( ملفوظ 200 )ہندوستان میں بزرگوں کا وجود غنیمت ہے

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ ہندوستان کا حال بہت تباہ ہے اس لیے بعض بزرگوں کا ضرور جی گھبراتا ہو گا مگر بزرگوں کو یہیں رہنا چاہیے تا کہ لوگوں کو تسلی تو رہے دوسرے اگر دین معلوم کرنا چاہیں تو ان بزرگوں سے معلوم تو سکے ۔

( ملفوظ 199 )خودرائی ، رائی کے برابر بھی مضر ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ خودرائی اگر رائی کے برابر بھی ہو اس کو بھی چھوڑ دینا چاہیے ، یہ بڑی ہی مضر چیز ہے ۔ اگر شیخ عبادت مستحبہ سے بھی منع کرے اس کو چھوڑ دینا چاہیے اس کے نافع ہونے کے بھی شرائط ہیں اس کو مبصر سمجھتا ہے کہ اس کے لیے نافع ہے یا نہیں مثلا مستحب میں مشغول ہونے سے کوئی واجب فوت ہوتا ہو جس کو بعض اوقات شیخ جانتا ہے طالب نہیں جانتا ۔

( ملفوظ 198 )قصائی یا بیل

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ لوگ مجھ کو یوں کہتے ہوں گے کہ اچھا قصائی سے پالا پڑا اور میں کہتا ہوں کہ اچھا بیلوں سے پالا پڑا کوئی کھر مارتا ہے کوئی سینگ مارتا ہے اگر ڈنڈا نہ چلاؤں تو اور کیا کروں ۔

( ملفوظ 197) ایک عالم کا حضرت کو گھورنا

فرمایا کہ ایک شخص جن کا نام نہیں بتلایا کئی روز ہوئے بعد نماز مغرب میرے پیچھے دیوار سے لگے کھڑے ہیں مجھ کو دیکھ کر سخت گرانی ہوئی ، پڑھنا مشکل ہو گیا ، وہ خود عالم بھی شیخ بھی بڑے بزرگوں کی صحبت میں رہے ہوئے بھی ، اتفاق سے نیاز آ گئے ، میں نے پوچھا یہ کون کھڑا ہے تب معلوم ہوا کہ فلاں صاحب ہیں ۔ میں نے ادب سے کہا کہ دوسروں کی تکلیف کا تو احساس ہونا چاہیے مجھے آپ کی اس بات سے تکلیف ہوئی ہر وقت کسی پر ہجوم کرنا یہ ادب کے خلاف ہے ۔ میں کہنے کو کہہ تو گیا مگر ہوئی بہت ہی ندامت عالم فاضل شیخ وقت ان کی یہ حرکت ۔

( ملفوظ 196 )آج کل تہذیب نہیں تعذیب ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل اکثر اہل تکلف میں تہذیب تو کہاں البتہ تعذیب ہے میرے نزدیک تو تہذیب اور ادب یہ ہے کہ کسی کو تکلیف نہ پہنچے تعظیم کا نام ادب نہیں ۔

( ملفوظ 195 )عین چلتے وقت تعویذ مانگنا

ایک صاحب نے جو کئی روز ٹھرے ہوئے تھے عین چلنے کے وقت تعویذ مانگا ، گاڑی کا وقت بھی قریب تھا ، فرمایا کہ کئی روز سے قیام تھا جب سے کہاں چلے گئے تھے جو عین چلنے کے وقت تعویذ کی ضرورت ظاہر کی ، لوگوں میں سلیقہ ہی نہیں رہا جس سے کام لینا ہو اس کی سہولت کی فکر کرنی چاہیے ۔

