ملفوظ 34: سیاسی تحریکوں کے زمانے میں دینی مقتداؤں کی حالت

فرمایا کہ شورش کے زمانہ میں یہاں تک نوبت آ گئی تھی کہ ایک بہت بڑے علامہ نے
اسی زمانہ میں مجھ سے بیان کیا تھا فرماتے تھے کہ ہمارے یہاں ایک فتوی آیا کہ ولایتی کپڑا پہننا
جائز ہے یا نہیں ـ اب اگر یہ لکھا جاتا ہے کہ جائز ہے تب تو اپنے مقاصد میں خلل آتا ہے اورنا جائز
کیسے کہیں کیونکہ واقع میں تو جائز ہے اس لئے اس کے خلاف بھی نہیں کر سکتے تو اب کیا کریں
فرماتے ہیں کہ یہ جواب دیا گیا کہ ولایتی کپڑا پہننا قابل مواخذہ ہے ـ اور کہنے لگے کہ اس لکھنے
میں حکمت یہ تھی کہ وہ تو یہ سمجھیں کہ خدا کے یہاں کا مواخذہ ہوگا اور ہم یہ سمجھیں کہ اپنے دوستوں کا
مواخذہ ہوگا ـ میں نے کہا کہ مولانا توبہ کیجئے یہ تو شریعت میں تحریف ہے اور مسلمانوں کو
دھوکا دینا ہے فرمایا کہ ایسی ایسی باتیں سن کر دل کانپ جاتا تھا کہ اے اللہ ! دین کا ان لوگوں کے
دلوں سے احترام ہی جاتا رہا ـ حضرت عوام کی کیا شکایت کی جائے وہ تو بوجہ جہل کے ایک درجہ میں
معذور بھی سمجھے جا سکتے ہیں ـ مگر ان لکھے پڑھے جنوں کو کوئی کیا سمجھائے اللھم الحفظنا ـ

ملفوظ 33 : سلطنت کو ظلم سے زوال ہونا

فرمایا کہ بزرگوں نے لکھا ہے کہ کفر سے سلطنت کو زوال نہیں ہوتا ظلم سے زوال ہوتا ہے

ملفوظ 32 اتباع اور انتظام کا فقدان

فرمایا کہ ہمارے بھائیوں میں اتباع کا مادہ نہیں اگر دین کا بھی کامل نہ ہو تو یہ مادہ تو ہو کہ کسی کا
اتباع کریں یہی وجہ ہے کہ یہ برباد ہیں اور ایک سبب یہ ہے کہ ان میں نظم اور اصول کی پابندی نہیں ہے ـ
اگر یہ کام کریں اور انتظامی مادہ بھی ان میں ہو تو ادھر تو انتظام ادھر دیں پھر تو کھلی نصرت ہے ـ صحابہ کے زمانہ میں قیصر اور کسری کے مقابلہ میں مسلمانوں کی کیا جمعیت تھی ـ مگر اہل
دین تھے اور منظم تھے اگر دین کے ساتھ انتظام صحیح ہو تو پھر دیکھو کیا ہوتا ہے باقی غیر منظم صورت میں
اپنے کو پھنسانا ہلاکت میں ڈالنا ہے ـ جان خدا کی امانت ہے اگر ہماری ہوتی تو لا تقتلوا انفسکم :
( اپنے نفسوں کو قتل مت کرو) کا حکم نہ ہوتا مال جو کہ مکتسب ہے وہ بھی ہمارا نہیں جان ہماری کیوں ہوتی ـ
خدا کے لئے جان کیا چیز ہے مگر یہ تو اطمینان ہو کہ یہ یقینا خدا کے واسطے صرف ہوئی تذبذب
کی حالت میں جان دینا تو کیونکر جائز ہوگا ہم کو تو حکم ہے کہ تذبذب کی حالت میں جبکہ ان کی بابت
دم میں تردد ہو کفار کی جان بھی نہ لیں ہم کو تو فخر ہے جو قوم اسلام کی
د شمن ہے اس کے بھی حقوق بتلا ئے ہیں : ولا یجر منکم شنان قوم علی ان لا تعدولوا ـ ( اور ایسا نہ ہو کہ تم کو کسی قوم
سے جو اس سبب سے بغض ہو کہ انہوں نے تم کو مسجد حرام سے روک دیا تھا وہ تمہارے لئے اس کا باعث ہو جائے کہ تم حد سے نکل جاؤ ) ـ
حدیث : قال صلی اللہ علیہ و سلم احبب حبیبک ھونا ماعسی ان یکون
بغیضک یوما ماوا بغض بغیضک ھونا ما عسی ان یکون حبیبک یوما ماـ
( فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ دوست سے دوستی اعتدال کے ساتھ کرو ـ ممکن ہے کہ وہ کسی وقت
تمہارا د شمن ہو جائے اور د شمن سے د شمنی اعتدال سے کرو ممکن ہے کہ وہ کسی وقت تمہارا دوست ہو جائے )
کفار بغیض ہیں مگر ان سے بغض رکھنے میں بھی اعتدال مطلوب ہے ـ اسی طرح بغض و
محبت میں اعتدال لازم ہے بے موقع ذکر اللہ تک کو فقہاء نے منع کیا ہے بلکہ بعض مقامات پر کفر کہا ہے جیسے حرام طعام پر بسم اللہ کہنا ـ غرض ہر چیز کے حقوق اور حدود ہیں ـ

