قرآن مجید کو بوسہ دینا سوال ” حضرت ! قرآن شریف ہاتھ میں لے کر اس کو بوسہ دینا پیشانی سے لگانا جائز ہے یا نہیں ؟ جواب : فرمایا کیا حرج ہے عرض کیا کہ ایسا کرنے کو بہت جی چاہتا ہے فرمایا کہ جی چاہنے کی تو چیز ہے ہی اور تقبیل کو تو فقہاء نے بھی جائز کہا ہے ـ
اقوال
ملفوظ 135: حضرت حاجی صاحبؒ کے انتقال پر حضرت گنگوہیؒ کی حالت
فرمایا ! کہ حضرت حاجی صاحبؒ کو اللہ نے ایک حجت پیدا کر تھی ان کو اگر حجت اللہ فی الارض کہا جائے تو کوئی مضائقہ نہ ہوگا جس وقت حضرت گنگوہیؒ حضرت حاجی صاحبؒ کی وفات کی خبر ملی ہے کئی روز تک حضرت گنگوہیؒ دست آتے رہے اس قدر صدمہ اور رنج ہوا تھا ـ بظاہر یہ معلوم نہ تھا کہ اس قدر محبت حضرت کے ساتھ ہو گی ـ حضرت گنگوہیؒ حضرت کی نسبت بار بار رحمتہ للعالمین فرماتے تھے ـ ایک صاحب نے حضرت حاجی صاحبؒ سے عرض کیا کہ حضرت کتابوں میں بھی آپ کا نام ہے ( کسی عبارت میں ایسا جملہ تھا کہ بامداد اللہ ایسا ہوا ) فرمایا کہ اگر کوئی ہم سے اعراض کرے کم بختی نہ آ جائے ـ حضرت وہاں نہ جبہ تھا نہ خاص لباس تھا ـ دیکھنے سے تھانہ بھون
ملفوظ 134: اکثر مشائخین کے مقربین کا حال
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ مشائخ کے یہاں جو مقربین بصیغہ اسم مفعول ہوتے ہیں ان میں ایک دو مقربین بصیغہ اسم فاعل بھی ہوتے ہیں ہر وقت شیخ کو اور دوسرے متعلقین کو کرب میں رکھتے ہیں جھوٹ سچ لگاتے رہتے ہیں جس سے چاہا شیخ کو ناراض کر دیا جس چاہا راضی کر دیا ـ بحمداللہ ہمارے بزرک اس سے صاف ہیں ـ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمتہ اللہ علیہ تو کسی کی شکایت سنتے ہی نہ تھے ـ جہاں کسی نے کسی کی شکایت کی ـ فورا منع فرما دیا کرتے تھے کہ خاموش رہو ـ میں سننا نہیں چاہتا اس کے بعد کسی ہمت ہی شکایت کی نہ ہوتی تھی ـ اور حضرت حاجی صاحبؒ سن کر فرما دیتے تھے کہ تم نے جو کچھ بیان کیا اور فلاں شخص کی شکایت کی سب غلط میں جانتا ہوں اس شخص کو وہ ایسا نہیں ایک صاحب نے حضرت گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ کا اس بارہ میں کیا معمول تھا ـ فرمایا کہ ایک صاحب نے حضرت سے سوال کیا تھا کہ آپ سے لوگ دوسروں کی شکایت بیان کرتے ہیں آپ پر کوئی اثر ہوتا ہے ؟ فرمایا کہ ہوتا ہے اور وہ یہ کہ میں یہ سمجھ لیتا ہوں دونوں میں رنجش ہے مگر سن لیتے تھے سب ـ
ملفوظ 133: یہاں نہ انگریزی کی پالیسی ہے نہ فارسی کی پالیسی
