ملفوظ 205: ایک صاحب کا سلیقہ کا خط

ایک صاحب کا سلیقہ کا خط فرمایا ! کہ ایک صاحب کا خط آیا ہے لکھا ہے کہ احکام شریعت میں کچھ جانتا ہوں اور جس قدر جانتا ہوں حتی الامکان اس پر عمل بھی کرتا ہوں مگر وہ چیز نہیں جانتا جو بزرگوں سے ملا کرتی ہے وہ چیز حضرت سے پوچھنا چاہتا ہوں اور اس کے حصول کا طریقہ ، فرمایا کہ یہ اگر اپنی ہی ہانکتے رہتے تو چکر ہی رہتے اب صاف لکھا اور سلیقہ سے لکھا میں اب انشاءاللہ راہ بتلاؤں گا ـ لوگ مجھ کو وہمی کہتے ہیں اگر اس طرح پر کھو و کرید نہ کروں تو مجھ کو کس طرح اطمینان ہو کہ جس چیز کو یہ حاصل کرنا چاہتا ہے اس کے ذہن میں اس کی حقیقت ہے کیا ؟ میں تو اس طرح کام لیتا ہوں جیسے بچے کی مثال کہ اس سے ہر ہر حرف الگ الگ پوچھا جاتا ہے اس ہی سے ہجے نکلوائے جاتے ہیں میں بھی اسی طرح طالب کو سبق پڑھاتا ہوں اور مطالبہ کراتا ہوں جب وہ خود عاجز ہو جاتا ہے ـ اور تمیز کے ساتھ اپنا عجز ظاہر کر کے پوچھتا ہے تب بتلاتا ہوں ـ قاعدہ سے سب کام ہو جاتے ہیں بے قاعدہ کوئی کام نہیں ہو سکتا یہ ہیں وہ چیزیں جن پر مجھ کو بدنام کیا جا رہا ہے ـ خیر کریں بدنام ـ اصول صحیحہ کو نہیں چھوڑا جا سکتا میرا تو اس میں کوئی نقصان نہیں بلکہ نفع ہے کہ بد فہموں سے نجات ملی ـ

ملفوظ 204: اب ہر شخص مجتہد ہے

 اب ہر شخص مجتہد ہے فرمایا ! کہ اجتہاد تو آجکل اس قدر سستا ہو گیا ہے کہ ہر شخص مجتہد ہے جسے دیکھو ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائے الگ بیٹھا ہے اب اجتہاد کیلئے علم کی بھی ضرورت نہیں رہی ایسی حالت ہو رہی ہے جیسے بجنور میں فارسی داں نے ایک عالم کا رد لکھا تھا کسی نے کہا کہ آپ تو عالم نہیں عربی نہیں پڑھی آپ نے کیسے ایک عالم کا رد لکھا کہنے لگے کہ ہم فارسی جانتے ہیں اور فارسی جاننے والا سب چیز جانتا ہے ایک نہایت غریب آدمی مگر ذہین وہ بھی اس کو سن رہا تھا ـ وہ گھر پہنچا اور چار پائی کا ایک ڈھانچہ لیا اور ایک بانوں کی لڑی لی ان کے مکان کے دروازہ پر پنچ کر آواز دی ـ قاضی صاحب قاضی صاحب ! وہ مکان سے نکل کر آئے ـ کہتا ہے کہ حضرت میں غریب آدمی ہوں مجھے خود تو بننا نہیں آتا پیسہ پاس نہیں جو مزدوری دیکر بنوالوں یہ میری چار پائی ہے اس کو اللہ کے واسطے بن دیجئے ـ قاضی صاحب یہ سن کر برہم ہوئے اور کہا یہ کیا نا معقول حرکت ہے ہم کیا جانیں چار پائی بننا ـ کہا کہ حضرت میں نے سنا تھا کہ فارسی پڑھا ہوا شخص ہر چیر جانتا ہے ـ قاضی صاحب کو اپنی حقیقت معلوم ہو گئی اور سمجھ گئے کہ یہ اس کا جواب ہے اس پر فرمایا کہ شاباش ! اس شخص نے بڑی ہمت کی ـ غریب آدمی اور اتنی بڑی ہمت ! بعض لوگ بڑے ہی  باہمت ہوتے ہیں ـ اسی طرح یہ لوگ دین کے سمجھنے کا دعوی کرتے ہیں جیسے ان قاضی صاحب نے محض فارسی کے بولنے پر ایک عالم کا رد لکھنے کی ہمت کی تھی ـ 7 رمضان المبارک 1350ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم شنبہ

