ملفوظ 340: تفویض کی حقیقت اور دعا کا وجوب

تفویض کی حقیقت اور دعا کا وجوب مبتدی اور منتہی حالتوں میں مشابہت ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ تفویض کے یہ معنی نہیں کہ مانگے نہیں تفویض کے معنی یہ ہیں کہ یہ عزم رکھے کہ اگر مانگنے پر بھی نہ ملا اس پر بھی رہوں گا تفویض کی حقیقت اگر نہ مانگنا ہوتا تو مانگنے کا امر نہ فرمایا جاتا یہ کوئی بہت باریک مسئلہ نہیں ہے ـ مانگنے کے لیے نص موجود ہے البتہ عین دعاء کے وقت بھی اس کا اسۓضار رہے کہ اگر مانگنے پر بھی نہ ملا تو بس اس پر دل سے راضی رہوں گا ـ یہ وہ مسئلہ ہے کہ بڑے بڑے فضلاء کو شبہ ہو گیا کہ دعاء اور تفویض کیسے جمع ہوں گے ـ مگر میں کہتا ہوں کہ خوب مانگے اور خوب الحاح وزاری کرے مانگنا ہرگز تفویض کے منافی نہیں مانگنے کو کون منع کرتا ہے اپنے بزرگوں کا بھی یہی معمول رہا ہے جو میں اس وقت بیان کر رہا ہوں اور ایک کام کی بات بیان کرتا ہوں جو یاد رکھنے کے قابل ہے وہ یہ کہ اس میں عبدیت زیادہ ہے کہ یہ سمجھ کر مانگے کہ یہ چیز ضرور ہم کو ملے گی اور ضرور ہی دیں گے ـ یہ بھی شان عبدیت کے لیے ایک لازم چیز ہے اور مانگنے کے آداب میں سے ہے آ گے انکو اختیار ہے کہ اگر بندہ کے لیے ایک لازم چیز ہے اور مانگنے کے آداب میں سے ہے آ گے انکو اختیار ہے کہ اگر بندہ کے لئے وہ مصلحت اور حکمت دیکھیں گے عطا فرما دیں گے ایک اور بات بیان کرتا ہوں مانگنے کے متعلق جب حق تعالے نے حکم فرمایا ہے تو خود اس کو بھی مقصود سمجھو تو مقصود دو ہوئے ایک وہ چیز جو مانگ رہے ہو دوسرے خود مانگنا بھی بلکہ نہ مانگنے پر اندیشہ ہے اسلئے کہ حکم مانگنے کا تھا اس میں استغنا سے کام لیا ـ بعض لوگ خود دعا کو مقصود سمجھتے ہیں اور حاجت کو مقصود نہیں سمجھتے غلطی ہے خود حضورؐ بعد طعام کے دعا میں یہ اضافہ فرمایا کرتے تھے غیر مودع ولا مستغنی عنہ ربنا یعنی ہم اس کھانے کو رخصت نہیں کرتے اس سے مستغنی نہیں اور صدہا حدیث ہیں جن میں حضورؐ سے حاجتیں مانگنا ثابت ہے تو ایسی چیز تفویض کے خلاف کیسے ہو سکتی ہے مانگنے کو تفویض کے خلاف سمجھنا سخت غلطی ہے گو اجتہادی ہے جس کا سبب غلبہ حال ہے انہیں بعضے اہل دعاء کی نسبت حافظ کا یہ شعر پڑھ دیتے ہیں ؎ شب تاریک و بیم موج و گرد ابے چنیں