکوٰۃ سے جہاد کرں گا جو چیز جناب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جاری تھی اس کو بند ہوتے دیکھ کر میں چین سے نہیں سے بیٹھ سکتا کہ کیا ٹھکانا ہے اس قوت قلبی کا اس واقعہ کی یہ مصلحت ظاہر ہوئی کہ تمام عرب پر ھیبت چھا گئی کہ کوئی بڑی قوت ضرور ان کی پشت پر ہے باجود اس کے کہ مدینہ لشکر اسلامی سے اس وقت خالی تھا کیونکہ کچھ لشکر مرتدین کے مقابلہ کے لئے بھیج کیا گیا کچھ شام کو روانہ کردیا گیا تھا یہ ہے ان حضرات کی قوت ایمانیہ اب یہ مصلحت رعب عام کی قبل وقوع کیسے معلوم ہوتی غرض دین کے مقابلہ میں مصلحتیں کوئی چیز نہیں حقیقت مین وہ دین کی مصلحت نہیں بلکہ اپنی مصلحتیں ہیں سو یہ مصلحت پرستی ہوئی خدا پرستی نہ ہوئی چھوڑو ان مصلحتوں کو ان میں کیا رکھا ہے خصوص اہل علم کو تو ہر گز اس طرف نظر نہ کرنا چاہیئے ان کا مذہب تو یہ ہونا چاہیئے ـ
مصلحت دید من آنست کہ یاران ہمہ کار بگزار ندوخم طرہ یارے گیرند
( میری تو یہ رائے ہے ـ کہ سب لوگ سارے ( غیر ضروری ) کام چھوڑ کر ایک محبوب سے تعلق پیدا کرلیں ( یعنی وعتصموا بحبل للہ جمیعا )
اور دنیوی تو کیا چیز ہیں ان کا تبتع اور اتباع تو بالکل ہوا پرستی ہے بزرگوں نے تو دینی حکم و اسرار میں خوض کرنے اور ان کو تفحص کرنے سے منع فرمایا ہے چناچہ مجدد صاحب فرماتے ہیں کہ شرائع میں اسرار اور مصالح کا تلاش کرنا مرادف ہےانکار نبوت کا یہ نبی کا اتباع نہیں مصالح کا اتباع ہے ایک شخص نے مجھ سے پوچھا کہ فلاں مسئلہ اس طرح کیوں ہے میں نے جواب دیا کہ تم تو ہم سے خدائی احکام کی حکمتیں پوچھتے ہو جہاں رسائی بھی مشکل ہے ھم تم سے تمہاری ہی ترکیب بدنی کے متعلق پوچھتے ہیں آسان ہے کہ یہ ناک سامنے ہی کیوں ہے ـ اسی طرح ایک دوسرے شخص نے لکھا فلاں مسئلہ میں کیا حکمت ہے میں نے لکھا کہ اس سوال میں الحکمت ہے کہ خود تہاری کیا حکمت اسی طرح ایک شخص نے لکھا کہ کافر سے سود لینا کیوں حرام ہے میں نے لکھا کہ کافر عورت سے زنا کرنا کیوں حرام ہے اس پر انہوں نے غیر جوابی خط لکھا اور لکھا کہ علماء کو اس قدر خشک نہ ہونا چاہیئے اگر جوابی خط ہوتا تو میں جواب لکھتا کہ جاہلوں کو اس قدر تر نہ ہونا چاہیئے کہ جس سے بالکل دوب ہی جائیں متکبروں کے ساتھ یو ہی پیش آنا چاہیئے یہ سمجھتے ہیں کہ ہم خر دماغ ہیں میں یہ چاہتا ہوں کی ان کع یہ معلوم کرا دیا جائے کہ علماء بھی اسپ ناغ ہیں جزاء سیئۃ سیئۃ مثلھا ـ
13 ذی الحجہ 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم چہار شنبہ
( ملفوظ 17 ) کافروں کا ذکر و شغل تجویز کرنا غلط ہے
