ـ ملفوظ 184: گلستان بوستان جیسی کتابوں کی برکت

گلستان بوستان جیسی کتابوں کی برکت ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت گلستان بوستان بھی عجیب کتابیں ہیں مگر اس زمانہ میں ان کی وہ قدر ہی نہیں رہی لوگوں نے نصاب ہی بدل ڈالے ـ فرمایا کہ یہ سچ بات ہے یہ اتنی بڑی کتابیں ہیں کہ بجائے بچپن میں پڑھنے کے ان کو بڑا ہو کر پڑھے تب کچھ سمجھ میں آ سکتی ہیں مگر اس کا عکس ہو رہا ہے کہ جو زمانہ نا سمجھی کا ہوتا ہے اس وقت پڑھاتے ہیں تمیز بھی نہیں ہوتی کہ مطلب کتاب کا ہے کیا میری رائے یہ ہے کہ جیسے قرآن شریف بچپن میں بھی پڑھا جاتا ہے اور بڑے ہو کر بھی اسی طرح یہ کتابیں پڑھی جایا کریں ـ یعنی قرآن شریف کی بچپن میں تو محض عبارت پڑھتے ہیں اور یاد کرتے ہیں اور بڑے ہو کر اس کے معانی و مطالب کو پڑھتے ہیں اسی طرح ان کتابوں کے ساتھ معاملہ کرنا چاہئے کہ بچپن میں برکت کیلئے محض عبارت سرسری ترجمہ سے یاد کریں اور بڑے ہو کر معانی اور مطالب کو سمجھیں ـ ادب ، انقیاد، تواضع ، حیا ، شرم یہ سب انہیں کتابوں کی برکت سے پیدا ہوتی ہے ـ اس نئی تعلیم نے ان چیزوں کا بلکہ علمی استعداد کا بھی ایسا ناس کیا ہے کہ لوگوں کی اس طرف توجہ ہی نہیں رہی ـ یہی وجہ ہے کہ علمی یا اخلاقی کمال ہی پیدا نہیں ہوتا بڑے بڑے ڈگری یافتہ ان بابرکت کتابوں کی تعلیم پائے ہوئے طلباء کے سامنے گرد ہوتے ہیں ـ

ملفوظ 183: ظاہری تعظیم سے کیا ہوتا ہے

ملفوظ 183: ظاہری تعظیم سے کیا ہوتا ہے ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت آجکل تو یہ حالت ہے کہ جہاں عوام نے تعظیم کرنی شروع کر دی بس بڑے ہو گئے ـ فرمایا اس ظاہری تعظیم سے کیا ہوتا ہے جبکہ دلوں میں لوگوں کے وقعت نہ ہو ـ تعظیم تو بعض اوقات دفع ظلم کیلئے بھی کرنے لگتے ہیں ایسی تعظیم بھی ذلت ہی کہلاتی ہے ـ اور اگر بظاہر تعظیم نہ ہو مگر دل میں وقعت ہو عظمت ہو یہ حقیقی تعظیم ہے ـ دیکھئے محض ظاہری تعظیم کی حقیقت اس مثال سے سمجھ میں آ جائے گی مثلا خدا نہ کرے یہاں پر اس مجلس میں سانپ نکل آئے تو سب تعظیم کے لئے کھڑے ہو جائیں گے مگر اس کے ساتھ ہی جوتا کی بھی تلاش ہو گی ـ بس اس سے زیادہ وقعت نہیں ظاہری تعظیم کی ـ

ملفوظ 182: بڑوں کو حوصلہ ہوتا ہے

ملفوظ 182: بڑوں کو حوصلہ ہوتا ہے ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ میں تو کہا کرتا ہوں کہ بڑوں کو حوصلہ ہوتا ہے وہ در پے آزاد نہیں ہوا کرتے اور نہ ضرر پہنچاتے ہیں چھوٹے ہی نقصان پہنچایا کرتے ہیں اس لئے وائسرائے سے ڈرنے کی اتنی ضرورت نہیں جتنی کانسٹیبل سے ڈرنے کی ضرورت ہے ـ

