مقارب ملفوظ 156 ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ کبھی غصہ ضعف تحمل سے بھی ہوتا ہے ہمیشہ تکبر ہی سبب نہیں ہوتا جیسے چمار کبھی اپنے سے بڑے پر بھی غصہ کرتا ہے حلانکہ وہاں تکبر کا شائبہ بھی نہیں ہوتا تو اس کا وہ غصہ بے حد اذیت پہنچنے کے بعد ہوتا ہے ۔ البتہ اگر غصہ میں انتقام حد سے گزر جائے تو ناجائز ہے اور وہ اکثر تکبر سے ہوتا ہے ۔
( ملفوظ 169 ) اپنے کو راحت پہنچانا معصیت نہیں
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک شخص نے بے تکلفی سے مجھ کو کہا کہ تم میں نفس پروری بہت ہے ، میں نے سن کر کہا کہ یہ تو صغری ہوا اور کبری کیا ہوا ، ہر نفس پروری معصیت ہے اگر کوئی اپنے آپ کو راحت پہنچائے اور دوسرے کو تکلیف نہ دے تو کیا یہ مذموم نفس پروری ہے ۔ ایک صاحب نے جو یہاں نقشہ نظام الاوقات کا دیکھ کر گئے تھے لکھا کہ تمہارا انضباط اوقات بدعت ہے اس لیے کہ خیر القرون میں نہیں پایا جاتا ۔ جواب یہ ہے کہ خیر القرون میں ہونے کی ضرورت اس وقت ہے جبکہ اس فعل کو من حیث العبادۃ کیا جائے اور اگر من حیث الانتظام کیا جائے وہ بدعت نہیں ایک حدیث حیات المسلمین میں شمائل ترمذی سے درج کی گئی ہے اس سے نقلا بھی انتظام معمول نبوی معلوم ہوتا ہے ۔ یہ حدیث روح ہشتم حیات المسلمین مطبوعہ پرنٹنگ ورکس دہلی صفحہ نمبر 53 پر ہے ۔
( ملفوظ 168 ) دو بیویوں میں مساوات
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ جی ہاں دو نکاحوں میں بڑا لطف ہے مگر وہ لطف ایسا ہے جیسے جنت تو ہے مگر بیچ میں پل صراط بھی ہے جو طے کرنا ہو گا ۔ جب میں نے یہ عقد ثانی کیا تو بڑے گھر میں سے کہنے لگیں کہ تم مردوں کے لیے دوسرا نکاح کرنے کا رستہ کھول دیا ، میں نے کہا کہ کھولا نہیں بند کر دیا اب جو کوئی دیکھا گا نام بھی نہ لے گا بلکہ یہ کہے گا : ولا تقربا ھذہ الشجرۃ دیکھئے یہاں پر یہ ترازو کھڑی ہے جس سے چیزیں برابر تقسیم کی جاتی ہیں اس کا نام میں نے میزان عدل رکھا ہے خاص اہتمام کرنا پڑتا ہے بعض دفعہ مشقت بھی ہوتی ہے مگر اس سے تسلی ہے کہ ہر مصیبت پر ثواب ہو رہا ہے ۔ گو دونوں گھروں سے میں نے ایک روپیہ کا تفاوت معاف کرا رکھا ہے لیکن پھر بھی مساوات کا اہتمام رکھتا ہوں مگر یہ تکلیف سب خیالی ہے باقی جب آدمی کسی کام یا بات کا ارادہ کرتا ہے پھولوں سے ہلکا رہ کر گزرتا ہے ۔
( ملفوظ 167 )کار پاکاں را قیاس از خود مگیر
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ حالت منکر پر با اختیار اصرار کرنا سبب ہلاکت ہے اور اگر غیر اختیاری حالت ہو تو اس میں وہ معذور ہو گا مگر دوسروں کو اس فعل سے استدلال نہیں کرنا چاہیے ۔ اگر ایسا کوئی کرے گا تو اس کا یہ فعل با اختیار خود ہو گا اس لیے پہلے شخص کے لیے مضر نہیں مگر دوسرے شخص کے لیے مضر ہے جیسے آج کل یہ مرض عام ہو گیا ہے کہ صاحب حال لوگوں کے افعال و اقوال کو حجت کے طور پر پیش کرتے ہیں اور خود بھی با اختیار ان چیزوں کے عامل بنتے ہیں ۔ ایسی صورت میں ایک ہی چیز ایک کے لیے مفید ہوتی ہے اور ایک کے لیے مضر ۔ مثال سے سمجھ لیجئے ۔ ایک شخص تندرست ہے اس کے لیے دودھ گھی مفید ہے اور ایک شخص بیمار ہے اس کو بخار آتا ہے اس کے لیے یہی چیزیں مضر ہوں گی اسی کو فرماتے ہیں :