ہائل ٭ کجا دانند حال ماسبک ساراں ساحل ہا ( اندھیری رات ہے موج کا خوف ہے اور ایک ہولناک گرداب ہے ( ان حالات میں ہم دریا کا سفر کر رہے ہیں تو ) جو لوگ آرام سے کنارہ دریا پر کھڑے ہیں ان کو ہماری حالت کا کیا اندازہ ہو سکتا ہے 12) مگر خوب سمجھ لو کہ محقیقن اہل دعا جس ساحل پر ہیں وہ ادھر کا ساحل مراد ہے جو عبور دریا کے بعد ملا ہے ادھر کا نہیں جو خوض فی البحر سے پہلے ملتا ہے اس کو تو وہ طے کر چکا ہے وہ کجا دانند میں نہیں آ سکتا اگر اس طرف والے کا حال کھل جائے تو خود معترض یہ کہنے لگے ؎ جملہ عالم زیں سبب گمراہ شد ٭ کم کسے زا بدال حق آگاہ شد گفت اینک ما بشر ایشاں بشر ٭ ما او ایشاں بستہ خوابیم و خور ( تمام عالم عارفین کو نہ پہچاننے کی وجہ سے ہی گمرہ ہوا ـ ( کہ انہوں نے ان حضرات کی صرف ظاہری حالت پر نظر کر کے کہدیا کہ ) یہ بھی بشر ہیں اور ہم بھی بشر ہیں اور یہ بھی خواب و خور کے اسی طرح محتاج ہیں جیسے ہم ـ ( مگر ان حضرات کے باطنی حالات کو نہ سمجھ سکے ) 12) تو خواص کی بعض انتہائی حالتیں مبتدی کی ابتدائی حالتوں کے مشابہ ہوتی ہیں اس بنا پر یہ سب مل کر تین ہی حالتیں ہوتی ہیں ـ اس کی مثال ہانڈی کی مثال ہے کہ اول جب اس کو چولہے پر رکھا جاتا ہے تو بالکل سکون ہوتا ہے اور جب پکنا شروع ہو جاتی ہے تو جوش و خروش ہوتا ہے اور جب پک کر تیار ہو جاتی ہے تو پھر وہی سکون عود کر آتا ہے ـ ایک مبتدی کی مثال ہے ایک منتہی کی ایک بیچ والے کی ـ منتہی کی حرکات سکنات بالکل مشابہ مبتدی کے ہوتے ہیں مگر زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے ـ مبتدی بھی بیوی سے ہمبستر ہوتا ہے اس کو صرف حظ نفس مقصود ہوتا ہے اور بیچ والا غلبہ حال سے اس طرف کم ملتفت ہوتا ہے اور منتہی کو حظ نفس بھی ہوتا ہے مگر غالب نیت یہ ہوتی ہے کہ اس کا حکم ہے سو ظاہری اشتغال سے اس کی حالت مبتدی جیسی معلوم ہوتی ہے مگر زمین آسمان کا فرق ہے مگر خفی اور یہ سب باتیں سمجھنا کام کرنے پر موقوف ہے ورنہ محض باتیں بنانے سے یا لمبی چوڑی تحقیقات بیان کرنے سے یا نیت کے دعوے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا اس کی بالکل ایسی مثال ہے جیسے کوئی نا بالغ کہے کہ میں نیت کرتا ہوں بالغ ہونے کی تو کیا وہ بالغ ہو جائے گا ؟

