فرمایا ! کہ آجکل بزرگ اس کو سمجھتے ہیں کہ اس کے کپڑے گیروی ہوں لٹیں ناف تک ہوں ـ چوغہ گٹوں تک ہو ـ بڑے بڑے دانوں کی تسبیح ہاتھ میں ہو بس درویش ـ شاہ صاحب ہیں ولی کامل ہیں کیا خرافات ہے ـ غالبا ہمارے حضرت حاجی صاحب ؒ فرمایا کرتے تھے کہ آجکل درویشی دو پیسہ میں ملتی ہے ایک پیسہ کا گیرو خرید لیا کپڑے رنگ لئے ایک پیسہ کی تسبیح
خرید لی اور درویش ہو گئے ـ ہمارے بزرگوں کے طریق کو تو ظاہر بیں مولویت سمجھتے ہیں کہتے ہیں
اسے درویشی سے کیا تعلق ایسے لوگوں میں تو جس قدر خلاف شریعت ہو وہ زیادہ کامل سمجھا جاتا
ہے اسی کو مولانا فرماتے ہیں ؎
کار شیطان میککنی نا مت ولی ٭ گر ولی این ست لعنت بر ولی
( شیطانی کام کرتے ہو اور تمہارا نام ولی ہے اگر ولی یہی ہے تو ولی پر لعنت )
اقوال
ملفوظ 43: حقوق واجبہ کا ترک ، اور نوافل کا اہتمام
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا ! کہ کسی فن کا مدون کرنا تھوڑا ہی مقصود ہے مقصود تو اس کے
اصول پر کام کرنا ہے اور کام ہی کیلئے مدون کیا جاتا ہے مگر آج کل خود تحقیقات کو مقصود بالذات
بنا رکھا ہے ان ہی تحقیقات کی تکمیل کیلئے احکام کی حکمتیں تلاش کی جاتی ہیں ـ بعض کی تو ساری
عمر ان ہی زوائد میں ختم ہو جاتی ہے عمل کرنے کی ایک حکم پر بھی نوبت نہیں آتی ـ حالانکہ اصل مقصود کام ہے یعنی نفس کی اصلاح اور اعمال کی خبر گیری ـ مگر مقصود کو چھوڑ کر غیر مقصود کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں ـ
محققین کا مذہب یہ ہے کہ آم کھانے سے غرض نہ کہ پیڑ گننے سے ـ اس کی ایسی مثال ہے
دیکھئے سکہ ہمارے کام کا ہے مگر یہ بات کہ اس کا مادہ کیا ہے اور کس کارخانہ میں بنتا ہے اگر نہ بھی
معلوم ہو تب بھی وہی کام اس سے نکلیں گے جو معلوم ہونے پر نکل سکتے تھے ـ پس عمل کا اہتمام نہ
کرنا بڑی کوتاہی ہے اور عمل کو مہتمم بالشان سمجھنے کے بعد ایک کوتاہی اور ہے جس میں عوام تو کیا
خواص بھی مبتلا ہیں کہ اعمال واجبہ کی وہ عظمت اور وقعت قلوب میں نہیں جو غیر واجبہ کی ہے مثلا
( حقوق العباد وغیرہ کی فکر نہیں اور ) نوافل و ظائف وغیرہ کی کثرت کو زیادہ موجب قرب حق سمجھتے
ہیں اور جو اصل مقصود تھا اسی کو حقیر سمجھا جاتا ہے کتنا بڑا ظلم عظیم ہے اور اعمال واجبہ کے حقیر سمجھنے
کا سبب ان اعمال کا عموم ہے کہ اس کو تو سب ہی کرتے ہیں ـ اسمیں خصوصیت ہی کیا ہوئی لیکن اگر
یہ وجہ حقارت کی ہے تو گنی اور روپیہ بھی تو سب ہی کے پاس ہے تو عموم کی وجہ سے ان کو بھی حقیر
سمجھنا چاہئے ـ اور جیب سے نکال کر پھینک دینا چاہیے حالانکہ ایسا نہیں بلکہ اس عموم کے سبب
اوروں سے زیادہ ان کو جمع کیا جاتا ہے اور ہوا سب سے زیادہ عام اور سستا ہونا اگر اس کی
دلیل ہے کہ وہ چیز حقیر اور ذلیل ہوتی ہے تو اس کو بھی حقیر اور ذلیل سمجھئیے ناک اور منہ بند کر لیجئے
