ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ یہ بڑی خطرناک بات ہے کہ محض دنیا کے واسطے اپنے فروغ مذہب کو چھوڑ دے ، مثلا شافعی ہے محض دنیاوی غرض سے حنفی ہو جائے یا اگر حنفی ہے تو شافعی ہو جائے ۔ علامہ شامی نے لکھا ہے کہ ایک بزرگ سے زکر کیا گیا کہ ایک شخص جو اپنے مذہب کے فروع کو حق سمجھتا تھا اس کو کسی حنبلی کی بیٹی لینے کے لیے چھوڑ دیا ۔ انہوں نے فرمایا کہ مجھ کو اندیشہ ہے کہ اخیر وقت میں اس کا ایمان نہ سلب ہو جائے کیونکہ ایک مردار دنیا کے واسطے دین کو نثار کیا ۔
( ملفوظ 189 ) ساری خرابی بے فکری سے ہوتی ہے
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ طریقہ سے ہر کام ہو جاتا ہے اور گرانی نہیں ہوتی نہ کوئی حرج ہوتا ہے یہ ہے اصول اور قواعد کی برکت اور ضرورت مگر یہ سب باتیں فکر سے ہوتی ہیں ساری خرابی بے فکری سے ہوتی ہے ۔ میں لوگوں میں فکر کی عادت پیدا کرنا چاہتا ہوں ، لوگ بھاگتے ہیں ، گھبراتے ہیں مگر کام تو کام ہی کے طریقہ سے ہوتا ہے ۔ اب تو عام طور پر حالت اس مقولہ کے مصداق ہو رہی ہے کہ اوت کا اوت نہ آپ چلے نہ اور کوئی چلنےدے ۔ اس مقولہ کا واقعہ یہ ہے کہ غدر کے ہنگامہ میں ایک سپاہی میدان جنگ میں زخمی پڑا تھا ، چل نہیں سکتا تھا ، شب کا وقت قریب آ رہا تھا ، سپاہی کو فکر تھی کہ دن تو خیر جوں توں ہو کر گزر جائے گا مگر شب کو تنہائی میں گزرنا بڑا مشکل ہو گا ۔ یہ سوچ ہی رہا تھا دیکھا کہ سامنے سے ایک لالہ صاحب دھوتی باندھے چھٹے چھلے جا رہے ہیں ۔ اس سپاہی نے آواز دی کہ لالہ صاحب میری بات سن لیجئے وہ یہ سن کر گھبرایا ، سپاہی نے کہا کہ ڈرنے اور گھبرانے کی کوئی بات نہیں ، مردہ یا بھوت نہیں ہوں جنگ میں زخمی ہو گیا ہوں ، میرا بچنا اب محال ہے اور میری کمر سے روپیہ کی ہمیانی بندھی ہے اب میرے تو کام آنے سے رہی تم ہی کھول کر لے جاؤ یہ سن کر لالہ جی کے منہ میں پانی بھر آیا ، فورا اس سپاہی کے قریب پہنچ گئے ، قریب پہنچنا تھا کہ سپاہی نے برابر میں سے تلوار اٹھا کر لالہ جی کے پیروں پر رسید کی ، پیر کٹ گیا اور چلنے کے قابل نہ رہا اور ہمیانی تلاش کی تو وہ بھی ندارد ۔ لالہ جی سپاہی سے کہتے ہیں کہ یہ کیا کیا ، اس نے کہا کہ میاں کیسا روپیہ اور کہاں روپیہ بھلا کوئی میدان جنگ میں روپیہ لے کر آیا کرتا ہے ، میاں تنہا شب گزارنا مشکل ہوتا ، اب دونوں پڑے ہوئے باتیں کریں گے ، شب کٹ جائے گی ۔ لالہ جی کہتے ہیں کہ مکار میں نے کہا اوت کا اوت نہ آپ چلے نہ اور کو چلنے دے ۔ یہی حالت ہو رہی ہے کہ نہ آپ کام کریں اور نہ دوسروں کو کرنے دیں ، کوئی کرے تو اس پر طعن کریں ۔
( ملفوظ 188 ) حضرت کا طریق اصلاح اور بزرگوں کی رائے