ملفوظ 203: غیر مقلدین میں بدگمانی کا مرض

غیر مقلدین میں بدگمانی کا مرض ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ غیر مقلدین میں بد گمانی کا مرض بہت زیادہ ہے دوسروں کو حدیث کا مخالف ہی سمجھتے ہیں ـ اور اپنے کو عامل بالحدیث ـ ان کے عمل بالحدیث کی حقیقت مجھ کو تو ایک خواب میں زمانہ طالب علمی میں بتلا دی گئی تھی گو خواب حجت شرعیہ نہیں لیکن مؤمن کیلئے مبشرات میں سے ضرور ہے جبکہ شریعت کے خلاف نہ ہو بالخصوص جبکہ شریعت سے متاید ہو ـ میں نے یہ دیکھا کہ مولانا نذیر حسین صاحبؒ دہلوی کے مکان پر ایک مجمع ہے اس کو چھاچ تقسیم ہو رہی ہے ایک شخص میرے پاس لایا مگر میں نے لینے سے انکار کر دیا ـ حدیث میں دودھ کی تعبیر علم اور دین آئی ہیں پس اس میں ان کے مسلک صورت تو دین کی ہے مگر اس میں روح اور حقیقت دین کی نہیں چھاچ میں سے مکھن نکال لیا جاتا ہے مگر صورت دودھ کی ہوتی ہے ـ

ملفوظ 202: آجکل کے اخلاق کے معنی کیا ہیں ؟

آجکل کے اخلاق کے معنی کیا ہیں ؟ ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ آجکل تو اخلاق کے معنی عرف میں یہ ہو گئے ہیں کہ بات نرم ہو چاہے معاملات کیسے ہی سخت اور مضر ہوں نرم بولنے کو اخلاق سمجھتے ہیں جو اس متعارف اخلاق کے عامل ہیں نیک نام مشہور ہیں میرے اندر یہ متعارف اخلاق اور رسمی باتیں ہیں نہیں مجھ کو بد نام کر رکھا ہے کہ سخت مزاج ہے اب میں علٰی سبیل التنزل کہتا ہوں کہ اچھا میں سخت مزاج ہی سہی کیوں آتے ہو میرے پاس ـ میں بلانے تھوڑا ہی جاتا ہوں خوب کہا ؎ ہاں وہ نہیں وفا پرست جاؤ وہ بے وفا سہی جس کو ہو جان و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں

ملفوظ 201: لحاظ کرنیوالے کو مزید دبانے کا مرض

لحاظ کرنیوالے کو مزید دبانے کا مرض ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ آجکل تو اکثر یہی دیکھا گیا ہے کہ جو لحاظ کرتا ہے اور دبتا ہے اس کو اور دبایا جاتا ہے یہ بات نہیں رہی کہ جو اپنا لحاظ کرے اس کو لحاظ کرنا چاہیے چھوٹوں میں بڑوں میں یہ مرض عام ہو گیا ہے کہ جو کوئی لحاظ کرے ادب کرے اسی کو پیستے ہیں ـ

