ملفوظ 146: ایک ہندو کو روک ٹوک کا فائدہ

ایک ہندو کو روک ٹوک کا فائدہ ایک ہندو گنڈا بنوانے کی غرض سے حاضر ہوا اس کی بعض بد عنوانیوں پر حضرت والا نے روک ٹوک فرمائی ـ اس پر ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت یہ تو ہندو ہے اور ہے بھی جاہل تو ایسے لوگوں کی روک ٹوک سے کیا فائدہ ! اس کا تو کوئی فائدہ نہ ہوا اور حضرت کو روک ٹوک کی کلفت بڑھی فرمایا بحمد اللہ مجھے کوئی کلفت نہیں ہوتی بلکہ ایک خط ہوتا ہے کہ ان کی غلطی پر متنبہ کیا گیا اور فائدہ سے خالی نہیں ـ

وہ فائدہ یہ ہے کہ دوسری جگہ ایسی حرکت نہ کریں گے اور دوسرے کو تکلیف نہ دینگے ایک بات یہ ہے کہ اصول پر عمل کرنے سے خط ہوتا ہے اور بے اصولی سبب ہوتی ہے کلفت کا ـ سو میں وقایہ ہو گیا مسلمانوں کا ـ خصوص اپنی جماعت کا ـ عرٖض کیا کہ حضرت یہ معلوم ہوا کہ رحم بھی اپنے محل ہی پر کرنا چاہئے ـ بطور مزاح فرمایا کہ جی ہاں ! رحم اپنے محل میں ہو اس میں بھی خط ہوتا ہے ـ

ملفوظ 145: مریدی نجات کیلئے کافی نہیں

مریدی نجات کیلئے کافی نہیں فرمایا ! کہ ایک خط آیا ہے لکھا ہے کہ حضرت اپنے خدام میں داخل فرما لیں شاید اس ناکارہ کی نجات ہو جائے ـ میں نے جواب میں لکھ دیا ہے کہ اگر دوسری جانب کی شاید واقع ہو جائے تو کیا کرو گے ( مقصود طریق کلام کی تعلیم ہے کہ نجات کو خادم بننے پر متفرع کرنا مخدوش ہے )

ملفوظ 144: صاحب حال کو حال پر عمل کرنے سے نہ روکنا

صاحب حال کو حال پر عمل کرنے سے نہ روکنا فرمایا ! کہ میں کسی صاحب حال شخص کو اس کے حال کے اقتضاء پر عمل کرنے سے خواہ وہ حال ناقص ہی کیوں نہ ہو نہیں روکتا ـ اگر صاحب حال خود چاہے تو اس کی احلاح یا تعدیل کر دیتا ہوں ورنہ اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہوں ـ اور اس حال کی قدر کرتا ہوں اور قدر کرنی چاہئے بھی ـ اگر چیخنے کو جی چاہئے خوب چیخے اگر ہنسنے کو جی چاہے خوب ہنسے جو حال دار ہو اس کو اس وقت روکنا نہیں چاہیے ـ

ملفوظ 143: حضرتؒ پر تہمت اور حضرت کے چند مواعظ

حضرتؒ پر تہمت اور حضرت کے چند مواعظ ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ ایک صاحب مجھ سے حکایت بیان کرتے تھے کہ کاٹھیا واڑ میں میرے متعلق بعض عنایت فرماؤں نے یہ مشہور کر رکھا ہے کہ فلاں شخص حضورؐ پر ایمان لانے کو منع کرتا ہے ـ یہ سن کر میں بڑا خوش ہوا کہ تہمت بھی لگائی تو ایسی جس کو کوئی قبول ہی نہیں کر سکتا فرمایا کہ میرے چند وعظ ہیں جن کے یہ نام ہیں ـ النور ، الظہور ، السرور ، الحبور ،

