ملفوظ 164: بیمار ہو کر بے فکر ہونا

بیمار ہو کر بے فکر ہونا اور حضرتؒ کی اپنے بارے میں رائے ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اگر کوئی بیماری ہو اور لوگ اس کو علاج سے بے فکر دیکھیں تو چاروں طرف سے لتاڑ پڑتی ہے جس سے وہ اپنی فکر میں لگ جاتا ہے ایسے شخص کی امید صحت کی ہوتی ہے افسوس تو اس شخص کی حالت پر ہے کہ تمام دنیا اس کو تندرست سمجھے ہوئے ہے اور وہ بیمار ہے دوسروں کے تندرست سمجھنے پر یہ بھی اپنے کو تندرست سمجھ بیٹھا ایسے مریض کے تندرست ہونے کی کیا امید ہو سکتی ہے ـ میں سچ عرض کرتا ہوں کہ جب میں دوسروں کے لئے کوئی تجویز کرتا ہوں اپنے سے بے فکر ہو کر نہیں کرتا ـ مستغنی ہو کر نہیں کرتا ـ بلکہ عین تجویز کے وقت برابر اس کا خیال رکھتا ہوں کہ مجھ سے کوئی زیادتی اس تجویز میں نہ ہو جائے اور اس شخص پر ذرہ برابر تنگی نہ ہو ـ اس پر مجھ کو سخت کہا جاتا ہے ہاں یہ دوسرے بات ہے کہ اجتہادی غلطی ہو جائے اس کے متعلق یہ ہے کہ قصد نہیں نیت نہیں ـ حق تعالی معذور خیال فرما کر امید ہے کہ معاف فرمائیں گے ـ 5 رمضان المبارک 1350ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم پنجشنبہ

ملفوظ 163: اپنی اصلاح کے طریقے سوچتے رہنا

اپنی اصلاح کے طریقے سوچتے رہنا فرمایا ! کہ جس طرح میں دوسروں کی اصلاح کے طرق سوچتا رہتا ہوں اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اپنی اصلاح کے طریق بھی سوچتا رہتا ہوں ـ مسلمان کو تو مرتے دم تک اپنی اصلاح کی فکر میں لگا رہنا چاہئے اس پر بھی اگر نجات ہو جائے تو سب کچھ ہے اس سے آ گے ہم کیا حوصلہ اور ہمت کر سکتے ہیں ـ باقی فضائل و مدارج تو بڑے لوگوں کی باتیں ہیں ـ ہم کو تو جنتیوں کی جوتیوں ہی میں جگہ مل جائے یہ ہی بڑی دولت ہے ـ جوتیوں پر یاد آیا کہ حضرت مولانا شہید صاحبؒ کی یہ حالت تھی کہ حضرت سید صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی مجلس میں شرکت کرنے کو اور ایک مجلس میں بیٹھنے کو خلاف ادب سمجھتے تھے ـ حضرت سید صاحب کی جوتیاں لئے ہوئے مؤخر مجلس میں بیٹھے رہتے تھے اگر کبھی بیٹھے بیٹھے کسل ہو جاتا وہیں جوتیاں سر کے نیچے رکھ کر لیٹ جاتے تھے جس وقت حضرت سید صاحب کی پالکی چلا کرتی تھی تو حضرت مولانا شہید صاحبؒ پالکی کے ساتھ دوڑا کرتے تھے اس کو اپنے لئے فخر سمجھتے تھے ـ چاندنی چوک میں کو پالکی جا رہی ہے اور آپ ساتھ دوڑ رہے ہیں ـ حالانکہ دہلی میں اس خاندان کے ہزاروں سلامی تھے مگر ذرہ برابر حضرت شہید صاحبؒ اس کی پرواہ نہ کرتے تھے کیا یہ حضرات خشک تھے ان کو خشک کہا جاتا ہے اصلاح یوں ہی ہوتی ہے آج ذرہ ذرہ بات پر ناگواری ہوتی ہے ـ غرض ہر شخص کو اپنی اصلاح کی فکر میں لگا رہنا چاہیے ـ مرتے دم تک یہی حالت رہے ـ عارف رومی فرماتے ہیں ؎ اندریں رہ می تراش ومی خراش ٭ تادم آخر دمے فارغ مباش تادم آخر دمے آخر بود ٭ کہ عنایت باتو صاحب سر بود ( اس راستہ میں بہت نشیب و فراز ہیں آخر دم تک ایک دم کیلئے بے فکر نہ ہو یہاں تک کہ اخیری وقت میں ایک وقت تم پر ایسا آئیگا کہ عنایت حق تم پر ہو جائے گی ـ 12) ـ