( ملقب بہ الخشونہ لعلاج الرعونۃ ) ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ لوگوں کی کسی بات میں بھی تو ڈھنگ نہیں اور سلیقہ مجھ کو اس وقت بڑی اذیت پہنچتی ہے جب کوئی بات بے اصول یا بے ڈھنگے پن کی ہوتی ہے اور یہ میرے امور طبعیہ میں سے ہے اس لیے میں مجبور ہوں شب ہی کا واقعہ ہے ۔ ایک صاحب نے عین نماز شروع کرنسے کے وقت میرے پاس آ کر مصافحہ کرنا چاہا ، میں نے کہا بندہ خدا نماز مقدم تھی یا مصافحہ ، کچھ نہیں کوئی اصول ہی نہیں اس پر مجھ کو بد خلق اور سخت کہا جاتا ہے اس کے تو یہ معنی ہوتے کہ ہم جس طرح چاہیں اس طرح رہو ہم جو کچھ چاہیں اس کے تابع رہوں نا ان کا غلام یا نوکر کہ ان کی اطاعت مجھ پر واجب ہے ۔ حضرت بدون روک ٹوک کے اصلاح قطعا غیر ممکن ہے یوں شاذ و نادر اگر کوئی شخص فہیم ہو یا سلیم الطبع ہو وہ اور بات ہے مگر وہ اس حکم میں ہوگا النادر کالمعدوم لیکن آج کل طبائع میں اکثر تو کجی ہی ہے اس لیے ضرورت ہے داروگیر محاسبہ بلکہ معاقبہ کی ۔ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ جس کا پیر ترانہ ہو اس مرید کی اصلاح نہیں ہو سکتی ۔ حضرت مولانا نے ایک لفظ میں حقیقت کو ظاہر فرما دیا ، ان بزرگ کی رائے ہے جو مجسم اخلاق تھے ۔ حضرت مولانا رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ کو جب مرض میں بھی لوگوں نے چین نہ دی اور راحت نہ میسر ہوئی تب فرمایا کہ تھانہ بھون کے طرز کی ضرورت ہے بدون اس کے راحت نہیں ملے گی ۔ حضرت مولانا دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس لوگ آتے جو متکبر ہوتا فرماتے کہ اس کا علاج تھانہ بھون میں ہو گا ایسوں کو وہیں پہنچانا چاہیے یہ تو زندوں کے فیصلے ہیں اور سنئے مولوی ظفر احمد نے حضرت حاجی صاحب کو خواب میں دیکھا ، عرض کیا کہ حضرت میرے لیے دعا فرما دیجئے کہ میں صاحب نسبت ہو جاؤں ، حضرت کے جواب میں یہ الفاظ ہیں کہ صاحب نسبت تو تم ہو مگر اصلاح کی ضرورت ہے اور اصلاح کراؤ اپنے ماموں سے ، میں مراد ہوں ۔ مولوی ظفر احمد صاحب ، مولانا خلیل احمد صاحب سے بیعت ہیں اس کے بعد تعلیم کے لیے مجھ سے رجوع کیا ۔ اب فرمائیے اتنے فیصلے سن لینے کے بعد اہل الرائے کی کیا رائے ہے اور اگر کچھ شبہ تھا بھی مجھ کو اپنے اس طریق اصلاح پر وہ رسالہ آداب الشیخ و المرید مصنف امام محی الدین ابن عربی کو دیکھ کر جاتا رہا جس قدر اس میں شیخ اور مرید کے اصول اور قواعد لکھے ہیں اتنے تو میرے ہاں بھی نہیں ۔ یہ رسالہ دیکھنے کے بعد پھر میرے طریق اصلاح پر انشاء اللہ کوئی شبہ باقی نہیں رہ سکتا ۔
( ملفوظ 187 )دین کے نادان دوست