ملفوظ 133: یہاں نہ انگریزی کی پالیسی ہے نہ فارسی کی پالیسی کسی خود رائے کی کسی درخواست کے جواب میں اس درخواست کی منظوری کا خاص طریقہ بتلایا تھا وہ اس کو ٹالنا سمجھے ـ اس واقعہ کو بیان کر کے سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جب میں نے انکار نہیں کیا بلکہ اس کا اہتمام کیا اور طریقہ بتلایا پھر اس کو عذر کہنا ٹالنا سمجھنا کذب و بہتان ہے میں ان کے مقصود کی تکمیل کو تیار تھا مگر اس کا وعدہ بیان کیا تھا ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ جس طرح ہم نقشہ جما کر لائے ہیں دوسرا ذرا اس کے خلاف نہ کرے ـ اس کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ ہماری غلامی کرو جو ہم کہیں اسکے خلاف مت کرو کیا یہ کام لینے کا طریقہ ہے یہ تو اچھی خاصی حکومت کرنا ہے میں چھوٹا ہوں یا بڑا مگر بے اصول معاملہ تو چھوٹوں کے ساتھ بھی برا ہے یہی نہیں کہ چھوٹے ایسی بات نہ کریں جس سے بڑوں کو رنج ہو بلکہ بڑوں کو بھی ایسی بات نہ کرنا چاہئے جس سے چھوٹوں کو تکلیف پہچے ـ شریعت میں تو ( آدمی تو بڑی چیز ہے اور وہ بھی مسلمان ) جانوروں اور کافروں کے حقوق کی بھی تعلیم ہے اس کا آجکل قطعا خیال نہیں کہ ہم سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے اپنی غرض اپنا کام ہر شخص پورا کرنا چاہتا ہے دوسرے کا چاہے کچھ ہی حشر ہو اور خواہ وہ بات اصول اور
ہ ملفوظ 132: سب سے بڑا مجاہدہ کامل کے سامنے مٹنا ہے
فرمایا ! کہ سلف میں مشائخ بڑے بڑے مجاہدے اور ریاضتیں مریدین سے کراتے ہیں کتابوں میں دیکھنے سے حیرت ہوتی ہے اس وقت قوی لوگوں کے اچھے تھے عمریں بھی بڑی ہوئی تھیں اب نہ قوی ہیں اور نہ عمر ـ جو بات اس زمانہ میں معتد بہ مجاہدات کے بعد حاصل ہوتی تھی یعنی قوت بہیمیہ کا کمزور ہو جانا وہ آجکل بلا مجاہدات کے حاصل ہے مگر یہ سن کر کوئی خوش فہم صاحب یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ واقع میں مجاہدہ کی ضرورت نہیں ضرورت ہے مگر اسی درجہ کی جس درجہ کی قوت بہیمیہ ہے اور بڑا مجاہدہ یہ ہے کہ کسی کامل کے سامنے اپنے کو پا مال کر دے مولانا فرماتے ہیں ؎ قال را بگذار مرد شو ٭ پیش مرد کاملے پا مال شو ( قال کو چھوڑ ـ مرد حال ہو جا ـ اور کسی کامل کے سامنے ہو جا ) اور فرماتے ہیں ؎ صحت ایں حس بجوئید از طبیب ٭ صحت آں حس بجوئید از حبیب صحت ایں حس ز معموری تن ٭ صحت آں حس ز تخریب بدن
ملفوظ 131: مدارس کے طلباء پر ایک صاحب کے اعتراض کا جواب
فرمایا ! ایک صاحب کا خط آیا ہے چند سوالات لکھے ہیں جن کا نہ سر نہ پیر ـ اخیر میں سب کے لکھتے ہیں کیا حکم ہے یہ انگریزی خواں معلوم ہوتے ہیں طرز تحریر بتلا رہی ہے میں نے لکھ دیا ہے
ملفوظ 130: اپنے بچے کو عربی پڑھاؤں یا انگریزی ؟