ملفوظ 161: حضرت حاجی صاحبؒ کی شان عبدیت

حضرت حاجی صاحبؒ کی شان عبدیت ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ ہمارے حضرت حاجی صاحبؒ کے انکسار اور شان عبدیت کا کیا ٹھکانہ ـ فرمایا کرتے تھے کہ حق تعالی کی ستاری ہے کہ میرے عیوب کو اہل نظر سے چھپا رکھا ہے یہ باتیں کہنے سے سمجھ میں نہیں آتیں مگر کہنا پڑتی ہیں جن پر یہ باتیں گزرتی ہیں وہی خوب جانتے ہیں یہاں قال سے کام نہیں چلتا یہاں ذوق کی ضرورت ہے اس انکسار کی ـ ایک مثال عرض کرتا ہوں ایک چمار کے پاس بادشاہ نے ایک لاکھ روپیہ کا موتی امانت رکھ کر فرمایا کہ اس کو حفاظت سے رکھو اب لوگ تو سمجھ رہے ہیں کہ بڑا مقرب ہے بڑا امین ہے اور ایسا سمجھنا ایک معنی کر ٹھیک بھی ہے اگر یہ بات نہ ہوتی تو ایسی قیمتی چیز اس کے کیسے سپرد کی جاتی ـ مگر میں جو عرض کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اس وقت اس چمار کی حالت قابل دیکھنے کے ہے وہ لرزاں ہیں اور ترساں ہیں راتوں نیند نہیں آتی کہ دیکھئے کہیں امانت میں کوئی کوتاہی نہ ہو جائے میرے وجود اور میری حیثیت سے زائد مجھ کو امانت سپرد کر دی گئی ـ اب اس پر اس کی دو حالتیں ہیں ایک شکر کی اور ایک خوف کی دونوں کو جمع کرنا اور اسکے حقوق بجا لانا آسان بات نہیں ـ واقعی یہ

