ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت فلاں شخص نے مجھ سے کہہ دیا تھا کہ میں قرآن شریف حفظ کر رہا ہوں ، حافظہ کی کمزوری کی شکایت ہے اگر کوئی دعا حضرت والا پڑھنے کو فرما دیں تو میں اس شخص کو بتلا دوں ، فرمایا کہ حافظہ کا اس سے تعلق تو ہے نہیں مگر برکت کے لیے یا قوی گیارہ مرتبہ سر پر ہاتھ رکھ کر پڑھ لیا کرے ، حافظہ کی قوت کے لیے انشاء اللہ نافع ہو گا اور اگر وسعت ہو تو اصل تدبیر یہ ہے کہ کسی طبیب سے کوئی نسخہ تجویز کرائے ۔
( ملفوظ 269 ) پورے مشاہدہ کے بغیر رائے قائم کرنا مناسب نہیں
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بدون کافی مشاہدہ کے یہاں کے طرز کے متعلق لوگ رائے قائم کر لیتے ہیں اس ناتمام فیصلہ کی بالکل ایسی مثال ہے جیسے ایک شخص نے وعظ میں سنا تھا کہ قبر میں سوال جواب ہوتے ہیں اور منکر نکیر آتے ہیں وہ شخص امتحان کے لیے کسی ٹوٹی ہوئی قبر میں جا کر پڑ گیا ، بہت دیر ہو گئی نہ منکر نکیر نہ سوال جواب ، کچھ بھی نہیں ، اتفاق سے ایک سپاہی کا اس قبرستان کی طرف سے گزر ہوا وہ گھوڑی پر سوار تھا ، گھوڑی نے بچہ دے دیا اب اس کو فکر ہوئی کہ گاؤں تک بچہ کس طرح پہنچے ، اس فکر میں کھڑا تھا کہ گڑھے میں سے کچھ آہٹ محسوس ہوئی فوجی سپاہی دلیر ہوتے ہی ہیں جا کر دیکھا تو ایک شخص چادر اوڑھے لمبے پیر کیے لیٹا ہے سپاہی نے ڈانٹ کر کہا کہ کون پڑا ہے ، باہر نکل ڈر کے مارے باہر آیا اس نے ایک یا دو ہنٹر رسید کیے اور کہا کہ یہ گھوڑی کا بچہ فلاں گاؤں تک پہنچا ، بچے کو لے کر ساتھ ہو لیا ، گاؤں میں پہنچ کر سپاہی نے کچھ پیسے دیئے اور رخصت کر دیا ۔ اب مولوی صاحب کے پاس پہنچا کہ مولوی صاحب تم تو کہتے تھے کہ یوں قبر میں سوال و جواب ہوتے ہیں اور منکر نکیر آتے ہیں وہاں تو ان میں سے ایک بات بھی نہیں ہوتی ، خواہ مخواہ ہی ڈرا رکھا ہے میں تو امتحان کر آیا ہوں صرف یہ ہوتا ہے کہ کچھ دیر تو پڑا رہنا پڑتا ہے ، پھر ایک سوار آتا ہے وہ ڈانٹتا ہے باہر نکل آنے کا حکم کرتا ہے پھر ایک دو ہنٹر لگاتا ہے اور ایک گھوڑی کے بچے کو قبرستان سے اٹھوا کر گاؤں تک لے جاتا ہے اور کچھ پیسے دے کر واپس کر دیتا ہے تو جیسے اس شخص کو اس خلاصہ نکالنے میں غلطی ہوئی ایسے ہی یہاں جو لوگ تھوڑی دیر کے لیے آتے ہیں ان سے یہ غلطی ہوتی ہے کہ وہ حقیقت سے بے خبر رہتے ہیں اور میں یہ چاہتا ہوں کہ ان کو اپنی غلطی اور جہل پر اطلاع ہو جائے ورنہ ہر بات کو اس جہل ہی پر مبنی کرتا چلا جائے گا اس لیے اول ہی مرتبہ میں ہر بات کو صاف اور مقصود کو واضح کر دیتا ہوں کہ اس کو کوئی دھوکہ نہ ہو اور یہ غلط فہمی میں مبتلا نہ رہے اس کا نام ان جاہلوں نے تشدد رکھا ہے ۔
( ملفوظ 268 )پنجاب کے ایک رئیس کی تواضع