ملفوظ 200: اہل ظاہر کو تقلید سے عار

اہل ظاہر کو تقلید سے عار فرمایا ! کہ اکثر اہل ظاہر ایک بہت بڑی دولت سے محروم ہیں کہ وہ اس طریق باطن کی حقیقت ہی سے بے خبر ہیں اور اس محرومی کا سبب اکثری انکا تکبر ہے یہ مرض بھی کم بخت روح کے لئے سم قاتل ہے ہر شخص ان میں کا مجتہد بنا ہوا ہے جس کا منشاء وہی کبر ہے یعنی اپنے کو بڑا سمجھنا یہی وجہ ہے کہ ان کو تقلید سے عار ہے جس کی نوبت یہاں تک پہنچی کہ جہلاء تک اجتہاد کرنے لگے چنانچہ ایک دوست ورایت کرتے ہیں کہ ایک غیر مقلد صاحب نماز میں بحالت مامت کھڑے ہوئے جھوما کرتے تھے جب نماز سے فارغ ہو چکے تو ایک صاحب نے جو لکھے پڑھے تھے پوچھا کہ نماز میں حرکت کیسی ؟ کہا کہ حدیث شریف میں آیا ہے انہوں نے کہا کہ بھائی ہم نے تو آج تک بھی ایسی حدیث نہ پڑھی نہ دیکھی نہ سنی ـ جس کا یہ مطلب ہو کہ ہلکے نماز پڑھو لاؤ ہم بھی دیکھیں وہ کون سی حدیث ہے اور کس کتاب میں ہے ایک حدیث کی مترجم کتاب لا کر دکھائی اس میں حدیث تھی اذا ام احد کم فلیخففہ اور ترجمہ تھا کہ جب امامت کرے تو ہلکی نماز پڑھے آپ نے لفظ ہلکی بمعنی خفیف کو ہلکے بعنی حرکت پڑھا اور ہلنا شروع کر دیا یہ حقیقت تھی ان کے اجتہاد کی ـ فرمایا کہ حضرات فقہاء رضی اللہ عنہم کے حق تعالی درجات بلند فرمائیں انہوں نے ہمارے ایمانوں کو سنبھال لیا ورنہ چودھویں صدی کے یہ مجتہد ہیں جن کے اجتہاد کی یہ حقیقت اور کیفیت ہے ـ

ملفوظ 199: آج کل کے تعلیم یافتہ

ملفوظ 199: آج کل کے تعلیم یافتہ ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ آجکل کے جدید تعلیم یافتہ انگریزی خواں اپنے کو بڑا ہی قابل سمجھے ہیں مگر انہیں خاک بھی قابلیت نہیں ہوتی ـ اکثر سفر میں اتفاق ہوا ان لوگوں سے گفتگو کا ـ تجربہ سے معلوم ہوا کہ چند الفاظ ہیں جو ان لوگوں کو یاد ہیں باقی خاک نہیں آتا جاتا ـ میں جس زمانہ میں سفر کرتا تھا ایک مقام پر بلایا گیا تھا وہاں پر وعظ بھی ہوا تھا وعظ کے قبل ایک صاحب جنٹلمین صورت آئے اور کہنے لگے کہ میں نے سنا ہے کہ آپ علی گڑھ کالج کے لوگوں سے نفرت رکھتے ہیں میں نے سوچا اگر کہتا ہوں کہ نفرت ہے تب تو ان کی دل آزاری ہو گی اور اگر نہیں کہتا تو چاپلوسی ہے جو واقع کے خلاف ہے اس لئے کہ بغض وجوہ سے نفرت تو ہے ہی ـ اللہ نے دل میں جواب ڈال دیا ـ میں نے کہا کہ علی گڑھ والوں کی ذات سے تو نفرت نہیں مگر افعال سے نفرت ہے کہنے لگے کہ وہ کیا افعال ہیں ؟ میں نے کہا ہر فاعل کے افعال جدا ہیں کہنے لگے مثلا میرے کیا افعال ہیں ـ میں نے کہا کہ مجمع میں ظاہر کرنا مناسب نہیں ـ نیز ابھی نہ مجھ کو یہ اطمینان کہ آپ نیک نیتی سے پوچھ رہے ہیں نہ آپ کو یہ اطمینان ہو سکتا ہے کہ یہ خیر خواہی سے کہہ رہا ہے اس لئے اچھی صورت یہ ہے کہ آپ چند روز میرے پاس خاموشی سے رہیے ـ جب جانبین ایک دوسرے سے مطمئن ہو جائیں گے اس وقت بتلانا مفید ہو سکتا ہے پھر کچھ نہیں بولے سمجھ گئے ـ یہ جواب ایسا ہوا کہ نہ وہ مجھ کو متعصب کہہ سکتے تھے اور نہ چاپلوسی سمجھی جا سکتی تھی ـ امیں ایسے موقع پر اس کا بھی خیال رکھتا ہوں ـ کہ مخاطب کی تو ذلت نہ ہو اور حقیقت واضح ہو جائے ـ

