ملفوظ 245: اعمال حسنہ کے اندر ابتداء میں نیت کر لینا کافی ہے

اعمال حسنہ کے اندر ابتداء میں نیت کر لینا کافی ہے ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ افعال اختیاریہ میں صرف ابتداء میں ارادہ کرنا پڑتا ہے ـ پھر اس فعل میں اگر امتداد ہو تو ہر جزو پر نیت کی حاجت نہیں ہوتی البتہ تضاد ( یعنی اس کے خلاف ) کی نیت نہ ہونا شرط ہے ـ جیسے کوئی شخص بازار جانا چاہے تو اول قدم پر تو قصد کرنا پڑے گا پھر چاہے کتاب دیکھتے ہوئے یا باتیں کرتے ہوئے چلے جاؤ ہر قدم پر قصد کی ضرورت نہیں ـ دوسری مثال سے سمجھ لیجئے کوئی ستار بجا رہا ہے اول مرتبہ تو قصد کی ضرورت ہے پھر خود بخود انگیاں چلتی رہتی ہیں بلکہ اگر ہر قرع پر مستقل قصد کیا جائے تو خوش نمائی کے ساتھ بجانے میں کامیابی بھی نہیں ہو سکتی ـ اسی طرح گفتگو ہے اگر ہر فقرہ پر ارادہ کرے تو فرمائیے کہ گفتگو میں کامیاب ہو سکتا ہے ؟ ہرگز کامیابی نہیں ہو سکتی ـ پس اسی طرح اعمال حسنہ ممتدہ میں اگر ہر جزو پرنیت مستقل نہ ہو تو وہم میں نہ پڑنا چاہئے ـ

ملفوظ 244: آجکل کے لیڈر اور شہرت مال کا نشہ

آجکل کے لیڈر اور شہرت مال کا نشہ فرمایا ! کہ آجکل جو مقتداء اور پیشوا کہلاتے ہیں چاہے وہ مذہبی ہوں یعنی علماء یا درویش یا سیاسی ہوں لیڈر شب و روز اکثر ان کو یہ فکر ہے کہ شہرت ہو مال حاصل ہو بعضے یہ بھی سمجھتے ہیں کہ جتنا بڑا مالدار اتنا ہی بڑا عاقل ـ حالانکہ یہ خیال ان کا غلط ہے ـ البتہ ایسا شخص آکل تو ہو گا مگر عاقل ہونا ضرور نہیں ـ ہر وقت اکل کی فکر ہے عقل کی ایک بات بھی نہیں ـ بلکہ اس بے عقل ہونے کے متعلق خود مالداروں کا اقرار ہے میں اپنی طرف سے نہیں کہتا ـ وہ کہتے ہیں کہ اگر کسی کے پاس سو روپیہ ہوں تو اس کو ایک بوتل کا نشہ ہوتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ نشہ میں عقل نہیں رہتی ـ اگر کسی کے پاس ایک ہزار روپیہ ہے تو اس کو دس بوتلوں کا نشہ ہوا پھر عقل کا وہاں کیا کام ـ دین کی باتوں کیلئے تو مؤذن اور ملا ہی کی ماننی چاہئے ـ ان کی ہی رائے معتبر ہے