الشذور ـ ان رسائل کو دیکھ کر کسی سجھ دار اور فہیم شخص کو یہ شبہ ہی نہیں رہ سکتا کہ میں حضور اقدس ؐ کی کوئی بے ادبی یا کسی قسم کی نعوذ باللہ تنقیص کر سکتا ہوں ـ السرور میں عید میلاد النبی پر پوری بحث کی ہے ـ اور الظہور میں عجیب بات ہے کہ مثنوی شریف سے آپ کے فضائل کو ثابت کیا ہے جس کا تعلق دیکھنے سے ہے باقی میں دعوی نہیں کرتا ـ قلیل العلم اور ضعیف الرائے کی رائے اور تحقیق ہی کیا ـ مگر اللہ تعالی کے فضل کو ظاہر کرتا ہوں ـ

لفوظ 142: کام سپرد کرنے سے پہلے اہلیت کی تحقیق

ام سپرد کرنے سے پہلے اہلیت کی تحقیق ایک مولوی صاحب نے ایک مدرسہ کے ارکان اور منتظمین کی کچھ انتظامی کوتاہیاں بیان کر کے حضرت والا سے مشورہ چاہا اور بعض خاص صورتیں پیش کر کے حکم شرعی دریافت کیا اس پر حضرت مولانا نے فرمایا کہ یہ انتخاب کی غلطی ہے قاعدہ یہ ہے کہ جس کے جو کام سپرد کیا جائے پہلے یہ دیکھ لیا جائے کہ یہ اس کام کی ذمہ داری کا اہل ہے یا نہیں یہ تو بے چارہ مدرسہ ہے بعض سلطنتیں اس غلطی انتخاب کی بدولت تباہ و برباد ہیں یہ جو کچھ آجکل ارکان سلطنت کو پریشانیاں ہو رہی ہیں اس کی ایک خاص وجہ یہ بھی ہے کہ اکثر احکام اہل نہیں وہ اپنے فرائض منصبی کو محسوس نہیں کرتے اور اگر بعض کرتے بھی ہوں تو اس کے انجام دہی میں غفلت سے کام لیتے ہیں ـ غرضیکہ سبب ان خرابیوں کا غلط انتخاب ہے ـ رہا حکم شرعی کے متعلق وہ یہ ہے کہ کتابوں میں مسئلہ دیکھ لیا جائے مجھ کو تو ان تحقیقات سے زیادہ مناسبت نہیں آپ حضرات مجھ سے زیادہ جاننے والے ہیں ـ

ملفوظ 141: اہل کمال کا استغناء اور سر سید کے دو واقعے

ہل کمال کا استغناء اور سر سید کے دو واقعے ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ بڑا شخص دین کا ہو یا دنیا کا ـ اس میں استغنا ضرور ہوتا ہے ـ مراد یہاں پر اہل کمال ہیں اہل مال نہیں اہل کمال کا حوصلہ بھی بڑا ہوتا ہے سر سید کا ایک واقعہ عجیب و غریب ہے ایک شخص انگریزی تعلیم یافتہ ملازمت نہ ملنے کی وجہ سے پریشان تھے کیا سوجھی کہ ایک بہت بڑے افیسر انگریز کے پاس پہنچے اور کہا کہ میں سر سید کا داماد ہوں مجھ کو ملازمت کی ضرورت ہے ـ وہ انگریز بہت ہی خاطر سے پیش آیا اور کہا کہ آپ ٹھہریں ان کو ٹھہرا کر ان کی لا علمی میں ایک تار سر سید کو دیا کہ فلاں شخص اس نام کا ہمارے پاس ملازمت کے خیال سے آیا ہے اور اپنے کو آپ کا داماد کہتا ہے کیا یہ واقعہ صحیح ہے جواب میں سر سید نے اس انگریز کو لکھا کہ بالکل صحیح ہے ضرور آپ ملازمت کی کوشش فرماویں ـ میں ممنون ہوں گا اس شخص کو ملازمت مل گئی ـ ایک روز اتفاقا اس انگریز نے اس شخص سے یہ واقعہ بیان کر دیا یہ بہت ہی شرمندہ ہوا ـ اور کچھ عرصہ کے بعد یہ شخص علی گڑھ آیا اور سر سید سے مل کر معافی کی درخواست کی ـ اور کہا کہ میں وہی شخص ہوں جس نے اپنے کو آپ کا داماد بتلا کر ملازمت لی ہے یہ گستاخی ہوئی ـ گو یہ گستاخی بضرورت تھی سر سید نے جواب میں کہا کہ گو یہ بات اس وقت غلط تھی مگر اب صحیح ہو جائے گی ـ داماد کہتے ہیں بیٹی کے شوہر کو ـ اس کی ایک صورت تو یہ تھی کہ میری بیٹی آپ کی بیوی ہوتی سو یہ تو ہو