اسی سلسلہ میں فرمایا کہ میں ایک مرتبہ سہارن پور کے سفر کے قصد سے قصبہ کے اسٹیشن پر پہنچا اسی گاڑی سے ایک طالب علم جو دہلی سے آئے تھے اترے مجھ سے ملے اور کہنے لگے کہ میں تو آپ ہی ملنے کو آیا تھا میں نے کہا کہ میں تو اس وقت سہارن پور جا رہا ہوں میری واپسی تک تم تھانہ بھون ٹھہرو ـ اوراگر جی چاہے بشرطیکہ کسی مصلحت کے خلاف نہ ہو تو سہارن پور چلیے میری طرف سے اجازت ہے ـ دونوں شقوں پر عمل آزادی سے کر سکتے ہو اپنی مصلحت دیکھ لیجئے وہ بولے کہ میں سہارن پور ہی چلتا ہوں میں نے کہا کہ ٹکٹ لے لو ـ انہوں نے کوشش بھی کی مگر گاڑی چھوٹنے والی تھی ٹکٹ نہ مل سکا ـ میں نے کہا گارڈ سے کہہ کر سوار ہو جاؤ اسٹیشن نانوتہ پر پہنچ کر میں نے ان سے کہا کہ یہاں تک کا کرایہ دیکر رسید لے لو اور یہاں سے سہارن پور تک ٹکٹ لے لو وہ گئے ٹکٹ مل گیا آ کر کہنے لگے کہ سہارن پور تک کا تو ٹکٹ مل گیا مگر تھانہ بھون سے نانوتہ تک کے ٹکٹ کیلئے گارڈ نے کہا کہ ہم معاف کرتے ہیں ـ میں نے کہا ریل ان کی ملک نہیں ان کی حیثیت نوکر کی ہے انکو کسی کو معاف کرنے کا اختیار نہیں ہے یہ معافی معتبر نہیں کرایہ ادا کرنا واجب ہے اور میں نے ان کو ادا کرنے کا طریقہ بتایا کہ تھانہ بھون سے نانوتہ تک کا ٹکٹ لے کر چاک کر دیا جائے یہ صورت سہل بھی ہے اور مالک کے قبضہ میں بھی پہنچ جائے گا اسی ڈبہ میں چند آریے بھی سوار تھے کہیں اوپر سے آ رہے تھے ان میں ایک انگریزی داں اور لیکچرار تھا اس نے جو یہ بات سنی کہنے لگا کہ میں اپنی ایک کمزوری بیان کرنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ جب میں نے یہ سنا کہ ان کو معافی دیدی اور ٹکٹ کے دام نہیں لئے تو میں خوش ہوا کہ ایک غریب آدمی کا بھلا ہوا پیسے بچے مگر تمہاری تقریر سے معلوم ہوا کہ میری یہ خوشی بے ایمانی کی خوشی تھی ـ میں نے کہا کہ یہ آپ کی خوبی کی بات ہے کہ آپ نے محسوس فرما لیا پھر میں اپنے ہمراہیوں سے ہر طرح کی باتیں کرنے لگا تو وہ ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے کہ معلوم نہیں ان لوگوں کی معملولی باتیں میں دل کو اتنی کشش کیوں ہوتی ہے ایک نے جواب دیا کہ یہ ان کے سچے ہونے کی علامت ہے سچ میں خاصیت ہے کہ اس طرف کشش ہوتی ہے ـ اب اس لیکچرار آریہ کا ـ اور گفتگو کرنے کو جی چاہا مجھ سے کہنے لگا کہ