ملفوظ243: مسلمانوں کے دوزخ میں جانیکی صورت

مسلمانوں کے دوزخ میں جانیکی صورت ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت دوزخ کفار بھی جائیں گے اور اعمال بد کی وجہ سے مسلمان بھی ـ تو فرق کیا ہو گا مسلم اور کافر کے عذاب میں ـ فرمایا کہنے کی تو بات نہیں مگر آپ نے سوال کیا ہے اس لئے کہنی پڑی ـ مومنین کے بارہ میں مسلم کی حدیث ہے اماتھم اللہ اماتۃ اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ جہنم میں مسلمانوں کو عذاب کا احساس نہ ہو گا لیکن کفار کے برابر نہیں ہوگا اس کی بالکل ایسی مثال ہے جیسے کلور افارم سنگھا آپریشن کیا جاتا ہے پھر آپریشن کی بھی دو قسمیں ہیں ایک سخت اور ایک ہلکا ـ بعض دفعہ ہلکا آپریشن ہوتا ہے اس لئے ہلکا کلور افارم کافی ہوتا ہے یہی صورت مسلمانوں کے ساتھ دوزخ میں پیش آئیگی عرض کیا گیا کہ حضرت کے یہاں تو بشارت ہی بشارت ہے فرمایا کہ خلاصہ یہ ہے کہ مسلمان صورت جہنم میں جائیں گے حقیقت جہنم میں نہ جائیں گے ـ دوسرا فرق یہ ہے کہ کفار جہنم میں تعذیب کے لئے جہنم میں جائیں گے اسلئے ان کو عذاب کا احساس شدید ہو گا اور مسلمان محض تہذیب کیلئے جہنم میں جائیں گے ان کو عذاب کا احساس اس قدر نہ ہو گا جہنم مسلمانوں کے لئے مثل حمام کے ہے وہ اس میں پاک صاف کئے جائیں گے گو تکلیف حمام کے تیز پانی سے بھی ہوتی ہے تیسرا فرق یہ ہے کہ مسلمانوں سے وعدہ انقطاع عذاب کا ہے یہ وعدہ عذاب کا زیادہ احساس نہ ہونے دیگا ـ اس مثال سے سمجھ لیجئے گا ـ جیسے میعادی قیدی کا ایک وقت آرام کا ہوتا ہے اور ایک وقت کام کا ـ یہ دونوں حالتیں قید ہی میں ہوتی ہیں تو ایک وقت ہلکا ہوا اور ایک وقت بھاری اس سے بھی آ گے توسیع کرتا ہوں ـ ایک وقت قید ہی کی حالت میں سونے کا ہوتا ہے جس میں کچھ بھی احساس نہیں ہوتا کہ میں کہاں ہوں اور کیا مجھ پر عذاب ہے ذرہ برابر بھی محسوس نہیں ہوتا پھر ایک وقت رہائی کا ہوتا ہے کہ وہ قید خانہ کی کلفت کو کم کر دیتا ہے ـپھر فرمایا کہ جی ڈرتا ہے جی چاہتا نہیں ایسی باتیں کہنے کو ـ محض اس خیال سے کہ کہیں لوگ جری نہ ہو جائیں مگر جب حدیث میں ہے کیا اخفا کیا جائے ـ غرض یہ گھڑت نہیں ہے بلکہ نصوص میں ہے اور وہ بھی مسلم میں جو اصح الکتاب ہے ـ

ملفوظ 242: حضرتؒ کی زندگی میں حضرتؒ کی کتابوں کا پھیل جانا

حضرتؒ کی زندگی میں حضرتؒ کی کتابوں کا پھیل جانا ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ ایک شخص نے غیر جوابی خط لکھا تھا اس میں لکھا تھا کہ خدا کا خوف کرو ـ اس قدر دین فروش مت نبو اتنا تو روپیہ کمایا کتابیں چھاپ چھاپ کر ـ او پھر بھی قناعت نہیں وہ یہی سمجھ رہا ہے کہ کتابوں کی آمدنی اس کو ملتی ہے ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت ! یہ بہت دن کی بات ہے یا ابھی کی فرمایا بہت دن کی ہے اور اگر ابھی کی ہوتی تب بھی کون سا گناہ کا کام تھا ـپھر فرمایا کہ اللہ کا شکر ہے کہ اس قدر دین کا کام ہو گیا اگر میں تجارت کرتا کوئی گناہ کا کام نہ تھا اس مشغلہ میں تو اس قدر رسائل نہ ہوتے ـ پھر بطور شکر فرمایا کہ ایسا بہت کم ہوا ہے کہ کسی کا کلام اس کی حیات میں اس قدر شائع ہوا ہو ـ

ملفوظ 241: مجذوب اور مجنون میں امتیاز

ملفوظ 241: مجذوب اور مجنون میں امتیاز ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت مجذوب اور مجنون میں آجکل امتیاز مشکل ہو گیا ـ فرمایا بالکل صحیح ہے کوئی مجذوب ہوتا ہے کوئی مجنون ہوتا ہے اہل ادراک کو پہچان ہوتی ہے اس پر ایک واقعہ یاد آیا کہ بزرگوں سے سنا ہے کہ دیو بند میں حضرت مولانا محمد تعقوب صاحب رحمتہ اللہ علیہ مجذوبین کی جماعت کے سردار تھے جس کی تائید بھی ایک واقعہ سے ہوتی ہے کہ ایک ولایتی مجذوب دیوبند میں وارد ہوئے اور چھتہ کی مسجد میں ٹھہرے مگر ٹھہرنے کی

