طریق کی حقیقت سے بے خبری فرمایا ! کہ آجکل طریق کی حقیقت سے عوام تو کیا خواص تک نا واقف ہیں اور اس بے خبری کے سبب ہزاروں غلطیوں میں ابتلاء ہو رہا ہے اور غلطی کا سبب اصل یہ ہے کہ اس کی طرف کسی کی بھی توجہ نہیں اور اگر کسی کو توجہ بھی ہوتی ہے تو وہ یہ چاہتا ہے کہ مجھ کو کچھ بھی نہ کرنا پڑے اور کام بن جائے ـ جیسے ایک بزرگ کا واقعہ ہے کہ ان کے پاس ایک شخص بہت عرصہ تک پڑا رہا اس درمیان میں سیکڑوں لوگ آئے اور صاحب نسبت ہو کر چلے گئے مگر یہ اسی خیال میں رہا کہ شیخ اپنے تصرف سے کچھ دیدیں گے تو لوں گا میں خود کچھ نہ کروں گا ـ شیخ کو اس کی اطلاع ہوئی یا تو کسی کی اطلاع کرنے پر یا بذریعہ کشف انہوں نے صاف کہہ دیا کہ تم خود ہی کرو گے تو کچھ ہوگا اور تصرف کا اثر نہ ضروری ہے نہ دیر پا ہے مرید کو وسوسہ ہونے لگا کہ شیخ صاحب تصرف نہیں ہیں اس لئے تا ویلات کرتے ہیں شیخ کو اس کی بھی اطلاع ہوئی انہوں نے علمی جواب دینا چاہا اس شخص سے فرمایا کہ ایک مٹکا پانی کا بھر کر خانقاہ کے دروازہ پر رکھو اور ایک پچکاری مول لا کر ہم کو دو چنانچہ ایس کیا گیا ـ شیخ دروازہ پر پچکاری لے کر بیٹھ گئے جو شخص گزرتا پچکاری بھر کر اس پر پانی پھینکتے تھے ـ جس پر شیخ کی پچکاری کی ایک چھینٹ بھی پڑ گئی وہی اشھد ان لا الہ الااللہ واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ پڑھنے لگا ـ ایک ہی تاریخ میں اپنے تصرف سے شیخ نے ہزاروں کافروں کو مسلمان بنا دیا ـ پھر اس شخص کو بلا کر فرمایا کہ دیکھا شیخ کا تصرف مگر تجھ سے چکی ہی پسواؤں گا یا تو پیسو اور نہیں تو منہ کالا کرو ـ تب اس شخص کی آنکھیں کھلیں اور اپنی اس حرکت پر ندامت ہوئی توبہ کی اور کام میں لگ گئے ـ بغیر طلب کچھ نہیں ہوتا ـ طلب ضرور دیکھی جاتی ہے ـ پھر جب طلب ہے تو فرمائشیں کیسی بعد طلب جب عاجز ہو جاتا ہے اس وقت رحم آتا ہے اور اس وقت عنایت سے کام بن جاتا ہے ـ یہ مضمون ایک مثال سے سمجھ میں آ جائے گا مثلا ایک بچے کو جس نے ابھی چلنا نہیں سیکھا اس کو ایک پچاس قدم کے فاصلہ پر کھڑا کر کے باپ دور سے اسکی طرف ہاتھ پھیلا کر کہتا ہے کہ بیٹا آؤ ـ حالانکہ باپ جانتا ہے کہ یہ ان پچاس قدم کو اس حالت میں جبکہ یہ چلنا بھی نہیں جانتا ـ پچاس برس میں بھی طے نہیں کر سکتا مگر اس رغبت اور طلب کا امتحان مقصود ہے اس کے ہاتھ بڑھانے پر بچے کے اندر ایک حرکت پیدا ہوئی اور اس طرف بڑھا اور گر پڑا محض اس طلب اور رغبت پر باپ کا دل رہ نہ سکا دوڑ کر گود میں اٹھا لیا ـ اسی طرح حق تعالی کا معاملہ بندے کے ساتھ ہے کہ جو ان کی راہ پر چلنے کا ارادہ کرتا ہے بجوائے لنھدینھم سبلنا وہ آغوش رحمت میں لے لیتے ہیں اور اس دشوار گزار راہ کو آن واحد میں طے