ـ ملفوظ 136: قرآن مجید کو بوسہ دینا سوال

قرآن مجید کو بوسہ دینا سوال ” حضرت ! قرآن شریف ہاتھ میں لے کر اس کو بوسہ دینا پیشانی سے لگانا جائز ہے یا نہیں ؟ جواب : فرمایا کیا حرج ہے عرض کیا کہ ایسا کرنے کو بہت جی چاہتا ہے فرمایا کہ جی چاہنے کی تو چیز ہے ہی اور تقبیل کو تو فقہاء نے بھی جائز کہا ہے ـ

ملفوظ 135: حضرت حاجی صاحبؒ کے انتقال پر حضرت گنگوہیؒ کی حالت

فرمایا ! کہ حضرت حاجی صاحبؒ کو اللہ نے ایک حجت پیدا کر تھی ان کو اگر حجت اللہ فی الارض کہا جائے تو کوئی مضائقہ نہ ہوگا جس وقت حضرت گنگوہیؒ حضرت حاجی صاحبؒ کی وفات کی خبر ملی ہے کئی روز تک حضرت گنگوہیؒ دست آتے رہے اس قدر صدمہ اور رنج ہوا تھا ـ بظاہر یہ معلوم نہ تھا کہ اس قدر محبت حضرت کے ساتھ ہو گی ـ حضرت گنگوہیؒ حضرت کی نسبت بار بار رحمتہ للعالمین فرماتے تھے ـ ایک صاحب نے حضرت حاجی صاحبؒ سے عرض کیا کہ حضرت کتابوں میں بھی آپ کا نام ہے ( کسی عبارت میں ایسا جملہ تھا کہ بامداد اللہ ایسا ہوا ) فرمایا کہ اگر کوئی ہم سے اعراض کرے کم بختی نہ آ جائے ـ حضرت وہاں نہ جبہ تھا نہ خاص لباس تھا ـ دیکھنے سے تھانہ بھون

کے ایک شیخ زادے معلوم ہوتے تھے مگر اہل بصیرت کی نظر میں ایک شان تھی ـ

ملفوظ 134: اکثر مشائخین کے مقربین کا حال

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ مشائخ کے یہاں جو مقربین بصیغہ اسم مفعول ہوتے ہیں ان میں ایک دو مقربین بصیغہ اسم فاعل بھی ہوتے ہیں ہر وقت شیخ کو اور دوسرے متعلقین کو کرب میں رکھتے ہیں جھوٹ سچ لگاتے رہتے ہیں جس سے چاہا شیخ کو ناراض کر دیا جس چاہا راضی کر دیا ـ بحمداللہ ہمارے بزرک اس سے صاف ہیں ـ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمتہ اللہ علیہ تو کسی کی شکایت سنتے ہی نہ تھے ـ جہاں کسی نے کسی کی شکایت کی ـ فورا منع فرما دیا کرتے تھے کہ خاموش رہو ـ میں سننا نہیں چاہتا اس کے بعد کسی ہمت ہی شکایت کی نہ ہوتی تھی ـ اور حضرت حاجی صاحبؒ سن کر فرما دیتے تھے کہ تم نے جو کچھ بیان کیا اور فلاں شخص کی شکایت کی سب غلط میں جانتا ہوں اس شخص کو وہ ایسا نہیں ایک صاحب نے حضرت گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ کا اس بارہ میں کیا معمول تھا ـ فرمایا کہ ایک صاحب نے حضرت سے سوال کیا تھا کہ آپ سے لوگ دوسروں کی شکایت بیان کرتے ہیں آپ پر کوئی اثر ہوتا ہے ؟ فرمایا کہ ہوتا ہے اور وہ یہ کہ میں یہ سمجھ لیتا ہوں دونوں میں رنجش ہے مگر سن لیتے تھے سب ـ