( ملقب بہ شکوی المتحسبین ) ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ فہم کا آج کل اس قدر قحط ہو گیا ہے شاید ہی الا ماشاء اللہ کوئی اس نعمت سے بہرہ ور ہو ورنہ بڑے بڑے لکھے پڑھے اور تعلیم یافتہ اس سے کورے ہیں جتنی حرکات ہیں سب بد فہمی کی یہ لوگ دین کو تو کیا سمجھتے ، دنیا کی بھی سمجھ نہیں ویسے خطابات بڑے بڑے کوئی عقلاء کہتے ہیں کوئی ریفارمر کوئی لیڈر لفافہ پر پتہ تو بڑے جلی قلم سے لکھا ہوا ہے مگر جب کھول کر دیکھو تو معقول مضمون ندارد ان کی بیہودگیوں اور کم عقلی کی باتوں نے مسلمانوں کو تباہ اور برباد کیا ، ملک میں ہر روز ایک ڈھونگ بنا کر کھڑے ہو جاتے ہیں مگر دین کے پکے دشمن ہیں دوستی کے پردہ میں دشمنی کر رہے ہیں ۔ احکام اسلام کو مٹانے پر تلے ہوئے ہیں ، کوئی کہتا ہے کہ حرمت سود کا مسئلہ مانع ترقی ہے کوئی کہتا ہے کہ پردہ مسلمانوں کی ترقی کو مانع ہے کوئی کہتا ہے کہ صرف توحید خداوندی کی ضرورت ہے اعتقاد و رسالت مانع ترقی ہے ۔ غرض یہ کہ ہاتھ دھو کر اسلام کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور پھر مسلمان کے مسلمان قوم کے خیر خواہ راہبر مقتداء بنے ہوئے ہیں ، خیر لگا لیں زور ایڑی سے چوٹی تک انشاء اللہ اسلام کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ، انشاء اللہ وہ اپنی جگہ پر ہے اور اس کے احکام اور تعلیم کی خوبیاں تو غیر مسلم اقوام کے بڑے بڑے حکماء اور فلاسفروں کو تعلیم ہے واقعی حق تعالی ہی اپنے دین کے محافظ ہیں ورنہ اس سے پہلے بھی لوگ اسلام اور مسلمانوں کی مخالفت میں اپنی تمام قوتیں صرف کر گئے مگر کچھ نہیں ہوا ۔ ارشاد فرماتے ہیں :
انا نحن نزلنا الذکر و انا لہ لحفظون ۔
ترجمہ : ” ہم نے قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم اس کے محافظ اور نگہبان ہیں ”
اور فرماتے ہیں : یریدون لیطفئوا نور اللہ بافواھھم و اللہ متم نورہ و لو کرہ الکفرون ۔ ( سورہ صف )
یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالی کے نور یعنی دین اسلام کو اپنے منہ سے پھونک مار کر بجھا دیں حالانکہ اللہ اپنے نور کو کمال تک پہنچا کر رہے گا ، گو کافر لوگ کیسے ہی ناخوش ہوں ۔ 12 ”
اسی کو فرماتے ہیں :
چراغے را کہ ایزد بر فروزد ہر آنکس تف زندریشش بسوزد
اگر گیتی سراسر باد گیرد چراغ مقبلاں ہر گز نہ میرد
( جس چراغ کو اللہ تعالی نے روشن کیا ہو اس کو گل کرنے کیلئے جو پھونک مارے گا اس کی داڑھی جل جائے گی اگر ساری زمین میں آندھیاں آ جائیں تو بھی اہل اللہ کا چراغ گل نہیں ہو سکتا )
اور اسلام کی تو وہ شان ہے جس کو فرماتے ہیں :
ہنوز آں ابر رحمت درفشان ست خم و خم خانہ با مہرو نشان ست
( آج بھی وہ ابر رحمت موتی برسا رہا ہے اور خم اور خم خانہ سب سر بمہر موجود ہے ۔ 12 )
اگر اس کے ساتھ حق تعالی کی محافظت نہ ہوتی اور اس کی حمایت کے لیے حق تعالی وہ جماعت پیدا نہ فرماتے جس کی خبر مخبر صادق حضور صلی اللہ علیہ و سلم فرما گئے ہیں :
لا یزال طائفۃ من امتی منصورین علی الحق لا یضرھم من خذلھم
” میری امت میں ایک گروہ ہمیشہ ایسا رہے گاہ جو حق پر ہو گا اور حق تعالی کی طرف سے اس کی امداد ہوتی رہے گی ، کسی کی مخالفت اس کو ضرر نہ پہنچائے گی ۔ 12 ”
