ملفوظ 235: حضرت کی بیعت کا واقعہ فرمایا ! میں طالب علمی کے زمانہ میں حضرت مولانا گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ سے بیعت کی درخواست کی فرمایا جب تک کتابیں پوری نہ ہو جائیں اس وقت تک اس کو شیطانی وسوسہ خیال کرو ـ واقعی یہ حضرات حکیم تھے کیسی عیجب بات فرمائی اس وقت تو یہ بات سمجھ میں نہ آئی ـ مجھ کو خیال ہوا کہ حضرت نے ٹال دیا ہے میں نے بذریعہ عریضہ حضرت حاجی صاحبؒ کی خدمت میں درخواست کی کہ آپ حضرت مولانا سے جو کہ اسی سال حج کو تشریف لے جا رہے تھے فرما دیں کہ مجھ کو بیعت فرما لیں اور تماشہ یہ کیا کہ حضرت گنگوہی رحمتہ اللہ کی شکایت ان کے ہی ہاتھ حضرت کی خدمت میں پہنچائی (زیادہ یاد یہی ہے ) حضرت حاجی صاحبؒ نے اس کا جواب دیا اور وہ جواب حضرت گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ کے ہاتھ کا لکھا ہوا تھا کہ ہم نے تم کو بیعت کر لیا اور یہ بھی لکھا تھا کہ بعد فراغ علم اگر شغل کرنا چاہو گے تو مولانا محمد یعقوب صاحب رحمتہ اللہ عیلہ یا حضرت گنگوہی رحمتہ اللہ سے رجوع کرنا اور آخر میں لکھا تھا کہ علمی مشغلہ کو کبھی ترک مت کرنا ـ
اقوال
ملفوظ 234: بغیر فکر اصلاح کے شیخ کے پاس قیام بیکار ہے
ملفوظ 234: بغیر فکر اصلاح کے شیخ کے پاس قیام بیکار ہے ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ کسی کے پاس نرے رہنے سے کیا ہوتا ہے جب تک انسان کو اپنی اصلاح اور تربیت کی فکر نہ ہو ـ
ملفوظ 233: دنیاوی معاملات میں لوگوں کو مشورہ نہ دینے کی وجہ
ملفوظ 233: دنیاوی معاملات میں لوگوں کو مشورہ نہ دینے کی وجہ فرمایا ! کہ ایک شخص کا خط آیا ہے اپنی تجارت کے قصے جھگڑے لکھ کر لکھا ہے کہ میں اب کیا کروں ـ میں جواب میں لکھ دیا ہے کہ اب یہ کرنا چاہئے کہ مجھ سے ایسی بات نہ پوچھنا چاہیے ـ ہاں دعا کرتا ہوں ـ فرمایا کہ ایک اور صاحب نے اسی طرح لکھا تھا کہ بعضے لوگ مجھ کو مشورہ دیتے ہیں کہ نانوں کی دکان کر لو کوئی کہتا ہے کہ دواؤں کی دکان کر لو مجھ کو کیا کرنا چاہئے ـ میں نے لکھ دیا کہ میرا باپ نہ کھٹ بنا تھا نہ پنساری ! مجھے ان چیزوں میں تجربہ نہیں ـ کسی تجربہ کار سے معلوم کر کے عمل کرو ـ میرے دو کام ہیں ایک دعا کرا لو ـ چاہے وہ دنیا ہی کیلئے سہی وہ بھی عبادت ہے دوسرے اللہ کا نام پوچھ لو ـ
فرمایا کہ اتنا تو یہ لوگ بھی سمجھتے ہیں کہ ان کو تجربہ نہیں مگر پھر بھی ایسی بات پوچھنے کی کیا وجہ ـ یوں سمجھتے ہیں کہ اللہ والوں سے اس لئے پوچھ کر کرنا چاہئے کہ ان کے دل میں وہی آئے گی جو ہونے والی ہے اس بناء پر ایسی باتیں ایسے لوگوں سے پوچھی جاتی ہیں ـ حالانکہ یہ غلو ہے ـ حاصل یہ ہے کہ اس مشورہ کا منشاء عقائد کی خرابی ہے میں اس جہل سے بھی لوگوں کو بچانا چاہتا ہوں کہ دھوکے میں نہ رہیں اور بعض حضرات جن کا مجھ سے بے تکلفی کا تعلق ہے ان سے معلوم ہوا کہ عوام کا یہ عقیدہ ہے کہ یہ جو کہتے ہیں وہی ہو جاتا ہے ـ ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت یہی عقیدہ ہمارا بھی ہے کہ وہی ہو جاتا ہے فرمایا اعتقاد میں بھی درجات ہیں اور بناء جدا جدا ہیں ـ عوام کے اعتقاد کی نوعیت تو بہت ہی خراب ہے وہ تو یہ سمجھتے ہیں کہ خلاف ہو ہی نہیں سکتا بخلاف اہل علم کے ان کا اعتقاد اس درجہ کا نہیں ہو سکتا ـ 9 رمضان المبارک 1350ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم دو شن