ملفوظ 133: یہاں نہ انگریزی کی پالیسی ہے نہ فارسی کی پالیسی

ملفوظ 133: یہاں نہ انگریزی کی پالیسی ہے نہ فارسی کی پالیسی کسی خود رائے کی کسی درخواست کے جواب میں اس درخواست کی منظوری کا خاص طریقہ بتلایا تھا وہ اس کو ٹالنا سمجھے ـ اس واقعہ کو بیان کر کے سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جب میں نے انکار نہیں کیا بلکہ اس کا اہتمام کیا اور طریقہ بتلایا پھر اس کو عذر کہنا ٹالنا سمجھنا کذب و بہتان ہے میں ان کے مقصود کی تکمیل کو تیار تھا مگر اس کا وعدہ بیان کیا تھا ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ جس طرح ہم نقشہ جما کر لائے ہیں دوسرا ذرا اس کے خلاف نہ کرے ـ اس کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ ہماری غلامی کرو جو ہم کہیں اسکے خلاف مت کرو کیا یہ کام لینے کا طریقہ ہے یہ تو اچھی خاصی حکومت کرنا ہے میں چھوٹا ہوں یا بڑا مگر بے اصول معاملہ تو چھوٹوں کے ساتھ بھی برا ہے یہی نہیں کہ چھوٹے ایسی بات نہ کریں جس سے بڑوں کو رنج ہو بلکہ بڑوں کو بھی ایسی بات نہ کرنا چاہئے جس سے چھوٹوں کو تکلیف پہچے ـ شریعت میں تو ( آدمی تو بڑی چیز ہے اور وہ بھی مسلمان ) جانوروں اور کافروں کے حقوق کی بھی تعلیم ہے اس کا آجکل قطعا خیال نہیں کہ ہم سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے اپنی غرض اپنا کام ہر شخص پورا کرنا چاہتا ہے دوسرے کا چاہے کچھ ہی حشر ہو اور خواہ وہ بات اصول اور

قاعدہ کے خلاف ہی ہو مگر اپنا چاہا ہو جائے اور وہ بھی اس طرح جس طرح ہم چاہتے ہیں آخر کیا ایسی بات سے رنج نہ ہوگا تکلیف نہ پہنچے گی ـ مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ میں کسی کی خاطر صحیح اصول اور قواعد کو چھوڑ دوں بہت سے تجربوں کے بعد اور بہت سی تکالیف اٹھا اٹھا کر تو یہ اصول اور قواعد مرتب کئے ہیں ـ نیز جب کسی کی رعایت کی بناء پر کوئی قاعدہ چھوڑتا ہوں وہی تکلیف پہنچتی ہے پھر ان کو کیسے چھوڑ دوں ـ اب چاہے کوئی خوش رہے یا ناراض میری جوتی سے ـ اور یہ قواعد میری ہی راحت کیلئے نہیں دوسروں کی راحت بھی اسی میں ہے اگر قلت فہم کی وجہ سے کسی کی سمجھ میں نہ آ وے ـ اس کا میرے پاس کوئی علاج نہیں اور میں کیوں اس کا اتباع کروں میری کون سی غرض اٹکی ہوئی ہے مجھ کو ایسی حرکات سے سخت رنج اور صدمہ ہوتا ہے اوپر ان حرکتوں کو چھپاتے ہیں دھوکہ دینا چاہتے ہیں اس کی ایسی مثال ہے کہ کسی کی چوری کر لی اس خیال سے کہ اس کوخبر نہ ہوگی یا عدول حکمی کی کہ اس کو خبر نہ ہو گی یا جیسے باپ پر فالج کا اثر ہو گیا اور اس کے چار پانچ لکڑی مار دیں اس لئے کہ اثر تو ہو گا ہی نہیں ـ میں جو بدنام ہوں کہ سخت ہوں یہ ہیں وہ تعلیمات جن کو سختی سے تعبیر کیا جاتا ہے ـ اب بتلائیے اس میں میں نے کیا سختی کی اور انہوں نے کون سی نرمی کی ـ دور بیٹھے بیٹھے لوگ فیصلے دیتے ہیں ـ ذرا واقعات کو یہاں بیٹھ کر دیکھیں ـ تب میں ان سے مشورہ لوں کہ ایسے موقع پر مجھ کو کیا پر مجھ کو کیا کرنا چاہئے تھا ـ میں چاہتا ہوں کہ بات صاف ہو تلبیس نہ ہو نہ مجھ کو دھوکہ ہو نہ دوسرے کو ہو ـ میں ایک منٹ ایک سیکنڈ کیلئے بھی کسی مسلمان مرد عورت بچے بوڑھے یا جوان کو ـ حتی کہ کسی کافر کو بھی دھوکے میں رکھنا نہیں چاہتا ـ میرے یہاں جو بات ہے صاف ہے نہ اس میں تلبیس ہوتی ہے نہ پالیسی انگریزی کی اور نہ پالیسی فارسی کی ـ یہی میں دوسروں سے چاہتا ہوں کہ وہ بھی مجھ سے کسی قسم کا اونچ نیچ ـ یا پالیسی کا برتاؤ نہ کریں جو ایسا کرتا ہے مجھ کو نا گوار ہوتا ہے میں اس پر مواخذہ کرتا ہوں نتیجہ اس کا بد نامی ہے لیکن ہوا کرے بد نامی ـ میں کسی کو بلانے کب جاتا ہوں اگر میں بد خلق ہوں نہ آئیں میرے پاس ، خوش اخلاقوں کے پاس جائیں یہ خوب بات نکالی کہ حرکتیں تا اپنی اور سر میرے تھوپیں جائیں ـ دنیا سے فہم تو اٹھ ہی کیا انا للہ وانا لیہ راجعون ـ