ملفوظ 162: بعض حضرات سے عدم مناسبت کے واقعات

بعض حضرات سے عدم مناسبت کے واقعات ایک صاحب کی بے عنوانی پر حضرت والا نے ان کو خانقاہ میں آنے اور مکاتبت مخاطبت سے منع فرما دیا تھا ـ انہوں نے ایک مولوی صاحب کے واسطے سے معافی چاہی مولوی صاحب نے عرض کیا کہ فلاں شخص حضرت سے معافی کے خواستگار ہیں اور یہاں پر رہنے کی اجازت چاہتے ہیں اور بہت ہی روتے ہیں ـ فرمایا کہ وہ آنکھوں سے روتے ہیں میں دل سے روتا ہوں مگر کلفت کو کس طرح برداشت کروں خصوص ان سے جو مدعیان محبت ہیں جب ان سے ایسی کوئی بات ہو جو موجب کلفت ہو اس سے زیادہ تکلیف ہوتی ہے اگر آپ فرمائیں کہ کلفتیں اٹھا اور اذیتیں سہہ ـ میں اس کیلئے بھی تیار ہوں ـ آخر حضرت وحشی رضی اللہ عنہ کا واقعہ معلوم ہے کیا حضورؐ اس کے خلاف پر قادر نہ تھے ظاہر ہے کہ تھے مگر پھر بھی حضورؐ نے یہ فرمایا کہ تمام عمر اپنی صورت نہ دکھلانا مقصود یہ تھا کہ تمہاری صورت دیکھ کر چچا کا قتل یاد آ جاتا ہے اور اس سے تکلیف ہوتی ہے اور یہ تکلیف سبب تمہارے نقصان کا ہو گی ـ تو یہ حضور کا فرمانا حضرت وحشی ہی کی مصلحت سے تھا کہ ان کو دیکھ کر حضور ؐ کو کلفت ہوتی اس میں حضرت وحشی کا نقصان تھا ـ میں نے یہ واقعہ اپنے عذر کے لئے ایک صاحب کو لکھا تھا انہوں نے بھی ستایا تھا اور یہ بھی لکھا تھا کہ کہاں حضور اور کہاں ہم گندے ناپاک کوئی نسبت نہیں جب وہاں اتنا اثر ہوا اگر یہاں ہو تو کیا بعید ہے ـ وہ صاحب جواب میں لکھتے ہیں کہ حضرت وحشی رضی اللہ عنہ نے تو قتل کیا تھا ـ میں نے قتل تھوڑا ہی کیا ہے ـ میں نے جواب میں لکھا کہ حضرت وحشی رضی اللہ عنہ نے کفارہ بھی ایسا ہی زبردست کیا تھا کہ اسلام لے آئے تھے جس کی شان یہ ہے کہ یھدم ماقبلہ ( پچھلے گناہوں کو مٹا دیتا ہے ) اور تم نے اس درجہ کا کیا کفارہ کیا ـ ان صاحب کے جواب دینے پر فرمایا کہ آجکل تو بولنا کمال میں داخل ہو گیا ہے ایسے لوگوں سے یہ بھی امید نہیں ہوتی کہ کوئی بات کہی جائے اس کو سمجھ لیں گے پھر مفارقت کی تجویز کے متعلق فرمایا کہ حضرت خضر علیہ السلام اور موسی علیہ السلام کے واقعہ میں جس وقت حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا ھذافراق بینی و بینک ( یہ مجھ میں اور تم میں جدائی (کا وقت) ہے ) ایسے اولوالعزم پیغمبر یعنی موسیؑ نے کیا کسی معصیت کا ارتکاب کیا تھا ـ محض عدم مناسبت کی وجہ سے موسی علیہ السلام کو علیحدہ کر دیا ـ اس سے معلوم ہوا کہ اس تجویز کے لئے طالب کی معصیت شرط نہیں ـ ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت وہاں پر تو پہلے ہی شرائط طے ہو گئے تھے فرمایا اچھا یہ ہی سہی مگر یہ بتلایئے شرائط ہی کیوں طے ہوئے تھے اسی مناسبت و عدم مناسبت کے امتحان کے لئے تو طے ہوئے تھے ـ تو وہی بات رہی ـ عدم مناسبت کی ـ بالآخر موسی علیہ السلام کو ساتھ سے الگ ہونا پڑا نیز اب یہی طالب و شیخ میں بھی شرط ہوتی ہے وہاں صراحتہ تھی ـ یہاں دلالتہ جیسا مریض طبیب کے نسخہ میں چون وچرا نہیں کرتا ـ اور ایسا کرنے سے اگر وہ علاج چھوڑ دے اس پر کوئی ملامت نہیں کرتا ـ اس طریق میں تو چون و چرا سے کام چل ہی نہیں سکتا ـ بڑی ضرورت اس کی ہے کہ جس سے تعلق متابعت کا کیا جائے اس کو کلفت نہ پہنچائے اوریہ فکر اور غور سے ہو سکتا ہے مگر مشکل تو یہ ہے کہ لوگوں نے فکر اور غور کرنا ہی چھوڑ دیا ـ میں جیسے دوسروں کو نہیں ستاتا ـ یہ ہی دوسروں سے چاہتا ہوں کہ وہ مجھے نہ ستاویں ـ اس میں راز یہ ہے کہ عدم مناسبت کی وجہ سے کوئی نفع نہ ہوگا ـ اس کو میں ظاہر کر دیتا ہوں ـ اور ظاہر نہ کرنے کو خیانت سمجھتا ہوں کوئی فوج تھوڑا ہی جمع کرنا ہے عدم مناسبت کی صورت میں سب سے زیادہ اچھا اور سہل طریق یہ ہے کہ اصلاح کا تعلق کسی دوسرے سے کر لیں اور فوائد سننے کیلئے اگر چاہیں یہاں آ کر رہیں بذریعہ خط صرف میری خیریت معلوم کر لیا کریں دعا کیلئے لکھ دیا کریں مجھے خود قلق ہوتا ہے مگر کیا کروں میں بھی معذور ہوں خدمت سے تو انکار نہیں مگر خدمت طریقہ سے کی جاتی ہے ـ