ملفوظ 339: عارفین کی نظر

ملفوظ 339: عارفین کی نظر ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ عارفین کا مذاق ہی جدا ہوتا ہے دوسروں کی نظر وہاں تک کام نہیں کرتی حضرت علی رضی اللہ عنہ ، سے کسی نے پوچھا کہ آپ کو نا بالغی کی حالت میں مر جانا پسند ہے جس میں کوئی حساب کتاب نہیں گناہوں سے پاک صاف جنت نصیب ہو یا حالت بلوغ میں کو پہنچنا کہ اس کے بعد بڑے خطرات اور مواخذات میں پڑ جائیں فرمایا یہ ہی حالت پسند ہے کہ بلوغ کے بعد خطرہ میں پڑیں ـ اسلئے کہ عدم بلوغ میں حق تعالی کی معرفت نہ تھی جو عین مطلوب ہے کیا ٹھکانہ ہے ان عارفین کی وسعت نظر اور تعلق مع اللہ کا ـ بات یہ ہے کہ ایسے ہی لوگوں سے وعدہ ہے حق تعالے کا کیونکہ استقامت اور پوری اطاعت معرفت ہی سے ہو سکتی ہے پس فرماتے ہیں ـ ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا تتنزل علیھم الملئکۃ الاتخافوا ولا تحزنوا وابشروا بالجنۃ التی کنتم توعدون نحن اولیاؤ کم فی الحیوۃ الدنیا وفی الاخرۃ ولکم فیھا ما تشتھی انفسکم ولکم فیھا ما تدعون ( جن لوگوں نے دل سے اقرار کر لیا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر مستقیم رہے ان پر فرشتے اتریں گے کہ تم نہ اندیشہ کرو نہ رنج کرو اور تم جنت کے ملنے پر خوش رہو جس کا تم سے پیغبروں کی معرفت وعدہ کیا جایا کرتا تھا اور ہم تمہارے رفیق تھے دنیاوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی رہیں گے اور تمہارے لیے اس جنت میں جس چیز کو تمہارا جی چاہے گا موجود ہے اور نیز تمہارے لیے اس میں جو مانگو گے موجود ہے ـ ) اور فرماتے ہیں : ومن یطع اللہ والرسول فاولئک مع الذین انعم اللہ علیھم من النبین والصدیقین والشھداء والصلحین وحسن اولئک رفیقا ـ ( اور جو شخص اللہ اور رسول کا کہنا مان لے گا تو ایسے اشخاص بھی ان حضرات کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ تعالی نے انعام فرمایا ہے یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء صلحاء اور یہ حضرات بہت اچھے رفیق ہیں )
پھر دوسری آیت کا شان نزول فرمایا کہ ابو رافع ایک صحابی ہیں ان کو ایک بار یہ غم ہوا کہ یہاں تو جب چاہتے ہیں حضوراقدسِؐ کے دیدار سے مشرف ہو جاتے ہیں مگر جنت میں آپ بڑے درجہ میں ہوں گے اور ہم چھوٹے درجہ میں جہاں رسائی بھی نہ ہوگی وہاں کس طرح دیدار میسر ہوگا اور اس خیال سے ان کو بے حد قلق ہوا ـ اس پر یہ آیت نازل ہوئی جب انہوں نے یہ سنا تو بے حد خوش ہوئے کہ الحمداللہ جنت میں بھی حضورؐ کی زیارت کیا کریں گے اسی طرح دوسرے دوستوں سے جن کا ذکر صدیقین و شہداء وصالحین میں ہے ملا کریں گے ـ ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت اس صورت میں تو کم درجہ والے بڑے درجوں میں پہنچ جائیں گے فرمایا کہ پہنچ جائیں گے تو حرج اور نقص کیا واقع ہوا یہاں پر بھی تو ایسا ہوتا ہے کہ کم درجہ والے بڑے درجوں والوں کے پاس ملنے کے لیے پہنچ جاتے ہیں ـ یہاں پر معیت کے وہ معنی نہیں جو آپ سمجھے کہ اس درجہ پر مستقلا پہنچ جائیں گے ـ اب فرمائیے کیا شبہ ہے عرض کیا کہ اب کوئی شبہ نہیں رہا ـ عرض کیا کہ جنت میں پہنچ کر حسرت ہو گی اور جی چاہے گا کہ ہم بھی بڑے درجوں میں ہوتے فرمایا کہ جی ہی نہیں چاہے گا جو جس کے لیے تجویز ہو گی اس پر دل سے راضی رہے گا ـ