ہ ملفوظ 132: سب سے بڑا مجاہدہ کامل کے سامنے مٹنا ہے

فرمایا ! کہ سلف میں مشائخ بڑے بڑے مجاہدے اور ریاضتیں مریدین سے کراتے ہیں کتابوں میں دیکھنے سے حیرت ہوتی ہے اس وقت قوی لوگوں کے اچھے تھے عمریں بھی بڑی ہوئی تھیں اب نہ قوی ہیں اور نہ عمر ـ جو بات اس زمانہ میں معتد بہ مجاہدات کے بعد حاصل ہوتی تھی یعنی قوت بہیمیہ کا کمزور ہو جانا وہ آجکل بلا مجاہدات کے حاصل ہے مگر یہ سن کر کوئی خوش فہم صاحب یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ واقع میں مجاہدہ کی ضرورت نہیں ضرورت ہے مگر اسی درجہ کی جس درجہ کی قوت بہیمیہ ہے اور بڑا مجاہدہ یہ ہے کہ کسی کامل کے سامنے اپنے کو پا مال کر دے مولانا فرماتے ہیں ؎ قال را بگذار مرد شو ٭ پیش مرد کاملے پا مال شو ( قال کو چھوڑ ـ مرد حال ہو جا ـ اور کسی کامل کے سامنے ہو جا ) اور فرماتے ہیں ؎ صحت ایں حس بجوئید از طبیب ٭ صحت آں حس بجوئید از حبیب صحت ایں حس ز معموری تن ٭ صحت آں حس ز تخریب بدن

( بدن کی صحت تو طبیب سے حاصل کرو اور باطن کی صحت محبوب ( مرشد ) سے حاصل کرو ـ صحت ظاہری تو بدن کو بنانے سنوارنے میں ہے اور باطن کی صحت بدن کی تخریب میں ہے ) مثال سے سمجھ لیجئے جیسے قلعہ کی دیوار کے نیچے خزانہ مدفون ہے اگر دیوار نہ گرائے گا خزانے سے محروم رہیگا ـ اور اگر گرا دیگا تو اس قدر خزانہ نکلے گا کہ منہدم شدہ دیوار بھی تیار ہو جائیگی اور ساری عمر کیلئے خرچ کو کافی ہو گا ـ ایسا ہی اس تن کو فنا کرنا ہے اور فنا کے بعد جو اس کو بقاء ہو گی وہ ایسی ہو گی جس کو اس شعر میں فرمایا گیا ہے ؎ خود کہ یا بد ایں چنیں بازار را ٭ کہ بیک گل مے خری گلزار را ( ایسے بازار کو کون حاصل کر سکتا ہے کہ جہاں ایک پھول کے بدلہ میں پورا گلزار جاتا ہے ) ـ

ملفوظ 131: مدارس کے طلباء پر ایک صاحب کے اعتراض کا جواب

فرمایا ! ایک صاحب کا خط آیا ہے چند سوالات لکھے ہیں جن کا نہ سر نہ پیر ـ اخیر میں سب کے لکھتے ہیں کیا حکم ہے یہ انگریزی خواں معلوم ہوتے ہیں طرز تحریر بتلا رہی ہے میں نے لکھ دیا ہے