کرا دیتے ہیں مگر یہ حرکت تو شروع کرے گو وہ حرکت قطع مسافت میں کافی نہیں کیونکہ محبوب میں اور طالب میں جو مسافت ہے وہ محبوب ہی کے قطع کئے ہو سکتی ہے محب کے قطع کئے قطع نہیں ہو سکتی مگر طلب شرط ہے ہم کو اپنا کام کرنا چاہیے یہ باتیں بدوں کام کئے سمجھ میں نہیں آ سکتیں جیسے کھانا بدوں کھائے اس کا ذائقہ معلوم نہیں ہو سکتا ذائقہ کا معلوم کرنا کھانا پر موقوف ہے جاننے پر کفایت نہیں ہوتی ـ طلب پر فرماتے ہیں ـ والذین جاھدوا فینالنھد ینھم سبلنا ( اور جو لوگ ہماری راہ میں مشقتیں برداشت کرتے ہیں ہم ان کو اپنے قرب و ثواب یعنی جنت کے راستے ضرور دکھا دیں گے ) ـ اور طالب نہ ہونے پر فرماتے ہیں : انلز مکموھا وانتم لھا کرھون ( تو میں کیا کروں مجبور ہوں کیا ہم اس دعوی یا دلیل کو تمہارے گلے مڑہ دیں ) 7 رمضان المبارک 1350ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم شنبہ
اقوال
ملفوظ 193: فرقہ واریت کا نقصان اور حضرت حاجی صاحبؒ کی نصیحت
ملفوظ 192: دوسرے کو کام پر مجبور نہ کرنا
ملفوظ 192: دوسرے کو کام پر مجبور نہ کرنا ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا ! کہ اگر کوئی اپنے معاملہ میں مباح شق کو اختیار کرے میں اس کے ساتھ موافقت کر لیتا ہوں اس میں آدمی بہت ہلکا رہتا ہے ـ میں بحمداللہ کسی شق کو ترجیح دیکر کسی پر حکومت نہیں کرتا کوئی بات بھی میری ایسی نہیں ہوتی جس سے دوسرے کو شبہ بھی ہو کہ یہ حکومت کی راہ سے کہہ رہا ہے اور اس کا خیال میں اس وجہ سے رکھتا ہوں کہ نہ معلوم دوسرے کا جی چاہے کرنے کو یا نہ چاہے تو نہ کسی بات کے کرنے کا حکم دیتا ہوں اور نہ کسی بات سے منع کرتا ہوں نہ معلوم کیا اثر ہو قلب پر گوارا ہو یا نہ ہو ـ مباح کے درجہ تک بالکل آزادی ہے ـ مولوی صاحب کے جانے سے اول واہلہ میں خیال ہوا کہ جو کام ان کے سپرد تھا اس کام کو کون کریگا مگر میں نے قوت سے اس خیال کی مقاومت کی اور یہ سمجھ لیا کہ ما یفعح اللہ للناس من رحمۃ فلا ممسک لھا وما یمسک فلا مرسل لہ من بعدہ وھو العزیز الحکیم ـ ( اللہ جو رحمت ( بارش وغیرہ) لوگوں کیلئے کھول دے سو اس کا بند کرنیوالا نہیں اور جس کو بند کر دے سو اس کے بند کرنے کے بعد اس کا کوئی جاری کرنیوالا نہیں اور وہی غالب حکمت والا ہے ) ـ ھوالعزیز الحکیم ؛؛ میں یہ بتلا دیا کہ وہ بڑے قادر ہیں جو کام بند ہو اس کو جاری کر سکتے ہیں اور جاری کو بند کر سکتے ہیں اور اگر اس بند ہونے سے یہ وسوسہ ہو کہ اس سے تو دین میں نقصان ہو گا تو الحکیم میں فرما دیا کہ ہم حکیم بھی ہیں اگر بند ہی کر دیں تو اسی میں حکمت ہو گی ـ
ملفوظ 191: گھر میں پکار کر داخل ہونا چاہئے