حضرت مولانا سے اجازت لی ـ پھر فرمایا کہ ہم لوگ طالب علم ان مجذوب سے بعض کفار کیلئے بد دعا کرایا کرتے تھے مگر وہ کبھی جواب نہ دیتے صرف یہ کہہ دیتے کہ خیر باشد خیر باشد پھر وہ مر گئے ـ بعد میں اپنے بعض بزرگوں سے معلوم ہوا کہ وہ بعض کفار کے طرفدار تھے اس طرفداری پر فرمایا کہ مجذوبین کی مثال ملائکہ کی سی ہے کہ وہ کفار کی بھی تربیت کرتے ہیں اور اس سلسلہ میں یہ بھی فرمایا کہ وہ گو اس عالم کے اعتبار سے بے سمجھ ہوتے ہیں مگر ان کو اس سمجھ کی ضرورت نہیں دوسری سمجھ کی ضرورت ہے وہ ان میں ہوتی ہے اور میں نے جو اس عالم کے اعتبار سے سمجھ کی نفی کی ہے ـ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس جماعت میں عقل نہیں ہوتی گو حواس درست ہوں جیسے گھوڑے میں مثلا عقل نہیں ہوتی مگر حواس ہوتے ہیں ـ یا بچہ کی مثال بلوغ سے پہلے کہ اس وقت عقل نہیں ہوتی مگر حواس ہوتے ہیں تو سلامت حواس مذوبیت کے منافی نہیں ـ نہ اس سلامت حواس پر نماز وغیرہ کے فرض ہونے کا مدار ہوتا ہے اس کی فرضیت کیلئے عقل شرط ہے پس مجنون اسی طرح مجذوب عقل نہ ہونے کی وجہ سے احکام شرع کا مکلف نہیں ہوتا باقی ان دونوں جماعت میں فرق کرنا مشکل ہوتا ہے ـ یہ بہت ہی نازک مقام ہے کہ ہر مجذوب اور مجنون میں فرق کر لیا جائے مگر اس کا ظنی معیار یہ ہے کہ اس مجذوب کے زمانہ کے صلحاء اتقیاء کا جو برتاؤ اس کے متعلق ہو وہ متعبر ہے ـ عوام کا خیال اس بارہ میں معتبر نہیں ـ یعنی اس زمانہ کے مشائخ جو اس کیساتھ برتاؤ کریں احترام کا یا اعراض کا وہی دوسروں کو کرنا چاہئے اپنی رائے سے عوام کچھ نہ کریں پھر اسی سلسلہ میں فرمایا کہ اول تو اس جماعت سے کوئی امید نہیں نفع کی نہیں رکھنا چاہئے حتی الامکان ان لوگوں سے الگ ہی رہنا مناسب ہے کیونکہ ان کو عقل تو ہوتی نہیں اس لئے ان سے اندیشہ ضرر ہی کا غالب ہوتا ہے ـ ایک مولوی صاحب نےعرض کیا کہ حضرت اس کی حقیقت کیا ہے یہ جذوب کیسے ـ ہو جاتے ہیں فرمایا کہ حقیقت اس کی یہ ہے کہ کوئی وارد ایسا قوی ہوتا ہے جس سے عقل مسلوب ہو جاتی ہے اور یہ سب مجاہدہ ہی کی برکت ہے کہ یہ درجہ نصیب ہو جاتا ہے پہلے سے کسی کو خبر بھی نہیں ہوتی کہ یہ کرتے کیا تھے اسی وارد سے پیالہ جھلک گیا تب سب نے دیکھ لیا یہ حقیقت ہے مجذوبیت کی اور یہی مجذوب ہیں جن کے سپرد کار خانہ تکوینیہ ہے اور اس کے انتظام کے ذمہ دار ہیں ـ باقی جو اہل ارشاد ہیں وہ نائب رسول ہیں وارثان پیغمبر ہیں ـ ان کی شان کہیں ارفع و اعلی ہے ـ اصل چیز اللہ رسول کی اطاعت ہے باقی کشف و کرامات وغیرہ یہ چیزیں کوئی کمال نہیں ایسے عجائب اہل باطل سے بھی صادر ہو جاتے ہیں ـ چنانچہ امریکہ یا جرمن میں ایک شخص کی بیوی کا انتقال ہوا وہ اس کو بہت چاہتا تھا اس لئے اس کو خیال ہوا کہ دفن سے پہلے اس کا فوٹو لے لیا جائے تاکہ دل بہلانے کا مشغلہ باقی رہے اس نے فوٹو لیا بجائے ایک فوٹو کے پانچ فوٹو آ گئے ایک تو اس کی بیوی کا تھا اور چار اور تھے پھر ان چار میں دو کو تو پہچانا وہ بھی مردہ تھے اور دو کو نہیں پہچانا ـ انہوں نے اس سے یہ تحقیق کی ہے کہ اور روحیں رہاں موجود تھیں ان کا فوٹو آ گیا ہے مگر نہایت عجیب بات ہے کہ غیر مرئی کا فوٹو آ کیسے گیا ـ دیکھئے ! یہ چیزیں اہل باطل بھی کر لیتے ہیں اس لئے اہل حق نے کہا ہے کہ اطاعت اللہ و رسول کی ہی اصل چیز ہے ـ 10 رمضان المبارک 1350ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم سہ شن