کہ کس قسم کا حکم ـ اس پر ان انگریزی دانوں کو دعوی ہے تہذیب اور قابلیت کا ـ اسی سلسلہ میں فرمایا ایک صاحب تھے انگریزی دان ریاضی میں مشہور و معروف مطبع مجتبائی دہلی میں ان سے ملاقات ہوئی مجھ سے پوچھتے ہیں کہ آپ کے مدارس کے طلبہ میں کچھ قابلیت بھی ہوتی ہے ـ میں نے جواب میں کہا کہ اس قابلیت کی پہلے تعیین فرما دیجئے تاکہ میں یہ معلوم کر سکوں کہ اس قسم کی قابلیت کا سوال ہے کہ یہ بجائے خود مدعی بننے کے مجھ کو مدعی بنانا ہے جو مناظرہ کا ایک عمیق داؤ ہے پرانے گھاگ تھے عربی کا بھی علم تھا سمجھ گئے پھر نہیں بولے ـ ایک صاحب نے عرض کیا کہ پھر حضرت بھی کچھ نہیں بولے ؟ فرمایا کہ میں اور کیا بولتا پہلا ہی ادھار ان پر تھا وہ جب ادا کرتے تب دیکھتا کہ کھوٹا ہے یا کھرا ـ 4 رمضان المبارک 1350ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم چہار شنبہ

ملفوظ 130: اپنے بچے کو عربی پڑھاؤں یا انگریزی ؟

فرمایا ! کہ ایک صاحب نے خط کے ذریعہ مشورہ چاہا ہے کہ میں اپنے لڑکے کو انگریزی پڑھاؤں یا عربی ـ میں نے جواب میں لکھ دیا کہ اپنی ہمت دیکھو لو ! فرمایا کہ اس لکھنے میں مصلحت یہ ہے کہ میں کیوں اپنے اوپر احسان کرواؤں یہ کہنے کو ـ کہ فلاں کے کہنے سے انگریزی نہیں پڑھائی اپنے دین کے آپ خود ذمہ دار ہیں ـ آخر یہ کون سی پوچھنے کی بات تھی جس وجہ سے مجھ سے مشورہ کر رہے ہیں ـ خود ان کو محسوس ہو سکتا ہے پھر مشورہ کے کیا معنی سوائے احسان رکھنے کے ـ مجھے تو بڑی غیرت آتی ہے ایسی باتوں سے جنت میں تو جائیں گے خود اور احسان ملانوں پر ـ عجیب مذاق ہے ـ

 

ملفوظ 129: غیر محقق پیر کے مریدوں کی اصلاح میں مشکل ہوتی ہے

فرمایا ! کہ ایک خط آیا ہے منجملہ اور باتوں کے یہ بھی لکھا ہے کہ میری یہ حالت ہے کہ

بعضے دوست بے مہار مجھ کو جہاں چاہتے ہیں لے جاتے ہیں مراد تماشہ وغیرہ میں لے جانا ہے ـ بوجہ تعلقات کے انکار مشکل ہوتا ہے جس سے میری حالت اور بھی خراب ہوتی جاتی ہے ـ بطور مزاح فرمایا کہ تو کیا پیر جی ان کو مہار سنبھال کر کھڑے ہوا کریں ـ اطلاع سے یہ ہی مطلب ہوا ـ ایک صاحب نے عرض کیا کہ ایسے شخص کو کچھ دنوں یہاں پر رہنے کی ضرورت ہے فرمایا کہ اگر خالی الذہن ہو کر یعنی سب رایوں کو فنا کر کے رہیں تو کچھ فائدہ ہو سکتا ہے کیونکہ خود رائے شخص اتباع نہیں کر سکتا ـ یہ ایک بزرگ سے مرید ہیں ان کا شاید اب انتقال ہو چکا ہے جو لوگ پہلے کسی غیر محقق سے تعلق رکھ چکتے ہیں اور پھر کسی کی طرف جوع کرتے ہیں ان کا ٹھیک ہونا اکثر دشوار ہوتا ہے ـ یہ تجربہ کی بات ہے کوئی بہت ہی فہیم اور سلیم طبیعت کا آدمی ہو تو اس کی اصلاح ہو جاتی ہے ورنہ اکثر نا کامیابی ہوتی ہے اور اپنے بزرگوں کے متعلقین میں یہ مانع نہیں وجہ اس کی یہ ہے کہ مذاق ایک ہے بہت جلد مناسبت ہو جاتی ہے ـ