فرمایا ! کہ ایک صاحب نے خط کے ذریعہ مشورہ چاہا ہے کہ میں اپنے لڑکے کو انگریزی پڑھاؤں یا عربی ـ میں نے جواب میں لکھ دیا کہ اپنی ہمت دیکھو لو ! فرمایا کہ اس لکھنے میں مصلحت یہ ہے کہ میں کیوں اپنے اوپر احسان کرواؤں یہ کہنے کو ـ کہ فلاں کے کہنے سے انگریزی نہیں پڑھائی اپنے دین کے آپ خود ذمہ دار ہیں ـ آخر یہ کون سی پوچھنے کی بات تھی جس وجہ سے مجھ سے مشورہ کر رہے ہیں ـ خود ان کو محسوس ہو سکتا ہے پھر مشورہ کے کیا معنی سوائے احسان رکھنے کے ـ مجھے تو بڑی غیرت آتی ہے ایسی باتوں سے جنت میں تو جائیں گے خود اور احسان ملانوں پر ـ عجیب مذاق ہے ـ
ملفوظ 129: غیر محقق پیر کے مریدوں کی اصلاح میں مشکل ہوتی ہے
فرمایا ! کہ ایک خط آیا ہے منجملہ اور باتوں کے یہ بھی لکھا ہے کہ میری یہ حالت ہے کہ
ملفوظ 128: ایک بزعم خود عالم شخص کا حال
ایک مولوی صاحب نے عرض کیا مجھ میں کوئی بھی قابلیت نہ تھی دوسروں سے مضمون لکھوایا کرتا تھا کسی علم میں بھی اس کو مہارت نہ تھی نہ فارسی میں نہ عربی میں ـ اس پر عربی دانی کا دعوی کرتا تھا اس کی کتابیں دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کے بے سروپا باتیں ہانکتا ہے ـ اس پر حضرت والا نے فرمایا کہ اس کی عربی دانی کی حقیقت اس سے زیادہ نہیں جیسے دو بی بی انیہٹہ سے حج کو گئیں تھیں ـ اتفاق سے ان میں سے ایک کا بچہ گم ہو گیا وہ بدوی سے کہتی تھی کہ بچہ گم ہو گیا اس کو ڈھونڈو ـ بدوی اردو سمجھتا نہ تھا یہ اپنی زبان میں کہتی تھیں وہ سمجھتا نہ تھا اس پر آپس میں لڑائی ہونے لگی تو دوسری بی بی بولیں کہ تو ہٹ ! میں سمجھاؤں گی تجھے عربی بولنی نہیں آتی ـ یہ بی بی بدوی سے کہتی ہیں “” شیخ ھذا بی بی کا پوت نہیں آیا ،، یہ ہی حالت اس شخص کی عربی دانی کی تھی ـ نہایت بد فہم اور کم عقل تھا ـ اس کی وجہ سے بڑی ہی گمراہی کا باب مفتوح ہوا خود تو گمراہ ہوا ہی تھا اوروں کو بھی پھانس گیا لوگوں کی حالت بھی عجیب ہے کہ کوئی کیسا ہی ہو لبیک کہہ کر ساتھ ہو لیتے ہیں ـ پیشین گوئیاں کثرت سے جھوٹی ہوئیں فلاں مولوی صاحب سے شکست کھائی مگر بے حیائی کا کیا علاج ایسی موٹی موٹی باتوں کے بعد بھی لوگ معتقد ہیں
ملفوظ 127: سادگی اور تصنع
فرمایا ! کہ سادگی بھی عجیب برکت کی چیز ہے ایسے شخص کو بہت سی کلفتوں سے نجات ہو جاتی ہے تصنع کا اہتمام ہزاروں کلفتوں کو خریدتا ہے ـ ایک حکایت یاد آئی ایک بزرگ تھے کہ نہایت سادہ ان کا خط نہایت درجہ خراب تھا ـ اتفاق سے بازار سے گزر رہے تھے کہ کسی کی دکان پر ان سے بھی زیادہ برے خط کی ایک کتاب نظر سے گزری بڑی قیمت دیکر اس کو خریدا اس لئے کہ

You must be logged in to post a comment.