حقیقت معلوم ہوجائے گی ـ اور کیا نعوذ باللہ انبیاء علیہم السلام ایسے کاموں کے اہتمام کیلئے مبعوث
فرمائے گئے تھے جن کو تم حقیر اور فضول سمجھتے ہو توبہ کرنا چاہیے ان فاسد عقائد سے ـ
پس اصل چیز اور اصل مقصود اعمال واجبہ ہی ہیں اور عموم ہونا ہی دلیل ہے افضلیت کی
جیسے میں نے مثال عرض کی سکہ کی اور ہوا کی ـ کہ انکا عموم مسلزم نہیں حقیر اور فضول ہونے کو ـ بلکہ زیادہ نافعیت کی دلیل ہے ـ
ملفوظ 42: معاصی سے نحوست اور ظلمت کی دلیل نقلی
فرمایا ! کہ لوگ معصیت پر بہت دلیر ہو ہو جاتے ہیں اس کی نحوست سے تمام امراض
روحانی پیدا ہوتے ہیں نورانیت قلب سے جاتی رہتی ہے اور ظلمت بڑھ جاتی ہے تو معاصی میں
بڑی ہی ظلمت اور تاریکی ہے اپنی ذات کے اعتبار سے بھی اور آثار کے اعتبار سے بھی حدیثوں میں
اس کی تائید موجود ہے ـ جناب رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو کوئی گناہ کرتا ہے اس کے قلب پر
ایک سیاہ دھبہ پیدا ہو جاتا ہے اگر بندہ خلوص سے توبہ کر لیتا ہے تو حق تعالی اس دھبہ کو قلب سے
صاف فرما دیتے ہیں ـ اگر توبہ نہیں کرتا اور اس گناہ کو پھر کرتا ہےاور اس پر اصرار کرتا ہے تو وہ دھبہ
پھیلنا شروع ہوتا ہے یہاں تک کہ سارے قلب کو محیط ہو جاتا ہے حق تعالی فرماتے ہیں : کلا بل ران علی قلوبھم ما کانوا یکسبون ـ ( ہر گز ایسا نہیں بلکہ !
ان کے دلوں پر ان کے اعمال کا زنگ بیٹھ گیا ہے ) ـ
اسی کو مولانا فرماتے ہیں ؎
ہر گنہ زنگے ست بر مرات دل ٭ دل شود زیں زنگ ہا خوار و خجل
چوں زیادت گشت دل را تیرگی ٭ نفس دوں را بیش گرد وخیر گی
( ہر گناہ دل کے آئینہ پر ایک زنگ کا داغ ہے جس کی وجہ سے دل ذلیل و شرمندہ
ہو جاتا ہے اور جب دل کی تاریکی زنگ کی زیادتی کی وجہ سے بڑھ جاتی ہے تو کمینے نفس کی حیرانی بڑھ جاتی ہے )
ملفوظ41 : نفس اور اخلاق ذمیمہ
فرمایا ! ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ نفس کو بھی لطافت میں سے شمار کیا گیا ہے ـ
گو داعی الی الشر ہے اور مطمئنہ ہونااس کا عارضی ہے ریاضت سے
دبا رہتا ہے یہ ہی وجہ ہے کہ بعض سالکین کو دھوکا ہو جاتا ہے بعد مجاہدہ کے اگر اپنے اندر
طبیعیہ مذمومہ کا اثر پاتے ہیں اس سے مجاہدہ کے بے کار ہونے کا گمان کر بیٹھتے ہیں اور اکثر اس نتیجہ مایوسی سے تعطل ہو جاتا ہے میں کہتا ہوں کہ اگر اخلاق ذمیمہ زائل ہو جائیں یا بالکل ہی ختم ہو جائیں تو پھر درجات اور ثواب کس چیز پر مرتب ہوں ہاں اگر اس قدر مغلوب ہو جائیں کہاں
اقتضاء پر عمل کرنے کو بآسانی ترک کرنے کی قوت راسخ ہو جائے تو مقصود حاصل ہے گو کبھی کبھی
منازعت بھی کرے تو اس پر غلبہ کی سعی میں لگا رہنا چاہئے پس طالب کی تو یہ حالت ہونی چاہئے
اندریں رہ می تراش ومی خراش ٭ تادم آخر دمے فارغ مباش
( یعنی راہ سلوک میں تراش وخراش بہت ہے لہذا مرتے دم تک ایک منٹ کیلئے بے فکر مت ہو )
ملفوظ 40 کامل کی صحبت سے ہمت پیدا ہوتی ہے