لفوظ 191: گھر میں پکار کر داخل ہونا چاہئے ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ بعضے لوگ اپنے گھروں میں بے پکارے چلے جاتے ہیں بڑی گندی بات ہے نہ معلوم گھر کی عورتیں کس حالت میں ہیں یا کوئی محلہ کی غیر عورت گھر میں ہو اذن لیکر جب بلایا جائے گھر میں داخل ہونا چاہئے ـ
ملفوظ 190: شیخ محقق کی تعلیم کا طریقہ
ملفوظ 189: پرانی باتیں ، پرانے لوگ
ملفوظ 189: پرانی باتیں ، پرانے لوگ ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ بڑے آرام کی چیزیں ہیں پرانی ـ اس پر فرمایا کہ مثلا یہ فرش ہے اس پر اگر دس کی جگہ گیارہ بارہ تیرہ بھی بیٹھ جائیں تب بھی تنگی نہیں ہوتی اگر کرسیاں ہوں تو ایک بھی زائد نہیں بیٹھ سکتا اسی طرح سب پرانی باتیں بزرگوں کی اور دنیا اور دین دونوں کی راحت کو جامع ہوتی ہیں آجکل کی باتیں لوگوں کی چکنی چپڑی تو ضرور ہوتی ہیں مگر ان میں نور نہیں ہوتا اور ان حضرات کے کلام میں ایسا نور ہوتا ہے گویا یہ معلوم ہوتا ہے کہ جیسے آفتاب نکل آیا آخر مقبولین اور غیر مقبولین میں کوئی فرق تو ہونا ہی چاہئے مگر اس نور کے ادراک کے لئے بصیرت کی ضرورت ہے کیونکہ بعض اوقات ظاہرا باطل میں آب و تاب ہوتی ہے اور حق میں ظاہرا کم رونقی ـ اس کی بالکل ایسی مثال ہے جیسے کبھی پیشاب صاف ہوتا ہے اور پانی بمقابلہ اس کے گدلا ہوتا ہے اسی طرح مقبولین اور غیر مقبولین کے اقوال و افعال میں جو فرق ہوتا ہے وہ صورت کا نہیں ہوتا بلکہ بعض مرتبہ صورۃ غیر مقبولین کا کلام اچھا معلوم ہوتا ہے الفاظ نہایت بڑے بڑے اور چست ہوتے ہیں یعجبک قولہ فی الحیوۃ الدنیا ( کیا آپ کو اس کی گفتگو جو محض دنیاوی غرض سے ہوتی ہے مزیدار معلوم ہوتی ہے ) اس کی دلیل ہے بلکہ ان میں فرق جو ہوتا ہے وہ حقیقت کا ہوتا ہے جیسے میں نے پیشاب اور پانی کی مثال بیان کی پیشاب ہے صاف مگر ہے نا پاک گدلا ہے مگر پاک ـ
ـ ملفوظ 188: دوسروں کو آزاد رکھنا
ـ ملفوظ 188: دوسروں کو آزاد رکھنا ، خاص مشورہ نہ دینا ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت قصبہ میں ایک عالم مدرس کی ضرورت ہے اگر حضرت مولوی صاحب سے فرمائیں اور وہ قبول فرما لیں تو اہل قصبہ کو امید ہے کہ انشاء اللہ تعالی بہت نفع ہو گا ـ فرمایا کہ فرمانا تو بڑی چیز ہے میں تو ایسے معاملات میں رائے بھی کسی کو نہیں دیتا ـ بلکہ خود صاحب معاملہ کے مشورہ لینے پر بھی کہہ دیتا ہوں کہ مجھ کو آپ کے مصالح اور حالات کا کماحقہ ، علم نہیں میں مشورہ سے معذور ہوں آپ خود اپنے مصالح پر نظر کر کے جو اپنے لئے بہتر مناسب خیال کریں عمل کر لیں ـ ہاں دعا سے مجھ کو انکار نہیں ـ عافیت اسی میں ہے میں کسی کے معاملات
ملفوظ 187: خط کے جواب میں تاخیر نہ کرنا