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ بعضے بزرگ بعض موہوم مصلحتوں سے ہندو کی بھی ذکر شغل کی تعلیم کر دیتے ہیں کہ اس سے اسلام سے قرب ہو جائیگا مگر یہ خیال محض غلط ہے بلکہ اس میں اور بعد ہو جائے گا اس لئے کہ کیفیات کے لئے اسلام شرط نہیں وہ غیر مسلم کو بھی حاصل ہو جاتی ہیں اگر ایسا ہو گیا تو اس کو دھوکا ہو جائیگا کہ وہ کیفیات کو قرب سمجھ کر قرب کے لئے اسلام کو شرط نہ سمجھے گا اچھا خاصہ الحاد راسخ ہو جائے گا جلال آباد میں ایک ہندو رئیس میرے وعظ میں شریک ہوا بعد وعظ تصوف کی تعلیم حاصل کرنا چاہی میں نے صاف کہ دیا کہ اس کے لئے پہلی شرط اسلام ہے پھر وہ اس طرف رجوع نہیں ہوا مگر آج کل ایسے پیر پیدا ہو ہوگئے ہیں کہ مسلمان ہو کر بھی وہ طریق کے لئے اسلام کو شرط نہیں سمجھتے انا للہ وانا الیہ راجعون ایسا طریق شیطانی طریق ہے جس میں اسلام شرط نہیں اس پر بڑا فخر ہے کہ فلاں ہندو ہمارا مرید ہے اگر یہی بات ہے کہ مقبولیت کے لئے اسلام شرط نہیں تو خود پیر صاحب ہی کیوں داخل اسلام ہونے کو ضروری سمجھتے ہیں کیا عجیب فلسفہ ہے حقیقت میں نرا سفہ ہے یقینا بدون اسلام قبول کئے ہر گز واصل الی المقصود نہیں ہو سکتا اور اصل غلطی یہی ہے کہ مقصود ہی کے سمجھنے میں گڑ بڑ ہو رہی ہے بہت لوگوں نے محض کیفیات و کشف و کرامات ہی مقصود بنا رکھا ہے یہی سرے سے اعمال ہیں اور مقصود رضائے حق ہے اب بتلایئے کہ اس کے لئے اسلام شرط ہے یا نہیں یہ ہے طریق کی حقیقت جو اس وقت بیان کی اس کے علاوہ سب شیطانی راہ ہے جس میں مخلوق کو پھنسا کر گمراہ کیا جاتا رہا ہے ـ اور یہ طریق تو دقیق چیز ہے جس قدر غیر مسلم اقوام ہیں خواہ ہندو ہو یا عسائی ان کو ظاہری علوم سے بھی اصلا مناسبت نہیں میرا مشاہدہ ہے کہ تجربہ مختلف لوگوں سے گفتگو ہوئی سفر میں حضر میں کافی رسمی علوم سے بھی کورے ہیں قطعا مناسبت نہیں یہ تو مسلمانوں ہی کا حصہ ہے بات یہ ہے کہ علم بدون نور فہم کے حاصل نہیں ہو سکتا اور نور فہم بدون اسلام اور تقوی کے حاصل ہونا محال ہےـ ایک ہندو بہت بڑا سرکاری افسر ہے اس نے ایک مسلمان کے ہاتھ میرے پاس کہلا کر بھیجا کہ میں اپنے مذہب کے طریق پر کچھ پوجا پاٹ کر چکا مگر کسی طرح اطمینان میسر نہیں ہاتا مجھ کو حق کی تلاش ہے میں نے کہلا بھیجا ہے کہ کثرت سے اہدناالصراط المستقیم پڑھا اور دعا کیا کرو انشاءاللہ تعالی حق واضح ہو جائے گا اور ایک یہ گات کہلا کر بھیجونگا کہ جیسے تم نے اپنے مذہب کے طریق پر پوجا پاٹ کر کے دیکھا اور اطمینان میسر نہیں ہوا اسی طرح اسلامی تعلیم کے طریق پر عبادت کر کے دیکھو خواہ امتحان ہی کے طور پر سہی اگر اطمنان نہ ہو تو پھر ہم سے کہنا مولاما رومی اسی کو فرماتے ہیں ـ