فرمایا ! کہ ہمت سے اگر انسان کام لے کوئی بھی مشکل نہیں اور یہ ہمت پیدا ہوتی ہے کسی کامل کی صحبت میں رہنے سے اور رہنے سے یہ مراد نہیں کہ بال بچوں کو چھوڑ کر ملازمت سے
استعفٰی دے کر زراعت بند کر کے اس کے پاس جا پڑو بلکہ اگر وقت ملے تو اس کے پاس گاھے بگاھے
جانا بھی چایئے اور خط وکتابت سے ہمیشہ اپنے حالات کی اطلاع کرتا رہے جو کچھ وہ تعلیم کر تا ہے
اس پر کار بند رہے پھر انشاء اللہ تعالی ہمت پیدا ہو جائے گی بدوں صحبت کامل اور بغیر اس سے تعلق پیدا کئے کام بننا مشکل ہے گو غیر ممکن نہیں مگر شاذ ونادر ضرور ہے مولانا فرماتے ہیں ؎
قال را بگذ را مرد حال شو ٭ پیش مرد کاملے پامال شو
( یعنی ظاہر اور باطن دونوں کی درستی میں لگو ـ اور کسی مرد کامل کی خدمت میں اپنے کو سپرد کر دو)
بغیر جوتیاں سیدھی کئے ہوئے کامیابی آسان نہیں آخر طبیب کے پاس جا کر علاج کیوں کراتے ہیں سمجھتے ہیں کہ مرض سے نجات اور تندرستی بغیر طبیب کے پاس جائے نہیں حاصل ہو سکتی تو وہ امراض جسمانی کا معالج ہے اور یہ امراض روحانی کا معالج مگر ایک کی ضرورت میں کسی کو بھی کلام نہیں اور دوسرے کی ضرورت میں کلام کیا جاتا ہے وجہ فرق کیا ہے ـ
ملفوظ 39 : رمضان المبارک میں معاصی سے بچنے کا خاص اہتمام
فرمایا ! کہ اس ماہ مبارک میں جملہ معاصی کو ترک کرنا چاہیے خواہ معاصی ہاتھ یا پیر کے
ہوں آنکھ کے ہوں کان کے ہوں زبان کے ہوں قلب کے ہوں اور یوں تو ترک معاصی اس ہی ماہ
کے لئے خاص نہیں وہ ہر وقت ہی بچنے کی چیز ہے مگر اس ماہ میں اتنا اور ہے کہ جیسے اعمال صالحہ پر اجر اور ثواب زیادہ ہے گناہ پر سزا بھی زیادہ ہے
ملفوظ 38 : رمضان المبارک کے فضائل و حقوق
فرمایا ! کہ یہ مہینہ بڑی ہی برکت اور رحمت کا ہے اگر حق تعالی اپنے بندوں کو اتنی قوت اور توفیق عطا فرمائیں کہ حقوق واجبہ ادا ہوتے رہیں اور معاصی سے اجتناب رہے یہی بڑی دولت ہے
اس سے آگے کی تمنا کرنا بڑے لوگوں کا کام ہے ہم جیسے کمزوروں کے لئے تو یہ ہی سب کچھ ہے
انکی ذات سے تو سب کچھ امید ہے بڑے رحیم ہیں وہ تو ناقصین کو بھی محروم نہیں رکھتے طلب شرط ہے ـ
بندوں کو بھی چاہئے کہ جیسے کچھ ہیں برے بھلے دوبار میں پیش ہو جایا کریں اور اپنی وسعت
اور قوت سے کام لیں پھر تو وہ خود اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں ـ ارادہ اور ہمت بڑی چیز ہے اس کی
برکت سے بڑا سخت سے سخت کام سہل اور آسان نظر آنے لگتا ہے ـ جہاد کیسی سخت چیز ہے کہ جان
کے لالے پڑ جاتے ہیں مگر ہمت و ارادہ اس کو بھی سہل کر دیتا ہے ـ خصوصا معاصی سے اجتناب
بہت ضروری ہے مگر دیکھا یہ گیا ہے کہ اور زمانہ میں تو لوگوں کو اسکا خیال بھی نہیں ہوتا اور جہاں
رمضان شریف شروع ہوئے گنجفہ ، شطرنج کثرت سے شروع کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جی