اگر اجازت ہو تو میں آپ سے کچھ پوچھ سکتا ہوں ؟ میں نے کہا ضرور پوچھئے معلوم ہوگا عرض کر دونگا نہ معلوم ہوگا لا علمی ظاہر کر دونگا ـ اس نے سوال کیا کہ مثلا ود شخص ہیں انہوں نے ایک نیک کام کیا ایک ہی نیت ہے ایک ہی کام ہے اس کام کا ایک ہی نفع ہے ـ فرق صرف یہ ہے کہ ایک فاعل مسلم ہے ایک غیر مسلم ہے تو کیا ان دونوں کو اجر و ثواب برابر ہو گا یا نہیں ؟ میں سمجھ گیا کہ اس سوال سے مقصود اس کا یہ ہے کہ جواب تو یہی ملے گا کہ مسلم کو اجر وثواب ہوگا اور غیر مسلم کو نہ ہو گا ـ اس جواب پر اس کی گفتگو کی گنجائش تھی کہ یہ حکم تو بڑا تعصب ہے حالانکہ اس کا جواب ظاہر تھا کہ اذافات الشرط فات المشروط ” مگر میں نے اتنی بھی گنجائش نہیں دی دوسرے طرز پر جواب دیا چنانچہ میں نے کہا کہ مجھے تعجب ہے کہ آپ ایسے شائستہ اور مہذب اور دانشمند ہو کر ایسی بات پوچھتے ہیں جس کا جواب آپ کو معلوم ہے کہنے لگا کہ یہ آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ اس کا جواب مجھے معلوم ہے ؟ میں نے کہا کہ اس کے مقدمات آپ کے ذہن میں پہلے سے ہیں اور مقدمات کیلئے مطلوب لازم ہے جب مقدمات کا علم ہے تو نتیجہ کا بھی علم ہے کہنے لگا یہ آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ اس کے مقدمات میرے ذہن میں پہلے سے ہیں ـ میں نے کہا کہ میں ابھی بتاتا ہوں سنیے ! آپ کو معلوم ہے کہ مذاہب مختلفہ سب تو حق نہیں ہو سکتے ضرور ایک ہی حق ہو گا اور باقی سب باطل یہ معلوم ہے آپ کو ؟ کہا کہ جی معلوم ہے ـ میں نے کہا کہ ایک مقدمہ تو یہ ہوا اب یہ بتلایئے کہ صاحب حق مثل مطیع سلطنت کے ہے اور صاحب باطل مثل باغی سلطنت کے ـ یہ آپ کو معلوم ہے کہنے لگا کہ ہاں ـ میں نے کہا ایک مقدمہ یہ ہوا آ گے سنیئے کہ ایک شخص مطیع سلطنت ہے اور ایک باغی سلطنت اور وہ باغی سلطنت ایک بڑا ڈاکٹر ہے جو بڑا ماہر فن ہے انگریزی کی اعلی درجہ کی قابلیت ہے بیدار مغز ہے دنیا میں اس کا ثانی نہیں مگر باوجود ان سب کمالات کے اس میں ایک ایسی بات ہے کہ اسکے یہ سب کمالات گرد ہیں اور وہ باغی ہونا ہے کہ سلطنت سے بغاوت کرتا ہے اس پر گورنمنٹ اس کو پھانسی کا حکم دیتی ہے اس وقت اگر کوئی کہے کہ ہائے بڑا ظلم ہے محض بغاوت کے الزام میں پھانسی کا حکم دیتی ہے حالانکہ یہ شخص ایسا تھا، ویسا تھا ، تو کیا عقلاء کے نزدیک یہ اعتراض

صحیح ہو سکتا ہے کہا کہ نہیں ـ میں نے کہا کہ بس اسی طرح آپ یہاں بھی سمجھئے دیکھئے ـ یہ آپ کے ذہن میں پہلے سے تھا یا نہیں کہنے لگا ـ ہاں میں نے کہا بس ایسی حالت میں سوال کرنا استفادہ یا افادہ کے لیے نہیں ہو سکتا بلکہ حصل اس سوال کا صرف یہ نکلتا ہے کہ میں اپنی زبان سے آپ کو کافر کہوں ـ اس شخص نے قسم کھا کر کہا کہ واقعی منشا میرا یہی تھا کہ ایسی زبان سے کافر سننا چاہتا تھا ـ ایسی زبان سے کافر سننا میرے لئے لذت کا باعث ہے ـ میں نے کہا کہ آپ کی خوبی ہے مگر میرے لئے نہایت بد نما بات ہے ـ میری اسلامی تہذیب مانع ہے کہ میں بلا ضرورت آپ کو کافر کہوں ـ بلا ضرورت کی قید اس لئے لگائی کہ کافر تو ہم کہتے ہی ہیں مگر بیٹھے ہوئے تسبیح پڑھا کریں یہ بھی نہیں وہ شخص بے حد متاثر ہوا ـ پوچھنے لگا کہ آپ کا مکان کہاں ہے میں نے کہا کہ ایک گاؤں ہے تھانہ بھون کہنے لگا کہ میری بد قسمی کہ آپ سے ملاقات نصیب نہ ہوئی میں تو تھانہ بھون سماج میں جایا کرتا ہوں لیکچر دینے کیلئے اب کبھی حاضری ہوگی تو ضرور نیاز حاصل کروں گا ـ میں نے کہا کہ ضرور آیئے آپ کا گھر ہے پھر آیا گیا تو ہے نہیں ـ