ملفوظ 181: لوگوں کی روایات سے متاثر نہ ہونا

ملفوظ 181: لوگوں کی روایات سے متاثر نہ ہونا فرمایا ! کہ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے یہاں پر کوئی روایت کسی شخص کی کوئی نہیں پہنچا سکتا ـ ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ یہ بات تو یہاں پر خاص ہے ورنہ قریب قریب اکثر بزرگوں کے یہاں سلسلہ حکایت شکایت کا کم و بیش رہتا ہے ـ فرمایا جی ہاں ! بحمداللہ میں ان باتوں کا خیال رکھتا ہوں عرض کیا کہ حضرت سنتے ہی نہیں نیز حضرت کے اصول اور قواعد اس قسم کے ہیں کہ اس کے خلاف کی کوئی ہمت نہیں کر سکتا اگر ضوابط میں ذرا ڈھیل دی جاتی یہاں پر بھی سلسلہ جاری ہو جاتا فرمایا کہ ڈھیل کے متعلق سنیے ـ حاجی عبدالرحیم بھائی مرحوم کے ملازم تھے ان کے متعلق میرے بڑے گھر میں سے ایک معاملہ میں مجھ سے شکایت کی ـ میں نے فورا آدمی بھیج کر حاجی جی کو بلایا اور دروازہ میں کھڑا کر کے کہا کہ تمہارے متعلق یہ ورایت بیان کرتی ہیں اور تم نے دعوی کیا ہے لہٰذا ثبوت دو ثبوت تمہارے ذمہ ہے ثبوت ندارد ـ کہنے لگیں کہ توبہ تم تو ذرا سی دیر میں آدمی کو فضیحت کر دیتے ہو ـ میں نے کہا کہ میں فضیحت نہیں کرتا نصیحت کرتا ہوں یہ سلسلہ روایات

اچھا نہیں معلوم ہوتا اس سے دل میں عداوتیں پیدا ہو جاتی ہیں اور جہاں یہ سلسلہ ہے وہاں ہر وقت ہر شخص کو یہ شبہ رہتا ہے کہ نہ معلوم میری طرف سے کسی نے کیا کہہ دیا ہو گا اور کہنے سے کیا خیالات پیدا ہو گئے ہونگے اور یوں تو ہمارے حضرات سب ہی حکماء تھے مگر ہمارے ان بزرگوں میں سے دو بزرگوں میں خصوصیت کے ساتھ یہ صفت یعنی روایات سے متاثر نہ ہونا بہت ہی کامل تھی ـ ایک حضرت حاجی صاحبؒ میں اور ایک حضرت مولانا محمد قاسم رحمتہ اللہ علیہ میں مولانا تو سنتے ہی نہ تھے شروع میں ہی در کر دیتے ـ اور حضرت حاجی صاحبؒ کا عجیب معمول تھا کہ سب سن لیتے تھے دوسرے دیکھنے والوں کو یہ معلوم ہوتا تھا کہ حضرت پر بڑا اثر ہو رہا ہے اور جب بیان کرنے والا خاموش ہوا حضرت نے بے تکلف فرما دیا کہ یہ سب غلط ہے وہ شخص ایسا نہیں اور اس کہنے کا یہ مطلب تھا کہ چاہے واقع میں صحیح ہو مگر چونکہ شرعی شہادت نہیں اس لئے اس کے ساتھ کذب کا سا معاملہ کیا جائے یہی محمل ہے آیت کا ـ جو حق تعالی فرماتے ہیں ـ فاذلم یاتوا بالشھداء فاولئک عنداللہ ھم الکذبون ۔ ( سو جس صورت میں یہ لوگ موافق قاعدہ کے گواہ نہیں لائے تو پس اللہ کے نزدیک یہ جھوٹے ہیں ) عنداللہ سے مراد ہے یہاں پر فی دین اللہ فی قانون اللہ یعنی شریعت کے قانون ک رو سے تم جھوٹے ہو تمہارا کہنا سب غلط ہے پس اس تقریر کے بعد یہ شبہ نہ رہا کہ محتمل الصدق کو جزما کیسے کاذب فرما دیتے تھے ـ حکیم محمد مصطفی صاحب نے اس آیت سے ایک عجیب مسئلہ استنباط کیا ہے کہ حسن ظن کیلئے تو کسی دلیل کی ضرورت نہیں ـ سوء ظن کے لئے دلیل کی ضرورت ہے ـ

