ملفوظ 94: ایک صاحب کی گستاخی اور پھر معافی

ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت کی روک ٹوک کی برکت سے طالب کو بے حد نفع ہوتا ہے یہاں سے جو لوگ ناکارہ اور نا اہل سمجھ عدم مناسبت کی بنا پر نکال دیئے جاتے ہیں وہ دوسری جگہ کے اچھوں سے بھی اچھے ہوتے ہیں ـ حضرت والا نے فرمایا کہ آپ نے تو اس روک ٹوک اور محاسبہ کی قدر فرمائی اور ایک شخص نے اس روک ٹوک ہی کی بنا پر وطن پہنچ کر لکھا تھا کہ تم نے میری بڑی اہانت کی میں نے علم کا ادب کیا ورنہ انتقام لیتا ـ پھر کچھ دنوں کے بعد اس ہی شخص کا خط آیا کہ مجھ سے بڑی گستاخی ہوئی میں نے اس قسم کا مضمون لکھا تھا جس وقت سے وہ مضمون حضرت والا کو لکھا ہے اس وقت سے برابر میری بینائی میں کمی ہوتی جا رہی ہے اور اب قریب اندھا ہونے کو ہو گیا ہوں اور میں اس کو اسی تحریر کو وبال سمجھتا ہوں ـ میں نے جواب میں لکھا کہ یہ تم کو وہم ہو گیا ہے مگر تمہارے خیال کی بناء پر میں دل سے معاف کرتا ہوں اللہ تعالی بھی معاف فرمائیں ـ حضرت کسی کو بلاوجہ ستانا اور یا دل دکھانا نہایت خطرناک بات ہے فرماتے ہیں ؎ ہیچ قومے راخدا رسوا نہ کرد ٭ تا دل صاحب دلے نامد بدرد چوں خدا خواہد کہ پردہ کس درد ٭ میلش اندر طعنہ پا کاں برد ( کسی قوم کو خدا نے اس وقت تک رسوا نہیں کیا جب تک کسی صاحب دل کا دل نہیں دکھا ـ جب حق تعالی کسی کی پردہ دری فرماتے ہیں تو اس کا میلان پاک لوگوں کوطعن و تشنیع کرنیکی طرف ہو جاتا ہے ) ـ 2رمضان المبارک 1350ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم دو شنبہ