نہیں سکتا ـ مگر دوسری صورت ممکن ہے کہ آپ کی بیوی کو میں اپنی بیٹی بنا لوں ـ سو میں آپ کی بیوی کو اپنی بیٹی بناتا ہوں وہ میری بیٹی اور میں اس کا باپ ـ پھر یہ توجیہ وقتی ہی نہ تھی ـ بلکہ تا زندگی باپ بیٹی اور داماد ہی کا سا برتاؤ رکھا بلانا لینا دینا سب اسی طرح رکھا تو یہ حوصلہ بڑے ہونے کے سبب تھا ـ گو وہ بڑائی دنیوی ہی تھی ـ یہ حکایت سن کر ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت نے یہ حکایت سنی ہے یا لکھی دیکھی ہے فرمایا سننا اور لکھی ہوئی دیکھنا اس میں فرق ہی کیا ہوا اس لئے کہ وہ لکھی ہوئی بھی تو کوئی سن کر ہی لکھتا ـ دوسری ایک حکایت انہیں کی یاد آئی کہ ایک مرتبہ علی گڑھ کے اسٹیشن پر ریل میں سر سید سوار ہوئے اسی ڈبہ میں ایک اور صاحب پہلے سے سوار تھے انہوں نے ان سے دریافت کیا کہ یہ کونسا شہر ہے سر سید بولے کہ علی گڑھ یہ سن کر وہ صاحب کیا کہتے ہیں کہ وہی علی گڑھ جہاں سر سید ( ایسا تیسا ) رہتا ہے سر سید کہتے ہیں کہ جی ہاں ! وہی علی گڑھ وہ صاحب کہتے ہیں کہ وہ تو بڑا ہی ایسا ہے ویسا ہے خوب برا بھلا کہا اس نے بڑا ہی دین کو نقصان پہنچایا سر سید نے کہا جی ہاں وہ ایسا ہے ـ یہ صاحب اور زیادہ کھلے اور کئی اسٹیشن تک تبرا کرتے چلے گئے ـ سر سید کو ذرہ برابر تغیر نہیں ہوا ـ تصدیق کرتے رہے ـ آخر ایک اسٹیشن پر ان تبرا کرنے والے صاحب نے کھانا کھانے کے لئے نکالا جب کھانے بیٹھے تو ان کی بھی تواضع کی ـ سر سید نے جواب دیا کہ آپ کھائیں انہوں نے کہا کہ مصنوعی تواضع نہیں ـ آ جائیے ! سر سید نے پھر ٹالا انہوں نے پھر اصرار کیا کہ میری دل شکنی ہو گی ـ سر سید نے کہا کہ مجھ کو کچھ عذر ہے انکا اس پر بھی اصرار ہوا سر سید نے پھر کہا واقعی مجھ کو عذر ہے انہوں نے کہا وہ عذر کیا ہے ـ بتلائیے ! سر سید نے کہا کہ بتلانے کا نہیں ہے انہوں نے کہا کہ بتلانا ہوگا سر سید نے کہا کہ اگر بتلا دوں تو اس وقت تو آپ کھانا کھلانے پر مصر ہیں اور معلوم ہو جانے کے بعد تو شاید میری صورت دیکھنا بھی گوارا نہ کریں گے ـ انہوں نے کہا کہ توبہ توبہ ایسی کیا بات ہے اور آپ کیوں ایسا فرماتے ہیں ـ تب سر سید نے کہا کہ میں ہی ہوں وہ شخص جس پر آپ کئی اسٹیشنوں سے تبرا بھیجتے چلے آ رہے ہیں ـ یہ سن کر وہ