ـ ملفوظ 338: ایک نو وارد مولوی صاحب پر مؤاخذہ

ایک نو وارد مولوی صاحب پر مؤاخذہ ایک نو وارد مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ آپ کو زیادہ بولنے کا مرض معلوم ہوتا ہے بدوں اظہار علم کے نہ بیٹھا رہا گیا آخر کیا دنیا سے فہم رخصت ہی ہو گیا آپ کو بولنے کی کس نے اجازت دی اور کیا آپ کو یاد نہیں رہا کہ آنے کی اجازت کے خط میں یہ شرط ہے کہ بشرطیکہ یہاں پر زمانہ قیام میں مکاتبت مخاطبت نہ کی جائے مجلس میں خاموش بیٹھے رہو ـ اس شرط کے ساتھ آ نے کی اجازت تھی اس کے خلاف آپ نے اول ہی دن کیا ـ جس کا حاصل یہ ہے کہ اول ہی روز سے مخالفت شروع کر دی آخر میں کہاں تک آپ لوگوں کے اقوال و افعال میں تاویل کروں کیا تکلیف دینے کے لئے یہ سفر آپ نے کیا تھا اور جو سوال آپ نے کیا ہے اگر اس کے متعلق آپ کو تحقیق ہو بھی گئی تو آپ کا کیا نفع اور صاحب ایسی علمی تحقیقات تو اس کا حق ہے جو بے تکلف ہو ـ ایک دن کا آ نے والا اس کے برابر کیسے ہو سکتا ہے ـ آپ نے فضول اور عبث سوال کر کے منقبض کر دی کیا آپ یہاں پر تحقیق علوم کے لیے تشریف لائے ہیں اگر آپ کا مقصود تحقیق علوم ہے تو میں صاف ظاہر کئے دیتا ہوں کہ یہ سفر آپ کا بیکار رہا ـ اس کے لئے تو آپ کو دیوبند یا سہارن پور کے مدارس کا سفر کرنا چاہیے تھا ـ وہاں پر یہ کام بحمداللہ بہت ہی نظم کے ساتھ ہو رہا ہے میں آپ کو خیر خواہی سے مشورہ دیتا ہوں کہ فضول سوالات کرنے سے ہمیشہ بچنا چاہئیے خصوص ایسے شخص سے جس سے اصلاح کا تعلق ہو ایسی باتوں سے انقباض وتکدر ہوتا ہے اور انقباض و تکدر اس طریق میں مہلک چیز ہے اسلئے کہ نفع کا مدار بشاشت قلب پر ہے یہ ہی وجہ ہے کہ میں آ نے والوں کے ساتھ یہ شرط کرتا ہوں کہ یہاں پر زمانہ قیام میں مکاتبت مخاطبت نہ کی جائے میری اس میں کوئی مصلحت نہیں آ نے والوں ہی کی مصلحت ہے آپ کے اس وقت کے فضول سوال سے طبیعت منقبض ہو گئی آئندہ احتیاط رکھیئے گا ـ
عرض کیا کہ غلطی ہوئی حضرت سے معافی چاہتا ہوں فرمایا کہ معاف ہے خدانخواستہ انتقام تھوڑا ہی لے رہا ہوں آپ تو سمجھ دار ہیں آپ سے ایسی بات ہو تعجب ہے ـ یہ یاد رکھئیے کہ زیادہ بولنا یہ بھی ایک مرض ہے پھر دوسروں کی طرف خطاب کر کے فرمایا کہ جو سوال مولوی صاحب نے کیا ہے ایک غیر اختیاری امر کے متعلق سو ایسے امر میں کسی کو کیا دخل ہمیں تو یہ کرنا چاہئیے کہ جو حکم ہے اس کے ادا کرنے کی فکر میں لگے رہیں اور ان ہی چیزوں کی طلب کرنا چاہئیے جو اختیاری ہیں اور مامور بہ ہیں اور جو مامور بہ نہیں ان کی فکر ہی عبث ہے ایسی چیز کے ملنے نہ ملنے کی مصلحت کس کو معلوم اس کو تو حق تعالی ہی جانتے ہیں کہ کس کے لئے کیا مفید ہے اور کس کے لیے کیا مضر ہے جو عطا فرمائیں ـ وہی اس کے لیے مفید ہے حق تعالی نے ہر چیز کے اندر حکمت اور مصلحت رکھ دی ہے خواہ عطاء ہو یا منع ہو ـ اسی لیے فرماتے ہیں ـ ولا تتمنوا ما فضل اللہ بہ بعضکم علی بعض یہ مسئلہ قرآن پاک نے طے فرما دیا ہے یعنی تم ایسے کسی امر کی تمنا مت کرو ـ جس میں اللہ تعالی نے بعضوں کو بعضوں پر (وہبی طور) پر فوقیت بخشی ہے آ گے فرماتے ہیں للرجال نصیب مما اکتسبوا وللنساء نصیب مما لکتسبن یعنی مردوں کے لیے ان کے اعمال کا حصہ ثابت ہے اور عورتوں کے لیے ان کے اعمال کا حصہ ثابت ہے پس جب موہوب میں دخل نہیں تو کیوں پیچھے پڑے اور فرماتے ہیں واسئلواللہ من فضلہ یعنی اللہ تعالے سے اس کے فضل کی درخواست کیا کرو ۤ یہ فرما کر تعب سے بچایا ہے کہ اگر ایسی چیز کو جی ہی چاہے تو مانگ لو تحصیل کے درپے مت ہو ان اللہ کان بکل شئی علیما یعنی بلاشبہ اللہ تعالے ہر چیز کو خوب جانتے ہیں ـ دیکھئے جذبات کو کا نہیں یہ بھی گوارانہ فرمایا کہ جذبات کو روکا جائے کیا ٹھکانہ ہے حق تعالے کی اس رحمت کا یعنی اگر جی چاہے مانگ لو ـ اگر مناسب ہو گا دیدیں گے ورنہ خیر ! تو