ملفوظ 232: اھل خانقاہ کو ایک دوسرے سے محبت
ملفوظ 232: اھل خانقاہ کو ایک دوسرے سے محبت ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت یہاں کے قانون میں داخل ہے کہ کوئی کسی سے زیادہ نہ ملے نہ کوئی کسی کے حجرہ میں جائے اپنے کام میں لگا رہے ـ مگر اس پر بھی جب یہ حضرات دوسری جگہ جاتے ہیں اور ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان میں رشتہ اخوت کوٹ کوٹ کر بھرا گیا ہے ـ فرمایا کہ مجھے تو یہ معلوم نہیں آج ہی سنا ہے وہ بھی ثقہ راوی سے ـ حضرت ! میں تو ایک چیز کا اہتمام کرتا ہوں یعنی اللہ سے تعلق کا اور اس کا کہ اس کے بعد ضعیف سے ضعیف سبب بھی مرتفع کر دیا جائے اور دین کو قلوب میں راسخ کر دیا جائے اسی کی کوشش کرتا ہوں پھر اللہ تو واحد ہیں جب سب ان کو مانیں گے تو متحد تو خود ہی رہیں گے ـ
ملفوظ 231: حضرت حاجی صاحبؒ کی وجہ سے اتحاد
ملفوظ 231: حضرت حاجی صاحبؒ کی وجہ سے اتحاد ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ مولوی صاحب ذرا بدعت کی طرف مائل تھے اور ہمارے بزرگوں کی نسبت کہا کرتے تھے کہ ان وہابیوں میں اتحاد بہت ہے پھر مزاحا اس کی وجہ میں کہتے کہ یہ سب اس بڈھے کی برکت ہے اس سے مراد حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ تھے ـ
ملفوظ 230: ابن عربی کے نزدیک شیخ کے صفات
ابن عربی کے نزدیک شیخ کے صفات ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ ایک رسالہ میں ایک جامع مضمون لکھا کہ اگر وہ ذہن میں آ جائے تو پھر سارے رسالہ کی ضرورت ہی نہ رہے ـ کہتے ہیں کہ شیخ میں دین ہونا چاہیے انبیاء کا سا ـ اور سیاست یعنی دارو گیر محاسبہ معاقبہ سلاطین کا سا ـ تجویز اطباء کی سی کہ وہ ہر شخص کا جدا علاج جدا جدا تجاویز سے کرتا ہے ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت شیخ میں انبیاء کا سا دین کیسے ہو سکتا ہے فرمایا یہ مراد نہیں کہ ان کے برابر ہو بلکہ اخلاص میں تشبیہ ہو یعنی اعمال میں غوائل دنیا اور نفس کی خواہشوں کی آمیزش نہ ہو ـ یہ مراد ہے جس میں یہ باتیں ہوں وہ شیخ ہو سکتا ہے ـ
ملفوظ 229: حضرت اور امور تکوینیہ سے عدم مناسبت
ملفوظ 229: حضرت اور امور تکوینیہ سے عدم مناسبت ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ سنا ہے کہ حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ سے مکہ معظمہ میں جب کوئی پوچھتا کہ میں مدینہ منورہ سلطانی راستے سے جاؤں یا دوسرے راستہ سے ـ حضرت کے جو جی میں آتا فرما دیتے کہ فلاں راستے سے جاؤ اس راستہ سے جانے میں جانے والا مامون و محفوظ رہتا ـ اسی طرح حضرت کے قلب میں ایسے امور میں جو بات آیا کرے فرما دیا کریں فرمایا کہ آتا ہی نہیں عرض کیا جی حضرت آتا نہیں فرمایا کہ میں عرض کرتا ہوں مجھ کو امور تکوینیہ کے مصالح سے مناسبت ہی نہیں قلب کی یہ کیفیت ہے کہ جب تک اللہ و رسول کا ذکر رہتا ہے طبیعت خوش رہتی ہے اور جہاں دنیوی قصے شروع ہوئے مجھے وحشت شروع ہوئی ـ اس کی وجہ بھی آج ہی قلب میں آئی وہ وجہ یہ ہے کہ میں ایک مجذوب کی دعا سے پیدا ہوا ہوں یہ سبب ہے اس حالت کا ـ اس سے پہلے میرے قلب میں یہ وجہ کبھی نہیں آئی اور