کارپاکاں را قیاس از خود مگیر گرچہ ماندور نوشتن شیر و شیر
اور فرماتے ہیں :
گفت فرعونے انا الحق گشت پست گفت منصورے انا الحق گشت مست
رحمۃ اللہ ایں انار اور وفا لعنۃ اللہ آں انار اور قفا
( ملفوظ 166 )اس راہ میں تنہا قدم رکھنا خطرناک ہے
ایک صاحب نے سوال کیا کہ کبھی حضرت حاجی شاہ سے بھی ملے ہیں ( یہ ایک تارک الصلوۃ درویش تھے ) فرمایا کہ ایک مرتبہ کان پور آئے تھے ، میں نے ملنا چاہا تھا مگر عوام کے اندیشہ سے نہیں ملا کہ غلط فہمی میں مبتلانہ ہو جائیں ، پھر فرمایا کہ کان پور میں ایک شخص آگرہ کے تھے ، پوسٹ ماسٹر ان کے والد کبھی کبھی ان سے ملنے آیا کرتے تھے ، باقر علی نام تھا ، یہ بزرگ حضرت نواب قطب الدین صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے مرید تھے ، خوش عقیدہ آدمی تھے اور حاجی وارث علی شاہ کے لنگوٹیا یار تھے ، انہوں نے ان کا واقعہ مجھے بیان کیا کہ حج کے جانے سے قبل تو یہ نماز روزہ کے پابند تھے مگر حج سے آ کر نماز روزہ چھوڑ دیا ، میں نے وجہ پوچھی تو کہا کہ میں نے ایک عمل پڑھا ہے ، اگر نماز پڑھوں اس کا اثر جاتا رہے گا ۔ ایک اور فہیم اور منصف مزاج جو پہلے ان سے بیعت بھی تھے پھر تعلق قطع کر دیا تھا ، بیان کرتے تھے کہ ان پر ایک ربودگی کی سی کیفیت رہتی تھی ۔ ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ ربودگی کبھی شیطانی اثر سے بھی ہوتی ہے ۔ خواجہ صاحب نے عرض کیا ممکن ہے کہ یہ اثر درجہ مغلوبیت تک پہنچ کر عذر میں شمار ہو اور حق تعالی معاف فرمائیں ، فرمایا کہ کیا اللہ تعالی کو کسی سے کوئی ضد ہے کہ وہ بہانے ڈھونڈ ڈھونڈ کر عذاب فرماتے ہیں ؟
ما یفعل اللہ بعذابکم ان شکرتم و امنتم و کان اللہ شاکرا علیما
ترجمہ : ” یعنی حق تعالی تم کو عذاب کر کے کیا کریں گے اگر تم خدا کا شکر کرو ” ( مراد اس سے یہ ہے ) کہ ایمان ( کامل ) اختیار کرو ۔ سبحان اللہ کیسی رحمت سے بھرا ہوا کلام ہے کیسی بندوں کے ساتھ شفقت ان جملوں سے معلوم ہوتی ہے ۔
ما یفعل اللہ بعذابکم فرماتے ہیں ہم کو تمہارے عذاب کرنے میں کیا نفع ہم تو تم پر رحمت ہی کرنا چاہتے ہیں مگر تم نافرمانی کر کے خود ہی عذاب مول لیتے ہو ۔ اسی کو فرماتے ہیں :
من نکردم خلق تاسودے کنم بلکہ تابر بندگاں جودے کنم
پھر فرمایا کہ حالتیں ہر قسم کی سب کو پیش آتی ہیں مگر ضرورت اس میں شیخ کامل کی ہے ۔ اس راہ میں تنہا قدم رکھنا نہایت خطرناک ہے جیسے بدون طبیب حاذق کے امراض جسمانی میں جان کی ہلاکت کا اندیشہ ہے ایسے ہی بدون طبیب کامل روحانی کے اس راہ میں امراض باطنی سے ایمان کی ہلاکت کا اندیشہ ہے ۔ اسی کو فرماتے ہیں :