ملفوظ 337: کیفیات کو قرب میں دخل نہ ہونے کی مثال

کیفیات کو قرب میں دخل نہ ہونے کی مثال ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ انفعالات کو قرب میں دخل نہیں جیسے اگر نماز میں کوئی کیفیت نہ ہو نہ وجدی نہ استغراقی تو نماز میں کیا نقص ہے ؟ نماز کامل ہے ـ ان انفعالات کی بالکل ایسی مثال ہے جیسے کوئی شخص حسین ہو اور سرکاری دفتر میں ملازم ہو تو اس
کو حسن کی وجہ سے تنخواہ تھوڑا ہی مل رہی ہے اور نہ حسن کی وجہ سے تنخواہ میں ترقی ہوئی وہ تو جو کچھ بھی ہے کام کی بدولت ہے وہاں دفتر میں کوئی نمائش تھوڑا ہی ہے بلکہ نمائش کی ممانعت ہے ـ

ملفوظ 336: کیفیات لذیذ ہیں مگر مقصود نہیں

کیفیات لذیذ ہیں مگر مقصود نہیں ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں کہا کرتا ہوں کہ کیفیات اور ذوق گو لذیذ ہیں مگر مقصود نہیں البتہ مقصود کے معین ہیں اور مقصود میں لذت ضرور نہیں جیسے حکیم اجمل خان صاحب کے نسخہ میں کسی کو وجد نہیں ہوتا مگر نافع ہے ـ اسی طرح مقصود جو سیدھی سیدھی بات ہوتی ہے اس میں یہ کیفیات نہیں ہوتے اور جہاں یہ کیفیات اور شورش ہیں وہ باوجود محمود ہونے کے نفسانی حظ ہے روحانی نہیں اور مقصود میں روحانی حظ ہوتا ہے مگر لوگ بڑی قدر کرتے ہیں چیخ و پکار کی کود پھاند کی ان کی محمود ہونے میں شبہ نہیں مقصود ہونے میں کلام ہے ـ انبیاء علیہم السلام میں سکون اور اطمینان کی کیفیت راسخ تھی شورش کا غلبہ نہ تھا اس لئے اس کو سنت نہ کہیں گے ـ میں کہا کرتا ہوں کہ حضورؐ سے کسی امر کا منقول ہونا سنت ہونے کیلئے کافی نہیں بلکہ جو عادت غالبہ ہو وہ سنت ہے اور جو کسی عارض کی وجہ سے صادر ہو گیا ہو وہ سنت نہیں ـ ان کیفیات کی یہ حقیقت ہے کہ ایک شخص کو نماز میں تیس برس تک کیفیت رہی وہ شباب کا وقت تھا ضعیفی میں وہ کیفیفت جاتی رہی ـ تب وہ شخص سمجھے کہ حرارت عزیزیہ کے سبب وہ کیفیت ذوق وشوق کی تھی نماز کی ہوتی تو اب بھی ہوتی اب فرمائیے تیس برس تک اس کو نماز کی کیفیت سمجھتے رہے اسی لئے اس طریق میں شیخ کامل کی ضرورت ہے تنہا ٹکریں مارنے سے کیا ہوتا ہے اور نفسانی اور روحانی کے معیار کے متعلق یہ بات ہمیشہ یاد رکھنے کی ہے کہ افعال اکثر روح کی طرف سے ہوتے ہیں اور انفعالات نفس کی طرف سے ـ