آج بھی قلب میں احتمالا آئی ہے احتمالا ہی بیان کرتا ہوں کہ شاید یہ وجہ ہو میری اس کیفیت کی اور شاید یہی وجہ ہو کہ مجھ کو بکھیڑوں سے الجھن ہوتی ہے جی چاہتا ہے کہ ہر بات صاف ہو خود بھی اس کا اہتمام رکھتا ہوں اور دوسروں سے بھی یہی چاہتا ہوں مگر لوگوں کو اس کی عادت ہی نہیں ـ ہر بات کے الجھانے ہی میں مزا آتا ہے یہی وجہ ہے لوگوں سے لڑائی کی اور بد نامی کی کہ سخت ہے یہ سختی ہے کہ بات صاف کہو معاملہ صاف رکھو تاکہ نہ تم کو تکلیف ہو اور نہ دوسرے کو یہ حاصل ہے میری تعلیم کا ـ لوگ اس طریق کے عادی نہیں رہے گویا اس پر قادر نہیں اور میں اسکے عکس پر قادر نہیں ـ میں بھی مجبور ہوں ـ پھر مزاحا فرمایا کہ جب معدہ ضعیف ہوتا ہے مختلف چیزیں کھپتی نہیں اور جب معدہ قوی ہو الا بلا سب ہضم ـ لوگ قوی المعدہ ہیں اور میں ضعیف المعدہ ـ
ملفوظ 228: بیٹھ کر وعظ کہنا
ملفوظ 228: بیٹھ کر وعظ کہنا ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت میری اس شکایت پر کہ کھڑے ہو کر وعظ کہنے میں تعب ہوتا ہے بیٹھ کر وعظ کہنے کو فرمایا تھا ـ اس تدبیر پر عمل کرنے سے بڑا فرق معلوم ہوا فرمایا جی ہاں راحت کی تدبیر سے تو راحت پہنچتی ہی ہے ـ
ملفوظ 227: کتاب دیکھ کر وعظ کہنے کا معمول
ملفوظ 227: کتاب دیکھ کر وعظ کہنے کا معمول ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت وعظ سننے کو جی چاہتا ہے فرمایا کہ اب ہمت نہیں رہی مسلسل بولنے سے طبیعت گھبراتی ہے اور نہ اب ربط عبارت پر قدرت رہی بلا ربط مضمون کا لطف ہی کیا ہو گا اسی وجہ سے چند روز تک وعظ کی یہ صورت اختیار کی تھی کہ کتاب دیکھ کر بیان کر دیا کروں ـ مگر میں دیکھتا ہوں کہ اب دماغ اس کا بھی متحمل نہیں اس لئے اب تو جو کچھ مجلس میں بیٹھ کر بولتا رہتا ہوں یہ ہی بہت کچھ ہے ـ فرمایا کہ کتاب دیکھ کر وعظ کہنے کا معمول مولانا محمد اسحاق صاحبؒ کا سنا ہے کہ وہ کتاب سے وعظ فرمایا کرتے تھے اس صورت سے وعظ کہنے سے دماغ پر تعب نہیں ہوتا ـ
ملفوظ 226: آرام کے وقت دوسرے کو تکلیف دینا
ملفوظ 226: آرام کے وقت دوسرے کو تکلیف دینا فرمایا ! کہ آج ایک صاحب عین آرام کے وقت میرے پاس آئے جس سے مجھ کو اذیت پہنچی ـ اوقات راحت میں کسی کے پاس پہنچ جانا بہت ہی برا ہے ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت خلاف ادب بھی تو ہے فرمایا سب ہی کچھ ہے مگر لوگوں کو ان باتوں کا مطلق خیال نہیں ـ ان معاملات کو دین کی فہرست ہی سے نکال دیا ہے ـ اسی سلسلہ میں فرمایا کہ حضرت حاجی صاحبؒ کے پاس جب حضرت یہاں مقیم تھے ایک شخص ایسے وقت آتا کہ وہ وقت حضرت کے قیلولہ کا ہوتا اور وہی اس کے آنے کا ہوتا دو چار روز کے بعد حضرت حافظ جامن صاحبؒ نے اس شخص کی خوب خبر لی اور خوب ہی ڈانٹا کہ یہ کیا واہیات ہے ـ رات بھر تو بیوی کے بغل میں پڑے سوتے ہو اور دوسروں کے آرام کے وقت میں مخل ہوتے ہو تم کیا جونو ! درویشوں کی قدر ! بے چارے رات بھر تو جاگیں دن میں اگر وقت ملتا ہے تو آپ آ کودتے ہیں ـ خبردار ! اگر ایسے وقت میں میں نے تم کو یہاں دیکھا ٹانگیں توڑ ڈالوں گا ـ ایسے بے رحم اور ظالموں کا یہی علاج ہے مگر حضرت حاجی صاحبؒ کی یہ حالت تھی کہ مجسمہ اخلاق تھے کوئی آ گیا اب بیٹھے ہیں ـ

You must be logged in to post a comment.