شغال کچھ نہیں اصل اعمال ہیں ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ یہ تو اشغال ہیں اور اشغال میری نظروں میں کچھ بھی نہیں اصل چیز تو اعمال ہیں انکے اہتمام کی ضرورت ہے.
اقوال
ملفوظ 154: ذکر میں زبان کی طرف توجہ
ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ کیا ذکر کے وقت قلب ہی کی طرف متوجہ رہنا ضروری ہے اگر کبھی زبان کی طرف توجہ ہو جائے مضر تو نہیں فرمایا کہ کچھ تو توجہ زبان کی طرف بھی ضرور ہو گی مضرت کچھ نہیں لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا اور یہ غیر اختیاری ہے جس کا یہ مکلف نہیں ـ
ملفوظ 154: اس طریق میں قیل و قال سے کام نہیں چلتا
اس طریق میں قیل و قال سے کام نہیں چلتا ایک مولوی صاحب کے ایک سوال کے جواب میں فرمایا کہ اس طریق میں قیل و قال سے کام نہیں چلتا گو معلوم ہو جانا کسی علم کا اچھا ہے مگر وہ کیفیات کہاں جو اس راستہ کو طے کر کے منزل پر پہنچنے سے مشاہد ہوتی ہے ـ مثلا ایک شخص تو سفر کر کے بمبئی دیکھ کر آیا اور ایک آئے ہوئے سے وہاں کے حالات دریافت کرتا ہے دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے ـ اس کا صحیح طریق یہ ہے کہ وہاں پر پہنچ جانے کی کوشش کرے جس کیلئے راستہ بتلانے والے کی ضرورت ہوگی مگر جو اس راستے کے بتلانے والے ہیں ان کا یہ ادب ضروری ہے کہ اس سے ان کو کلفت نہ پہنچے یہ اس طریق میں بڑی ہی مضر چیز ہے ـ کیونکہ مدعیان محبت سے ذرا سی بھی کوتاہی ہو وہ گوارا نہیں ہوتی ـ اور یہ ایک فطری چیز ہے اس کا اثر ہوتا ہے اور میں کہتا ہوں کہ عقیدت اس قدر مطلوب نہیں ، عظمت اس قدر مطلوب نہیں جس قدر محبت کی ضرورت ہے اور یہ ہی زیادہ مطلوب ہے ـ گو عقیدت جو حدود کے درجہ میں ہو وہ بھی ایک درجہ میں مطلوب ہے مگر بڑی چیز جو ہے وہ محبت ہے ـ
ملفوظ 153: یہ طریق بہت ہی نازک ہے
یہ طریق بہت ہی نازک ہے ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ یہ طریق بہت ہی نازک ہے کسی محقق کی صحبت سے کچھ سمجھ میں آ جائے تو آ جائے ورنہ کتابوں سے پورا سمجھ میں نہیں آ سکتا اور نہ کام چل سکتا ہے جیسے طب کی کتابیں پڑھ کر بدوں ماہر فن کی صحبت میں رہے ہوئے مطب نہیں کر سکتا ـ اگر ایسا شخص کسی مریض پر ہاتھ ڈالے گا اس مریض کی خیر نہیں ـ اسی طرح مریض روحانی کی بھی خیر نہیں نہ معلوم ناقص کی تعلیم الٹ پلٹ تدابیر اختیار کر لے اور جائے نفع کے مضرت میں پھنس جائے اور کامل کی معرفت کیلئے ضرورت ہے کسی کامل کی شہادت کی ـ آجکل تو جہلاء مشائخ بنے ہوئے ہیں اس جہل کی بدولت طریق کو بدنام کر دیا ـ حق تعالی فہم سلیم عطا فرمائیں ـ
ملفوظ152: حضرتؒ کی نظر
حضرتؒ کی نظر ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت شیطان بھی آپ کا بڑا ہی دشمن ہے جس قدر تمام ہندوستان کے مسلمانوں سے دشمنی ہو گی اتنی اکیلے حضرت سے ہے کیونکہ حضرت اس کے مکرو فریب سے اللہ کی مخلوق کو آگاہ فرماتے رہتے ہیں وہ اس پر جلتا بھنتا ہو گا فرمایا کہ ممکن ہے مگر ساتھ ہی وہ مجھ کو نفع بھی بہت پہنچاتا ہے اس طرح سے کہ وہ لوگوں کو بہکاتا ہے وہ مجھ کو نا حق گالیاں دیتے ہیں اس پر صبر کرتا ہوں اللہ میرے گناہ معاگ فرماتا ہے اور درجات بلند کرتا ہے ـ
ملفوظ 151: “” بہتر از صد سالہ طاعت بے ریا ،، کا مطلب