بہلائے اور دن گزارنے کیلئے کرتے ہیں ـ بندہ خدا قرآن کی تلاوت کی ہوتی ـ ذکراللہ
میں مشغول ہوا ہوتا ـ کسی نیک مجلس نیک صحبت میں بیٹھا ہوتا مگر کچھ بھی نہیں کرتے آزادی کا زمانہ ہے کسی کا ادب نہیں خوف نہیں جو چاہتے ہیں کرتے ہیں ـ
ملفوظ 37: رمضان المبارک کی برکت کا احساس
فرمایا کہ آج رمضان المبارک کی برکت محسوس ہوئی ـ کوئی خاص اہتمام نہیں کیا مگر جی
میں نشاط سا معلوم ہوتا ہےامید ہے انشاء اللہ تعالی اور شکایات بھی مثلا کھانسی وغیرہ اس ماہ مبارک
کی برکت سے جاتی رہیں گی ـ دعا کیجئے کہ حق تعالی ماہ مبارک کے حقوق کے ایفاء کیلئے قوت و ہمت عطا فرمائیں ہم ضعیف ہیں ہر وقت ان کی رحمت اور توفیق کی ضرورت ہے ـ
ملفوظ 36: امور تکوینیہ اور مجذوب
ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت سنا ہے کہ یہ امور تکوینیہ مجذوبین کے متلعق
ہوتے ہیں بدوں عقل کے وہ کام کیسے کرتے ہوں گے فرمایا ان کے متعلق ہونا صحیح ہے اور گو ان
میں عقل نہیں ہوتی لیکن جو کام ان کے سپرد کیا جاتا ہے اس میں عقل کی ضرورت نہیں اس لئے اس
کو بخوبی انجام دیتے ہیں کیونکہ انجام دینا عقل پر موقوف نہیں بلکہ سلامت حواس بھی کافی ہے جیسے
بچہ کہ اس کو عقل تو ہوتی نہیں مگر حواس ہوتے ہیں ـ بھوک پیاس میں کھانے پینے کو مانگتا ہے خوشی کی
بات سے خوش ہوتا ہے رنج کی بات سے اگر ڈرایا جائےیا ہنسایا جائے ڈرتا ہے ہنستا ہے ان
چیزوں میں عقل کی ضرورت نہیں یہ فطری چیزیں ہیں ـ
خلاصہ یہ ہے کہ عقل اور چیز ہے اور حواس اور چیز ـ پس ان مجذوبین کی حالت مشابہ
بچوں کے ہے یہی وجہ ہے کہ سالکین مراتب میں مجذوبین سے افضل ہیں اور بعض اوقات سلامت
حواس بھی شرط نہیں ہوتی ـ
29 : شعبان المعظم 1350ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم شنبہ
ملفوظ 35: خیرالقرون کا سواد اعظم مراد ہے
فرمایا کہ آجکل جمہوریت کو شخصیت پر ترجیح دی جا رہی ہے اور کہتے ہیں کہ جس طرف
کثرت ہو وہ سواد اعظم ہے اسی زمانہ میں میرے ایک دوست نے اس کے متلعق عجیب و لطیف
بات بیان کی تھی اکہ اگر سواد اعظم کے معنی یہ بھی مان لیے جائیں کہ جس طرف زیادہ ہوں تو ہر زمانہ
کا سواد اعظم مراد نہیں بلکہ خیرالقرون کا زمانہ مراد ہے جو غلبہ خیر کا وقت تھا ان لوگوں میں سے جس طرف مجمع کثیر ہو وہ مراد ہے نہ کہ ثم یفشوا لکذب ( پھر جھوٹ پھیل جائے گا ) کا زمانہ کہ یہ
جملہ ہی بتا رہا ہے کہ بعد خیرالقرون کے کثرت شر میں ہو گی ـ مجھے تو یہ بات بہت ہی پسند آئی واقعی
کام کی بات ہے اگر یہ اشکال ہو کہ امام ابو حنیفہ ؒ نے بعض مسائل میں سواد اعظم کا اختلاف خیرالقرون میں کیا ہے ـ
جواب یہ ہے کہ اس وقت خیرالقرون والے امام صاحب کی بات کو یقینا باطل نہ کہتے
تھے بلکہ اس پر متفق تھے کہ شاید امام صاحب ہی حق پر ہوں تو احتمال حقانیت پر سواد اعظم متفق تھا ـ

You must be logged in to post a comment.