ملفوظ 93: ذکر میں مزہ نہ آنا

فرمایا ! کہ ایک صاحب مجھ سے کہنے لگے کہ ذکر میں مزہ نہیں آتا ـ میں نے کہا کہ مزا تو مذی میں ہے یہاں کہاں مزا ڈھونڈتے پھرتے ہو ـ فرمایا کہ کوئی مزے کا طالب ہے کوئی کیفیات کا طالب ہے اگر خدا کے ساتھ تعلق ہو تو اس بے مزگی میں بھی ایک خوش مزگی ہوتی ہے جن کیفیتوں کے لوگ طالب ہیں وہ نفسانی کیفیات ہیں اور مطلوب روحانی کیفیات ہیں ان روحانی اور نفسانی کیفیات میں فرق بڑا ہی مشکل ہے نفسانیات کے در پے ہونے کی ضرورت نہیں یہ کیفیات اور جوش و خروش کچھ عمر نہیں رکھتے ان کے فرو ہونے کے بعد پھر روحانی کیفیت بڑھتی ہے وہ البتہ دائمی ہوتی ہے ان میں ضعف نہیں ہوتا وہ بالکل ایسی ہوتی ہے جیسے مولانا فرماتے ہیں ؎ خود قومی میشود خمر کہن ٭ خاصہ آں خمرے کہ باشد من لدن ( پرانی شراب ( نشہ لانے میں )زیادہ قوی ہوتی ہے خاص کر وہ شراب جو ( معرفت ) حق کی شراب ہو) دوسرے بزرگ فرماتے ہیں ؎ ہر چند پیر و خستہ و بے بس ناتواں شدم ٭ ہر گہ نظر بروئے تو کردم جواں شدم ( اگرچہ میں بوڑھا خستہ و ناتواں ہو گیا ہوں ( مگر اے محبوب حقیقی ) جب تیرے چہرہ کو دیکھتا ہوں (یعنی آپ کی طرف توجہ خاص ہوتی ہے ) تو جوان ہو جاتا ہوں ) ـ کام میں لگنا چاہئے یہ دیکھنے کی ضرورت نہیں کہ کیفیات بھی ہیں یا نہیں خظوظ اور لذائذ بھی ہیں یا نہیں ـ اور نہ یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کچھ ہوا یا نہیں اس کو ایک مثال سے سمجھ لیجئے گا جیسے پسنہاری رات کو آٹا پیستی ہے مگر اس پیسنے والی کو یہ ملوم نہیں ہوتا کہ آٹا چکی سے گر رہا ہے یا نہیں اور نہ خبر ہوتی ہے کہ کس قدر جمع ہو گیا ہے پیسنے ہی کی دھن میں لگی رہتی ہے صبح کو جب دیکھتی ہے معلوم ہوتا ہے کہ تمام چکی کے گرد آٹا جمع ہے اگر رات بھر یہ کرتی کہ ایک چکر چکی کا گھما لیا اور ٹٹول کر دیکھ لیا تو پس چکا آٹا اسی میں رہے گی پاؤ بھر بھی آٹا نہیں پیس سکتی ـ میں کہتا ہوں کہ اپنے کو جس کے سپرد کیا ہے اس پر بغیر اعتماد اور انقیاد اور اعتقاد کئے کام نہیں چل سکتا ـ جب جاننے والا یہ کہہ رہا ہے کہ کام ہو رہا ہے بس اطمینان کرنا چاہئے اسی کو مولانا فرماتے ہیں ؎ گرچہ رخنہ نیست عالم راپدید ٭ خیرہ یوسف ؑ دارمے باید دوید ( اگرچہ بظاہر عالم میں کوئی راستہ ظاہر نہیں ہے مگر بہ حالت حیرانی یوسف علیہ السلام کی طرح بھاگنا چاہئے ( تو راستہ خود بخود کھلتا اور ملتا چلا جائے گا ) ـ

ملفوظ 92: دعاء سے زیادہ کوئی وظیفہ مؤثرنہیں

فرمایا ! کہ ایک شخص کا خط آیا ہے لکھا ہے کہ میں قرضدار ہوں کوئی موثر وظیفہ بتلا دیجئے ـ میں نے جواب میں لکھ دیا ہے کہ دعا سے زیادہ کوئی وظیفہ موثر نہیں اسی سلسلہ میں فرمایا کہ لوگوں نے خدا سے مانگنا ہی چھوڑ دیا ـ بندوں کا تعلق حق جل وعلی شانہ سے بہت ہی ضعیف ہو گیا ـ اس باب میں لوگوں کے عقائد نہایت ہی خراب ہیں ـ اور اس میں ایک اور بہت بڑی خرابی ہے وہ یہ ہے کہ اگر وظیفہ سے کام نہ ہوا تو پھر آیات الٰہیہ سے بد گمانی بد عقیدگی ہوتی ہے یہ سب جاہل عاملوں سے کی بدولت ہو رہا ہے ان کے یہاں ہر کام کیلئے وظائف ہی کی تعلیم ہوتی ہے ـ اہل نا اہل بھی نہیں دیکھا جاتا اس کے علاوہ بتلانے کے وقت ایسے طرز سے کہتے ہیں اور ایسا اطمینان دلاتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کام اسی طرح ہوجائے گا اس میں کوئی شک و شبہ ہی نہیں اور اگر تقدیر سے اس کے خلاف ہوا تو اس پڑھنے والے کے ایمان کے لالے پڑ جاتے ہیں ـ یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ آیات الٰہیہ میں بھی کوئی اثر نہیں پھر ایسی بدگمانی کا مقتضا تو یہ تھا کہ دعا ہر گز قبول نہ ہوتی ـ دیکھئے ! موٹی سی بات ہے اگر ہم کسی کو دو روپیہ مہینہ دیتے ہوں اور اس کی نسبت ہم کو اس کے اقرار سے یہ معلوم ہو جائے کہ اس کو ہماری نسبت بد گمانی ہے کہ اب نہ دیں گے ـ پھر قیامت تک بھی ہم اس کی طرف التفات نہ کریں گے مگر حق تعالی ہیں کہ سب کچھ سنتے ہیں دیکھتے ہیں پھر بھی رزق بند نہیں فرماتے بڑے ہی وحیم و کریم ہیں ـ

