فرمایا کہ میرے دماغ پر جو تعجب ہوتا ہے اس کے مختلف اسباب ہیں ۔ من جملہ ان کے ایک یہ بھی ہے کہ لوگ بے ڈھنگا پن کرتے ہیں اس پر روک ٹوک کرتا ہوں اس کی وجہ سے دماغ پر اثر ہوتا ہے نیند نہیں آتی راحت نہیں ملتی طبیعت پریشان رہتی ہے ۔
( ملفوظ 209 ) طالب کی دلجوئی اور تسلی کرنی چاہیے
فرمایا کہ شیخ کامل وہ ہے جو طالب کی دلجوئی اور تسلی کرتا رہے اور اس کی مایوس سے مایوس حالت کو سنبھالتا رہے اس کے دل کو بڑھاتا رہے اس میں تو ہم نے اپنے حضرت حاجی صاحب کو دیکھا کہ کیسا ہی کوئی روتا ہوا گیا ہنستا ہوا آیا ۔ اسی کو حضرت حافظ شیرازی فرماتے ہیں :
بندہ پیر خرابا تم کہ لطفش دایم است زانکہ لطف شیخ و زاہد گاہ ہست و گاہ نیست
یہ واقعہ ہے کہ حضرت حاجی صاحب اپنے زمانہ میں اس فن کے امام تھے مجدد تھے مجتہد تھے ۔
( ملفوظ 208)اہل محبت کی بے قراری
فرمایا کہ اہل محبت کے باب میں میری طبیعت حضرت مولانا محمد قاسم صاحب جیسی ہے کسی اہل محبت کی بے چینی اور بے قراری برداشت نہیں ہوتی یہ ہی حضرت کی حالت تھی کہ کسی اہل محبت کی بے چینی برداشت نہ فرما سکتے تھے ۔ بشرطیکہ خلاف شریعت نہ ہو اور اگر خلاف شریعت ہو تو ایسی تیسی میں جائیں محبت بھی اور اہل محبت بھی ۔
ملفوظ 207 )محبت ، حسن اور جمال کا معیار
( خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ حضرت محبت کا کوئی معیار ہی نہیں ، فرمایا کیا معیار ہو سکتا ہے ؟ عرض کیا ایسا ہی حسن ہے نہ اس کا کوئی معیار فرمایا یہ بھی ایسی ہی چیز ہے اس کا بھی معیار مشکل ہے ہاں جمال کا معیار تو ہو سکتا ہے اس لیے کہ جمال تو تناسب اعضاء کو کہتے ہیں جس کا ضابطہ ہے مگر حسن اور محبت کا کوئی معیار نہیں ۔ عرض کیا کہ ایک مولوی صاحب نے مجھ سے کہا تھا اگر حسین چیز کو دیکھو تو اس میں کون سی مضرت ہے ، ایک چیز خوب صورت ہے مثلا لوٹا ہے جو خوبصورت اور حسین بنا ہوا ہے اس کے دیکھنے میں کیا مضرت اور کون سا گناہ ہے ایسا ہی حسین آدمی کو دیکھنا میں نے اس کا جواب دیا جو حضرت ہی کی فیضان صحبت ہی کی برکت سے ذہن میں آیا وہ یہ کہ لوٹا جو خوبصورت ہے اس کے دیکھنے پر اس لیے گناہ نہیں کہ اس سے آگے کسی ناجائز تمتع کی ہوس نہیں ہوتی کیونکہ یہ محل شہوت نہیں ہو سکتا جو سبب بنے مضرت اور گناہ کا مگر دوسری چیز جس سے آگے چل کر تمتع ناجائز حاصل شہوت نہیں ہو سکتا جو سبب بنے مضرت اور گناہ کا مگر دوسری چیز جس سے آگے چل کر تمتع ناجائز حاصل ہو سکتا ہو اس وجہ سے کہ وہ محل شہوت ہے اس کے دیکھنے سے گناہ ہو گا اس لیے ایسی چیز کو لوٹا سے مثال دینا صحیح نہیں ہو سکتی ۔ حضرت والا نے سن کر فرمایا کہ بالکل ٹھیک جواب ہے ماشاء اللہ ۔
( ملفوظ 206 ) عورتوں میں حیاء کا تحفظ
فرمایا کہ یہاں پر میں نے سب رسموں کے چھڑانے کی کوشش کی ۔ گو وہ فی نفسہ مباح ہی ہوں کیونکہ اس میں عارضی مفاسد مگر دو رسموں کے چھڑانے کی کوشش نہیں کی کیونکہ ان میں مصالح تھے ایک تو لڑکی کو ہفتہ دو ہفتہ کے لیے مائیوں بٹھانے کی رسم ہے مائیوں کے رسم کی حقیقت یہ ہے کہ چند مائیں یعنی گھر کی بڑی بوڑھی عورتیں جمع ہو کر مکان کے ایک گوشہ میں لڑکی کو لے کر بٹھلا دیتی ہیں اس وجہ سے اس کو مائیوں کہتے ہیں ۔ میں نے اس کو نہیں چھڑایا اس میں حیا کا تحفظ ہے اور ایک منہ پر ہاتھ رکھنے کی رسم ہے اس میں بھی تحفظ ہے حیاء کا اس سلسلہ میں فرمایا کہ عرب کے اندر رسم ہے کہ شوہر جب اول شب میں دلہن کے پاس آتا تو دلہن شوہر کے آتے وقت تعظیم کے لیے کھڑی ہوتی ہے اور سلام کرتی ہے اور شوہر اپنے زائد کپڑے جو اتارتا ہے ان کو لے کر سلیقہ سے موقع پر رکھتی ہے ۔ خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ ہے تو بہت اچھی بات فرمایا کہ واقعی اچھی بات ہے مگر ہندوستان کے لیے اس کو پسند نہیں کرتا اس لیے کہ وہاں پر تو یہ رسم بے تکلفی کے درجہ میں ہے اور یہاں پر کج طبعی کے سبب اس کا نتیجہ آزادی و بے حیائی ہو جائے گا جو چیز حیاء کا سبب ہو اس کو باقی رکھنے کو جی چاہتا ہے مگر یہاں حیاء اور بے حیائی کا امتحان بھی عورتیں بے اصولی کے ساتھ کرتی ہیں ۔ چنانچہ لڑکی کے گدگدی اٹھاتی ہیں اگر وہ ہنس پڑی تو بے حیاء اور نہ ہنسی تو حیاء دار اور ایک حرکت اس امتحان کے لیے اور کرتی ہیں کہ اول شب میں جب دلہا اور دلہن تنہائی میں ہوتے ہیں تو عورتیں کان لگاتی پھرتی ہیں کیونکہ یہاں پر یہ بھی رسم ہے کہ اول شب میں دلہن دلہا سے بھی نہیں بولتی ۔ اگر کوئی بولی تو صبح کو چرچا ہوتا ہے کہ ایسی بے شرم ہے کہ ساری رات میاں سے پڑپڑ بولتی رہی ، یہ عورتوں کا ایسا کرنا تانک جھانک لگانا خود بے شرمی پر مبنی ہے بڑی واہیات بات ہے ۔
( ملفوظ 205 )ذکر خفی اور ذکر بالجہر میں ریاء
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک نقشبندی نے چشتی سے کہا کہ ہم نے سنا ہے کہ تم ذکر جہر کرتے ہو ؟ یہ اشارہ تھا ذکر جہر میں شائبہ ریاء کا ہے حتی کہ ہم تک کبھی اس کی خبر پہنچ گئی ۔ چشتی نے کہا کہ ہم نے سنا ہے کہ تم ذکر خفی کرتے ہو ۔ عجیب دیا مطلب یہ کہ اظہار ذکر میں ہم تم دونوں برابر ہیں ۔ چنانچہ تمہارے ذکر کی ہم کو خبر پہنچ گئی پس اگر اس میں ریاء ہے تو اس میں بھی ریاء ہے اور حضرت مولانا گنگوہی نے ایک ذاکر کے اس شبہ پر کہ اس میں ریاء ہے یہ جواب فرمایا تھا کہ ذکر جہر میں تو سب دیکھ رہے ہیں کہ اللہ اللہ کر رہے ہیں اور ذکر خفی میں گردن جھکائے بیٹھے ہیں دیکھنے والے سمجھتے ہیں کہ نہ معلوم لوح و قلم عرش کرسی کی سیر کر رہے ہیں تو اس حساب سے ذکر خفی میں ذکر جہر سے زیادہ ریاء ہے ۔
12 شوال المکرم 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم شنبہ
( ملفوظ 204 )آج کل کے اہل سماع اہل ارض ہیں
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ آج کل کے اہل سماع اکثر محض حظ نفسانی میں مبتلا ہیں میں تو کہا کرتا ہوں کہ آج کل اہل سماع اہل ارض ہیں اہل سماع نہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان لوگوں کو نماز میں قرآن میں روزہ میں وہ لطف میسر نہیں جو سماع میں ہے حلانکہ اگر کوئی قرآن شریف اچھا پڑھنے والا ہو اور سماع میں استعداد بھی ہو تو سماع وغیرہ سب ایک طرف رکھے رہ جاویں اس میں جو لطف ہے وہ اس میں کہاں ۔
( ملفوظ 203 )حضرت گنگوہی کا شان عشق
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت مولانا گنگوہی کو حضرت حاجی صاحب سے بڑی ہی محبت تھی مگر عام لوگوں کو خبر نہیں اور سچ تو یہ ہے کہ مولانا کو کسی نے پہچانا نہیں ۔ مولانا کی شان انتظامی کو تو دیکھا اور شان عشقی کو نہیں دیکھا یہ تو اور بھی بڑے کمال کی بات تھی کہ شان عشق کے ساتھ انتظام تھا ۔
( ملفوظ 202 )شعر ، اور شیر
خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ حضرت اب مجھ کو بھی شعروں سے مناسبت نہیں رہی ، مزاحا فرمایا کہ اچھا ہے شیروں سے مناسبت نہ رہی ورنہ درندگی پیدا ہوتی درندہ کی کھال پر بیٹھنے تک کی حدیث میں ممانعت آئی ہے اس سے شان سبعیت پیدا ہو جاتی ہے ۔
( ملفوظ 201 )ایک واعظ کو وعظ کہنے کی ممانعت
ایک سلسلہ گفتگو میں ایک واعظ کا ذکر فرماتے ہوئے فرمایا کہ میں نے ان کو وعظ کہنےسے جو بوجہ عدم اہلیت کے منع کیا اسی پر انہوں نے کہا کہ اگر میرا وعظ سن لیں تو اجازت دیدیں ، میں نے کہا کہ اگر سن لوں تو اور زیادہ ممانعت کروں ، ابھی تو علم الیقین ہے پھر عین الیقین ہو جائے گا تمہارے جہل کا ۔

You must be logged in to post a comment.