ملفوظ 128: ایک بزعم خود عالم شخص کا حال

ایک مولوی صاحب نے عرض کیا مجھ میں کوئی بھی قابلیت نہ تھی دوسروں سے مضمون لکھوایا کرتا تھا کسی علم میں بھی اس کو مہارت نہ تھی نہ فارسی میں نہ عربی میں ـ اس پر عربی دانی کا دعوی کرتا تھا اس کی کتابیں دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کے بے سروپا باتیں ہانکتا ہے ـ اس پر حضرت والا نے فرمایا کہ اس کی عربی دانی کی حقیقت اس سے زیادہ نہیں جیسے دو بی بی انیہٹہ سے حج کو گئیں تھیں ـ اتفاق سے ان میں سے ایک کا بچہ گم ہو گیا وہ بدوی سے کہتی تھی کہ بچہ گم ہو گیا اس کو ڈھونڈو ـ بدوی اردو سمجھتا نہ تھا یہ اپنی زبان میں کہتی تھیں وہ سمجھتا نہ تھا اس پر آپس میں لڑائی ہونے لگی تو دوسری بی بی بولیں کہ تو ہٹ ! میں سمجھاؤں گی تجھے عربی بولنی نہیں آتی ـ یہ بی بی بدوی سے کہتی ہیں “” شیخ ھذا بی بی کا پوت نہیں آیا ،، یہ ہی حالت اس شخص کی عربی دانی کی تھی ـ نہایت بد فہم اور کم عقل تھا ـ اس کی وجہ سے بڑی ہی گمراہی کا باب مفتوح ہوا خود تو گمراہ ہوا ہی تھا اوروں کو بھی پھانس گیا لوگوں کی حالت بھی عجیب ہے کہ کوئی کیسا ہی ہو لبیک کہہ کر ساتھ ہو لیتے ہیں ـ پیشین گوئیاں کثرت سے جھوٹی ہوئیں فلاں مولوی صاحب سے شکست کھائی مگر بے حیائی کا کیا علاج ایسی موٹی موٹی باتوں کے بعد بھی لوگ معتقد ہیں

ملفوظ 127: سادگی اور تصنع

فرمایا ! کہ سادگی بھی عجیب برکت کی چیز ہے ایسے شخص کو بہت سی کلفتوں سے نجات ہو جاتی ہے تصنع کا اہتمام ہزاروں کلفتوں کو خریدتا ہے ـ ایک حکایت یاد آئی ایک بزرگ تھے کہ نہایت سادہ ان کا خط نہایت درجہ خراب تھا ـ اتفاق سے بازار سے گزر رہے تھے کہ کسی کی دکان پر ان سے بھی زیادہ برے خط کی ایک کتاب نظر سے گزری بڑی قیمت دیکر اس کو خریدا اس لئے کہ

لوگ دیکھیں گے کہ دنیا میں مجھ سے بھی زیادہ خراب لکھنے والے لوگ موجود ہیں ـ گھر پر لے جا کر مطالعہ کے بعد معلوم ہوا کہ یہ بھی مری ہی لکھی ہوئی ہے ابتدائے عمر کی ـ فرمایا کہ کیسی سادگی کی بات ہے کہ اس کو بھی ظاہر کر دیا ۤـ اگر ظاہر نہ فرماتے تو کسی کو کیا خبر ہوتی تصنع تو بڑوں میں ہوتا ہی نہیں ـ متصنع یہی سمجھتے ہیں کہ کچھ بھی ہو ہم بڑے ہی ہیں ـ اور واقع میں ان کی کسی طرح بھی اہانت و سبکی نہیں ہوتی ـ بلکہ اور کمال پر محمول کیا جاتا ہے چھوٹا بے چارہ سمجھتا ہے لے دے کر ایک دو چیز پاس ہے اگر اس میں بھی نقص نکل آیا تو رہی سہی بھی جائے گی.