( ملفوظ 194 ) فضول خرچی بخل سے بری ہے

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اگر آدمی فضول خرچی سے بچے تو بڑی برکت ہوتی ہے ، فضول خرچی بڑی ہی مضر چیز ہے اس کی بدولت مسلمانوں کی جڑیں کھوکھلی ہو گئی ہیں ۔ میں یہ بھی کہا کرتا ہوں کہ بدون تھوڑے سے بخل کے انتظام نہیں ہو سکتا اور وہ صورتا بخل ہے حقیقی بخل نہیں اور اگر حقیقی بھی ہو وہ بھی اسراف کی طرح برا ہے مگر اسراف اس سے زیادہ برا ہے جس چیز کا انجام پریشانی ہو وہ اس سے بری ہے جس سے پریشانی نہ ہو جیسے ہی دونوں چیزیں ہیں بخل اور اسراف کہ ایک سے پریشانی ہوتی ہے ایک سے نہیں ہوتی اس کے علاوہ ایک اور بات بھی ہے وہ یہ کہ بخیل آدمی زیادہ حریص نہیں ہوتا اس پر ممکن ہے کہ کوئی صاحب شبہ کریں کہ حریص تو ہوتا ہے اور میں بھی مانتا ہوں کہ ہوتا ہے مگر ایسا حریص نہیں ہوتا کہ اپنے دین کو نثار کر دے اور مسرف سے اندیشہ ہے کہ کہیں دین نہ کھو بیٹھے ایسے واقعات کثرت سے موجود ہیں کہ اسراف کا نتیجہ کفر ہو گیا ۔ وجہ یہ کہ مسرف کو حاجات میں اضطرار ہوتا ہے اور مال ہوتا نہیں اس لیے دین فروشی بھی کر لیتا ہے اور بخیل کو یہ اضطرار نہیں ہوتا اس کے ہاتھ میں ہر وقت پیسہ ہے گو وہ خرچ نہ کرے اور بڑا فرق ہے اضطرار اور عدم اضطرار میں ۔ خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ حضرت نے حق دار خاں صاحب کو الہ آباد میں ایک تدبیر ان کی شکایت تنگی پر بتلائی تھی کہ ایک صندوقچی میں کچھ ڈال دیا کرو اور اس کو بوقت ضرورت شدید کھولا کرو اس تدبیر کی بدولت وہ حج بھی کر آئے ، فرمایا جی ہاں انتظام ہے ہی عجب برکت کی چیز اس سے بڑی برکت ہوتی ہے ۔ تمت کراستہ حسن الانتظام ۔