ملفوظ 187: خط کے جواب میں تاخیر نہ کرنا فرمایا ! کہ مجھ کو ڈاک کا بڑا اہتمام ہے کہ روز کے روز فارغ ہو جاؤں اس میں طرفین کو راحت ہوتی ہے ادھر تو میں فارغ مجھے راحت ادھر خط کا جواب پہنچ جائے اس کو راحت ـ انتظار کی تکلیف نہ ہو ـ آج ہی مولوی صاحب سہارن پور سے صرف اس سبب سے آئے کہ ان کے خط کے جواب میں ایک دن کی دیر ہو گئی تھی اس لئے خود آئے محض اس خیال سے کہ کھانسی کی تکلیف تھی کہیں زیادہ تکلیف تو نہیں بڑھ گئی جو جواب نہیں بھیجا اور علاوہ اس کے دور دراز سے خطوط آتے ہیں جن میں نئی نئی ضروریات ہوتی ہیں اس لئے روزانہ ڈاک نمٹا دیتا ہوں اپنی طرف سے اس کا انتظام رکھتا ہوں کہ دوسرے کو تکلیف نہ ہو اور انتظار کی تکلیف تو مشہور ہے ـ
ملفوظ 186: مسلسل کام کی برکت اور حضرت کا معمول
ملفوظ 186: مسلسل کام کی برکت اور حضرت کا معمول ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت کے یہاں مہمان بھی آتے ہیں ـ ڈاک کا کام بھی بڑا زبردست ہے اور بھی مختلف کام مختلف لوگوں کے ہوتے رہتے ہیں ـ اور گھر کے تمام معاملات کا بھی انتظام اور پھر اس قدر تصانیف ! فرمایا کی یہ حق تعالی ہی کا فضل ہے بات یہ ہے کہ مہمان آتے ہیں مگر متبوع ہو کر نہیں آتے اسلئے سہل ہو جاتا ہے ـ
ملفوظ 185 : اپنے اور دوسرے پر بوجھ نہ ڈلانا
ملفوظ 185 : اپنے اور دوسرے پر بوجھ نہ ڈلانا ایک صاحب نے استسفتاء پیش کر کے عرض کیا کہ اگلے جمعہ کو اس کا جواب لے لیا جائے گا اس لئے کہ جلدی جواب نہیں ہو سکتا ـ فرمایا کہ یہ صحیح ہے مگر اگلے جمعہ تک یہ کاغذ امانت کس کے پاس رہے گا ـ کیونکہ کام کی کثرت کی وجہ سے مجھ پر اس کا بار ہوتا ہے ـ عرض کیا کہ حضرت کی سہولت کیلئے ایسا عرض کیا گیا فرمایا یہ بھی صحیح ہے مگر جس وقت لکھ کر تیار ہو جائے آخر کس کو دوں تاکہ امانت کا بار نہ رہے عرض کیا کہ حافظ صاحب کو دیدیں فرمایا کہ آپ یہی بات ان سے کہلوا دیں کیا خبر ان کو قبول بھی ہے یا نہیں ـ اگر وہ آ کر مجھ سے کہہ دیں ـ میں ان کو دیدوں گا ـ حافظ صاحب نے آ کر عرض کیا کہ حضرت جواب تحریر فرما کر مجھ کو دیدیا جائے ـ فرمایا دیکھئے ! میں اس قدر احتیاط کرتا ہوں کہ براہ راست ان سے کہنا نہیں چاہا ـ شاید میرے اثر سے عذر نہ کرتے انتظام ایسا ہونا چاہئے کہ کسی کو تکلیف نہ ہو ـ اب حافظ صاحب نے ان کے کہنے سے بار اٹھایا اگر میں خود ان کے سپرد کرتا تو اس وقت میری طرف سے سمجھا جاتا ـ اس صورت میں ان کا جی چاہتا یا نہ چاہتا قبول کرتے مجھ کو اتنا بھی کسی پر بار ڈالنا گوارا نہیں ـ حاصل انتظام کا یہ ہے کہ نہ اپنی طرف سے دوسرے پر بار ہو اور نہ دوسرے کا اپنے اوپر بلا ضرورت بار ہو ـ اس قدر تو میں رعایتیں کرتا ہوں اور پھر بھی سخت مشہور کیا جاتا ہوں ـ

You must be logged in to post a comment.