فرمایا کہ میں ایک مرتبہ پانی پت سے چلا صرف ایک صاحب دہلی تک پہنچانے کے لیے ہمراہ تھے ۔ میں دہلی سٹیشن پر پہنچ کر شاہدرہ جانے والی گاڑی میں سوار ہو گیا ۔ اس ڈبہ میں ایک پنجاب کے رئیس بھی سوار تھے جب وہ پانی پت کے صاحب مجھ کو سوار کر کے واپس ہو گئے تو ان رئیس صاحب نے مجھ سے دریافت کیا کہ آپ کہاں کے رہنے والے ہیں ، میں نے کہا کہ ایک قصبہ ہے تھانہ بھون ، پوچھا کہ آپ اشرف علی کو بھی جانتے ہیں ، میں نے کہا کہ اشرف علی میرا ہی نام ہے میں نے سفر میں جیسے کبھی اپنے کو ممتاز نہیں بنایا ، اسی طرح کبھی اپنے کو چھپایا بھی نہیں یہ سن کر ان پر کچھ شگفتگی کے آثار نہیں معلوم ہوئے ، مکرر مجھ سے پوچھا کہ آپ ہی ہیں وہ اس وقت میرے اس کہنے کو جھوٹ سمجھے کہ یہ نام بتلا کر اپنی عزت چاہتا ہے ان کے ذہن میں یہ ہو گا کہ جس کا نام لے کر یہ اپنے کو ظاہر کرتا ہے وہ تو بڑا چوغہ پہنے ہو گا ، بڑا عمامہ سر پر ہو گا اور ایک بڑی تسبیح ہاتھ میں ہو گی ، جیسا کہ پنجاب کے پیر ہوتے ہیں مزاح کے طور پر فرمایا کہ ( وہ پیر تو کیا پیر بھی نہیں ہوتے ) ۔ میں نے کہا صاحب کیا اس شخص کا کوئی حلیہ ہے جو مجھ پر منطبق نہیں ، خاموش ہو گئے مگر متردد رہے ، تھوڑی دیر میں کہا کیا میں کچھ پوچھ سکتا ہوں ، میں نے کہا پوچھئے جو معلوم ہو گا عرض کر دوں گا ، اس کے بعد انہوں نے مجھ سے کچھ سوالات کیے ، میں نے ان کے جوابات دیئے تب ان کو یقین ہوا اور پھر تو بہت ہی گرویدہ ہوئے اور تمام راستہ بیچارے اپنے ہاتھ سے خدمت کرتے چلے آئے حتی کہ اسباب بھی سٹیشن تھانہ بھون پر خود ریل سے اتار کر رکھا یہ سب ان کی تواضع تھی بعض طبائع ایسی ہوتی ہیں کہ ان میں نخوت یا کبر نہیں ہوتا ، تکبر بھی بڑی ہی بلا کی چیز ہے مگر بعض دفعہ دیر میں سمجھ آتا ہے ایک شخص ۔
خود لکھا کہ آپ نے جو میرے اندر کبر کا مرض تجویز کیا تھا بالکل صحیح کیا تھا ۔ اب مجھ کو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت میرے اندر کبر کا مرض ہے میں نے اپنے دل میں کہا کہ جا بندہ خدا اب تو علاج بھی ہو جاتا ، پانچ سال تک بیٹھا ہوا اس کو پالتا رہا ۔ غرض یہ مرض نہایت خطرناک ہے اور لوگوں کو کثرت سے اسی میں ابتلا ہے اور اس کے ہی علاج سے غفلت ہے ۔
( ملفوظ 267 ) حضرت حاجی صاحب اور ایک بزرگ کی تواضع
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک لطیفہ یاد آیا ، حضرت حاجی صاحب سے ایک بڑے بزرگ ملاقات کے لیے آئے ، حضرت نے کچھ مدحیہ الفاظ ان کی نسبت فرمائے ، عرض کیا کہ حضرت میں تو کچھ بھی نہیں ، حضرت نے مزاحا فرمایا کہ عارف جب اپنی تعریف کرتا ہے یہ ہی کہتا ہے کہ میں کچھ نہیں یعنی من فانیم دوسرا لطیفہ ایک صاحب نے کان پور میں دوسرے صاحب سے بسلسلہ گفتگو کہا کہ من آنم کہ من دانم ۔ انہوں نے جواب دیا کہ اس کے معنی تو یہ ہیں کہ آپ عارف ہیں کیونکہ من عرف نفسہ فقد عرف ربہ ۔
( ملفوظ 266 )وقت خاص میں دوسروں کو یاد رکھنا