( ملفوظ 193 )اسلام میں انتظام اور راحت رسانی کی اہمیت

( حسن الانتظام فی الاسلام مشتمل برد و ملفوظ ) ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جمعہ کے روز باہر کے لوگ آتے ہیں مصافحہ کی بھرمار ہوتی ہے مجھے بڑی کلفت ہوتی ہے بڑے بے ڈھنگے پن سے لوگ مصافحہ کرتے ہیں ۔ میں نے یہ انتظام سوچا ہے کہ اس موجودہ صورت میں تو تکلیف ہوتی ہے حوض کے کنارے پر جا کر بیٹھ جایا کروں گا اور پھر چاہے ایک گھنٹہ مصافحہ میں صرف ہو رنگون میں انتظام ٹھیک ہوا تھا بعد وعظ دو شخصوں نے میرے ہاتھ میں ہاتھ ڈال لیے ، ہاتھ خالی ہی نہ تھے جو کوئی مصافحہ کرے لیجا کر موٹر میں بٹھلا دیا اس پر ایک حاکم انگریز نے جو مجلس میں موجود تھا لکھا تھا کہ ایسا شخص کیا فساد کر سکتا ہے جو اس قدر کمزور ہے کہ دو شخصوں نے ہاتھ پکڑ کر موٹر میں بٹھلایا ۔ صاحب بہادر تھے بڑے محقق یہ استدلال ایسا ہی ہے جیسے آج کل ان کے مقلد عقلاء قرآن و حدیث سے کیا کرتے ہیں ۔ فساد کا قصہ یہ ہے کہ مخالفین نے ایک درخواست حاکم کے یہاں دیدی تھی کہ یہ شخص اگر وعظ کہے گا تو اندیشہ فساد کا ہے اس انگریز نے کہا تھا وعظ سننے کے بعد کہ جو لوگ ایسے وعظ کی مخالفت کرتے ہیں وہ بد قسمت ہیں ۔ فرمایا کہ یہ بات جو اس نے کہی کچھ سمجھتا ہو گا اس انگریز کی ظاہری تہذیب سنئے کہ مہتمم وعظ سے اجازت لے کر مجلس میں آیا کہ اگر اجازت ہو تو ہم اندر مجمع کے جا کر بیٹھ جائیں ۔ گو یہ حقیقی تہذیب نہیں محض نقل تہذیب ہے مگر یہ سب اسلام اور مسلمانوں سے سیکھی ہیں ۔ اصل چیز تو ہمارے یہاں کی ہے مگر افسوس ہے کہ ہم کو اس سے محض اجنبیت ہو گئی حتی کہ ایک صاحب نے میرے متعلق کہا تھا کہ اس کے مزاج میں تو انگریزوں جیسا انتظام ہے میں نے سن کر کہا کہ غلط ہے یہ تو ہمارے گھر کی چیز ہے یوں کہو انگریزوں میں ہمارا جیسا انتظام ہے اور پھر بھی حقیقت ان کے پاس نہیں وہ اس طرح سے کہ ان کا انتظام دنیوی مصلحت کے لیے ہے جو بدلتی بھی ہے اور ہمارا انتظام حق تعالی کی خوشنودی کے لیے جو کبھی نہیں بدلتا ۔ پھر اس انتظام پر ایک قصہ فرمایا کہ حضرت مقداد ایک صحابی ہیں وہ مع بارہ تیرہ آدمیوں کے حضور اقدس صلی اللہ علیہ و سلم کے مہمان تھے ۔ آپ نے ان کو بکریاں بتلا دیں تھیں کہ دودھ نکال کر پی لیا کریں اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا حصہ رکھ دیا کریں ۔ اکثر حضور عشاء کے بعد ایسے وقت تشریف لاتے کہ یہ حضرات سونے کے لیے لیٹ جاتے مگر آپ تشریف لا کر جو سلام کرتے تو ایسی آواز سے کہ اگر یہ جاگتے ہوں تو سن لیں اور اگر سوتے ہوں تو نیند خراب نہ ہو ۔ کیا ٹھکانہ ہے اس رعایت کا ورنہ اگر آپ ان کو جگا کر دوڑاتے بھی تو صحابی کیا عذر کر سکتے تھے مگر ایسا نہیں کیا گیا ۔ اب بتلائیے یہ تعلیم کس کی ہے اور کس کے گھر کی ہے مگر افسوس اس تعلیم سے مسلمانوں کی اجنبیت کا یہاں تک درجہ پہنچ چکا ہے کہ اس کو دوسروں کی چیز بتلانے لگے ۔ افسوس صد افسوس اور محض عدم علم ہی تک بس نہیں اس تعلیم کی ضد کو عملی جامہ پہنا کر دکھا دیا ۔ میں سیوہارہ میں ٹھرا ہوا تھا شب کو ذرا بے آرام رہا تھا ، صبح کے وقت ذرا لیٹ گیا ۔ ایک صاحب حج کو جا رہے تھے غالبا ست آٹھ بجے صبح کا وقت ہو گا وہ صاحب مصافحہ کی غرض سے آئے ، اول تو آ کر بڑے زور سے سلام کیا آنکھ تو ان کے سلام ہی سے کھل گئی تھی مگر میں نے کہا کہ بچہ جی میں بھی ہر گز مصافحہ نہ کروں گا ۔ غرضیکہ میں نہیں اٹھا ، جب ان کو مایوسی ہو گئی بس اپنے ہاتھ میں میرا ہاتھ لے کر اور کچھ گھس گھسا کر چلتے ہوئے یہ حالت تو ان کی ہے جو دیندار کہلاتے ہیں دنیا داروں کا اس سے خود ہی اندازہ ہو جائے گا ۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمیں دین و دنیا سب کچھ سکھا دیا ہے ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم شب کو قبرستان میں تشریف لے جانے کے لیے آہستہ سے اٹھے ، آہستہ نعلین پہنے ، آہستہ سے کواڑ کھولے ، پھر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے سوال پر فرمایا کہ یہ میں نے اس لیے کیا کہ تم جاگ جاؤ اور تنہا گھبراؤ ۔ لیجئے بیوی کا اس قدر خیال ہے جو ہر طرح تابع ہے اب باوا کا بھی وہ خیال نہیں جو ہر طرح متبوع ہے غرض یہ کہ کسی میں بھی یہ فکر نہیں کہ ہماری ذات سے کسی کو تکلیف نہ ہو ۔

