ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مجھے نہ کسی کے آنے سے خوشی ہوتی ہے نہ جانے سے رنج ہوتا ہے الحمد للہ یہ حالت ہے جس کو حضرت حافظ شیرازی فرماتے ہیں :
ہر کہ خواہد گو بیاؤ ہر کہ خواہد گوبرو داروگیر و حاجت و درباں دریں درگاہ نیست
( ملفوظ 179 )ضلع جہلم یا ضلع علم
فرمایا کہ ضلع جہلم سے ایک خط آیا ہے لکھا ہے کہ مجھے 25 برس سے خدا کی محبت کا سودا ہے اسی نیت سے بغداد و مکہ معظمہ ، مدینہ طیبہ کا سفر کیا کہ کوئی اہل حق ملے مگر میں ناکامیاب ہوں ۔ فرمایا کہ ضلع علم کے ہوتے تو کچھ ہو گا مگر وہ تو ضلع جہلم کے ہیں طریق کی حقیقت معلوم نہ ہونے سے یہ سب پریشانیاں ہوتی ہیں اسی لیے تو میں کھود کرید کرتا ہوں کہ اول ہی میں اپنے مقصود کو اچھی طرح سمجھ لے پھر ساری عمر کے لیے راحت ہی راحت ہے لوگ اسی سے گھبراتے ہیں
( ملفوظ 178 )اس زمانہ میں لٹھ پیر کی ضرورت
فرمایا کہ چودھویں صدی کا پیر ایسا ہی ہونا چاہیے تھا جیسا کہ میں لٹھ ۔
( ملفوظ 177 )گھر بیٹھے رہنے سے کچھ نہیں ہوتا
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں راہ پر لاتا ہوں اس لیے کبھی طالب سے تنقیحی سوالات کی حاجت ہوتی ہے اس پر کہتے ہیں کہ سوال پر سوال کیے جاتے ہیں اگر کوئی سمجھ دار ہو وہ تو آ کر میرے پیر دھو دھو کر پئے ، گو میں پینے نہ دوں مگر ان کو تو تیار ہو جانا چاہیے ، فرمایا کہ گھر بیٹھے سب کچھ بننا چاہتے ہیں شان بھی باقی رہے اور سب کچھ ہو بھی جائے ، کیسے ممکن ہے ۔ اسی کو فرماتے ہیں :
چوں نہ داری طاقت سوزن زون از چنیں شیر ژیاں بس دم مزن
دربہر زخمے تو پر کینہ شوی پس کجا بے صیقل آئینہ شوی
( ملفوظ 176 )گالیوں سے رنج تو ہوتا ہی ہے
فرمایا کہ ایک خط آیا ہے ان صاحب نے پہلے تو گالیاں دے لیں ، اب بہلا پھسلا کر فیض حاصل کرنا چاہتے ہیں ، میں انتقام نہیں لیتا مگر رنج کی بات سے رنج تو ہوتا ہی ہے اور ہم لوگوں کی تو حقیقت ہی کیا ہے کہ رنج نہ ہو ۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت وحشی کے ساتھ کیا معاملہ کیا یہ فرمایا کہ ساری عمر صورت نہ دکھانا مگر ہم کو کہا جاتا ہے کہ صاحب معاف کر دینا چاہیے ۔ ان کے باوا کے غلام ہیں کہ گالیاں بھی کھائیں اور چاپلوسی بھی کریں ، ہاں اس حالت میں بھی اس کی ضرورت کا انتظام کر سکتے ہیں ۔ مثلا ایک شخص سے ناراضگی ہو گئی اور اس سے کہہ دیا کہ صورت مت دکھانا لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہہ دیا جاتا ہے فلاں جگہ یا فلاں شخص سے اپنی اصلاح کراؤ ۔
( ملفوظ 175 )خودکشی کی دھمکی پر حضرت کا جواب
فرمایا کہ ایک خط آیا ہے لکھا ہے کہ میں خودکشی کرنے کو تیار ہوں اور اب تک کر بھی لیتا اگر حرام نہ ہوتی اگر گھر کو میرے آگ لگ جاتی اولاد مر جاتی تو اتنا رنج نہ ہوتا ان کو کچھ تنبیہ کی گئی تھی یہ اس رنج پر تھا ، میں نے لکھا کہ یہ بتلایا ہوتا کہ میں نے کیا لکھا تھا اور تمہاری وہ کیا بات تھی جس پر میں نے یہ لکھا تھا کیونکہ مجھ کو بالکل یاد نہیں ، لوگ متحمل نہیں تربیت کے محض وظیفوں کو کافی سمجھتے ہیں اور میرے نزدیک وظیفے کافی نہیں ، میری بات کا جواب دینا چاہیے تھا یہ خودکشی کی دھمکی دینا کون سی انسانیت ہے پھر فرمایا کہ اسی پر لوگوں کا دعوی ہے کہ ہم اصلاح چاہتے ہیں ، معلوم بھی ہے کہ اس راہ میں قدم رکھنے کی اول شرط یہ ہے کہ
در رہ منزل لیلی کہ خطر ہاست بجان شرط اول قدم آنست کہ مجنون باشی
اور اسی کو فرماتے ہیں :
تو بیک زخم گریزانی زعشق تو بجز نامے چہ میدانی زعشق
ارے اس خودکشی سے کیا ہوتا ہے یہ تو میدان سے بھاگنے والے کی علامت ہے جو دال ہے بزدلی پر ، مرد میدان بن کر آؤ اور نفس کشی کرو اور پھر دیکھو کہ کیا سے کیا ہو گیا اور کہاں سے کہاں پہنچ گئے ۔