ملفوظ 161: حضرت حاجی صاحبؒ کی شان عبدیت

حضرت حاجی صاحبؒ کی شان عبدیت ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ ہمارے حضرت حاجی صاحبؒ کے انکسار اور شان عبدیت کا کیا ٹھکانہ ـ فرمایا کرتے تھے کہ حق تعالی کی ستاری ہے کہ میرے عیوب کو اہل نظر سے چھپا رکھا ہے یہ باتیں کہنے سے سمجھ میں نہیں آتیں مگر کہنا پڑتی ہیں جن پر یہ باتیں گزرتی ہیں وہی خوب جانتے ہیں یہاں قال سے کام نہیں چلتا یہاں ذوق کی ضرورت ہے اس انکسار کی ـ ایک مثال عرض کرتا ہوں ایک چمار کے پاس بادشاہ نے ایک لاکھ روپیہ کا موتی امانت رکھ کر فرمایا کہ اس کو حفاظت سے رکھو اب لوگ تو سمجھ رہے ہیں کہ بڑا مقرب ہے بڑا امین ہے اور ایسا سمجھنا ایک معنی کر ٹھیک بھی ہے اگر یہ بات نہ ہوتی تو ایسی قیمتی چیز اس کے کیسے سپرد کی جاتی ـ مگر میں جو عرض کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اس وقت اس چمار کی حالت قابل دیکھنے کے ہے وہ لرزاں ہیں اور ترساں ہیں راتوں نیند نہیں آتی کہ دیکھئے کہیں امانت میں کوئی کوتاہی نہ ہو جائے میرے وجود اور میری حیثیت سے زائد مجھ کو امانت سپرد کر دی گئی ـ اب اس پر اس کی دو حالتیں ہیں ایک شکر کی اور ایک خوف کی دونوں کو جمع کرنا اور اسکے حقوق بجا لانا آسان بات نہیں ـ واقعی یہ

