نور ظلمت کو مغوب بلکہ مسلوب کر دیتا ہے ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ آجکل بعض شیوخ طالبوں سے اسلئے گھبراتے ہیں کہ ان کی ظلمت سے ان کا نور مکدر ہو جاتا ہے ـ الحمداللہ ! ہمارے حضرات ایک ایسی آگ لیے پھرتے ہیں کہ اس کے سامنے کتنے ہی بڑے لکڑ آ جائیں وہ نہیں بجھتی بلکہ وہی سب اس سے جل جاتے ہیں الحمد اللہ ! ہمارے حضرات کسی سے متاثر نہیں ہوتے اور حضرت وہ نور ہی کیا جو ظلمتوں سے مغلوب ہو جائے ـ میں سچ عرض کرتا ہوں نور تو وہ چیز ہے کہ ظلمت کو صرف مغلوب ہی نہیں بلکہ مسلوب کر دیتا ہے
اقوال
ملفوظ 83: ایک صاحب کو تعویذ دینے سے انکار
ایک شخص نے تعویذ مانگا مگر یہ نہیں کہا کہ کس چیز کا ـ حضرت والا نے فرمایا کہ یہ کام بھی میرا ہی ہے کہ یہ دریافت کیا کروں کہ کس مرض یا کس ضرورت کیلئے تعویذ چاہئے بھائی جہاں جس کام کو جایا کرتے ہیں پوری بات کہا کرتے ہیں ـ اب بتلاؤ کس چیز کا تعویذ چاہتے ہو عرض کیا کہ بچے زندہ نہیں رہتے فرمایا کہ بندہ خدا پہلے ہی یہ بات کیوں نہیں کہی تھی زبان سے کہنا ایسی کون سی مشکل بات تھی ـ بھائی مجھے ایسا تعویذ نہیں آتا جس سے بچے زندہ رہا کریں اور حضرت عزائیل علیہ السلام پر بھی پہرہ ہو جائے ـ کسی مرض کے لئے ضرورت ہو کسی حاکم کے سامنے جانا ہو ان کیلئے تو تعویذ ہوا کرتے ہیں موت کے روکنے کیلئے بھی کہیں تعویذ سنا ہے ـ
ملفوظ 82: عبدیت کے لئے دعا کرنا کیسا ہے
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت عبدیت کے لئے دعا کرنا کیسا ہے فرمایا ! عین مقصود ہے ـ عرض کیا کہ کہیں یہ جاہ تو نہ ہوگی کہ اتنے بڑے مقام کی تمنا ہے فرمایا تو یہ عدم جاہ ہے عرض کیا کہ حضرت پر بھی تو شان عبدیت کا غلبہ ہے ـ فرمایا میں تو رات دن لوگوں سے لڑتا بھڑتا رہتا ہوں کیا عبد ایسا ہی ہوتا ہے ـ عرض کیا کہ حضرت کا یہ طرز اصلاح و تربیت کی وجہ سے ہے اس سے تو مقصود حضرت کا دوسروں کو بھی عبد بنانا ہے ـ فرمایا کہ یہ آپ کا حسن ظن ہے اور اسی سلسلہ میں فرمایا کہ میں تو اکثر کہا کرتا ہوں کہ میری بداخلاقی کا منشاء خوش اخلاقی ہے خیر میں تو جیسا کچھ ہوں وہ تو مجھ کو ہی معلوم ہے مگر مجھ سے تعلق رکھنے والوں کی بالکل ایسی مثال ہے جیسے پہلوان اپنے شاگردوں کو سر سے اونچا اٹھا کر ٹپکتا ہے کسی کا ہاتھ ٹوٹا کسی کا سر پھوٹا ـ مگر وہ شاگرد بڑے پہلوانوں میں شمار ہوتے ہیں اور کہیں مار نہیں کھاتے تو حضرت ایک جگہ آدمی اپنی اصلاح و اخلاق کی درستی کرا لے پھر انشاء اللہ تعالی اس کو کہیں کچھ خطرہ نہ ہوگا