صاحب کٹ ہی تو گئے بے حد ندامت اور شرمندگی سوار ہوئی ـ معافی چاہی نتیجہ یہ ہوا کہ معتقد ہو گئے ـ باوجود اس کے کہ سر سید ایک دنیا دار شخص تھے مگر استغناء اور حوصلہ تھا ـ مگر آجکل اہل کمال تقریبا مفقود نظر آتے ہیں نہ دنیا داروں میں نہ دینداروں میں ـ الاماشاء اللہ عالم بھی ہیں ، شیخ بھی ہیں ، صوفی بھی ہیں ، عارف بھی ہیں ، زہد و تقوی کا بھی دعوی ہے یہ تو سب کچھ ہے مگر استغناء اور حوصلہ نہیں ہے ـ

ملفوظ 140: استغناء اور کبر میں فرق معلوم کرنے کا آسان طریقہ

استغناء اور کبر میں فرق معلوم کرنے کا آسان طریقہ ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت کسی کو خیال تو یہ ہو کہ میں مستغنی ہوں اور واقع میں اس میں کبر ہو اس کا کیا علاج ہے ـ فرمایا اس کے کئی طرق ہیں ـ معلوم کرنے کے اپنے مربی سے حالت بیان کرکے حل کر لے ـ یہ باتیں کلیات یبان کرنے سے سمجھ میں آ نہیں سکتیں واقعات جزئیہ سے مصلح خود سمجھ لے گا ـ 4 رمضان المبارک 1250ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم چہار شنبہ

ملفوظ 139 : خانقاہ تھانہ بھون اور حضرت حاجی صاحبؒ کی نشست

خانقاہ تھانہ بھون اور حضرت حاجی صاحبؒ کی نشست مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت حاجی صاحبؒ اسی جگہ بیٹھتے تھے جس جگہ حضرت بیٹھتے ہیں فرمایا کہ نہ معلوم ہے کہ اور نہ کبھی تحقیق کی ـ اتنا ضرور معلوم ہے کہ بیٹھنے کی جگہ یہی سہ دری ہے ـ اس سہ دری کے متعلق مختلف اجزاء مختلف لوگوں سے سنے منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ یہاں پر پہلے یہ سہ دری نہ تھی ـ بلکہ ایک میدان تھا اس میں کچھ درخت تھے ایک درویش تھے ـ