“” بہتر از صد سالہ طاعت بے ریا ،، کا مطلب ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت ذرا اس کا مطلب بیان فرما دیں اس کا مطلب کیا ہے ؎ صحبت نیکاں اگر یک ساعت است ٭ بہتر از صد سالہ زہد و طاعت است (نیکوں کی صحبت اگر یک ساعت کیلئے میسر ہو جائے تو سو سالہ زہد و طاعت سے ( جو بغیر رہبر کامل کے ہو ) بہتر ہے ) ـ فرمایا مجھ سے تو آپ ہی بہتر سمجھنے والے ہیں مگر میں جو سمجھا ہوںوہ یہ ہے کہ کامل کی صحبت میں بعض اوقات کوئی گر ہاتھ آ جاتا ہے یا کوئی حالت ایسی قلب میں پیدا ہو جاتی ہے جو ساری عمر کے لئے مفتاح سوادت بن جاتی ہے یہ کلیہ نہیں بلکہ مہملہ ہے ہر وقت یا ہر ساعت مراد نہیں ـ بلکہ وہی وقت اور وہی ساعت مراد ہے جس میں ایسی حالت پیدا ہو جائےعرض کیا تو کیا ہر صحبت اس وجہ مفید نہ ہو گی ـ فرمایا کہ ہے تو یہی مگر کس کو علم ہے کہ وہ کون ساعت ہے جس میں یہ حالت میسر ہو گی ـ ہر صحبت میں اس کا احتمال ہے اسلئے ہر صحبت کا اہتمام چاہئے ـ اس سے ہر صحبت کا مفید اور نافع ہونا ظاہر ہے اور اس حالت کو صد سالہ طاعت کے قائم مقام بتلانے کو ایک مثال سے سمجھ لیجئے ـ اگر کسی کے پاس سوگنی ہوں تو بظاہر تو اس کے پاس امتعہ میں سے ایک چیز بھی نہیں مگر اگر ذرا تعمق کی نظر سے دیکھا جائے تو ہر چیز اس کے قبضہ میں ہے اسی طرح اگر وہ کیفیت اس کے اندر پیدا ہو گئی تو نظاہر تو خاص طاعات میں سے کوئی بھی چیز اس کے پاس نہیں مگر حکما ہر چیز ہے پس مراد اعمال پر قدرت ہونا ہے اسی سے سب کام اس کے بن جائیں گے اور اصل چیز وہی کام ہیں جن کی یہ مفتاح صحبت میں نصیب ہو گئی اگر وہ اعمال نہ کئے تو نری مفتاح کس مصرف کی ـ اسی لئے یہ کہتا ہوں کہ بدوں اعمال نہ کچھ اعتبار ہے اقوال کا نہ احوال کا نہ کیفیات کا ـ اس ہی لئے ان چیزوں میں سے کسی چیز میں بھی خظ نہ ہونا چاہئے اگر اعتبار کے قابل کوئی چیز ہے تو وہ اعمال ہیں اور اعمال بلا توفیق حق کے مشکل اور توفیق عادۃ موقوف ہے صحبت کامل پر اسی کو مولانا فرماتے ہیں ؎ قال را بگذار مرد حال شو ٭ پیش مردے کاملے پامال شو
ملفوظ 150: حضرتؒ کے یہاں دوسرے کے احوال باطنہ کی رعایت
حضرتؒ کے یہاں دوسرے کے احوال باطنہ کی رعایت ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ میں فقیہ نہیں ، محدث نہیں ، مجتہد نہیں ، مفسر نہیں ہاں ان حضرات کا نقال ہوں جن کو ان چیزوں میں کمال تھا ـ اللہ کا شکر ہے جب کوئی ضرورت پیش آتی ہے اپنے بزرگوں کی دعا سے اس کے متعلق ضروری علم حق تعالی قلب میں وارد کر دیتے ہیں یہ میرا کمال نہیں جس پر میں فخر کر سکوں یا سننے والا فخر سے تعبیر کر لے ـ بلکہ واقعہ ہے پھر اسی سلسلے میں احوال باطنہ کی رعایت کے متعلق فرمایا کہ میں یہاں تک وقت کا خیال رکھتا ہوں کہ اگر کسی پر کوئی حال وارد ہو ـ میں اس میں مزاحمت نہیں کرتا ـ مکہ معظمہ کا واقعہ ہے کہ ایک صاحب بیت اللہ کی طرف دیکھ کر مجھ سے ایک ایسی بات کہنے لگے کہ بظاہر قابل نکیر تھی ـ میں اس وقت موافقت تو کر نہیں سکتا تھا مگر مخالفت یا زجر بھی نہیں کیا ـ اور مخالفت نہ کرنے کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت ان کی حالت دیکھ کر میں سمجھ گیا کہ ان کا یہ عقیدہ نہیں ہے بلکہ حالت کا غلبہ ہے ـ موسیؑ اور چرواہے کا قصہ یاد آ گیا اس سے یہ سمجھ میں آیا کہ موسی علیہ السلام نے اس چرواہا سے جو مزاحمت کی تھی ـ آپ نے غایت غلبہ انتظام و حمیت دین سے اس وقت اس طرف توجہ نہیں فرمائی کہ مغلوب ہے اور عقل اور علم سے مسلوب ہے ـ مولانا رومیؒ اسی واقعہ کو اس طرح فرماتے ہیں ؎ ایں نمط بہیودہ میگفت آں شباں ٭ گفت موسی باکیست ای فلاں گفت با آں کس کہ مارا آفرید ٭ این زمین و چرخ از و آمد پدید گفت موسی ہائے خیرہ سر شدی ٭ خود مسلمان نا شدہ کافر شدی ایں چہ کفر ست این چہ ژاژ ست وفشار ٭ پنبئہ اندرد ہان خود فشار ( وہ چرواہا اسی طرح بہیودہ باتیں کہہ رہا تھا تو موسی عیلہ السلام نے فرمایا کہ اے شخص تو یہ کس کو کہہ رہا ہے چرواہے نے کہا کہ اس ذات کو جس نے ہم سب کو پیدا کیا ہے ـ اور یہ زمین و آسمان اسی ( کے پیدا کرنے ) سے ظاہر ہوئے ہیں موسیؑ نے فرمایا کہ ارے تو تو تباہ ہو گیا اور کافر ہو گیا ـ یہ کیا کفر اور بہیودہ اور فضول باتیں ہیں زبان بند کر ـ 12) یہ سنکر اس کے بدن میں سناٹا نکل گیا اور یہ کہا ؎ گف اے موسیؑ دہانم دوخستی ٭ وز پشیمانی تو جانم سوختی ( چرواہے نے کہا اے موسیٰ (علیہ السلام ) تم نے میری زبان سی دی اور پشیمانی کی وجہ سے میری جان جلا دی ـ 12) ـ وہاں سے موسیؑ کو ارشاد ہوا ؎ وحی آمد سوئے موسی از خدا ٭ بندہ مارا چرا کر دی جدا تو برائے وصل کردن آمد ی ٭ نے برائے فصل کردن آمدی ( موسی علیہ السلام کی طرف حق تعالی کی طرف سے وحی آئی کہ ہمارے بندہ کو (جو بوجہ مغلوب الحال ہونیکے اس حالت میں بھی ہمارا مقرب تھا ) ہم سے جدا کیوں کر دیا آپ تو ہمارے وصل (کی تعلیم) کیلئے آئے ہیں نہ کہ جدائی ڈالنے کیلئے ـ 12) ـ
ـ ملفوظ 149: بعض جگہ سکوت بھی عبادت ہے
بعض جگہ سکوت بھی عبادت ہے فرمایا ! کہ ہر جگہ ذکر ہی عبادت نہیں بلکہ بعض جگہ سکوت بھی عبادت ہے اس وقت میں اس کی دلیل کیلئے ایک حدیث پیش کرتا ہوں حدیث شریف میں آیا ہے کہ قرآن پاک کی تلاوت کے وقت جب اس درجہ استعجام ( جب پڑھنے میں گڑ بڑ ہونے لگے ـ 12 ) ہو جائے کہ کچھ کا کچھ نکلنے لگے اس وقت حکم ہے کہ سکوت اختیار کرو اس سے بعض اوقات سکوت کا ماموربہ ہونا اور ماموربہ ہونے کے سبب عبادت ہونا ثابت ہو گیا
لفوظ 148: اقتضائے طبعی کی وجہ سے عمل صالح کا صدور باعث ثواب ہے
اقتضائے طبعی کی وجہ سے عمل صالح کا صدور باعث ثواب ہے ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت اگر کوئی عمل نیک اقتضائے طبعی کی وجہ سے صادر ہو گیا وہ بھی موجب اجر ہوگا ـ فرمایا کہ جن اعمال کے ہم مکلف ہیں سب امور طبعیہ ہی کے مقتضا ہیں مگر طبیعت سلیم ہو اب چاہے وہ عمل اقتضائے طبعی کی وجہ سے ہو اجر ہوگا البتہ نیت و اختیار شرط ہے ـ
ملفوظ 147: “” کیا میں جا سکتا ہوں ،، کا محاورہ
“” کیا میں جا سکتا ہوں ،، کا محاورہ ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ میرے یہاں تو ایک یہ بھی مسقل تعلیم ہے کہ بات صاف کہو جیسے آج کل بولتے ہیں کہ کیا ایسا ہو سکتا ہے کیا مہمل بات ہے ـ یہاں پر ایک صاحب مہمان تھے دوسرے مہمان کو اسٹیشن پہنچانے کے لئے جانا چاہا تو جانے کے وقت مجھ سے کہنے لگے کہ کیا اسٹیشن جا سکتا ہوں ـ میں نے کہا کیوں نہیں جا سکتے خدا نے پیر دیے چلنے کو ـ آنکھیں دیں دیکھنے کو ـ قوت ارادیہ دی ارادہ کرنے کو ـ اس لئے آپ جا سکتے ہیں ـ یہ خرافات ہیں اور یہ عیسائیوں سے لیا ہے ان میں کوئی نیا محاورہ نہیں قدیم عیسائیوں نے کہا تھا ـ حضرت عیسی علیہ السلام سے ـ ھل یستطیع دبک ان ینزل علینا مائدۃ من السماء عیسائیوں سے مسلمانوں نے بھی یہ محاورہ سیکھ لیا ہے برا معلوم ہوتا ہے ـ

You must be logged in to post a comment.