ملفوظ 240: غیر مقلدی کا انجام سر کشی اور گستاخی

ملفوظ 240: غیر مقلدی کا انجام سر کشی اور گستاخی ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت فقہاء رحمتہ اللہ علیہ نہ ہوتے تو سب بھٹکتے پھرتے وہ حضرات تمام دین کو مدون فرما گئے فرمایا واقعی اندھیر ہوتا یہ غیر مقلد بڑے مدعی ہیں اجتہاد کے ـ ہر شخص ان میں کا اپنے کو مجتہد خیال کرتا ہے ـ میں کہا کرتا ہوں کہ اس کے موازنہ کی آسان صورت یہ ہے کہ قرآن و حدیث سے تم بھی استنباط کرو ـ ان مسائل کو جو فقہاء کی کتابوں میں تم نے نہ دیکھی ہوں اور پھر فقہاء کے استنباط کئے ہوئے انہی مسائل سے موازنہ کرو ـ معلوم ہو جائیگا کہ کیا فرق ہے کام کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کام کس طرح ہوتا ہے فرمایا کہ یہ غیر مقلدی نہایت خطر ناک چیز ہے اس کا انجام سر کشی اور بزرگوں کی شان میں گستاخی یہ اس کا اولین قدم ہے ـ

اسی سلسلہ میں فرمایا کہ ایک شخص دہلی آیا تھا اس وقت دہلی میں گورنمنٹ نے جامع مسجد میں وعظ کہنے کی ممانعت کردی تھی بہت جھگڑے فساد ہو چکے تھے ـ اس شخص کی کوشش سے وعظ کی بندش ٹوٹ گئی اس نے خود وعظ کہنا شروع کیا اس کا عقیدہ تھا کہ نماز تو فرض ہے مگر وقت شرط نہیں میں نے بھی اسکا وعظ سنا تھا بڑا پکا اور کٹر غیر مقلد تھا وعظ میں کہا تھا :وجعلنا من بین ایدیھم سدا ومن خلفھم سدا فاغشینا ھم فھم لا یبصرون ـ اور ترجمہ یہ کیا تھا کہ کردی ہم نے ان کے سامنے ایک دیوار یعنی صرف کی اور پیچھے ایک دیوار یعنی نحو کی ـ اور چھا لیا ہم نے ان کو یعنی منطق سے پس ہو گئے وہ اندھے یعنی ان علوم میں پڑ کر حقیقیت سے بے خبر ہو گئے ـ غرضیکہ صرف و نحو و منطق کو بدعت کہتا تھا مگر ایک جماعت اس کے ساتھ اور اس کی ہم عقیدہ ہو گئی تھی یہ حالت ہے عوام کی ان پر بھروسہ کر کے کسی کام کو کرنا سخت نادانی اور غفلت کی بات ہے ان کے نہ عقائد کا اعتبار نہ ان کی محبت کا اعتبار نہ مخالفت کا اعتبار ـ جو جی میں آیا کر لیا جس کے چاہے معتقد ہو گئے ـ دہلی جیسی جگہ کہ وہ اہل علم کا گھر ہے بڑے بڑے علماء بزرگان دین کا مرکز رہا ہے مگر جہالت کا پھر بھی بازار گرم اور کھلا ہوا ہے کیا اعتبار کیا جائے کسی کا ـ وقت پر حقیقت کھلتی ہے جب کوئی کام آ کر پڑتا ہے یا ایسا کوئی راہزن دین کا ڈاکو گمراہ کرنے کھڑا ہو جاتا ہے ہزاروں برساتی مینڈک کی طرح نکل کر ساتھ ہو لیتے ہیں ـ

ملفوظ 239: حضرت اور محاسبہ

ملفوظ 239: حضرت اور محاسبہ فرمایا ! کہ میں نے جو لوگوں کے زعم میں ایک نئی بات جاری کی ہے جو اپنے بزرگوں میں اس درجہ نہ تھی اور وہ محاسبہ ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت بغیر اس کے کام چلنا دشوار تھا اس کی نظیر یہ ہے کہ حد خمر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مقرر اور قائم کی جو نہ حضور اقدسِؐ کے عہد میں تھی نہ حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد میں ـ اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر کوئی بھی اعتراض کرے جو مجھ پر کیا جاتا ہے کہ وہ کام کرتا ہے جو بزرگوں نے نہیں کیا تو جو جواب اس کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے ہوگا وہ اس عمر کی یعنی میری طرف سے بھی خیال کر لیا جائے وہ جواب یہی ہے کہ ان حضرات کے میں زمانہ ضرورت نہ تھی اب ضرورت ہے تعزیر کی روک ٹوک کی سیاست کی ـ

ملفوظ 238: حضرت حاجی صاحبؒ کے یہاں ظاہری محاسبہ نہ تھا

ملفوظ 238: حضرت حاجی صاحبؒ کے یہاں ظاہری محاسبہ نہ تھا ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ حضرت حاجی صاحبؒ کے یہاں ظاہری محاسبہ نہ تھا مگر برکت اتنی زبردست تھی کہ محاسبہ میں وہ کام نہیں بن سکتا جو حضرت کے یہاں بلا محاسبہ ہی بن جاتا تھا یہ محض حضرت کی برکت تھی ـ

ملفوظ 237: حضرت گنگوہی ؒ سے طبعی مناسبت

حضرت گنگوہی ؒ سے طبعی مناسبت فرمایا ! کہ میں جب گنگوہ حاضر ہوتا تو حضرت نہایت ہی شفقت کا برتاؤ فرماتے میں حضرت کو پیر سمجھتا رہا مگر حضرت سمجھتے رہے پیر بھائی اور مجھ کو حضرت گنگوہیؒ سے ایک طبعی شغف ہے اور حضرات سے بھی بحمداللہ عقیدت ہے مگر استدلالی اور حضرت گنگوہیؒ سے ضروری غیر استدلالی مجھ کو حضرت کے مذاق پر شبہ ہی نہیں ہوا ـ

ملفوظ 236: حضرت گنگوہیؒ اور حضرت تھانویؒ

ملفوظ 236: حضرت گنگوہیؒ اور حضرت تھانویؒ فرمایا ! کہ ایک مرتبہ میں گنگوہ حاضر ہوا ـ جس وقت حضرت مولانا کی خدمت میں پہنچا اس وقت حضرت پلنگ پر لیٹے ہوئے آرام فرما رہے تھے مجھ کو دیکھ کر پلنگ سے نیچے اتر کر بیٹھ گئے میں نے عرض کیا کہ حضرت اب میں وطن میں مقیم ہوں اس لئے جلدی جلدی حاضری کی نوبت نہ آئے گی حضرت میرے لئے تکلف نہ فرمائیں ورنہ حاضری میں تکلف ہوگا ( یہ روایت بالمعنی ہے فرمایا لیٹے لیٹے طبیعت گھبرا گئی تھی اس لئے بیٹھ گیا مگر اس کے بعد پھر جب کبھی جانا ہوا ـ حضرت نے تکلف نہیں فرمایا ـ میں نے بھی ہمیشہ اس کا خیال رکھا کہ پاؤں کی طرف کبھی نہیں بیٹھا اس خیال سے کہ شاید حضرت کو گرانی ہو ـ اس سلسلہ میں یہ بھی فرمایا کہ حضرت گنگوہی فرمایا کرتے تھے کہ میرے یہاں دو رنگ ہیں کبھی حضرت حاجی صاحبؒ کا اور کبھی حافظ جامن صاحبؒ کا کبھی اس کا ظہور ہوتا ہے اور کبھی اس کا ـ