ملفوظ 335: اپنی خواہش کے مطابق اپنی حالت کی طلب عبدیت کے خلاف ہے

ملفوظ 335: اپنی خواہش کے مطابق اپنی حالت کی طلب عبدیت کے خلاف ہے ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ یہ جو آجکل ہر شخص چاہتا ہے کہ جیسی میں چاہوں ویسی میری حالت ہو ـ یہ طلب شان عبدیت کے خلاف ہے ـ بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ جیسا خدا چاہیں ( یعنی مشیت تشریعیہ و رضا ) ویسا ہوں اسی میں بندہ کے لئے رحمت اور حکمت ہے ـ اب رہی یہ بات کہ وہ بندہ کا کیسا ہونا چاہتے ہیں سو خدا کا چاہنا حضورؐ کے طریقہ سے معلوم ہوتا ہے اور حضورؐ کا طریقہ صحابہ کرام سے معلوم ہوتا ہے اور صحابہ کرام کا طریقہ ائمہ مجتہدین سے معلوم ہوتا ہے اور ائمہ مجتہدین کا طریقہ علماء وقت سے معلوم ہوتا ہے بس اس کا اتباع خدا کے چاہنے کی موافقت ہے اور اس موافقت کے بعد اگر کوئی حالت طبعا اس کو پسند نہ ہو مگر اس موافقت کے تحت میں ہو تو اس کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ حالت مبارک حالت ہے کہ اپنے کو پسند نہ ہو خدا کو پسند ہو اور وہ حالت غیر مبارک ہے کہ اپنے کو پسند ہو ـ خدا کو پسند نہ ہو ـ حاصل یہ ہے کہ حالت وہی پسندیدہ اور مطلوب ہے جو حق تعالی کو پسند ہو اسی میں بندہ کیلئے مصلحت اور حکمت ہے اور وہی بہتر بھی ہے ـ حضرت یہاں قیل وقال یا تجویز سے کام نہیں چلتا تسلیم ورضا درکار ہے فرماتے ہیں ؎ فہم و خاطر تیز کردن نیست راہ ٭ جز شکستہ می نگیرد فضل شاہ ( عقل کو تیز کرنا راہ سلوک نہیں ہے ـ حق تعالی کا فضل اسی کی طرف متوجہ ہوتا ہے جو شکستگی اختیار کرتا ہے ) ـ اور فرماتے ہیں ؎ آزمودم عقل دور اندیش را ٭ بعد ازیں دیوانہ سازم خویش را ( میں عقل دور اندیش کو آزمانے کے بعد دیوانہ حق بنا ہوں ) ـ
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت یہ شعر تو اس موقع پر خوب ہی چسپاں ہوئے بطور مزاح فرمایا کہ شیر کا چسپاں ہونا غضب ہے زخمی ہی کر دیتا ہے ( یعنی زخمی عشق ) ـ

ملفوظ 334: وساوس کو دفع کرنیکی طرف متوجہ ہونا مضر ہے

وساوس کو دفع کرنیکی طرف متوجہ ہونا مضر ہے ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ وساوس کے دفع کی طرف اگر متوجہ رہے اس میں کوئی ضرر تو نہیں فرمایا وسوسہ سے قلب کو خالی کرنے کی طرف متوجہ ہونا یہ خود ایک مستقل وسوسہ ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ مضر ہے ـ اسلئے کہ پہلے جو وساوس قلب میں آ رہے تھے وہ تو محل تفصیل ہیں کہ آیا اختیار سے آ رہے ہیں یا بدوں اختیار کئے اور اس کی طرف دفع کیلئے متوجہ ہونا قصد سے ہے گو دفع ہی کا قصد ہو مگر توبہ بقصد تو ہوئی اس لئے ضرر رساں ہوا اس کی مثال بجلی کے تار کی سی ہے کہ اگر دفع کی نیت سے بھی ہاتھ لگائے گا تب بھی وہ لپٹے گا ـ اس فکر ہی میں نہ پڑنا چاہیے ـ مثلا کسی کے قلب میں کفر کا وسوسہ آئے اور وہ اس کے دفع کی فک کرے یہ تدبیر نافع نہ ہو گی ـ بلکہ اس وقت توجہ الی اللہ کی تجدید کر دے یا توجہ الی القرآن کر لے یا توجہ الی الشیخ کر لے یہ تدبیر انشاءاللہ نافع ہو گی ـ