ملفوظ81; مستجاب الدعوات
مستجاب الدعوات تھے ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ آجکل لوگوں کی عجیب حالت ہے ذرا کوئی نیک کام کیا الہام اور وحی کے منتظر ہو جاتے ہیں کہ شاید کوئی آواز آسمان سے آئے گی ـ یا اپنی کسی حاجت دنیاوی کے واسطے دعا کرتے ہیں ـ اب منتظر ہیں کہ کوئی بشارت قبولیت کی آئے گی کیا خبط ہے ـ حضرت موسی علیہ السلام نے فرعون کیلئے بد دعا کی تھی اور اس پر اجیبت دعوتکما بھی فرما دیا گیا تھا ـ مگر موسی علیہ السلام کی دعا کی اس قبولیت کا ظہور چالیس برس بعد ہوا تھا ـ بڑی ہی دلیری کی بات ہے کہ ادھر دعا کی اور ادھر مستعجلا نہ انتظار ـ یہ بات تو انبیا ء علیہم السلام کیلئے بھی نہیں ہوئی جن کی شان یہ ہوتی کہ مستجاب الدعوات تھے ـ اس دلیری پر یاد آیا ـ ایک مرتبہ حضرت حاجی صاب رحمتہ اللہ علیہ کے پاس ایک شخص آئے اور عرض کیا کہ ایسا وظیفہ بتلا دیجئے گا کہ خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہو جائے ـ حضرت نے فرمایا کہ آپ کو بڑا حوصلہ ہے ہم تو اس قابل بھی نہیں کہ روضئہ مبارک کے گنبد شریف ہی کی زیارت نصیب ہو جائے اللہ اکبر! کس قدر شکستگی و تواضع کا غبلہ تھا ـ اس پر حضرت والا نے فرمایا یہ سن کر ہماری آنکھیں کھل گئیں حضرت کی عجیب شان تھی اس فن کے امام تھے ہر بات میں شان محققیت و حکمت ٹپکتی تھی یہ ہی وجہ ہے کہ حضرت کے خادمیوں میں سے کوئی محروم نہیں رہا ـ ہر شخص کی اصلاح وتربیت اس کی حالت کے مطابق فرماتے تھے اسی تواضع کو مولانا فرماتے ہیں ؎ فہم و خاطر تیز کردن نیست راہ ٭ جز شکستہ می نگیرد فضل شاہ ہر کجا پستی است آب آنجا رود ٭ ہر کجا دردے شفا آنجا رود ( بہت بڑا محقق بننا طریق ( عشق میں کار آمد) نہیں ـ بادشا(حق تعالی ) کا فضل شکستہ حال ہی کی دستگیری کرتا ہے ـ (2) پانی نشیب ہی کی طرف جاتا ہے جہاں درد ہوتا ہے شفا وہیں جاتی ہے ) ـ وہاں تو مٹ جانے اور فنا ہو جانے کا سبق ملتا ہے حضرت کی خود یہ حالت تھی کہ اپنے ہر ہر خادم کو اپنے سے افضل سمجھتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ آنے والوں کے قدموں کی زیارت کو اپنے لئے ذریعہ نجات سمجھتا ہوں حضرت پر شان عبدیت کا غلبہ رہتا تھا وہ عبدیت ہی اس ارشاد کا منشا تھا ـ مطلب یہ تھا کہ اپنی اہلیت کا اعتقاد نہ رکھے باقی تمنا کی ممانعت نہیں ـ
ملفوظ 80 : دوستوں کا خیر خواہ
ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت کو اپنے متعلقین سے بے حد محبت ہے امید ہے کہ حضرت آخرت میں اسی طرح یاد رکھیں گے اور پہچان لیں گے فرمایا کہ محبت کا دعوی تو بہت بٰڑی چیز ہے یوں بھی تو آپ پوچھ سکتے ہیںٰ کہ اپنے دوستوں کیلئے دعا بھی کرتا ہے ـ مجھ کو اپنے دوستوں کی حالت کی معرفت ہی نہیں اور محبت فرع ہے معرفت کی اور معرفت اسلئے نہیں کہ اپنی حالت خود ہی کو خوب معلوم ہوتی ہے اس لئے میں محبت کا دعوی نہیں کرتا یہ بڑی چیز ہے ہاں خیر خواہی کا دعوی کرتا ہوں کہ اپنے دوستوں کا خیر خواہ ضرور ہوں
ملفوظ 79: نفس کی خباثت اور اتباع سنت کا کید
فرمایا ! کہ نفس بھی عجیب چیز ہے اتباع ہوی کو کبھی کبھی اتباع سنت کے رنگ میں دکھاتا ہے اس کا ایسا لطیف کید ہوتا ہے کہ اتباع ہوی کو یہ سمجھتا ہے کہ میں اتباع سنت میں مشغول ہوں ـ صاحبو ! یہ تو آسان ہے کہ انسان یہ کہے کہ میں مومن ہوں مگر سنت کا دعویٰ بڑا مشکل ہے اس وقت ان دونوں میں فرق کرنا محقق اور عارف ہی کا کام ہے اسی ہی لیے ضرورت ہے کہ اپنے حالات کی اطلاع اپنے مربی کو کرتا رہے وہ اپنے تجربات و بصیرت کی بناء پر اس کی رہبری کریگا اور اس کو تمام سخت سے سخت گھا ٹیوں سے لیکر گزر جائے گا
ملفوظ 78 : ایک گول مول خط کا جواب
فرمایا ! کہ ایک صاحب نے مبہم خط لکھا تھا میں اس کا حاصل نہ سمجھ سکا میں نے اس پر لکھا تھا کہ گول بات لکھی ہے میں سمجھا نہیٰں کہ مطلب تمہارا اس سے ہے کیا صاف لکھو ـ آج جواب میں لکھتے ہیں کہ میں خود گول ہوں اسلئے میری بات بھی گول ہے صاف نہیں ـ فرمایا ! کہ ایسے کوڑ مغزوں سے پالا پڑتا ہے اس میں میری کیا مصلحت تھی ان کی ہی مصلحت تھی جس بات کو میں سمجھا ہی نہیں اس کا جواب کیا دوں اس لئے لکھا تھا کہ صاف لکھیں گے میں سمجھ کر اس کا جواب دوں گا ـ اب فرمایئے مجھ کو سخت کہتے ہیں آخر میں نے اس میں کون سی سختی کی تھی جب ایک بات کو میں سمجھا ہی نہیں تو اس کا جواب کیا دیتا ـ بدفہمی بری چیز ہے اللہ بچائے ایسی بد فہمی اور کم عقلی کے متعلق فرمایا کہ میری عادت ہے کہ جو خط آتا ہے اسی مضمون پر خط کھینچ کر جواب لکھ دیتا ہوں اس پر ایک شخص نے لکھا تھا کہ میرے ہی خط پر آپ نے لکھ دیا میری بڑی اہانت کی ـ فرمایا کہ بندہ خدا ! میں نے تو اعانت کی اہانت نہیں کی ـ ایسے ایسے خوش فہم دنیا میں آباد ہیں ـ
ملفوظ 77: خاص سفارش کو نہ پسند کرنا
