ایک صاحب کا سلیقہ کا خط فرمایا ! کہ ایک صاحب کا خط آیا ہے لکھا ہے کہ احکام شریعت میں کچھ جانتا ہوں اور جس قدر جانتا ہوں حتی الامکان اس پر عمل بھی کرتا ہوں مگر وہ چیز نہیں جانتا جو بزرگوں سے ملا کرتی ہے وہ چیز حضرت سے پوچھنا چاہتا ہوں اور اس کے حصول کا طریقہ ، فرمایا کہ یہ اگر اپنی ہی ہانکتے رہتے تو چکر ہی رہتے اب صاف لکھا اور سلیقہ سے لکھا میں اب انشاءاللہ راہ بتلاؤں گا ـ لوگ مجھ کو وہمی کہتے ہیں اگر اس طرح پر کھو و کرید نہ کروں تو مجھ کو کس طرح اطمینان ہو کہ جس چیز کو یہ حاصل کرنا چاہتا ہے اس کے ذہن میں اس کی حقیقت ہے کیا ؟ میں تو اس طرح کام لیتا ہوں جیسے بچے کی مثال کہ اس سے ہر ہر حرف الگ الگ پوچھا جاتا ہے اس ہی سے ہجے نکلوائے جاتے ہیں میں بھی اسی طرح طالب کو سبق پڑھاتا ہوں اور مطالبہ کراتا ہوں جب وہ خود عاجز ہو جاتا ہے ـ اور تمیز کے ساتھ اپنا عجز ظاہر کر کے پوچھتا ہے تب بتلاتا ہوں ـ قاعدہ سے سب کام ہو جاتے ہیں بے قاعدہ کوئی کام نہیں ہو سکتا یہ ہیں وہ چیزیں جن پر مجھ کو بدنام کیا جا رہا ہے ـ خیر کریں بدنام ـ اصول صحیحہ کو نہیں چھوڑا جا سکتا میرا تو اس میں کوئی نقصان نہیں بلکہ نفع ہے کہ بد فہموں سے نجات ملی ـ
اقوال
ملفوظ 204: اب ہر شخص مجتہد ہے
ملفوظ 203: غیر مقلدین میں بدگمانی کا مرض
غیر مقلدین میں بدگمانی کا مرض ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ غیر مقلدین میں بد گمانی کا مرض بہت زیادہ ہے دوسروں کو حدیث کا مخالف ہی سمجھتے ہیں ـ اور اپنے کو عامل بالحدیث ـ ان کے عمل بالحدیث کی حقیقت مجھ کو تو ایک خواب میں زمانہ طالب علمی میں بتلا دی گئی تھی گو خواب حجت شرعیہ نہیں لیکن مؤمن کیلئے مبشرات میں سے ضرور ہے جبکہ شریعت کے خلاف نہ ہو بالخصوص جبکہ شریعت سے متاید ہو ـ میں نے یہ دیکھا کہ مولانا نذیر حسین صاحبؒ دہلوی کے مکان پر ایک مجمع ہے اس کو چھاچ تقسیم ہو رہی ہے ایک شخص میرے پاس لایا مگر میں نے لینے سے انکار کر دیا ـ حدیث میں دودھ کی تعبیر علم اور دین آئی ہیں پس اس میں ان کے مسلک صورت تو دین کی ہے مگر اس میں روح اور حقیقت دین کی نہیں چھاچ میں سے مکھن نکال لیا جاتا ہے مگر صورت دودھ کی ہوتی ہے ـ
ملفوظ 202: آجکل کے اخلاق کے معنی کیا ہیں ؟
آجکل کے اخلاق کے معنی کیا ہیں ؟ ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ آجکل تو اخلاق کے معنی عرف میں یہ ہو گئے ہیں کہ بات نرم ہو چاہے معاملات کیسے ہی سخت اور مضر ہوں نرم بولنے کو اخلاق سمجھتے ہیں جو اس متعارف اخلاق کے عامل ہیں نیک نام مشہور ہیں میرے اندر یہ متعارف اخلاق اور رسمی باتیں ہیں نہیں مجھ کو بد نام کر رکھا ہے کہ سخت مزاج ہے اب میں علٰی سبیل التنزل کہتا ہوں کہ اچھا میں سخت مزاج ہی سہی کیوں آتے ہو میرے پاس ـ میں بلانے تھوڑا ہی جاتا ہوں خوب کہا ؎ ہاں وہ نہیں وفا پرست جاؤ وہ بے وفا سہی جس کو ہو جان و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں
ملفوظ 201: لحاظ کرنیوالے کو مزید دبانے کا مرض
لحاظ کرنیوالے کو مزید دبانے کا مرض ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ آجکل تو اکثر یہی دیکھا گیا ہے کہ جو لحاظ کرتا ہے اور دبتا ہے اس کو اور دبایا جاتا ہے یہ بات نہیں رہی کہ جو اپنا لحاظ کرے اس کو لحاظ کرنا چاہیے چھوٹوں میں بڑوں میں یہ مرض عام ہو گیا ہے کہ جو کوئی لحاظ کرے ادب کرے اسی کو پیستے ہیں ـ