سالہا تو سنگ بودی و لخراش آزمون را یک زمانے خاک پاش
برسوں تک تو سخت پتھر رہا ہے امتحان کے لیے چند روز کے لیے خاک بن کر دیکھ لے ـ 12 )
گو اس صورت میں محض صورت ہی صور ہوگی مگر اس مین بھی برکت ہوگی انشاءاللہ تعالی صاحب صورت تو پھر معنی سے قریب ہے خود نام میں بھی برکت ہے دیکھیئے کھٹائی میں تو یہ اثر ہو کہ نام لینے سے منہ میں پانی بھر آئے اور اللہ کے نام میں اثر نہہو یہ کیسے ہو سکتا ہے مولاما فرماتے ہیں ـ
از صفت وز نام چہ زاید خیال واں خیالت ہست دلال و صال
(کسی چیز کے اوصاف بیان کرنے اور اس کا نام لینے سے کیا پیدا ہوتا ہے یہی کہ اسچیز کا خیال پیدا ہو جائے مگر یہ خیال ہی اکثر موجب وصال ہو جاتا ہے 12 )
غرض کبھی صورت پر بھی اس قدر فضل ہو جاتا ہے کہ کچھ سے کچھ ہو جاتا ہے اور وہ تو حقیقی کریم ہیں مجازی کریموں کو دیکھ لیجئے اگر ان کے پاس کنجڑا اصلی خربوزہ لیجاتا تو چار آنے ملتے لیکن اگر مٹی کا بنا کر لیجائے دو روپے مل جاتے ہین خلاصہ یہ ہے کہ چاہیئے صورت ہی ہو مگر نیت عجز و نیاز ہو اسپر بھی فضل ہوتا ہے ـ دعویٰ و ناز نہو بلکہ بزرگوں نے تو یہانتک فرمایا ہے کہ متشبی بالصوفی کی بھی قدر کرو کیونکہ اس نے طریق کو معظم تو سمجھا تب ہی تو تشبہ اختیار کیا اور یہ ہی راز ہے تشبہ بالکفار کے مذموم ہونے کا کہ وہ علامت ہے کفر اور کفار کی عظمت کی اس لئے حدیث جناب پیغبر صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں من تشبہ بقوم فہو منھم کیونکہ بغر اعتقاد عظمت کے تشبہ نہیں ہو سکتا اور کفار کی عظمت کا اعتقاد ہے حرام ـ اسی طرح حضرات صوفیہ کا یہ فرمانا کہ متشبہ بالصوفی کی بھی قدر کرو اس کی بناء یہ ہی ہے کہ اس متشبہ کے قلب میں اس جاعت کی عظمت ہے اس لئے اس لیے اس کی بھی قدر کیا کرو کیا ٹھکانہ ہے ان حضرات کی عمیق نظر کا اسی لئے میں کہتا ہوں کہ مقبول بندوں کی وضع اختیار کرو شکل بناؤ دوسری ایک اور بات اسی وقت ذہن میں آئی کیا جناب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا جی نہیں جائے گا کہ میری امت میرے طرز پر رہے اہل محبت کے لئے تو یہی کافی ہے خواہ کچھ بھی فائدہ نہ ہوتا لیکن اگر یہ درجہ حاصل نہ ہوا اور فائدہ ہی مطلوب ہو تو ہی نیت سے اختیار کرلو تب معلوم ہو کہ کیا برکت ہوتی ہے قبل عمل محض عقل سے حقیقت کا ذہن میں آنا مشکل ہے اور یہ واقعہ ہے کہ شرائع کی مصلحتیں عمل اختیار کرنے کے بعد ہی معلوم ہوتی ہیں جیسے طبیب کامل کے نسخہ کی خاصیتیں بعد ( استعمال ہی کے معلوم ہوتی ہیں ـ

You must be logged in to post a comment.