ملفوظ 333: عشاق کا حال اور انکے عذر کی تحقیق

عشاق کا حال اور انکے عذر کی تحقیق ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ یہ کیا ضرور ہے کہ جو آپ کے فتوی میں بدعت ہے وہ عنداللہ بھی بدعت ہو یہ تو علمی حدود کے اعتبار سے ہے باقی عشاق کی تو شان ہی جدا ہوتی ہے ان کے اوپر اعتراض ہو ہی نہیں سکتا ـ خصوص جبکہ حالت غلبہ کی وجہ سے وہ معذور بھی ہوں مگر ایسا ہر وقت نہیں ہوتا ـ اسلئے دیکھنا یہ ہے کہ عادت غالبہ کیا ہے اگر عادت غالبہ اتباع سنت ہے اور پھر غلبہ حال کی وجہ سے کوئی ایسی بات بھی ہو جائے کہ جو بظاہر ہر لغزش سمجھی جا سکے اس میں تاویل کریں گے ـ اور اگر عادت غالبہ خلاف سنت ہے وہاں تاویل نہ کریں گے معیار یہ ہے ـ غلبہ حال کی وجہ سے جو عذر ہو اس کے بارہ میں فرماتے ہیں ؎ اوست دیوانہ کہ دیوانہ نہ شد ٭ مر عسس رادید و در خانہ نہ شد ( وہی دیوانہ ہے جو آپ کا دیوانہ نہیں ) ما اگر قلاش وگر دیوانہ ایم ٭ مست آں ساقی دآں پیمانہ ایم ( ہم اگرچہ مفلس اور دیوانے ہیں مگر مست اسی ساقی اور پیمانہ کے ہیں ) ایسے بدعتیوں کو آپ دیکھیں گے کہ وہ جنت میں پہلے داخل کئے جائیں گے اور لوگ پیچھے جائیں گے ـ

ملفوظ 332: ماسوی اللہ سے قلب کو خالی کرنے مطلب اور طریقہ

ملفوظ 332: ماسوی اللہ سے قلب کو خالی کرنے مطلب اور طریقہ ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ یہ قول محققین کا نہیں کہ تمام ماسوا کو دل سے نکال کر تب اللہ کی یاد دل میں جمائے جو ایسا کرتے ہیں سخت دھوکہ میں ہیں تمام ماسوا س قلب کا خالی ہو جانا نہایت مشکل ہے ایسا سمجھنا سخت غلطی ہے اس کی نافع تدبیر یہ ہے کہ جتنا خالی کرتا رہے اتنا ہی خیر سے بھرتا رہے اور ایسی خیر بہت سی چیزیں ہیں مثلا دین کے لئے علماء صلحاء سے تعلق اور دوستی سو یہ مضر نہیں ـ بلکہ مقصود کی معین ہیں لوگ ان باتوں کو سمجھتے نہیں ـ ان باتوں کو صاحب بصیرت سمجھتا ہے ـ امام شافعی رحمتہ اللہ کا قول ہے کہ جب سے یہ معلوم ہوا کہ جنت میں دوستوں سے ملاقات ہو گی جنت کی تمنا ہو گئی ـ سو ایسے ہی دوست مراد ہیں ـ

ملفوظ 331: بیکاری سب خرابیوں کی جڑ ہے ا

بیکاری سب خرابیوں کی جڑ ہے ایک سلسلہ گفتفو میں فرمایا کہ یہ جو بیکاری ہے یہ سب خرابیوں کی جڑ ہے ـ شیطان غیر مشغول شخص کو اپنی طرف سے مشغول کر لیتا ہے ـ ایک بزرگ مع اپنے خادم کے چلے جا رہے تھے ایک شخص راستہ پر بیکار بیٹھا ہوا تھا وہ بزرگ بدوں سلام کئے ہوئے گزر گئے ـ واپسی پر پھر اس ہی راستہ سے تشریف لائے دیکھا کہ وہ شخص تنکا لئے ہوئے زمین کرید رہا ہے آپ نے سلام کیا ـ خادم نے وجہ پوچھی فرمایا کہ یہ پہلے خالی بیٹھا ہوا تھا تو شیطان کو اس سے زیادہ قرب تھا ـ اب زمین کرید رہا ہے اس سے شیطان کو بہ نسبت اس حالت کے بعد ہے اگرچہ یہ فعل مفید نہیں مگر بیکاری سے اسلم ہے