تو آج کل کے ریفارمر اور عقلاء کی سازش اور شر کچھ کم نہ تھا ۔ فرماتے ہیں کہ :
و ان کان مکرھم لتزول منہ الجبال
” واقعی ان کی تدبیریں ایسی تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی ٹل جائیں ۔ 12 ”
ان سازشوں کو دیکھ کر اسلام بزبان حال کہتا ہے :
قتل ایں خستہ بہ شمشیر تو تقدیر نبود ورنہ ہیچ از دل بیرحم تو تقصیر نبود
( اس بیچارہ کا قتل تیری تلوار سے مقدر ہی نہ تھا ورنہ تیرے دل بے رحم نے تو کوئی کسر چھوڑی نہ تھی ۔ 12 )
اسلام کو غیروں کی شکایت نہیں اس کو تو مسلمانوں ہی سے شکایت ہے ۔ اسلام بزبان حال کہتا ہے :
من از بیگان گاں ہر گز نہ نالم کہ بامن آنچہ کرد آں آشنا کرد
( میں غیروں کا شاکی نہیں کیونکہ میرے ساتھ جو کچھ کیا ہے وہ اپنوں نے کیا ہے ۔ 12 )
طعنہ اہل جہاں کی مجھے پرواہ کیا تھی تم بھی ہنستے ہو مرے حال پر رونا ہے یہی
اس تحریک حاضر کے زمانہ میں احکام شرع میں اس قدر تحریف ہوئی ہے کہ زمانہ سابق سے اب تک کبھی بھی اس قدر تحریف نہ ہوئی تھی اور زیادہ وجہ اس کی یہ ہے کہ ان بدخواہوں کے ساتھ بعض اہل علم پھسل گئے ، پھر خیر کہاں مگر ہوتا کیا ہے ۔
قل جاء الحق و زھق الباطل ان الباطل کان زھوقا
ایسے ہی عقلاء اور ریفارمروں کے متعلق کسی نے خوب کہا ہے :
گربہ میرو سگ وزیر وموش را دیواں کنند ایں چنیں ارکان دولت ملک را ویراں کنند
( ملفوظ 186 )شرط الطلب یعنی طلب صادق کی شرط
( ملقب بہ شرط الطلب ) ایک صاحب نے بیعت ہونے کی درخواست کی ۔ حضرت والا نے فرمایا اس میں جلدی نہ کرنا چاہیے اس میں طرفین کی مصلحتیں ہیں ۔ آپ مجھے اچھی طرح دیکھ لیں میں آپ کو دیکھ لوں ، کبھی آپ کو یا مجھے بعد میں پچھتانا پڑے ، میں یہ دیکھ لوں کہ تمہاری طلب کیسی ہے شوق دین کا کیا ہے سمجھ اور فہم کیسی ہے پیشتر کبھی ملے ہو ۔ عرض کیا کہ کئی مرتبہ یہاں پر جمعہ پڑھا ہے فرمایا کہ اس کو تو ملاقات نہیں کہتے ، ابھی تک تو مجھ کو یہ بھی معلوم نہیں ہوا کہ آپ کہاں سے آئے ہو ، کیا نام ہے کیا کام کرتے ہو ، ابھی تو کئی منزلیں درمیان میں ہیں ان کو طے کرنے کے بعد بیعت ہونے کی درخواست کرنا چاہیے ۔ دوسرے بیعت خود ایسی ضروری چیز نہیں جس کے بدون کام ہی نہ چل سکے ، پہلے کام شروع کیجئے اگر نفع ہو اور مناسبت بھی پیدا ہو جائے تو اس کو بیعت کی روح اور مغز سمجھنا چاہیے ۔ اصل چیز تو اس طریق میں مناسبت اور اعتماد ہے جس پر نفع کا مدار ہے اس کی کوشش اور سعی کیجئے ۔ مذکورہ بالا گفتگو ہو جانے کے بعد ان صاحب نے ایک خط حضرت والا کی خدمت میں پیش کیا ملاحظہ فرما کر فرمایا لیجئے اگر میں کہتے ہی بیعت کر لیتا تو گڑبڑ ہوتی یا نہیں ؟ آتے ہی یہ خط کیوں نہیں دیا میں نے اس میں صاف لکھا ہے کہ آتے ہی یہ خط دکھلا دینا ، عرض کیا کہ غلطی ہوئی فرمایا غلطی ہوئی تو اب میں خدانخواستہ انتقام تھوڑا ہی لے رہا ہوں ۔ واقعہ کی حقیقت ظاہر کرنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ آپ نے خلاف تو کیا میرے لکھنے کے جس سے محبت کا دعوی ہے اور اس سے دین کا نفع بھی حاصل کرنا ہے اس کی مخالفت یہ تو آپ نے کیا دھرا سب برباد کر دیا ۔ یہ مصلحتیں ہیں کہ میں فورا بیعت نہیں کرتا ، عرض کیا کہ واقعی مجھ سے سخت غلطی ہوئی اپنے قصور کی معافی کا خواستگار ہوں ۔ فرمایا کہ معاف بھی کرتا ہوں مگر مخالفت کا جو نقصان ہے وہ تو ہو گا اس وقت آپ کا آنا نہ آنا برابر ہو گیا ، مزاحا فرمایا کہ آپ کا آنا تو پائی بھی نہ رہا ۔ اب میں پوچھتا ہوں کہ اس غلطی کا منشاء بد فہمی ہے یا بے فکری ؟ عرض کیا کہ بے فکری ، فرمایا کہ میں زور تو دیتا نہیں اور نہ مجھ کو جواب کا انتظار ہو گا لیکن جی چاہے اور ذہن میں بھی بسہولت آ جائے تو کیا اس بے فکری کا سبب بتلا سکتے ہو اس پر وہ صاحب خاموش رہے ۔ حضرت والا نے بھی دوبارہ اس پر مطالبہ نہیں فرمایا اور فرمایا کہ خیر جو کچھ بھی ہوا مگر میں اس قدر کرتا ہوں کہ ہر ہر بات کا اقرار تو کر لیا ، کوئی تاویل یا گڑبڑ نہیں کی ۔ ( جن حضرات کی یہ رائے ہے کہ حضرت والا کے مزاج میں درشتی یا سختی ہے وہ اس کو ملاحظہ فرما کر اپنی رائے کے صائب ہونے نہ ہونے پر غور فرمائیں کہ کیا اس کو سختی کہتے ہیں ( احقر جامع ) اسی سلسلہ میں فرمایا کہ نہ معلوم کس طرح تم لوگ دل میں حساب لگا لیتے ہو ایک صاف بات اور کھلی ہوئی بات کو الجھا دیتے ہو ، چاہیے تو یہ کہ اگر الجھی ہوئی بھی بات ہو تو اس کو بھی صاف کریں ، آج کل اس کا عکس کرتے ہیں اس قدر خودرائی کی ترقی ہوئی ہے کہ ہر شخص کو اس میں ابتلا ہے ، آتے ہیں معتقد ہو کر اور کرتے ہیں مخالفت ایک مولوی صاحب کے جواب میں فرمایا کہ نہیں صاحب یہ وجہ نہیں بلکہ طبیعت میں اطاعت نہیں خودرائی ہے ، اپنی رائے کو ترجیح دینا چاہتے ہیں ، دوسرے کو اس کے تابع بنانا چاہتے ہیں اس راہ میں اپنی رائے سے کوئی کام ہی نہیں کرنا چاہیے یہ اس راہ میں کم بخت سم قاتل ہے ۔ خلاصہ یہ ہے کہ اصل مضر چیز اس طریق میں خودرائی ہے مگر سب باتیں فکر سے ہوتی ہیں سارا مرض بے فکری کا ہے سوچتے ہی نہیں جو جی میں آیا کر لیا ۔
( ملفوظ 185 )طلب صادق کی ضرورت
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اس طریق میں طلب صادق کی ضرورت ہے بدون سچی طلب کے کامیابی مشکل ہے جیسے دوا وہیں اثر کرتی ہے جہاں بیماری ہو پانی وہیں جا کر ٹھرتا ہے جہاں نشیب ہو اونچے پر پانی نہیں چڑھا کرتا ۔ حقیقت یہ ہے کہ طلب صادق کی بدولت سب شرائط اور آداب طریق کے آسانی سے پورے ہو جاتے ہیں پھر منزل مقصود قریب ہے بس پستی اور شکستگی کی ضرورت ہے اور یہ ایسی ضروری چیز ہے کہ اس راہ میں قدم رکھنے سے پہلے اس کو پیدا کر لینا چاہیے ۔ اب رہی یہ بات کہ وہ کس طرح پیدا ہو تو اس کا یہی طریقہ ہے کہ کسی کی جوتیاں سیدھی کرے اور اپنی رائے کو اس کی رائے کے سامنے فنا کر دے اپنی عقل کو اس کے سامنے مٹا دے ۔ اسی کو فرماتے ہیں :