حسن شاہ نامی انہوں نے یہاں پر قیام کر لیا تھا درویش تو وہ ایسے ہی تھے سماع وغیرہ کا بہت شوق تھا ـ مگر جب حضرت حاجی صاحبؒ نے یہاں پر آںا شروع کیا تو حسن شاہ یہاں سے اٹھ کر شاہ ولایت صاحب میں چلے گئے ـ حضرت نے کبھی اس کے متعلق کچھ نہیں فرمایا ـ یہ محض ان کا ادب تھا کہ بدوں حضرت کے فرمائے ہوئے چل دیے ـ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ نرے کورے ہی نہ تھے ـ پہلے تو یہ لوگ بھی اللہ اللہ کرنے والے تھے ـ اسکا یہ اثر ہوتا تھا اور اب تو کثرت سے فاسق فاجر نفس پرست ہونے لگے ہیں ـ دین کے ساتھ تمسخر کرتے ہیں نہ علم کا ادب نہ اہل علم کا ادب ، نہ شریعت مقدسہ کا قلب میں احترام ، بالکل آزاد ، نہ خدا کے نہ رسول کے جو جی میں آتا ہے کرتے ہیں پہلے درویش علم اوراہل علم اور شریعت مقدسہ کا احترام کرتے تھے ۤـ گو بظاہر بعض حدود سے متجاوز ہوتے تھے مگر ان کے باطن میں شریعت کا ادب و وقعت و عظمت و احترام ہوتا تھا ـ اب تو نہ معلوم کیا ان لوگوں پر بلا نازل ہوئی ہے قطعا حس نہیں ان کی حرکات سن سن کر افسوس ہوتا ہے جھوٹے جھوٹے مسائل جھوٹی جھوٹی روایتیں گھڑ رکھی ہیں خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں ـ عوام بھی ایسے ہی مکاروں کے معتقد ہو جاتے ہیں ـ جتنا جس کو خلاف شریعت دیکھتے ہیں اتنا ہی کامل سمجھتے ہیں ان کے یہاں بزرگی کے لوازم میں سے ہے کہ خلاف شریعت ہو ـ نہ نماز ہو نہ روزہ چاروں ابرو کا صفایا ہو ـ لنگوٹا بندھا ہو وہ درویش ہے ـ صوفی ہے کامل ہے ولی ہے قطب ہے غوث ہے ـ لاحول ولاقوۃ الاباللہ ـ مولانا ایسوں ہی کے بارے میں فرماتے ہیں ؎ کار شیطان میکنی نامت ولی ٭ گر ولی این ست لعنت برولی (تو کام شیطان کے کرتا ہے اور نام تیرا ولی ہے ـ اگر ولی یہی ہے تب ( تو ) ولی پر لعنت ( مطلب یہ ہے کہ ایسے کو ولی کہنا یہی عظیم غلطی ہے 12) غرضیکہ میں یہ بیان کر رہا تھا کہ حسن شاہ خود ہی اس مسجد کو چھوڑ کر شاہ ولایت میں چلے گئے ـ اس کے بعد یہ سہ دری تیار ہوئی اس کا بھی عجیب واقعہ ہے یہاں ایک خاندان تھا ان کے پاس کچھ زمین تھی وہ شاہی زمانہ سے معافی میں تھی انگریزوں نے اس پر مال گزاری لگا دی ـ اس پر