ملفوظ 91: سچ بولنا آسان ہوتا ہے

ایک سلسلہ گفتفو میں فرمایا ! کہ ایک صاحب نے کہا تھا کہ منکر نکیر کو قبر میں جواب دینا آسان ہوگا مگر اس شخص کی ( میں مراد ہوں ) جرح قدح کا جواب مشکل ہے ـ میں نے سن کر کہا کہ بالکل ٹھیک ہے وہاں تو سچ بولو گے سیدھا اور سچا جواب دو گے تو وہ سوال کریں گے من ربک مومن کہے گا ربی اللہ کافر کہے گا لا ادری دونوں سچ اور یہاں آ کر اینچ نیچ کرتے ہو جھوٹ بولتے ہو سیدھی اورصاف بات نہیں کرتے وہ چلتی نہیں اس لئے یہاں کا جواب مشکل ہے سیدھی اور سچی بات کے مقابلہ میں جھوٹ کیسے چل سکتا ہے ـ

ملفوظ 90: ایک نو وارد پر مواخذہ

ایک نو وارد صاحب آئے حضرت والا نے سوال کیا کہ کہاں سے آئے اور کس غرض سے ـ اس پر انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا ـ فرمایا بھائی کہہ لو جو کچھ کہنا ہے اور کم از کم پہلے اپنا تعارف کرا دو ـ تاکہ یہ تو معلوم ہو کہ اتنا لمبا سفر کیا روپیہ اور وقت صرف کیا ـ اس سے تمہاری کیا غرض ہے ـ بغیر بولے اور بتلائے ہوئے دوسرے کو کیسے خبر ہو کوئی علم غیب تو ہے ہی نہیں ـ جس غرض کیلئے گھر سے سفر کیا آخر کوئی تو غرض اور وجہ دل میں ہوگی اس کو صاف صاٖف کہہ دو اور اس کا ظاہر کرنا کون سی بڑی مشکل بات ہے ـ اس پر بھی وہ کچھ نہیں بولے ـ حضرت والا نے فرمایا کہ ان آنے والوں کی حرکتیں کوئی نہیں دیکھتا کہ یہ آ کر کیا کرتے ہیں ـ میرے کہنے سننے پر شکایت کرتے ہیں ـ اس کی بالکل ایسی مثال ہے جیسے کوئی شخص چپکے سے کسی کے کوئی سوئی چبھو دے اور وہ کہے ہائے مر گیا ـ ارے ظالم یہ کیا کیا تو اس کے غل مچانے کو سب نے سن لیا اور اس کی حرکت کسی نے نہ دیکھی کہ چپکے سے اس نے کیا کیا ـ حضرت ! اگر یہ ہی برتاؤ دوسرے کے ساتھ ہو تب حقیقت معلوم ہو برداشت نہیں کر سکتے اس کو بھی غریب بڈھا مسکین ہی تحمل کر سکتا ہے اصلاح کا نام لوگوں نے سن لیا ہے اصلاح کی حقیقت سے بے خبر ہیں بڑی مشکل سے آدمی بنتا ہے ـ