طریق بہت ہی نازک ہے ـ ہزروں سرمار کر بیٹھ گئے ، مگر منزل مقصود تک رسائی نہیں ہوئی اس میں رہبر کامل کی ضرورت ہے بغیر اس کا دامن پکڑے ہوئے اس راہ میں قدم رکھنا خطرہ ہی خطرہ ہے دیکھئے مثال سے کسی قدر سمجھ میں آ جائیگا ـ ایک انسان ہے عالم ہے محدث ہے مفسر ہے ، فقیہ ہے مجتہد ہے حافظ ہے قاری ہے نیک ہے حسین ہے تندرست ہے اور باوجود اس کے اس کو کسی کمال پر نظر نہ ہو کیا یہ سہل بات ہے البتہ جو کمالات اس کو عطا ہوئے ہیں ان پر خوش ہونا یا ان کا اقرار یہ بری بات نہیں لیکن ان کمالات کی بناء پر غیر اہل کمالات کی تحقیر کرنا یہ ہے نظر مذموم ـ اسی طرح یہ بھی نظر مذموم ہے کہ میں ان کمالات کی وجہ سے خدا کے نزدیک مقبول ہو گیا کیا خبر ہے ، مقبولیت وعدم مقبولیت کی لا تقف مالیس لک بہ علم ـ حضرت ممکن ہے کہ یہ تو سمجھ رہا ہے کہ میں مقبول ہوں اور وہاں مردود ہے اس کی ایسی مثال ہے کہ ایک عورت ہے جو خوب صورت بھی ہے لباس فاخرہ بھی ہے زیور سے بھی آ راستہ ہے ، سنگار کئے ہوئے ہے ، اور اس آرائش و زیبائش کی بناء پر سمجھتی ہے کہ میرا خاوند مجھے چاہتا ہے ـ مگر ساتھ ہی گندہ ذہنی میں مبتلا ہے اس لئے خاوند اس کی صورت دیکھنے کا بھی روا دار نہیں ـ اور ایک عورت ہے سانولی ـ کپڑے بھی میلے کچیلے زیور بھی اس کے پاس نہیں ـ مگر اس کی کوئی ادا خاوند کو پسند ہے وہ اس کو محبوب رکھتا ہے دل سے چاہتا ہے فرمائیے ! ان دونوں میں کچھ فرق ہے یا نہیں ـ یہ ہی مثال ہمارے کمالات کی ہے تو جس طرح گندہ ذہن عورت اپنے خاوند کی نظر میں مقبول ہونے کے غلط گمان میں مبتلا ہے یہی حالت کمالات کی بناء پر ہمارے گمان کی ہے ـ حاصل یہ ہے کہ یہ ظاہری کمالات دلیل مقبولیت کی نہیں ـ ممکن ہے کہ ہمارے اندر کوئی ایسی باطنی خرابی ہو جو میاں کو نا پسند ہو ـ فرمایا کہ باطنی خرابی کی شان کے متعلق کیا عرض کروں جو دل میں ہے کس طرح دوسروں کے دل میں ڈال دوں بعض اوقات سالک کی یہ حالت ہوتی ہے کہ باوجودیکہ یقین کے ساتھ یہ سمجھ رہا ہے کہ فرعون نے خدائی کا دعوی کیا اور میرا دعوی ہے عبدیت کا ـ وہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہنے کا مستحق ہے اور جنت میں رہنے کا امیدوار ـ اسلئے کہ امید تو  ہے ہی مسلمان ہونے کی وجہ سے اور امید رکھنے بھی چاہئے ـ وہ موسیؑ کا منکر اور میں تمام انبیاء علیہم السلام کا ماننے والا ـ مگر باوجودیکہ ان سب چیزوں کے حالا یہ سمجھتا ہے کہ فرعون مجھ سے لاکھ درجہ بہتر ہے اس لئے کہ ایک مرتبہ کے کلمے پڑھنے سے اس کا ادھر سے ادھرمعاملہ ہو جاتا ـ اور ایک منٹ میں اس کو نجات ہو سکتی تھی اور جس الجھن اور ضیق میں یہ اپنے کو مبتلا دیکھتا ہے یہ سمجھتا ہے کہ اگر ہزار برس میں بھی نجات ہو جائے تو غنیمت ہے اور اسی حالت میں لوگوں نے خود کشیاں تک کر لی ہیں وہ ضیق ایسا ہے کہ فوعون اس میں مبتلا نہ تھا محض کافر تھا ـ ایک مرتبہ کے کلمہ پڑھنے سے ایک منٹ میں مسلمان ہو سکتا تھا اور یہ شخص اپنی حالت کو اس سے زیادہ جانکاہ دیکھ رہا ہے تو ایسے شخص کی کہاں کمالات پر نظر ہو سکتی ہے اور کیا احوال ہوں گے اس کے سامنے اور کیا مقامات ہوں گے اس کی نظر میں وہ تو دوسری ہی ادھیڑ بن میں لگا ہوا ہے جس گرد اب میں یہ پھنسا ہوا ہے اگر اہل ظاہر کو اس کی یہ حالت منکشف ہو جائے تو کلیجہ پھٹ جائے مگر باوجود ان عقبات ( گھاٹیوں ) اور دشوار گذار راہوں کے جن کو حق تعالی نے فہم کامل اور ذوق سلیم عطا فرمایا ہے وہ اس کو اس راہ سے اس سہولت سے نکال کر لے جاتے ہیں کہ معلوم بھی نہیں ہوتا یا ادھر تھے یا ادھر ہو گئے ـ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ اس کو کچھ نہ کرنا پڑے گا کرنا ضرور پڑیگا مگر وہ گر ایسے ہیں کہ جو سخت سے سخت اور کٹھن گھاٹیوں کو پلک جھپکنے میں طے کرا دیں گے اور یہ باتیں محض زبانی بیان کرنے سے سمجھ میں نہیں آ سکتیں اس میں ضرورت کام کر کے دیکھنے کی ہے اس لئے کہ بعض باتیں وجدانی اور ذوقی ہیں ـ ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت ذوق کس طرح پیدا ہو ـ فرمایا اہل ذوق کی خدمت سے پیدا ہو سکتا ہے مولانا فرماتے ہیں ؎ قال را بگذار مرد حال شو ٭ پیش مردے کاملے پامال شو یہ تو جن پر گزرتی ہے ان کا ذکر تھا باقی ہم اس درجہ کے نہیں تو کم از کم اتنا تو کریں کہ خدا کی عطا کی ہوئی چیزوں سے نافرمانی اور عصیاں کا کام نہ لیں اگر انسان کچھ بھی نہ کر سکے تو اتنا تو کرے کہ حقوق واجبہ کا اہتمام اور منکرات سے اجتناب رکھے انشاء اللہ نجات کے لئے کافی ہے ـ حق تعالی عقل سلیم اور فہم کامل نصیب فرمائیں اسی عقل و فہم ہر مدار ہے دین کے سب کارخانہ کا ـ جس کو یہ نصیب ہو جائیں بڑی دولت ہے بڑی نعمت ہے ـ