ملفوظ 198: تمام مجاہدات و اشغال کا مقصود

ملفوظ 198: تمام مجاہدات و اشغال کا مقصود ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ تمام کہ تمام مجاہدات و ریاضات و مراقبات و اشغال سے مقصود یہ ہے کہ توجہ الی اللہ میں قوت ہو جائے اور اس کیلئے جو کچھ شغل وغیرہ شیخ تعلیم کرتا ہے یہ سب طریق طبی کی طرح ہے جو محض تدابیر کا درجہ رکھتا ہے مقصود کوئی چیز نہیں ـ اس طرح قلب کا جاری ہو جانا جو مشہور ہے وہ بھی کوئی چیز نہیں بلکہ تجربہ نے اس سے بھی منع کیا ہے کہ محض قلب سے ذکر کا خیال رکھا جائے اس میں دھوکہ ہو جاتا ہے ـ وہ فرماتے ہیں کہ ذکر زبان سے جاری رکھو خواہ قلب بھی حاضر نہ ہو کیونکہ قلب سے ذکر کا خیال رکھنا اس کا دوام مشکل ہے اور دیر پا بھی نہ ہو گا ـ زبان سے ذکر کرنے میں یہ حکمت ہے کہ کوئی وقت بھی ذکر سے خالی نہ جائیگا اور قلب چونکہ ایک وقت میں دو طرف متوجہ نہیں ہو سکتا اس لئے اس میں ذہول ہونا بعید نہیں پس زبان سے بھی ذکر جاری رکھنا احوط و اسلم ہے ـ

ملفوظ 196: قوت ایمانی کے کرشمے

ملفوظ 196: قوت ایمانی کے کرشمے ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت دین کے اندر بھی ہمت اور قوت کی ضرورت ہے ؟ فرمایا بڑی ضرورت ہے مگر چند ہی روز تعب ہوتا ہے پھر سہولت ہو جاتی ہے اور سہولت کے بعد بھی اجر اس ہی مشقت کی حالت کا ملتا رہتا ہے پھر قوت کی بھی قسمیں ہیں اس تقسیم قوت پر یاد آیا کہ ـ حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر جو فضیلت حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو ہے اس فضیلت کے اسباب میں سے ایک سبب قوت بھی ہے چنانچہ وہ قوت اس طرح ظاہر ہوئی کہ باوجود اس کے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شان قوت دینیہ کی ظاہر ہے مگر جس وقت مانعین زکوۃ نے زکوۃ دینے سے انکار کیا اور نصوص وجوب زکوۃ میں تاویل کی تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ان ( مانعین زکوۃ ) سے جہاد کی تیاری کی یہ ایسا وقت تھا کہ ادھر تو حضورؐ کی وفات کو زیادہ زمانہ نہ گزرا تھا ادھر تمام لشکر اسلامی دوسرے مقامات پر جہاد کیلئے گئے ہوئے تھے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے اس ارادہ سے تمام صحابہ میں ہلچل پڑ گئی اور حضرت عمر رضی اللہ کی رائے بھی اس کے خلاف تھی کہ یہ وقت ان لوگوں سے جہاد کا نہیں مگر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر مدینہ سب خالی ہو جائے اور کوئی بھی میرا ساتھ نہ دے تب بھی میں اکیلا جہاد کروں گا ـ اور زکوۃ بدوں وصول کئے نہیں رہ سکتا ـ جو چیز حضور کے زمانہ میں جاری تھی اس کو بند نہیں کرنے دوں گا ـ یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بھی رائے بدل گئی یہاں پر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی قوت قلبی کا اندازہ ہو سکتا ہے مصالح کی بھی پرواہ نہیں کی اور زکوۃ وصول کی ـ سب ڈھیلے پڑ گئے اور اس ہمت سے تمام عرب پر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا رعب اور ہیبت چھا گئی کہ ایک دم سے سب کام شروع کر دیئے اور لشکروں کو چاروں طرف منتشر کر دیا معلوم ہوتا ہے ان کے پاس مقامی فوجی قوت بہت زیادہ ہے ورنہ کوئی بے وقوف سے بیوقوف بھی اپنی قوت کو منتشر نہیں کر سکتا تو اس سے رعب چھا گیا ـ