فہم و خاطر تیز کردن نیست راہ جز شکستہ می نگیرو فضل شاہ
اور پستی اور شکستگی کی نسبت فرماتے ہیں :
ہر کجا پستی آب آں جارود ہر کجا مشکل جواب آں جارود
ہر کجا دردے دوا آں جارود ہر کجا رنجے شفا آں جارود
11 شوال المکرم 1350 ھ مجلس بعد نماز جمعہ
( ملفوظ 184 ) اہل اللہ کا کوئی کام نفس کیلئے نہیں ہوتا
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اہل اللہ اور خاصان حق کی شان ہی جدا ہوتی ہے ۔ ان کا کوئی کام بھی نفس کے واسطے نہیں ہوتا ، ہاں نفس کے کچلنے اور پیسنے کے واسطے ہر وقت تیار رہتے ہیں ۔ ایک بزرگ کی ایک شخص نے دعوت کی ، بلا کر لے گیا اور گھر جا کر کہا کہ آپ خواہ مخواہ چمٹے پھرتے ہیں کس نے آپ کی دعوت کی ، وہ بزرگ چل دیئے ، پھر وہ آ کر کہتا ہے کہ آپ بھی عجیب آدمی ہیں میں نے دعوت کی تھی یہ کھانا پکا ہوا رکھا ہے ، آپ چھوڑ کر چلے جا رہے ہیں.
اس کو کون کھائے گا ، آپ پھر چلے آئے ، کئی مرتبہ اس شخص نے ایسی ہی حرکت کی وہ شخص قدموں پر گر پڑا کہ واقعی آپ بزرگ ہیں ۔ سن کر فرماتے ہیں کہ یہ تو کوئی بزرگی نہیں یہ تو کتے کی بھی خاصیت ہے ٹکڑا دکھلا دیا آ گیا ، ڈنڈا دکھلا دیا بھاگ گیا مگر اس قسم کی حرکات بزرگوں کے ساتھ کرنا سخت خطرناک بات ہے ۔ مگر ان کے یہاں رعایت کا کچھ ٹھکانا ہی نہیں ۔ شیخ سعدی فرماتے ہیں :
شنیدم کہ مردان راہ خدا دل دشمناں ہم نکردند تنگ
تراکے میسر شود ایں مقام کہ بادود ستانت خلاف است جنگ
( ملفوظ 183 ) اگر غفلت سے باز آیا جفا کی
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اول تو لوگوں کو اصلاح کی فکر ہی نہیں اور اگر ہوتی ہے تو اصول نہ جاننے سے دق کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔
اگر غفلت سے باز آیا جفا کی تلافی کی بھی ظالم نے تو کیا کی
( ملفوظ 182 )اولیاء اللہ کی کتب کا مطالعہ
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اولیاء اللہ کی کتابیں ضرور مطالعہ میں رکھنا چاہیے ۔ اس سے بڑا نفع ہوتا ہے اور اس سے بھی بڑھ کر جو نفع کی چیز ہے وہ کسی زندہ کی صحبت ہے اس میں وہ اثر ہے جس کو فرماتے ہیں :
گلے خوشبوئے در حمام روزے رسید از دست محبوبے بدستم
بدو گفتم کہ مشکی یا عبیری کہ از بوئے دل آویز تو مستم
بگفتگا من گلے ناچیز بودم ولیکن مدتے باگل نشتم
جمال ہم نشین درمن اثر کرد وگرنہ من ہماں خاکم کہ ہستم
( ملفوظ 181 ) قواعد کا خلاصہ راحت رسانی ہے
فرمایا کہ میرے جو قواعد اور اوقات ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ اپنی اور دوسروں کی راحت رسانی کے واسطے ہیں ۔ خدانخواستہ مجھ کو حکومت تھوڑا ہی مقصود ہے ۔

You must be logged in to post a comment.