ملفوظ 31 : ترک موالات

فرمایا کہ میں نے اس زمانہ تحریک ہی میں کہا تھا کہ اگر بجائے مبہم عنوانات کے عنوان
کی تعیین کرکے سوالات کریں تو میں جواب دوں چاہے کسی کے بھی خلاف ہو ایک صاحب کا اسی
زمانہ میں ایک سوال کا خط آیا میں نے لکھا کہ ترک موالات کا عنوان حذف کر کے متعین واقعہ
پوچھو ـ میں جواب دوں گا ـ یہیں پر اس زمانہ میں ایک علی گڑھ کا طالب علم آیا جو عصر کے وقت آیا
مگر نماز نہیں پڑھی اس نے مجھ سے ترک موالات ہی کے متعلق کچھ پوچھنا چاہا تھا ـ میں نے کہا کہ
پہلے اپنی تو خبر لو ـ انگریزوں سے تو ترک موالات اس لئے کیا تھا کہ ترکوں سے لڑے مگر جو نماز جو
نہیں پڑھی تو خدا سے ترک موالات کیوں کیا شاید اسلئے کہ اس نے انگریزوں کو غلبہ کیوں دیا ـ

ملفوظ 30 : تحریک خلافت میں د شمنی کے واقعات سے باطنی نفع

فرمایا کہ زمانہ تحریک خلافت میں ہر قسم کے الزامات اور بہتان میرے سر پر تھوپے گئے ہیں میں نے کہا کہ کہہ لو بھائی جو تمہارا جی چاہتا ہے اللہ سے معاملہ ہے وہ تو دیکھ رہے ہیں ـ تمہارے برا بھلا کہنے سے ہوتا کیا ہے اور میرا ضرر کیا ہے بلکہ اس صورت میں نفع کی تو توقع ہے کہ کچھ نیکیاں مل جائیں الحمدللہ مجھے ان قصوں میں کسی سے بغض نہیں ہوا البتہ شکایت ضرور ہوئی وہ بھی دوستوں
سے غیروں سے وہ بھی نہیں ـ میں نے سب کو دل سے سب معاف کر دیا تھا جو کچھ کہہ چکے وہ بھی
اور جو آئندہ کہو وہ بھی ـ میری وجہ سے اگر کسی مسلمان کو عذاب ہوا تو میرا کیا بھلا ہوگا اور معافی میں
تو مجھے امید ہے کہ حق تعالی میرے اوپر رحم فرماویں یہاں تک توبت آگئی تھی کہ چاروں طرف سے
دھمکی کے خطوط آتے تھے ایک مقام سے خط آیا کہ آپ کی خاموشی عنقریب آپ کے چراغ زندگی
کو خاموش کر دے گی ـ میں ردی میں ڈال دیا اور ہود علیہ السلام کا یہ قول یاد آیا فکیدونی جمیعا ثم لا تنظرون انی توکلت علی اللہ ربی و ربکم الخ (سو تم سب مل کر میرے
ساتھ داؤ گھات کر لو ـ پھر مجھ کو ذرا مہلت نہ دو میں نے اللہ پر توکل کر لیا ہے جو میرا بھی مالک ہے
اور تمہارا بھی مالک ہے ) مجھے بحمداللہ ان واقعات سے بہت نفع ہوا ـ ایک حالت تو یہ ہوئی کہ پہلے
دنیا سے طبعی نعرت نہ تھی ان واقعات سے طبعی نفرت ہو گئی مخلوق سے نظر بالکل اٹھ گئی اور ایک حق
تعالی کی یہ نعمت ہے کہ اب میں یہ سمجھتا ہوں کہ حق تعالی کے دو ملک ہیں ـ ایک دنیا اور ایک آخرت !
مالک کو اختیار ہے کہ اپنی رعیت کو جہاں چاہے بسا دے ـ چناچہ ایک وقت تک دنیا میں بساتے
ہیں دوسرے وقت آخرت میں بسا دیں گے ـ