( ملفوظ 174 )لوگوں نے ملانوں کو غلام سمجھ رکھا ہے
ایک دیہاتی شخص نے آ کر ناتمام بات کہی اور کچھ پہلے کہے ہوئے کا مجمل حوالہ دیا ۔ حضرت والا نے فرمایا کہ پوری بات کہو ۔ گزشتہ بات مجھ کو بالکل یاد نہیں ۔ اس طرح واقعہ بیان کرو کہ جیسے ابھی پہلے پہلے کہہ رہا ہوں گزشتہ بات کے بھروسہ اختصار مت کرو ، یہ سمجھ کر کہو کہ یہ کہنا اور ہی بار ہے اس پر بھی اس شخص نے ادھوری ہی بات کہی ۔ فرمایا کہ اگر خود سمجھ نہ ہو تو آدمی سمجھ لے ، جو میں کہہ رہا ہوں اس کو بندہ خدا سنتا ہی نہیں ، اپنی ہی ہانکے چلا جاتا ہے اب میں دوسری طرح کہوں گا کہ عقل درست ہو جائے گی ، اب جو میں نرمی سے کہہ رہا ہوں اس کی نہ کچھ قدر ہے اور نہ پرواہ ہے کہ دوسرا کیا کہہ رہا ہے وہ اس پر بھی کچھ نہ بولا ۔ فرمایا کہ اب خاموش بیٹھا ہے جیسا بت ہو اچھا جاؤ چلو یہاں سے مہمل آدمی آتے ہیں پریشان کرنے کو اس پر وہ شخص کچھ کہنا چاہتا تھا ، فرمایا کہ اب کچھ نہ سنوں گا ، دس منٹ ہوئے سانپ کی طرح کھلاتے ہوئے نواب بنا بیٹھا رہا ، خبردار جو کبھی یہاں آیا ان لوگوں نے ملانوں کو تو غلام سمجھ رکھا ہے کہ ہر ادا میں ان کے تابع رہیں ۔
( ملفوظ 173 )انتقال ہوتے ہی مال ورثاء کی ملکیت میں آ جاتا ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل احکام شریعت کی پابندی تو اکثر مشائخ تک میں بھی نہیں پائی جاتی عوام بیچارے تو کس شمار میں ہیں ۔ وجہ یہ ہے کہ بکثرت جاہل پیر بنے ہوئے ہیں پھر وہ کیا پابندی کرتے ۔ ایک پیر صاحب یہاں پر آئے ہوئے تھے ایک صاحب کی رقم مد ختم میں دعاء صحت کے لیے آئی ہوئی تھی ان کے انتقال کی خبر پا کر میں نے رقم واپس کی اس پر پیر صاحب فرماتے ہیں کہ یہ تو مد ختم کی رقم ہے اس کو واپس کرنے کی کیا ضرورت ہے ۔ بقیہ رقم میں ان کے لیے دعائے مغفرت کرا دی جایا کرے ، بیچاروں کو یہ بھی خبر نہیں کہ اب وہ رقم ان کے ورثاء کی ہو گئی ، اس میں تصرف کیسے جائز ہے ۔ دوسرے مغفرت محض دینی مقصد ہے اس پر اجرت لینا کہاں جائز ہے اور یہاں مالک رقم کا پورا پتہ اس ہی وجہ سے لکھ لیا جاتا ہے تاکہ ایسے موقع پر رقم واپس کرنے میں دقت نہ پیش آئے ۔ نیز اگر رقم داخل کرنے والا کسی وجہ سے خود بھی واپس کرانا چاہے تو واپس ہو سکے ۔ خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ کیا یہ مراد ہے کہ وہ دعاء منقطع کرنا چاہے ، فرمایا کہ ہاں یہ بھی اور اس کے علاوہ اور بھی صورتیں ہیں ، مثلا کام ہو گیا اور کوئی وجہ ہو تو اس صورت میں جو کچھ رقم صرف سے باقی رہی ہو گی ، واپس کر دی جائے گی ۔
( ملفوظ 172 )فن میں مناسبت ماہر کی صحبت سے پیدا ہوتی ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ محض اصلاحی الفاظ جان لینے سے یا رٹ لینے سے فن سے مہارت یا مناسبت تھوڑا ہی ہو سکتی ہے یہ مناسبت بھی کسی کی صحبت ہی سے پیدا ہو سکتی ہے اسی کو فرماتے ہیں :
نہ ہر کہ چہرہ برا فروخت دلبری داند نہ ہر کہ آئینہ دارد سکندری داند
ہزار نکتہ باریک تر زمواینجاست نہ ہر کہ سر بتر اشد قلندری داند
اور اسی کے لیے بڑی نظر اور تجربہ شرط ہے ۔ اسی کو فرماتے ہیں :
صوفی نشود صافی تادرنکشد جامے بسیار سفر باید تا پختہ شود خامے
4 شوال المکرم 1350 ھ مجلس بعد نماز جمعہ
( ملفوظ 171 )سوال میں دوسروں کے اقوال نقل نہ کرے
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ سوال کا طریقہ یہ ہے کہ جو کہنا ہو اپنی طرف منسوب کر کے پوچھے ، دوسرے کے اقوال نقل کر کے تصویب و تخطیہ نہ کرائے اس سے طبیعت پر بار ہوتا ہے ۔ امید ہے کہ آپ سارے مطلب کو سمجھ گئے ہوں گے ۔ عرض کیا سمجھ گیا فرمایا بات صرف اتنی ہے کہ جو شبہ اپنے کو پیش آئے اس کا خود سوال کیجئے ، دوسرے اقوال اس سوال کے وقت نقل نہ کیجئے ۔

You must be logged in to post a comment.