ملفوظ 200: اہل ظاہر کو تقلید سے عار
ملفوظ 199: آج کل کے تعلیم یافتہ
ملفوظ 199: آج کل کے تعلیم یافتہ ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ آجکل کے جدید تعلیم یافتہ انگریزی خواں اپنے کو بڑا ہی قابل سمجھے ہیں مگر انہیں خاک بھی قابلیت نہیں ہوتی ـ اکثر سفر میں اتفاق ہوا ان لوگوں سے گفتگو کا ـ تجربہ سے معلوم ہوا کہ چند الفاظ ہیں جو ان لوگوں کو یاد ہیں باقی خاک نہیں آتا جاتا ـ میں جس زمانہ میں سفر کرتا تھا ایک مقام پر بلایا گیا تھا وہاں پر وعظ بھی ہوا تھا وعظ کے قبل ایک صاحب جنٹلمین صورت آئے اور کہنے لگے کہ میں نے سنا ہے کہ آپ علی گڑھ کالج کے لوگوں سے نفرت رکھتے ہیں میں نے سوچا اگر کہتا ہوں کہ نفرت ہے تب تو ان کی دل آزاری ہو گی اور اگر نہیں کہتا تو چاپلوسی ہے جو واقع کے خلاف ہے اس لئے کہ بغض وجوہ سے نفرت تو ہے ہی ـ اللہ نے دل میں جواب ڈال دیا ـ میں نے کہا کہ علی گڑھ والوں کی ذات سے تو نفرت نہیں مگر افعال سے نفرت ہے کہنے لگے کہ وہ کیا افعال ہیں ؟ میں نے کہا ہر فاعل کے افعال جدا ہیں کہنے لگے مثلا میرے کیا افعال ہیں ـ میں نے کہا کہ مجمع میں ظاہر کرنا مناسب نہیں ـ نیز ابھی نہ مجھ کو یہ اطمینان کہ آپ نیک نیتی سے پوچھ رہے ہیں نہ آپ کو یہ اطمینان ہو سکتا ہے کہ یہ خیر خواہی سے کہہ رہا ہے اس لئے اچھی صورت یہ ہے کہ آپ چند روز میرے پاس خاموشی سے رہیے ـ جب جانبین ایک دوسرے سے مطمئن ہو جائیں گے اس وقت بتلانا مفید ہو سکتا ہے پھر کچھ نہیں بولے سمجھ گئے ـ یہ جواب ایسا ہوا کہ نہ وہ مجھ کو متعصب کہہ سکتے تھے اور نہ چاپلوسی سمجھی جا سکتی تھی ـ امیں ایسے موقع پر اس کا بھی خیال رکھتا ہوں ـ کہ مخاطب کی تو ذلت نہ ہو اور حقیقت واضح ہو جائے ـ
ملفوظ 198: تمام مجاہدات و اشغال کا مقصود
ملفوظ 198: تمام مجاہدات و اشغال کا مقصود ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ تمام کہ تمام مجاہدات و ریاضات و مراقبات و اشغال سے مقصود یہ ہے کہ توجہ الی اللہ میں قوت ہو جائے اور اس کیلئے جو کچھ شغل وغیرہ شیخ تعلیم کرتا ہے یہ سب طریق طبی کی طرح ہے جو محض تدابیر کا درجہ رکھتا ہے مقصود کوئی چیز نہیں ـ اس طرح قلب کا جاری ہو جانا جو مشہور ہے وہ بھی کوئی چیز نہیں بلکہ تجربہ نے اس سے بھی منع کیا ہے کہ محض قلب سے ذکر کا خیال رکھا جائے اس میں دھوکہ ہو جاتا ہے ـ وہ فرماتے ہیں کہ ذکر زبان سے جاری رکھو خواہ قلب بھی حاضر نہ ہو کیونکہ قلب سے ذکر کا خیال رکھنا اس کا دوام مشکل ہے اور دیر پا بھی نہ ہو گا ـ زبان سے ذکر کرنے میں یہ حکمت ہے کہ کوئی وقت بھی ذکر سے خالی نہ جائیگا اور قلب چونکہ ایک وقت میں دو طرف متوجہ نہیں ہو سکتا اس لئے اس میں ذہول ہونا بعید نہیں پس زبان سے بھی ذکر جاری رکھنا احوط و اسلم ہے ـ
ملفوظ 196: قوت ایمانی کے کرشمے