ملفوظ 29 : شجاع رحم دل ہوتا ہے اور بز دل بے رحم

فرمایا کہ یہ یاد رکھنے کی بات ہے کہ شجاع آدمی ہمیشہ رحم دل ہوتا ہے اور بز دل ہمیشہ بے رحم
ہوتا ہے تجربہ ہے ہندوستان ہی میں دیکھ لیجئے ماشاء اللہ مسلمان شجاع ہیں ان کا اگر کبھی قابو پڑ جاتا ہے تو بے رحم دلی کا برتاؤ کرتے ہیں اور دوسری قومیں اس کے برعکس صدہا نظائر اس کے موجود ہیں ـ
دیکھئے ترک سب سے زیادہ شجاع قوم ہے بے حد رحم دل ہے ـ اسی سلسلہ میں فرمایا کہ
خود کشی کرنا بھی بز دلی پر دال ہے خود کشی وہی کرتا ہے فو بودا ہوتا ہے ـ مصیبت کا تحمل نہیں کر سکتا ـ
چناچہ عورتیں زیادہ خود کشی کرتی ہیں کیا ان کو کوئی شجاع کہتا ہے ـ اس پر فرمایا کہ یہاں پر ایک شخص
آئے تھے انہوں نے خود کشی کی ـ عجیب بات یہ ہے کہ نہ تڑپے نہ آواز نکلی ـ بڑے ہی استقلال سے
اس شخص نے جان دی مگر سبب اس کا وہی بز دلی کہ حادثات کا مقابلہ نہ کر سکے یہ کون سی بہادری کی
بات ہے اور عجیب بات ہے کہ ضرب کے بعد آدمی اضطرارا تڑپتا تو ہے مگر کچھ نہیں کوئی نشان تڑپنے کا تھا
ہی نہیں حیرت ہوگئی مجھ کو تو بڑا رنج بڑا صدمہ بڑا قلق ہوا کہ جابندہ خدا دل کی کچھ کہہ تو لیتا انشاء اللہ کیسی ہی بات
ہوتی تسلی تشفی کر دیتا ـ مجھے اس واقعہ میں صرف اسی بات کا رنج ہے کہ اس نے
اپنے دل کی کہی ہی نہیں ـ ایک صاحب نے عرض کیا کہ خود کشی کی عنداللہ مواخذہ اپنے ذمہ لیا
فرمایا جی ہاں شاید عند اللہ معذور ہو کسی کو کیا خبر ! اس شخص پر کیا گزر رہی تھی جس کو وہ برداشت نہ کر سکا اللہ ہی علیم ہے ـ

ملفوظ 28: پیر کے نام کے مطابق اسم باری تعالی تلاش کرنا

فرمایا کہ ایک پیر کے نام مریدین وظیفہ پڑھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خدا کا نام ہے یا وارث ـ
میں نے کہا کہ ہاں ایک ہی تو نام ہے خدا کا یا وارث اور تم اس ہی نیت سے تو پڑھتے ہو ـ
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حیدر آباد سے ایک پیر آئے تھے فلاں مقام پر جب حلقہ کرتے تھے تو
اس میں یا بھیک یا بھیک کے نعرے لگاتے تھے تبسم فرما کر بطور مزاح حضرت والا نے فرمایا کہ لا بھیک لا بھیک ہی کے نعرہ کیوں نہ لگائے مقصود بھی حاصل ہوتا اور جائز بھی ہو جاتا یعنی کچھ مل بھی جاتا فرمایا ان ہی شرکیات میں مبتلا ہیں اس کا سبب جہل ہے ـ

ملفوظ 27 پیری کرنا بھی مشکل ہے

فرمایا جیسے حکومت کرنا مشکل ہے ایسے ہی پیری کرنا بھی مشکل ہے کوئی راضی ہے کوئی
شاکی ہے کوئی حاکی ہے کہاں تک ہر شخص کو خوش رکھا جا سکتا ہے ـ

ملفوظ 26: ایک خاتون کا خط اور درخواست بیعت

فرمایا کہ ایک بی بی کا خط آیا ہے اس میں لکھا ہے کہ میں بیعت ہونا چاہتی ہوں اور اپنے خاوند کا پر چہ د ستخطی ہمراہ ہے فرمایا کیسے سلیقے کی بات ہے اب کیا عذر کر سکتا ہوں سیدھی
سیدھی بات لکھی ہے اس لئے مرید کرنا ہی پڑ گیا جواب میں حضرت والا نے لکھا کہ بہشتی زیور کے
مسائل پر اور قصدالسبیل کے وظائف و ہدایات پر اور میرے مواعظ کے نصائح پر عمل کرو تو اس شرط پر بیعت کرتا ہوں ـ

ملفوظ 25: بدفہمی کا کوئی علاج نہیں

فرمایا کہ ایک صاحب سے خط و کتابت ہو رہی ہے کچھ ذکرو شغل کرنا چاہتے ہیں میں
میں نے لکھا تھا کہ قصد السبیل دیکھا کرو ـ لکھا کہ دیکھی تھی سمجھ میں نہیں آئی ـ میں نے لکھا کہ کسی سمجھدار
سے سمجھ لو ـ آج لکھتے ہیں کہ میں اپنے ہادی اور آقا کے سوا کسی کو سمجھدار ہی نہیں سمجھتا فرمایا ان لوگوں
کی اصلاح کس طرح کروں اس بدفہمی اور کوڑ مغزی کا میرے پاس کیا علاج ہے ـ