( ملفوظ 192 )اصلاح نہ کرنا خیانت ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں تو یہ چاہتا ہوں نہ مجھ سے کسی کو تکلیف پہنچے اور نہ اوروں سے مجھے اور ایک یہ چاہتا ہوں کہ جب دعوی محبت کا لے کر آتے ہیں اس کا حق ادا کریں میرے بدنام ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اور مشائخ اور پیروں نے تو قسم کھا لی ہے کہ کچھ نہ کہا جائے اور میں کہتا ہوں ان کے کانوں کے کیڑے یہیں آ کر جھڑتے ہیں ، ان بیچاروں کو کسی نے نہیں بتلایا اس لیے بیہودہ رسمیں عام ہو گئی ہیں اور میں بھی کچھ نہ کہتا مگر دو وجہ سے کہنا پڑتا ہے ایک تو میں اپنی وجہ سے کہتا ہوں کہ مجھ کو پریشان نہ کریں اور دوسرے ان کے دین کی وجہ سے کہتا ہوں کہ اگر ایسا نہ کیا تو اصلاح کیسے ہو گی ، نہ کہنے اور خاموش رہنے کو میں خیانت سمجھتا ہوں ، آخر کیا وجہ کہ نہ کہا جائے ، آخر ہم ہیں کس مرض کی دوا ۔ اسی کو فرماتے ہیں :
اگر بینم کہ نابینا و چاہ است اگر خاموش بنشینم گناہ است
( اگر میں دیکھوں کہ ایک اندھا ہے اور سامنے کنواں ہے تو اگر میں خاموش بیٹھا رہوں تو گناہ ہے ۔ 12)

( ملفوظ 191 )لوگوں کو تکلیف دے کر مصافحہ کرنا

ایک دیہاتی شخص اہل مجلس کے کاندھوں پر سے پھاندتا ہوا حضرت والا کی طرف بغرض مصافحہ آ رہا تھا ، حضرت والا نے دیکھ کر فرمایا کہ بندہ خدا کہاں چلا آ رہا ہے ، منہ میں زبان نہ تھی ، وہیں سے بیٹھے بیٹھے کہہ دیا ہوتا جو کہنا تھا عرض کیا کہ مصافحہ کی غرض سے آ رہا ہوں ، فرمایا کہ کیا مصافحہ فرض ہے واجب ہے اور کیا اسی وقت کرنا سنت ہے اتنے مسلمانوں کو تیری اس حرکت سے تکلیف پہنچی اس پر جو گناہ ہوا اس کی کچھ بھی فکر نہیں ، مصافحہ کا ثواب ڈھونڈتا پھرتا ہے چل یہاں سے کیوں کھڑا ہے سب میں پیچھے جا کر بیٹھ اور پھر تو ایسی غلطی نہ کرے گا ۔ عرض کیا کہ نہیں فرمایا کہ گنواروں کے یہاں مصافحہ فرض ہے ۔ جی چاہتا تھا کہ تجھ کو سیدھا الٹا کر کے لوگوں کو تیرے اوپر سے چلاتا مگر دونوں آدمی قبول نہ کریں گے اور اگر کر بھی لیا تو کمر اور پیٹ کی خیر نہیں ، خبردار پھر کبھی ایسی حرکت نہ ہو ۔