ملفوظ 196: قوت ایمانی کے کرشمے ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت دین کے اندر بھی ہمت اور قوت کی ضرورت ہے ؟ فرمایا بڑی ضرورت ہے مگر چند ہی روز تعب ہوتا ہے پھر سہولت ہو جاتی ہے اور سہولت کے بعد بھی اجر اس ہی مشقت کی حالت کا ملتا رہتا ہے پھر قوت کی بھی قسمیں ہیں اس تقسیم قوت پر یاد آیا کہ ـ حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر جو فضیلت حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو ہے اس فضیلت کے اسباب میں سے ایک سبب قوت بھی ہے چنانچہ وہ قوت اس طرح ظاہر ہوئی کہ باوجود اس کے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شان قوت دینیہ کی ظاہر ہے مگر جس وقت مانعین زکوۃ نے زکوۃ دینے سے انکار کیا اور نصوص وجوب زکوۃ میں تاویل کی تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ان ( مانعین زکوۃ ) سے جہاد کی تیاری کی یہ ایسا وقت تھا کہ ادھر تو حضورؐ کی وفات کو زیادہ زمانہ نہ گزرا تھا ادھر تمام لشکر اسلامی دوسرے مقامات پر جہاد کیلئے گئے ہوئے تھے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے اس ارادہ سے تمام صحابہ میں ہلچل پڑ گئی اور حضرت عمر رضی اللہ کی رائے بھی اس کے خلاف تھی کہ یہ وقت ان لوگوں سے جہاد کا نہیں مگر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر مدینہ سب خالی ہو جائے اور کوئی بھی میرا ساتھ نہ دے تب بھی میں اکیلا جہاد کروں گا ـ اور زکوۃ بدوں وصول کئے نہیں رہ سکتا ـ جو چیز حضور کے زمانہ میں جاری تھی اس کو بند نہیں کرنے دوں گا ـ یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بھی رائے بدل گئی یہاں پر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی قوت قلبی کا اندازہ ہو سکتا ہے مصالح کی بھی پرواہ نہیں کی اور زکوۃ وصول کی ـ سب ڈھیلے پڑ گئے اور اس ہمت سے تمام عرب پر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا رعب اور ہیبت چھا گئی کہ ایک دم سے سب کام شروع کر دیئے اور لشکروں کو چاروں طرف منتشر کر دیا معلوم ہوتا ہے ان کے پاس مقامی فوجی قوت بہت زیادہ ہے ورنہ کوئی بے وقوف سے بیوقوف بھی اپنی قوت کو منتشر نہیں کر سکتا تو اس سے رعب چھا گیا ـ
ملفوظ 195: عبادت میں جی نہ لگنا
عبادت میں جی نہ لگنا فرمایا ! ایک خط آیا لکھا ہے کہ گزشتہ دنوں میں سے خادم خدام کی حالت نہایت ناگفتہ بہ ہے نماز میں جی لگتا ہے نہ ذکر میں نہ کلام مجید پڑھا جاتا ہے اور دنیا کا کوئی کام بھی نہیں ہوتا ـ بس ایک عجیب گول گول حالت ہو رہی ہے ـ میں نے جواب میں لکھ دیا ہے کام تو جس طرح بن پڑے کرنا ضروری ہے خواہ ناقص ہی ہو تکمیل کا یہی طریقہ ہے اگر بد نویس اس لئے مشق کرنا چھوڑ دے کہ اچھا نہیں لکھا جاتا تو اس کو اچھا لکھنا بھی نہ آئے گا ـ اسی سلسلہ میں فرمایا کہ عمل ناقص کو بھی چھوڑنا نہیں چاہئے جیسے بنیاد کے مضبوط ہونے کا تو اہتمام کرتے ہیں مگر اس کے خوش نما ہونیکے پیچھے نہیں پڑتے اس میں روڑے وغیرہ بھر دیتے ہیں اور بعد میں اس پر بڑے بڑے محل اور کوٹھیاں تیار ہوتی ہیں اسی طرح عمل ناقص بنیاد ہے عمل کامل کی بنیاد کے کمال اور نقصان پر نظر نہ کی جائے جو کچھ اور جس طرح ہو سکے کرتا رہے اصول کے موافق ہو چاہے اس میں نقصان ہی ہو جیسے نماز گو ناقص ہی ہو مگر ہو حدود میں وہ ہو جاتی ہے بلکہ ایسی عبادت پر اجر زیادہ ہوتا ہے جس میں جی نہ لگے کیونکہ وہ مجاہدہ ہے ـ یہ طریق بہت ہی نازک ہے محض کتابیں پڑھ لینے سے کام نہیں چل سکتا فہم کامل اور ذوق سلیم کی ضرورت ہے اور یہ اس کو عطا ہوتا ہے جس پر حق تعالی اپنا فضل فرمائیں

You must be logged in to post a comment.