قوت کی ایک اور حکایت سنئیے ! اعلاء بن حضرمی ایک صحابی ہیں جس وقت اسلامی لشکر لے کر بحرین کو روانہ ہوئے ہیں درمیان میں سمندر حائل تھا کنارے پر پہنچ کر سب نے رائے دی کہ کشیوں کا انتظام کیا جائے انہوں نے فرمایا کہ خلیفہ رسول اللہ ؐ نے تاکید فرمائی تھی کہ کہیں ٹھہرنا نہیں میں ٹھہر نہیں سکتا ابھی جاؤں گا اور حق تعالی سے دعا کی کہ اے اللہ ! آپ نے موسیؑ کو سمندر میں راستہ دیا تھا ہم نبی محمد رسول اللہ ؐ کے غلام ہیں ہم کو بھی سمندر میں راستہ دیدیجئے یہ کہہ کر سمندر میں گھوڑا ڈال دیا پھر تو سب ساتھ ہو لئے اور صاف سمندر سے پار ہو گئے دیکھنے کے قابل بات یہ ہے کہ اس پر اطمینان کس قدر تھا خطرہ تک اس کے خلاف کا قلب پر نہیں گزرا ـ کیا ٹھکانہ ہے قوت ایمانیہ کا کون ان حضرات کی ریس کر سکتا ہے ـ آجکل باتیں بگھارتے پھرتے ہیں ـ پہلے ان جیسا ایمان تو اپنے اندر پیدا کر لیں نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ ہیبت چھا گئی تمام بحرین پر کہ یہ آدمی ہیں یا فرشتے ـ قوت وہ چیز ہے ـ

ملفوظ 195: عبادت میں جی نہ لگنا

عبادت میں جی نہ لگنا فرمایا ! ایک خط آیا لکھا ہے کہ گزشتہ دنوں میں سے خادم خدام کی حالت نہایت ناگفتہ بہ ہے نماز میں جی لگتا ہے نہ ذکر میں نہ کلام مجید پڑھا جاتا ہے اور دنیا کا کوئی کام بھی نہیں ہوتا ـ بس ایک عجیب گول گول حالت ہو رہی ہے ـ میں نے جواب میں لکھ دیا ہے کام تو جس طرح بن پڑے کرنا ضروری ہے خواہ ناقص ہی ہو تکمیل کا یہی طریقہ ہے اگر بد نویس اس لئے مشق کرنا چھوڑ دے کہ اچھا نہیں لکھا جاتا تو اس کو اچھا لکھنا بھی نہ آئے گا ـ اسی سلسلہ میں فرمایا کہ عمل ناقص کو بھی چھوڑنا نہیں چاہئے جیسے بنیاد کے مضبوط ہونے کا تو اہتمام کرتے ہیں مگر اس کے خوش نما ہونیکے پیچھے نہیں پڑتے اس میں روڑے وغیرہ بھر دیتے ہیں اور بعد میں اس پر بڑے بڑے محل اور کوٹھیاں تیار ہوتی ہیں اسی طرح عمل ناقص بنیاد ہے عمل کامل کی بنیاد کے کمال اور نقصان پر نظر نہ کی جائے جو کچھ اور جس طرح ہو سکے کرتا رہے اصول کے موافق ہو چاہے اس میں نقصان ہی ہو جیسے نماز گو ناقص ہی ہو مگر ہو حدود میں وہ ہو جاتی ہے بلکہ ایسی عبادت پر اجر زیادہ ہوتا ہے جس میں جی نہ لگے کیونکہ وہ مجاہدہ ہے ـ یہ طریق بہت ہی نازک ہے محض کتابیں پڑھ لینے سے کام نہیں چل سکتا فہم کامل اور ذوق سلیم کی ضرورت ہے اور یہ اس کو عطا ہوتا ہے جس پر حق تعالی اپنا فضل فرمائیں