ملفوظ 89: ایک مرید صاحب کا خط

فرمایا ! کہ ایک مرید صاحب نے مجھے خط لکھا تھا آج تک کسی نے ایسا نہیں لکھا کہ نہ تم میرے پیر نہ میں تمہارا مرید ـ خواہ مخواہ دق کر رکھا ہے کچھ ہی دن گزرے تھے کہ ان ہی حضرت کے متعلق معلوم ہوا کہ ایک قصبہ ہے یہاں سے د س بارہ کوس کے فاصلے پر وہاں پر خود کشی کرنے کو تیار ہو گئے لوگوں نے روکا اور سبب دریافت کیا تو کہتے ہیں کہ ایسی زندگی سے مر جانا ہی بہتر ہے جبکہ میرے پیر ہی مجھ ناراض ہیں ـ اس پر حضرت والا نے فرمایا کہ تعلق رکھے بغیر بھی نہیں بنتا ـ اور تعلق کی بناء پر ( تربیت کیلئے ) میں جو روک ٹوک کرتا ہوں اس کی بھی برداشت نہیں آخر پھر کام کس طرح چلے

ملفوظ 88: عدم مناسبت ، جدائی کا سبب بنتی ہے

یک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت جو لوگ سمجھدار نہیں ان کا اس میں کیا قصور ہے فرمایا کہ میں اس پر مواخذہ نہیں کرتا ہاں کم سمجھوں اور بد فہموں میں تعلق رکھنا نہیں چاہتا اس لئے کہ مناسبت پیدا نہ ہوگی جو کہ شرط نفع ہے اور یہ جو میں عرض کر رہا ہوں یہ کوئی نئی بات نہیں ـ دیکھئے ! موسی علیہ السلام اور خضر علیہ السلام میں جو جدائی ہوئی اس کا سبب عدم مناسبت تھی ورنہ موسی علیہ السلام جیسے اولعزم پیغبر ہیں جن پر کسی قسم کا بھی شبہ نہیں ہوسکتا ـ مگر حضرت خضر علیہ السلام نے صاف فرما دیا کہ آپ کا اور میرا ایک ساتھ رہ کر نباہ نہیں ہو سکتا ـ پس عدم مناسبت ہی سبب ہوئی جدائی کی ؎ چوں گزیدی پیر ہیں تسلیم شو ٭ ہمچو موسی زیر حکم خضر رو صبر کن درکار خضر اے بے نفاق ٭ تانگوید خضر رواہذا فراق (جب شیخ منتخب کرلے تو اپنے آپ کو اس کے سپرد کر دو ـ موسی علیہ السلام کی طرح خضر علیہ السلام کے حکم کے تابع ہو کر چلو ـ اے مخلص خضر ؑ ! ( شیخ ) کے کاموں ( تعلیمات ) میں صبر سے کام لو ـ تاکہ خضر ؑ ( کسی طرح شیخ بھی ) یہ نہ کہہ دیں کہ جاؤ (میرا تمہارانباہ نہ ہوگا ) ـ

ملفوظ 87: آجکل کی خوش اخلاقی اور حضرت کی دارد گیر

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ لوگ میرے متعلق چاہتے ہیں کہ خوش اخلاقی اختیار کرے اور خوش اخلاقی بھی وہ جو آجکل مروج ہے مجھ سے یہ خوش اخلاقی نہیں ہوتی اس ہی وجہ سے لوگ مجھ سے خفا ہیں مگر میرا ہی کیا نقصان ہے ہاں نفع تو ہے کہ بد فہموں سے نجات ملی اگر میرا طرز پسند نہیں تو میں بلانے تو نہیں جاتا مت آؤ بہت پیر دنیا میں خوش اخلاق ہیں وہاں جاؤ وہاں آؤ ـ آؤ بھگت ہوگی ـ اعزاز و احترام ہوگا ـ بدتہذیبی پر روک ٹوک نہ ہوگی اعمال شنیعہ پر محاسبہ نہ ہوگا ـ اور یہاں پر تو یہی ہے اگر سو دفعہ خوشی ہو آؤ ورنہ مت آؤ خوب کہا ہے ؎ ہاں وہ نہیں وفا پرست جاؤ وہ بے وفا سہی ٭ جس کو ہو جان و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں فرمایا کہ یہاں پر تعلق رکھنے میں اول اول تو وحشت ہوتی ہے پھر مارے نہیں نکلتے بھگائے نہیں بھاگتے واقعی محبت ایسی ہی چیز ہے اس میں ایسی ہی ترقی ہو جاتی ہے ؎ یا رب چہ چشمہ ایست محبت کہ من ازاں ٭ یک قطرہ آب خور دم و دریا گریستم ( اے اللہ ! محبت کیسا چشمہ ہے کہ میں نے ایک قطرہ پیا ـ اور آنکھوں سے دریا بپا دئیے )