ملفوظ 160: شیخ سے اپنی چیز استعمال کروا کے متبرک کرنا

شیخ سے اپنی چیز استعمال کروا کے متبرک کرنا ایک مولوی صاحب نے اپنی تسبیح حضرت والا کے سامنے پیش کر کے عرض کیا کہ حضرت اس پر پڑھ دیجئے گا برکت کیلئے اور ساتھ ہی میں یہ بھی عرض کیا کہ یہ بہت ہی سہل طریق ہے تبرک بنانے کا ۔ فرمایا کہ واقعی بہت اچھی تدبیر ہے یہاں تو نہیں ـ مگر عرب میں یہی طریقہ دیکھا ہے کہ شیخ سے اپنی چیز استعمال کرا کر اس کو تبرک بنا لیا جاتا ہے ـ ہمارے حضرت حاجی صاحبؒ کے یہاں ہندوستانی لوگ جو حج کو جاتے تھے تبرک مانگتے تھے حضرت کی یہ حالت تھی کسی کو تہبند اور کسی کو کرتہ اور کسی کو ٹوپی دے رہے ہیں ـ آخر کہاں تک کوئی انتہا نہ تھی بعض اوقات اس تقسیم کی بدولت حضرت کے پاس کپڑے نہ رہتے تھے عرب کا طریق نہایت ہی پسندیدہ ہے کہ اپنی چیز کو تبرک بنوا لیا جائے ـ

