ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک شخص یہاں پر آئے تھے انہوں نے دوسرے لوگوں سے میرے متعلق کہا کہ اس میں اخلاق محمدی نہیں مجھ سے معلوم ہوا میں نے ظرافت سے کہا کہ اخلاق الہیہ تو ہیں ایسے ایسے خوش فہم لوگ بھی دنیا میں موجود ہیں جو اخلاق متعارفہ کو اخلاق محمدی سمجھتے ہیں یہ سب قلت فہم کی دلیل ہے ۔
( ملفوظ 488)چار آدمی محبت کرنے والے کافی ہیں
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اگر چار آدمی ہوں محبت کرنے والے اور مخلصانہ تعلق رکھنے والے اور سمجھدار وہ کافی ہیں یہ بہترین ہیں ان چار ہزار سے جو مہمل ہوں آج کل تو رسمی پیروں کے یہاں رجسٹر بنے ہوئے ہیں کہ اتنے مرید ہیں مجھ سے تو کسی خاص شخص کے متعلق بھی یہ یاد نہیں رہتا کہ یہ مجھ سے بیعت ہے یا نہیں ، ہاں جو لوگ زیادہ ملتے رہتے ہیں یا کثرت سے خط و کتابت رکھتے ہیں وہ بے شک یاد رہتے ہیں اور اصل تو یہ ہے کہ ایک ہی کی یاد بہت ہے جس کو یہ دولت حق تعالی نصیب فرماویں ۔
( ملفوظ 487)آزادی کے زمانہ اور اتباع حق سے بھی انکار
ایک سلسہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل آزادی اور حریت کا زمانہ ہے لوگوں کو دوسروں کے اتباع سے عار آتی ہے اور اس طریق میں یہ طرز سم قاتل ہے ۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ اتباع کی عادت ہو اور طبیعتیں اس کی خوگر ہوں تا کہ اتباع ظاہری کی عادت سے انقیاد باطنی کا مادہ پیدا ہو جائے ۔ اب تو یہاں تک آزادی کا مرض بڑھ گیا ہے کہ کسی استاد یا شیخ یا والدین کا تو کیا اتباع کریں گے اللہ تعالی ہی سے آزاد رہنا چاہتے ہیں ۔ ( نعوذ باللہ منہ استغفر اللہ )
یکم ذی الحجہ 1350 ھ مجلس بعد نماز جمعہ
( ملفوظ 486) خاموش رہنے سے فہم پیدا ہوتا ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں جو نئے آنے والوں کے لیے قیود لگاتا ہوں کہ مکاتبت اور مخاطبت کچھ نہ کریں اس کا منشاء صرف طرفین کی راحت رسانی ہے اور مقصود اعظم یہ ہے کہ خاموش رہنے سے فہم پیدا ہو اور وقتا فوقتا کی صحبت اور گفتگو سے اپنے مطلوب کی حقیقت سے باخبر ہو جائیں اس لیے کہ طریق سمجھ میں آ جانے کے بعد پھر حصول میں بڑی سہولت اور آسانی ہو جاتی ہے اس کے سوا اور کوئی میرا مقصود نہیں ہوتا ۔
( ملفوظ 484)بزرگوں کے حالات میں ہر بات سمجھ میں آنا ضروری نہیں
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت نزہۃ البساتین کے علاوہ اور بھی کوئی ایسی کتاب ہے جس میں بزرگوں کے حالات ہوں ، فرمایا کہ میری نظر زیادہ کتابوں پر ہے نہیں ، ممکن ہے کہ اور بھی ایسی کتابیں ہوں ۔ حضرت والا نے دریافت فرمایا کہ اور جو ایسی کتاب کی تلاش ہے کیا یہ کافی نہیں ، عرض کیا کہ انگریزی والوں کو اس سے دلچسپی نہیں اور اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ بعض حکایات اس کی ان کی سمجھ میں نہیں آتیں ۔ فرمایا کہ یہ احتمال تو اور کتاب میں بھی ہے اور بجائے دوسری کتاب ڈھونڈنے کے اچھی صورت تو یہ ہے کہ جو مضامین سمجھ میں نہ آئیں ان کو چھوڑ دیں ، صرف سمجھ میں آنے والے کو پڑھیں باقی ان کی دلچسپی کس کس چیز میں دیکھی جائے اور ان کی دلچسپی کی رعایت کہاں تک کی جائے اور کہاں تک انتخاب کیا جائے ان کو تو قرآن و حدیث سے بھی دلچسپی نہیں تو اس کا حاصل تو یہ ہوا کہ قرآن و حدیث میں بھی انتخاب کیا جائے اور اس تعلیم انگریزی کا اگر پورا اثر ہو جائے تو خدا تعالی سے بھی دلچسپی نہیں رہتی ۔ سو یہ تو بہت ہی واہیات بات ہے کہ ان کی وجہ سے ہم اپنے اصول بدل دیں اور اپنے بزرگوں کے طرز میں کتربیونیت شروع کر دیں ۔ سیدھی بات یہ ہے کہ جو مقام یا جو حکایت سمجھ میں نہ آئے جاننے والے سے سمجھ لیں اور اگر کوئی شبہ ہے اعتراض کریں ہم اس کا انشاء اللہ تعالی جواب دیں گے ۔ جب ہمارے پاس جواب ہے تو ہم کیوں کسی کی رعایت کریں اور میں پوچھتا ہوں کہ اچھا اگر کسی کتاب کو بدل بھی دیا گیا مگر قرآن و حدیث کا کیا کیا جائے گا اگر کل کو وہ کہنے لگیں کہ فلاں حدیث یا فلاں آیت سمجھ میں نہیں آتی یا ہمیں اس سے سے دلچسپی نہیں تو کیا اس میں بھی انتخاب کیا جائے گا یہ سب خیالی اور بے اصولی باتیں ہیں ، کبھی ایسی باتوں سے متاثر نہیں ہونا چاہیے ہم اس کے ذمہ دار یا ٹھیکیدار نہیں کہ ہر بات سمجھ ہی میں آ جایا کرے ۔ اگر ہر بات سمجھ میں آ جایا کرتی تو یہ اتنے باطل فرقے کیوں پیدا ہو جاتے ایک بھی نہ ہوتا اور اگر سب کی سمجھ یا دلچسپی کی رعایت کی جائے تو قیامت تک بھی کوئی اصول قرار نہیں پا سکتا ۔
( ملفوظ 485) اہل کمال کو زیب و زینت کی احتیاج نہیں
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اہل کمال کو زیب و زینت کی ضرورت نہیں ہوتی ، ان کو اتنی فرصت کہاں کہ وہ ایسی فضولیات کی طرف متوجہ ہوں میں تو جب کسی کو زیب و زینت کا اہتمام کرتا دیکھتا ہوں سمجھ جاتا ہوں کہ یہ شخص کمال سے خالی ہے اور حصول کمال کی طرف متوجہ بھی نہیں ۔
( ملفوظ 483)درسی کتابیں سمجھ لی جائیں تو کافی ہیں
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں تو کہا کرتا ہوں کہ درسی کتابیں اگر سمجھ کر پڑھ لی جائیں تو پھر کسی اشکال کے جواب میں باہر جانے کی ضرورت نہیں ۔ ان میں سب کچھ ہے یہ ایسا قلعہ ہے کہ اس میں ہر قسم کی رسد جمع ہے ، کھانا پینا بھی ، ہتھیار بھی ، گولا بارود بھی اور درسی کتابیں پڑھ کر بھی اگر کسی کو دوسرے علوم کی ضرورت اور محتاجی ہو تو اس کی وجہ یہ ہے کہ کتابیں سمجھ کر نہیں پڑھی جاتیں ۔
( ملفوظ 482)فتوی میں زمانہ کی رعایت کس حد تک ؟
ایک استفتاء آیا تھا اس کے جواب کے سلسلہ میں فرمایا کہ یہ بات قابل لحاظ ہے کہ جواب میں گو ضرورت وقت کی رعایت سہی مگر اس کے ساتھ ہی ایسا ہو کہ جس سے احکام نہ بدلیں ، آج کل اس کی رعایت نہیں کی جاتی میں الحمد للہ تعالی ہمیشہ ہر جواب میں اس کی رعایت رکھتا ہوں فتوی کا کام بھی بڑا ہی نازک ہے اس سے میرا دل بہت ڈرتا ہے اور میں اکثر لوگوں کو اس ہی میں زیادہ بے باک دیکھتا ہوں ۔
( ملفوظ 481)علی گڑھ کالج میں لڑکے کے داخلے سے دین پر فالج
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت علی گڑھ کالج میں لڑکے کو داخل کرتے ہوئے ڈر معلوم ہوتا ہے کہ کہیں دین نہ برباد ہو جائے ، فرمایا میاں ہو گا تو وہی جو اللہ کو منظور ہو گا مگر ظاہری اسباب میں یہ داخلہ بھی ایک قوی سبب ہے بربادی کا اور اس بناء پر کالج کے داخلے سے فالج کا داخلہ اچھا ہے اس لیے کہ اس میں تو دین کا ضرر اور اس میں جسم کا ضرر ۔ ان دونوں مرضوں میں حقیقی مرض وہی ہے جو کالج میں رہ کر پیدا ہوتا ہے ۔
یکم ذی الحجہ 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم جمعہ
( ملفوظ 479)درود شریف ہمیشہ مقبول ہوتا ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک نکتہ عجیب ہے درود شریف کے متعلق وہ یہ کہ علماء نے لکھا ہے کہ عبادتیں تو کبھی قبول ہوتی ہیں کبھی نہیں اور درود شریف ہمیشہ مقبول ہی ہوتا ہے میرے خیال میں اس کا یہ راز معلوم ہوتا ہے کہ حق تعالی خود حضور صلی اللہ علیہ و سلم پر رحمت کرنا چاہتے ہیں ۔ دوسرا اسی کی درخواست کرے گا تو ضرور قبول ہو گی ۔

You must be logged in to post a comment.