ملفوظ 86: سہل چھوڑ کر مشقت اختیار کرنا حماقت ہے

فرمایا ! کہ طریق میں مقصود حاصل کرنے کی دو صورتیں ہیں ایک مشکل اور ایک سہل ـ تو سہل کو کیوں نہ اختیار کیا جائے ایک صاحب نے عرض کیا کہ کچھ مجاہدہ بھی درکار ہے فرمایا مجاہدہ سے مراد یہ تھوڑا ہی ہے کہ مشقت یا سختی میں پڑو ـ مثال سے سمجھ لیجئے ایک کنواں یہاں مدرسہ میں ہے اور ایک جلال آباد میں ہے جو یہاں سے تقریبا دو ڈھائی میل کے فاصلے پر ہے تو کیا آپ اس کو افضل سمجھیں گے کہ وہاں سے آپ وضوء کے لئے پانی لایا کریں حالانکہ بقول آپ کے اس میں مجاہدہ ہے سہل کو چھوڑ کر شاق کے پیچھے پڑنا کونسی عقل مندی ہے ـ یہ مجاہدات وریاضات مقصود بالذات تھوڑا ہی ہیں ہاں مقصود کے معین ہیں ـ اصل چیز تو مقصود تک پہنچ جانا ہے ـ ایک اور مثال یاد آئی پہلے زمانہ میں ریل موٹر ، ہوائی جہاز نہ تھے تو لوگ چھکڑوں اور بہلیوں سے سفر کرتے تھے کس قدر دشواریاں ہوتی تھیں وقت صرف ہوتا تھا راستہ میں خطرات کا سامنا ہوتا تھا بڑا سفر مہینوں میں طے ہوتا تھا اب ریل موٹر ، ہوائی جہاز کی بدولت ہر طرح پر سفر میں سہولتیں پیدا ہو گئیں ـ اب ایک شخص ہے کہ وہ اس سہولت کوچھوڑ کر دشواری کو پسند کرے تو کیا اس کومحمود کہیں گے اگر کوئی تحکم کی راہ سے اس کو ہی محمود کہے تو اس کا کسی کے پاس علاج نہیں ـ

ملفوظ 85: اپنی تعریف سن کر خوش ہونے کا علاج

ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت اگر کوئی شخص منہ پر تعریف کرتا ہے تو نفس اس قدر خوش ہوتا ہے کہ پھولا نہیں سماتا اس کا کیا علاج ہے ـ فرمایا کہ اس وقت اپنے معائب کو مستحضر کر کے اس خوشی کو دبائے ـ یہ ایک قسم کا مجاہدہ ہے چند روز تعب ہوگا مگر پھر انشاء اللہ تعالی سہل ہو جائے گا ـ متقدین کے علاج ان رذائل کے باب میں بہت سخت ہیں بڑے بڑے مجاہدے ہیں اب تو اللہ کا شکر ہے کہ آسان آسان نسخوں سے علاج ہو جاتا ہے تھوڑی سی ہمت ضرور کرنا پڑتی ہے باقی اگر کوئی کچھ کرنا ہی نہ چاہے تو اس کا کوئی علاج نہیں