ان لوگوں نے مقدمہ لڑایا اس میں بھی نا کام رہے تو ہائیکورٹ میں اپیل کی ـ حضرت میاں جی صاحبؒ تھانہ بھون تشریف لایا کرتے تھے ان سے دعا کیلئے عرض کیا کہ حضرت ! دعا فرمائیں ـ یہ مقدمہ اپیل میں ہمارے حق میں کامیاب ہو جائے فرمایا کہ ہمارے حاجی کو بیٹھنے کی تکلیف ہے یہاں پر ایک سہ دری بنوا دو ہم دعا کریں گے عرض کیا کہ بہت اچھا ! حضرت نے دعا فرما دی اور وکیل نے اطلاع دی کہ کامیابی ہو گی مالگذاری معاف ہو گئی ـ ان لوگوں نے حضرت میاں جی صاحب کو بھی خبر کی حضرت نے فرمایا وعدہ بھی یاد ہے اب ان لوگوں کو خیال ہوا کہ دعا تو کر ہی چکے ـ عرض کیا کہ حضرت پورے مصارف کا تو تحمل نہیں جو کچھ اس سہ دری میں صرف ہو گا اس کا نصف صرفہ ہم لوگوں کے ذمہ ہے فرمایا بہت اچھا نصف ہی سہی بڑے خوش ہوئے کہ آدھے میں کام بن گیا پھر جو باقاعدہ اطلاع آئی تو وہ یہ تھی کہ سائل کی حین حیات تک معاف اور پھر ضبچ ! بڑے گھبرائے اور پھر حضرت میاں جی صاحبؒ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ حضرت یہ کیا ہوا ـ فرمایا تم نے ہی تو کہا تھا کہ نصف میں نے بھی نصف منظور کر لیا کام بھی نصف ہی ہو گیا ـ عرض کیا کہ حضرت ہم پوری سہ دری بنوا دیں گے ـ فرمایا جاؤ اب کیا ہوتا ہے ـ اس صورت سے یہ سہ دری تیار ہوئی فرمایا کہ عذر کے زمانہ میں اس سہ دری میں بھی آ گ لگا دی گئی تھی ـ اس حجرہ کا در اور کواڑ پر اب تک جلے ہوئے کا اثر ہے ـ یہ حضرت حاجی صاحبؒ کے زمانہ ہی کے ہیں لوگوں نے مجھ سے کہا بھی کہ ان کو بھی نکلوا دو ـ میں نے کہا کہ نہ بھائی اس کو میں نہ نکلواؤں گا ـ اور یہ اس خیال سے کہ ان کو حضرت کا ہاتھ بھی لگا ہو گا کبھی کبھی حجرہ میں آتے جاتے میرا خود بھی سر لگ جاتا ہے ــ ہاں چھت اس حجرہ کی بالکل ہی جل چکی تھی اس کو بدلوا دیا گیا اور نئی کڑیاں ڈلوا دیں ـ ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ جس جگہ بزرگ رہتے ہیں اس جگہ میں ایک خاص برکت اور نور ہوتا ہے فرمایا میں نے خود حضرت حاجی صاحبؒ کا مقولہ سنا ہے ـ فرمایا کرتے تھے کہ جائے بزرگاں بجائے بزرگاں ـ واقعی برکت ضرور ہوتی ہے فرمایا کہ حضرت مولانا شیخ محمد صاحبؒ فرمایا کرتے تھے کہ حضرت حاجی صاحبؒ جب حج کو تشریف لے گئے تھے ان کی جگہ بیٹھ کر ذکر کرتا تھا تو زیادہ انوار و برکات محسوس ہوتے تھے اور جگہ میں یہ بات نصیب نہیں ہوتی یہ تو مشاہدہ ہے ـ

ملفوظ 138: سب بزرگوں کی جوتیوں کا صدقہ ہے

سب بزرگوں کی جوتیوں کا صدقہ ہے ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت جو چیز بیان فرماتے ہیں ماشاءء اللہ بے غبار ہوتی ہے نہ اس پر کوئی شبہ وارد ہوتا ہے اور نہ شک رہتا ہے ـ فرمایا کہ میرا کوئی کمال نہیں مجھ کو تو کچھ یاد بھی نہیں ـ یہ سب اپنے بزرگوں کی جوتیوں کا صدقہ اور حق تعالی کا فضل ہے اور آپ کا حسن ظن ـ

لفوظ 137: آیت وللہ العزۃ ولرسولہ وللمؤمنین کا مطلب

آیت وللہ العزۃ ولرسولہ وللمؤمنین کا مطلب ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت وللہ العزۃ ولرسولہ وللمومنین سے کہاں کی عزت مراد ہے اور کیا اس کا مفہوم سابقین ہی پر ختم ہو گیا ـ فرمایا کہ مناط (اصل ) عزت تو مسلمان ہی کو حاصل ہے اور وہ عزت آخرت کی ہے اسلئے کہ یہاں پر تو خلاف کا وقوع بھی ہوتا رہتا ہے جس عزت کو حق تعالی فرما رہے ہیں وہ عزت آخرت ہی کی ہے کہ وہاں کمال عزت کا درجہ مسلمانوں ہی کو عطا فرمایا جائے گا اور کفار کو انتہائی ذلت کا سامنا ہوگا