ایک مولوی صاحب نے بوقت رخصت مصافحہ کرتے ہوئے عرض کیا کہ حضرت سے خاص وقت میں یاد رکھنے کی درخواست کرتا ہوں مگر وہ مقولہ یاد آ گیا کہ وہ وقت خاص ہی کب رہتا ہے جس میں ما سواء کو یاد رکھا ، فرمایا اجی حضرت یہ تو مغلوب الحال لوگوں کے مقولے ہیں ۔ میرا خیال تو یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے شب معراج میں اپنی امت کو یاد رکھا حالانکہ اس سے زیادہ کونسا قرب کا وقت ہو گا ۔ اگر یہ یاد رکھنا سبب ہوتا ، بعد کا تو حضور ہر گز اپنی امت کو ایسے وقت خاص میں یاد نہ فرماتے ۔
( ملفوظ 265 )کام کے بعد اطلاع کر دینا چاہیے
حضرت والا نے ایک شخص کو کام بتلا کر فرمایا کہ آ کر اطلاع کر دینا کہ فلاں کام کر آیا ہوں پھر فرمایا کہ آج کل اطلاع نہ کرنے کا مرض بھی عام ہے جس سے بڑی تکلیف ہوتی ہے کام کے بعد اطلاع کرنا ضروری بات ہے میری ان باتوں کو لوگ وہم سے تعبیر کرتے ہیں ۔ پھر فرمایا کہ ایک رئیس صاحب یہاں پر آ کر رہے تھے انہوں نے وطن جا کر کہا کہ وہاں کی تعلیم کا خلاصہ یہ ہے کہ جس کو مقدمہ بازی سیکھنا ہو وہاں چلے جاؤ ۔ فرمایا کہ مجھ سے وہاں کے ایک ثقہ عالم نے نقل کیا مجھے خود یاد نہیں کہ وہ کب آئے تھے اور وہ کون صاحب تھے اور انہوں نے جس کو مقدمہ بازی فرمایا حقیقت اس کی یہ ہے کہ یہاں جو واقعہ کو چھپانا چاہتا ہے تلبیس کرتا ہے اس پر کھود کرید ہوتی ہے جس سے اس واقعہ کی حقیقت کھل جاتی ہے ایسا کوئی معاملہ ان کے سامنے یا خود انہیں سے ہوا ہو گا جس کو انہوں نے مقدمہ بازی سے تعبیر کیا ۔ یہ ان کا قول ایسا تھا جیسا ایک صاحب قصبہ سیکری کے رہنے والے حج کر کے آئے تو بعض لوگوں نے ان سے وہاں کے حالات دریافت کیے ، کہنے لگے کہ خلاصہ بیان کر دوں وہ یہ ہے کہ خدا وہاں کسی مسلمان کو نہ لے جائے ، فرمایا کمبخت منحوس حج کر کے بھی کھویا ۔
( ملفوظ 264 )دوسرے کے ماتحت سے بلا اذن کام نہ لینا
فرمایا کہ میں کسی شخص سے جس کا دوسرے کے ساتھ ماتحتی کا تعلق ہو خود اپنے اثر سے کام نہیں لیتا جو جس کا ماتحت ہے اس کی اجازت سے کام لیتا ہوں گو وہ شخص جس کی اجازت حاصل کی جاتی ہے خود میرا ہی ماتحت ہو اس سے انتظام میں گڑبڑ نہیں ہوتی ، یہ اصولی بات ہے ۔
( ملفوظ 263 )مدارس میں عمارتوں پر زور اور علم و عمل مفقود ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل اکثر مدارس میں عمارتیں بڑی بڑی مگر اصل چیز علم و عمل گویا مفقود ۔ پھر فرمایا کہ یہ بھی غنیمت ہے جو کچھ ان لوگوں کے ہاتھ سے ہو رہا ہے خدا نہ کرے وہ دن آئے جب یہ لوگ بھی نہ ہوں گے ۔ ایک صاحب نے عرض کیا کہ کیا ایسا وقت بھی آئے گا ، فرمایا ضرور آئے گا مگر اس میں بھی ایک جماعت اعلاء کلمۃ الحق کرتی رہے گی ۔ حدیث شریف میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں :
لا یزال طائفۃ من امتی منصورین علی الحق لا یضرھم من خذلھم
لا یزال فرماتے ہیں یعنی کہ ہمیشہ بلا فصل یہ جماعت رہے گی اور اصل حق کی تبلیغ کرتی رہے گی ۔