ملفوظ 180: خانقاہ کی ہر بات نرالی و دل کش

خانقاہ کی ہر بات نرالی و دل کش ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت یہاں پر تو ساری ہی باتیں نرالی ہیں جیسی نماز خانقاہ میں ہوتی ہے ایسی نماز شاید ہی کہیں ہوتی ہو ـ دریافت فرمایا کہ یہ کیوں ؟ عرض کیا کہ قریب قریب سب جگہ پر یہ حالت ہے کہ امام کو ذرا دیر ہو جائے فورا غل مچ جاتا ہے کوئی کچھ کہتا ہے کوئی کچھ کہتا ہے یہاں پر یہ بات نہیں فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں پر جمہوریت نہیں شخصیت ہے یہ اس کی برکت ہے فرمایا کہ ہمارے بزرگ بھی اللہ کے فضل سے بڑے ہی حکیم تھے ـ ان کی ہر ہر بات پر نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی کوئی بات حکمت سے خالی نہیں ـ یہاں پر تھانہ بھون میں جو جگہ ممتاز ہے وہ حوض والی مسجد ہے وہاں پر بھائی برادری کے لوگ رہتے ہیں ـ محلہ بھی برادری کا ہے اثر کیلئے بھی جگہ مناسب تھی اور نفع کی بھی امید زائد بھی اس لئے کہ ان سے کسی بات میں کوئی تکلف ہی نہ ہوتا مگر اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی ہے کہ وہ بھی اپنا اثر ڈالنا چاہتے برادری برادری کا معاملہ ہے ہمارے بزرگوں نے رہنے کیلئے اس غریب جگہ کو پسند کیا اس ممتاز جگہ کو پسند نہیں کیا حکمت یہ ہی ہے کہ یہاں پر کوئی مزاحم نہیں اس محلہ میں زمیندار آباد نہیں غریب لوگ آباد ہیں یہاں زمینداری بزرگوں کی ہے یہاں پر محلہ کے غریب لوگ نماز پڑھنے آتے ہیں یہاں پر بالکل آزادی ہے بس اس کا مصداق ہے ؎ بہشت آ نجا کہ آزارے نباشد ٭ کسے رابا کسے کارے نہ باشد ترجمہ : بہشت وہ ہے کہ جہاں کسی کو کسی سے کوئی تکلیف نہ ہو اور کسی کو کسی سے کوئی کام نہ ہو ـ

ملفوظ 179: طبیب کے پاس خود جانا

طبیب کے پاس خود جانا ایک صاحب نے عرض کیا کہ شب کو حضرت کی کیسی طبیعت رہی اور کھانسی کا کیا حال رہا ـ فرمایا کھانسی ہی کی وجہ سے راحت نہیں ملی ـ حکیم صاحب کے پاس گیا تھا اب نہوں نے کچھ اور تجویز کیا ہے یہ بھی فرمایا کہ جب ضرورت پیش آتی ہے حکیم صاحب کے پاس خود جاتا ہوں ان کو نہیں بلاتا ـ ایک روز حکیم صاحب فرمانے بھی لگے کہ مجھ کو شرم معلوم ہوتی ہے میں ہی حاضر ہو جایا کروں گا ـ میں نے کہا کہ نہیں شرم کی کیا بات ہے میرا نہ آنا اور آپ کو بلانا عدل کے خلاف ہے محتاج کو چاہیے کہ وہ محتاج الیہ کے پاس جائے اور بحمداللہ یہ سب باتیں میری امور طبیعہ ہیں ( مجھ کو کوئی اہتمام یا سوچ بچار کرنا نہیں پڑتا ـ میں رعایت کے متعلق عرض کرتا ہوں کہ میرے جو ملازم تنخواہ دار ہیں ان کو بھی جب تنخواہ دیتا ہوں یا کبھی ان کی مالی خدمت کرتا ہوں تو روپیہ پیسہ کبھی ان کی طرف پھینکتا نہیں بلکہ سامنے رکھ دیتا ہوں یا ہاتھ میں دیتا ہوں جیسے ہدیہ دیتے ہیں ـ پھینکنے میں ان کی اہانت معلوم ہوتی ہے کیونکہ یہ ایک تحقیر کی صورت ہے اور ملازم کوحقیر اور ذلیل سمجھنے کا کوئی حق نہیں کیونکہ نوکری ایک قسم کی تجارت ہے تجارت میں کبھی اعیان کا مبادلہ اعیان سے ہوتا ہے کبھی اعیان کا مبادلہ منافع سے ہوتا ہے اور منافع میں منافع بدنیہ ارفع ہیں ـ جس کا حاصل یہ ہے کہ نوکر نے اپنی جان پیش کی جو اس مال سے کہیں افضل و اعلی ہے منافع بدنیہ کو پیش کرنا یہ زیادہ ایثار ہے ـ پس تجارات میں اجارات زیادہ افضل ہیں تو اس کے تحقیر کی کیا وجہ میں کبھی ان معمولات کو بحمداللہ بیٹھ کر سوچتا نہیں سب امور طبیعہ ہیں ـ خود بخود ذہن میں آتے ہیں جتلانا مقصود نہیں احسان کرنا مقصود نہیں اس لئے اس وقت کہتا بھی نہیں صرف اپنے دوستوں سے اسلئے ظاہر کر دیتا ہوں کہ یہ باتیں کانوں میں پڑ جائیں کیونکہ ان چیزوں کا تعلق دوسروں سے ہوتا ہے اس سے حقوق العباد کا خیال رکھیں اور عدل کو ہاتھ سے جانے نہ دیں کوئی غرض سنانے سے نہیں ـ

ملفوظ 178: ایک صاحب کو اپنے اندر حسد کا شبہ

ایک صاحب کو اپنے اندر حسد کا شبہ فرمایا ! کہ ایک خط آیا ہے لکھتے ہیں کہ اپنے اندر حسد پاتا ہوں ـ میں نے جواب لکھا کہ حسد کی حقیقت کیا سمجھتے ہو اور اس کے کیا آثار پاتے ہو ـ فرمایا کہ خط و کتابت میں ان کا وقت تو ضرور صرف ہوگا ـ مگر انشاء اللہ حقیقت سے واقف ہو جائیں گے کہیں حقیقت حسد کی بے خبری سے غیر حسد کو حسد نہ سمجھ رہے ہوں ـ اب جب اس کی حقیقت لکھیں گے معلوم ہو جائے گا ـ اس طرز سے مجھ کو بھی علاج میں سہولت ہو جاتی ہے ـ 6 رمضان المبارک 1350ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم جمعہ

ـ ملفوظ 177: مشورے مانگنے والوں کو حضرت کا جواب

مشورے مانگنے والوں کو حضرت کا جواب فرمایا ! ایک خط آیا ہے اس میں تمام اپنے قصے جھگڑے بھر رکھے ہیں مجھ سے مشورہ چاہا ہے میں نے جواب میں لکھ دیا ہے کہ میں کسی کو مشورہ نہیں دیا کرتا خط کے ختم پر لکھا ہے کہ اور کوئی بات قابل تحریر نہیں ـ میں نے لکھا ہے کہ یہ بھی قابل تحریر نہ تھی

ملفوظ 176: ڈانٹ ڈپٹ کے باوجود لوگوں کا حضرت سے چمٹنا

ڈانٹ ڈپٹ کے باوجود لوگوں کا حضرت سے چمٹنا ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت سمجھ میں نہیں آتا یہاں پر قدم قدم پر قید اور شرائط ہیں ـ ہر ہر بے عنوانی پر مواخذہ محاسبہ ہے ڈانٹ ڈپٹ ہے مگر لوگ ہیں ٹلتے نہیں فرمایا ایسی حالت میں اہل محبت اور اہل فہم ہی ٹھہر سکتے ہیں اور میرا مقصود ان سب چیزوں سے الگ اور دوسروں کی راحت ہے اور جو کچھ کہتا سنتا ہوں اس کا منشاء محبت اور آنے والوں کی احلاح ہے۔اگر یہ قیود اور شرائط اور ڈانٹ ڈپٹ نہ ہوتی تو یہاں پر ایک ہجوم ہوتا خصوص اہل دنیا کا ـ کوئی تعویذ نانگتا کوئی کچھ کوئی کچھ ـ یہ جو ضروری ضروری کام خدا کے فضل سے ہو گئے ہیں ـ ہجوم کی بدولت ان میں سے ایک بھی نہ ہوتا اس لئے ضرورت تھی ایسے قیود کی ـ اور اس ہی وقت میں آنے والوں کی بھی بحمداللہ خدمت ہوتی ہتی ہے ـ

ملفوظ 175: اپنے شیخ کے بارے میں کیا عقیدہ رکھے ؟

پنے شیخ کے بارے میں کیا عقیدہ رکھے ؟ ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت نے ان صاحب کے اس لکھنے پر کہ حضور مشرق مغرب ،جنوب و شمال تمام دنیا بھر کے بزرگ ہیں یہ تحریر فرمایا ہے کہ توبہ کرو توبہ ـ اور میں نے ایک مرتبہ ایک صاحب کے سامنے مسجد میں اس پر قسم کھائی تھی کہ دنیا میں حضرت سے بڑھ کر اس وقت اصلاح کے لئے کوئی رہبر نہیں تو کیا مجھ کو بھی توبہ کرنا چاہئے ـ مزاحا فرمایا کہ توبہ سے کیا ہوتا ہے کفارہ کی ضرورت ہے ـ فرمایا کہ حضرت حاجی صاحبؒ کا فیصلہ اس بارہ میں بہرتین فیصلہ ہے ـ وہ یہ ہے کہ اپنے شیخ کی نسبت یہ عقیدہ رکھے کہ زندہ بزرگوں میں میری کوشش ہے اس سے زیادہ مجھ کو نفع پہنچانے والا مجھ کو نہیں مل سکتا ـ حضرت حاجی صاحبؒ اس فن کے امام تھے مجتہد تھے اور وہ شان تھی جس کو مولانا فرماتے ہیں ؎ بینی اندر خود علوم انبیاء ٭ بے کتاب وبے معید واو ستا ترجمہ : تو اپنے اندر بغیر کسی مدد گار اور استاد کے علوم نبوت کا مشاہدہ کریگا ـ