فرمایا ! کہ ایک صاحب چینی یہاں پر مہمان ہیں بے چارے حاجت مند ہیں مجھ سے کہتے تھے کہ خطاب عام کی صورت میں کچھ لکھ دیا جائے میٰں نے کہا کہ مجھے انکار نہیں مسودہ لکھ کر آپ مجھے دیدیں میں آپ کو اپنی عبارت میں نقل کر کے دیدوں گا اس سے پہلے ایک خاص شخص سے سفارش کرنے کو کہتے تھے اس سے میں نے صرف انکار کر دیا اور کہہ دیا کہ یہ میرے معمول اور مسلک کے خلاف ہے آجکل خطاب خاص کی صورت میں سفارش کرنے کو میں پسند نہیں کرتا ـ اس سے دوسرے پر بار ہوتا ہے میں اس کو گوارا نہیں کرتا ـ بعض مرتبہ لوگ ان باتوں کی وجہ خفا ہو جاتے ہیں خفا ہوتے ہیں ہوا کریں ـ میں اپنے تجربات اور مسلک کی وجہ سے کس طرح چھوڑ دوں ـ
ملفوظ 76: موت کے وقت سب سے خطرہ کی چیز
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ موت کے وقت تو بہت سے خطرات قلب میں آ سکتے ہیں مگر مضر صرف وہی خطرات ہیں کہ جو اپنے قصد سے اختیار کرتے ہو اور جو بلا قصد اور بلا اختیار ہوں وہ مضر نہیں یہ خطرات میں تفصیل ہے باقی سب سے زیادہ سخت جو چیز اس وقت خطرناک ہے دنیا ہے ــ اور وہ وجہ اس کی یہ ہے کہ دنیا میں جب انہماک ہوتا ہے اور اس کی محبت ہوتی ہے تو اس کے چوٹنے کے وقت جو کہ موت کا وقت ہوتا ہے زیادہ اندیشہ ہے کہ چھڑانے والے سے عداوت نہ پیدا ہو جائے جو کفر ہے اس کا بہترین علاج یہ ہے کہ اس کو مغلوب کرتا رہے اس کے خلاف کا استحضار کرتا رہے پھر انشاءاللہ تعالی کوئی مضرت یا اندیشہ نہ ہوگا ـ اجی مسلمان اعتقادا تو دنیا کو برا سمجھتا ہی ہے مگر اس اعتقاد کو استحضار کے درجہ تک پہنچا دینا چاہئے اور یہ بہت کم ہوتا ہے کہ موت کے وقت ایمان سلب ہوتا ہو جن کے سلب ہوتا ہے وہ پہلے ہی سے ہو چکتا ہے اس وقت ظہور ہو جاتا ہے ہر مسلمان کو اس وقت کی فکر ہونا چاہئے بالخصوص اپنے قلب کو محبت دنیا سے بالکل خالی رکھنا چاہئے ـ یکم رمضان المبارک 1350ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم یکشنبہ
ملفوظ 75: ایک مولوی صاحب کو حضرت کا لطیف جواب
یک مولوی صاحب کا طویل خط آیا جس کے اکثر مضامین مقصود سے زائد تھے ـ حضرت والا نے اس کے جواب میں تحریر فرمایا کہ علوم غیر مقصود کی جب آپ نے اتنی قدر کی ہے تو علوم مقصودہ کی تو اور بھی زیادہ قدر کریں گے اس پر فرمایا کہ انہوں نے ایک صاحب سے کہا وہ مجھ سے روایت کرتے تھے کہ وہ یہ کہتے تھے کہ ان علوم کا غیر مقصود ہونا بھی ثابت کر دیا پھر ایسے لطیف عنوان سے ـ اس کے بعد فرمایا کہ میرا بھی بڑا ہی جی خوش ہوا کہ وہ سمجھ گئے ـ اور میرے جواب کی قدر کی ـ اگر آدمی میں سلامتی طبع ہو اور طلب بھی ہو تو سمجھ میں آ جانا مشکل کیا ہے اگر آدمی میں فہم سلیم ہو اور خلوص کے ساتھ طلب ہو بڑے سے بڑے مشکل کام آسان ہو جاتے ہیں اور راہ نکل آتی ہے ـ

You must be logged in to post a comment.