حتی تقوم الساعۃ یعنی قیامت تک اور اس جماعت کی دو شاخیں فرمائی ہیں ایک علی الحق جس کا مطلب ظاہر ہے دوسرے منصورین یعنی ان کی نصرت ہو گی اور ان پر کوئی شخص غلبہ پا نہیں سکے گا ۔ مطلب یہ ہے کہ ان کو حق کے اظہار سے کوئی روک نہ سکے گا ۔ نیز ایک نصرت یہ ہے کہ جس طرح پہلے ادیان میں تحریف ہو چکی ہے اس میں نہ ہو گی ۔ یہ اس ہی جماعت کی برکت ہے جس کا میں ذکر کر رہا ہوں باوجود اس کے کہ حضور کے زمانہ کو اس قد عرصہ گزر چکا مگر ان کی برکت سے حق و باطل ایسا متمیز ہے کہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ حق ہے اور یہ باطل اگر کوئی خالص دین اور اس کے احکام معلوم کرنا چاہے تو نہایت سہولت سے معلوم ہو سکتے ہیں ۔
12 ذیقعدہ 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم دو شنبہ
( ملفوظ 262 )نالائق اولاد کی مثال
ایک صاحب نے عرض کیا کہ فلاں صاحب آنا چاہتے تھے مگر ان کا لڑکا کچھ رقم لے کر بھاگ گیا ہے اس پریشانی کی وجہ سے نہ آ سکے ، فرمایا کہ اگر بالغ ہو گیا ہے نکال باہر کریں ، کس جھگڑے میں پڑے ، فرمایا کہ نالائق اولاد کی مثال ایسی ہے جیسے زائد انگلی نکل آتی ہے اگر رکھا جائے تو عیب اور کاٹا جائے تو تکلیف ۔
( ملفوظ 261 )دوسرے کی علالت کا خیال کرنا چاہیے
فرمایا کہ مولوی صاحب کا جو ایک مدرسہ میں مدرس ہیں خط آیا لکھا ہے کہ پہلے سے علالت کا سلسلہ تھا اب طبیعت سنبھل چلی تھی ، صرف کمزوری کی شکایت باقی رہ گئی تھی مگر مدرسہ والوں کے اصرار پر سبق پڑھانے میں تقریر کرنا پڑی ۔ اس سے پھر دوبارہ علالت عود کر آئی ، دعاء کا خواستگار ہوں ، جواب غلطی ہے اگر خود ایسا کیا تو اپنی ورنہ آمر کی فرمایا کہ اکثر مدرسہ والے کسی کی راحت یا آرام کا خیال نہیں کرتے ایک مرتبہ مجھ کو ایک مدرسہ کے سالانہ جلسہ میں مدعو کیا گیا اس وقت مجھ کو بخار آ چکا تھا ، کمزوری باقی تھی تعلقات کی وجہ سے بلانے پر چلا گیا مگر میں نے پہنچ کر کہہ دیا کہ میں حاضر تو ہو گیا ہوں مگر میری طبیعت اچھی نہیں بیان نہ کروں گا ۔ اس پر اصرار ہوا میں نے عذر کیا کہ کمزوری کی وجہ سے میں بیان پر قادر ہی نہیں اور اگر ہمت کر کے تقریر شروع بھی کر دی تو درمیان میں بوجہ ضعف کے تقریر کو قطع کرنا پڑے گا ۔ ایک طبیب صاحب نے کہا کہ میں ایسی دوا دوں گا کہ ضعف نہ ہو گا ۔ انہوں نے ماء الحم کسی اچھے نسخہ کا بنا ہوا تھا اس کی ایک خوراک مجھ کو دے دی اس کو پی کر طبیعت میں نشاط پیدا ہوا میں نے بیان شروع کر دیا اور مرتبہ سے زیادہ جوش کے ساتھ بیان ہوا وجہ یہ ہوئی کہ دوا خود گرم تھی ، اس نے حرارت عزیزیہ کو مشتعل کر دیا ، درمیان بیان ہی میں بخار شروع ہو گیا ، اسی وقت بعضے دیکھنے والے حاضر جلسہ طبیبوں نے کہہ دیا کہ طاعونی بخار ہو گیا وہاں سے آ کر مجھ پر سترہ روز تک غشی طاری رہی مگر یہ اللہ کا فضل تھا کہ عین نماز کے وقت ہوش ہو جاتا تھا بحمد اللہ ایک وقت کی بھی قضاء نہیں ہوئی بلکہ فرض بھی کھڑے ہو کر پڑھے ۔

You must be logged in to post a comment.