ملفوظ 159: نماز بلا حضور بھی بڑی دولت ہے

نماز بلا حضور بھی بڑی دولت ہے فرمایا ! کہ لوگوں کے قلوب میں اعمال کی قدر نہیں کسی غالی درویش نے نماز کی نسبت حضرت حاجی صاحبؒ سے عرض کیا تھا کہ حضرت جب دل متوجہ نہ ہو تو اس اٹھک بیٹھک سے کیا نتیجہ ـ اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ بعض لوگ کیسے گستاخ ہوتے ہیں ـ حق تعالی رحم فرمائیں کسی جرات کی بات ہے ایسے لوگوں کے دل میں خشیت کا نام نہیں معلوم ہوتا ـ حضرت حاجی صاحبؒ نے فرمایا کہ اسی اٹھک بیٹھک کی قیمت وہاں معلوم ہو گی کہ کس درجہ کی چیز ہے ـ فرمایا کہ یہی سب کچھ ہے اگر حق تعالی اسی کی توفیق عطا فرمائیں اور بلا حضور قلب ہی اٹھک بیٹھک ہو جایا کرے بڑی دولت ہے ـ

ملفوظ 158: فضول علمی تحقیق اور عمل سے غفلت

فضول علمی تحقیق اور عمل سے غفلت فرمایا ! کہ بعض اہل علم بھی آجکل بہت زائد فضولیات میں وقت بے کار کھوتے ہیں ضروریات سے غفلت ہے علمی تحقیقات بھی وہ کرتے ہیں جن کی تحقیقات سے کوئی نتیجہ نہیں آدمی کو ضروری کاموں میں لگ جانا چاہئے اور سب میں ضروری کام آخرت کی فکر ہے اگر ساری عمر بھی غیر ضروری چیزوں کو پتہ نہ لگے تو وہاں پر اس کا کوئی مواخذہ نہیں محاسبہ نہیں ـ ہاں یہ پوچھا جایئگا کہ کچھ کیا بھی یا نہیں ـ ایسی تحقیقات صرف علماء کا ایک مشغلہ ہے اور اس مشغلہ کی حقیقت اس سے زائد نہیں جیسے مریخ کی تحقیق میں لوگ پڑے ہوئے ہیں اور ہم خیال کرتے ہیں اس میں اور اس میں فرق ہی کیا ہے حضرت جس کو جو کچھ عطا ہوا ہے وہ عمل ہی کی بدولت تو ساری عمر اسی ادھیڑ بن میں لگا رہنا چاہیے کسی وقت بھی عمل سے بے فکر نہ ہونا چاہئے وہاں ان تحقیقات کو پوچھتا کون ہے ان تحقیقات پر ایک مثال یاد آئی ـ بالکل ایسی ہی مثال ہے جیسے طالب علموں کے کورس میں اقلیدس جس کی حقیقت سب جانتے ہیں کہ بعضوں کو عمر بھر بھی اس سے کام نہیں پڑتا ـ پس اگر ساری عمر بھی اس علم کو حاصل نہ کرے اور ایک شکل بھی اقلیدس کی نہ معلوم ہو حرج کیا ہے ـ اس اقلیدس کی شکل پر بیچ میں ایک حکایت یاد آ گئی ـ ماموں امداد علی صاحب رڑکی میں تھے بارش ہوئی کیچڑ ہو رہی تھی ـ ایک صاحب چھوٹے چھوٹے قدم رکھتے ہوئے جلدی جلدی چل رہے تھے ماموں صاحب بڑے ظریف تھے کہا کہ میاں سنبھل کر چلو کبھی گرنہ جاؤ ـ جواب میں کہتے ہیں کہ میں اقلیدس کے قاعدہ پر چلتا ہوں گر نہیں سکتا ـ اتفاق سے پیر پھسل گیا گر گئے ـ ماموں صاحب فرماتے ہیں کہ کیوں حضرت کون سی شکل بنی ـ رڑکی ہی کا ایک اور قصہ ماموں صاحب کا یاد آیا ـ دو واعظ ملے اتفاقی بات کہ دونوں موٹے تھے ـ اور پیٹ دونوں کے بڑے بڑے تھے ـ ملاقات کے وقت معانقہ کرنے لگے تو سینہ سے سینہ مشکل سے ملا ـ ماموں صاحب کیا فرماتے ہیں مولانا یہ تومعانقہ نہ ہوا مباطنہ ہو گیا یعنی پیٹ سے پیٹ مل گیا ـ فرمایا کہ میں یہ عرض کر رہا تھا کہ تحقیقات میں کچھ نہیں رکھا ضرورت عمل کی ہے چاہے وہ گھٹیا ہی درجہ کا ہو جیسے روٹی اچھی پکی ہوئی ہو ـ سنکی ہوئی اچھی ہو ـ چاہے وہ چھوٹی سی ٹکیہ ہی ہو اس سے کام چل جاتا ہے ـ

ملفوظ 157: تنظیم کا طریقہ

تنظیم کا طریقہ ایک مولوی صاحب نے ایک تحریر پیش کر کے حضرت والا سے مشورہ چاہا حضرت والا نے ملاحظہ فرما کر فرمایا کہ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر عوام اور خواص سب کسی ایک کے متبوع بنانے پر متحد متفق ہو کراس کام کو کریں تو تنظیم ہو سکتی ہے ـ متفرق کام کرنے سے کچھ بھی نہیں ہو سکتا ـ عرض کیا کہ متبوع کی تعیین کیلئے قرعہ ڈال لیا جائے ـ فرمایا اسی پر راضی ہو جائیں کہ قرعہ میں جس کا نام آ جائے گا اس کو مان لیں گے ـ مدار تو مان لینے پر ہے اس کے بعد تدابیر سب ہو سکتی ہیں ـ عرض کیا امید ہے کہ مان تو لیں گے فرمایا کہ جب یہ امید ہے تو آپ ہی اس کی ابتداء فرمائیں اور بھی شریک ہو جائیں گے ـ قبل اس کے کہ کام شروع ہو شریک ہونا نہ ہونا برابر ہے ـ

ملفوظ 156: بزرگوں کی زندہ دلی اور آجکل کا وقار

بزرگوں کی زندہ دلی اور آجکل کا وقار ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ ہمارے سب بزرگ زندہ دل تھے آپس میں ایک دوسرے سے مزاح بھی فرماتے تھے اور یہ متانت متعارفہ دلیل کبر کی ہے اور علامت ہے روح کے مردہ ہونے کی اور نفس کے زندہ ہونے کی اور خوش مزاجی دلیل ہے انکسار کی اور علامت ہے روح کے زندہ ہونے کی اور نفس مردہ ہونے کی ـ ایک شخص یہاں پر تھے وہ ذی علم بھی تھے مجھ سے ایک روز فرمایا کہ آپ کی فلاں فلاں بات وقار کے خلاف ہے ـ میں نے کہا میں تو پوچھتا ہوں کہ حضورؐ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ جو دوڑے تھے کیا یہ وقار کے خلاف ہے اگر نہیں تو آپ نے کبھی اس سنت پر عمل کیا ہے اپنی بیوی کے ساتھ روڑے ہوں اور میں نے بحمدالہ اس سنت پر عمل کیا ـ فرمایا کہ ایک ضروری بات یاد آئی حضور کے دوڑنے میں شبہ ہوتا تھا کہ مکان اس قدر وسیع کہاں تھا جس میں حضورؐ دوڑے مگر اب مسند احمد کی ایک روایت سے معلوم ہوا کہ یہ واقعہ سفر کی حالت میں تھا ـ حضورؐ ایک میدان میں حضرت عائشہ کے ساتھ پردہ کرا کر دوڑے تھے پھر ان صاحب نے کوئی جواب نہیں دیا چپ رہ گئے میں متانت اور وقار کو لئے پھرتے ہیں ـ5 رمضان المبارک 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم پنجشنبہ