یار باید راہ را تنہا مرد بے قلاؤز اندریں صحرا مرد
ہر کہ تنہا نادر ایں رہ را برید ہم بعون ہمت مرداں رسید
( ملفوظ 165 )مختلف بزرگوں سے ملنے میں اندیشہ
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ مختلف بزرگوں سے ملنے میں آج کل اندیشہ ہے اول تو بہت سوں کی بزرگی ہی میں کلام ہے محض رسم ہی رسم ہے نام کے بزرگ اس زمانہ میں بہت ہیں کام کے بہت کم ہیں ہاں اگر خود فہیم ہو کہ اندیشہ نہ ہو اپنے پھسلنے کا اور دوسروں کی مضرت کا اندیشہ نہ ہو تو مضائقہ نہیں عرض کیا کہ دوسروں کی مضرت کا اندیشہ نہ ہو یہ تو مشکل معلوم ہوتا ہے فرمایا کہ اس کا بھی فہم سے تعلق ہے اب اس کو آپ خود سمجھ لیں ، میں نے تو ایک کلیہ بیان کر دیا جزئیات کو آپ خود منطبق کر لیں ۔
( ملفوظ 164 ) بعض بزرگ بھولے ہوتے ہیں مگر بیوقوف نہیں
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بعض بزرگ بھولے ہوتے ہیں مگر بے وقوف نہیں ہوتے بھلا جس نے اپنے مالک کو راضی کر لیا یا راضی کرنے کے اہتمام میں لگ گیا اس سے زیادہ کون عاقل ہو گا اور جو شب و روز اپنے مالک کی نافرمانی اور گستاخیوں میں لگا ہو اس سے زیادہ کون بے وقوف ہو گا ، غرض نہ وہ بے وقوف ہوتے ہیں نہ دیوانے ہوتے ہیں ہاں ایک کے دیوانہ ہیں اس دیوانگی کی نسبت یوں فرماتے ہیں :
اوست دیوانہ کہ دیوانہ نشد مرعسس رادید و درخانہ نشد
اور جن کو تم عاقل سمجھتے ہو اس عقل کے اس راہ میں پرقینچ ہیں عقل وہی ہے جس سے مالک کی پہچان ہو سکے اور وہی عاقل ہیں جو اپنے مالک کو پہچان لیں ۔ اگر یہ نہیں تو ایسی عقل کی نسبت فرماتے ہیں :
آزمودم عقل دور اندیش را بعد ازیں دیوانہ سازم خویش را
فرمایا کہ بھولے پن پر یاد آیا ایک مرتبہ وہی امی بزرگ جن کا ذکر اوپر کے ملفوظ میں ہے مدرسہ کان پور میں تشریف لائے ۔ مدرسہ کا کام محض توکل پر تھا ، میں نے کہا کہ حضرت اس مدرسہ کی کوئی مستحکم بنیاد نہیں ، دعا کیجئے ۔ فرمایا کہ تم تو مولوی آدمی ہو جانتے ہو کہ یہ تمام عالم کا کارخانہ حق تعالی کی قدرت سے چل رہا ہے قدرت ہی ایک ایسی چیز ہے جو تمام عالم کو سنبھالے ہوئے ہے تو کیا قدرت اتنے بڑے عالم کے کارخانہ کو تو سنبھالے ہوئے ہے تمہارے مدرسہ کو نہ سنبھال سکے گی ، اللہ پر نظر رکھو ، یہ فرما کہ دعا فرمائی کیا ٹھکانہ ہے اس عقل کا ۔
( ملفوظ 163 )محبت پیدا کرنے کا سہل طریقہ
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ محبت پیدا کرنے کا بہت ہی سہل طریق ہے میں نے ایک امی بزرگ سے بھی پوچھا تھا کہ خدا سے محبت کس طرح پیدا ہو ، فرمایا کہ دونوں ہوتھوں کی ہتھیلی کو آپس میں ملا کر رگڑو ، میں نے ایسا ہی کیا ، دریافت فرمایا کہ کچھ گرمی معلوم ہوئی ، میں نے عرض کیا کہ جی ہاں گرمی معلوم ہوئی ، فرمایا بس یہی طریقہ ہے محبت پیدا کرنے کا کثرت سے اللہ اللہ کر کے قلب کو رگڑا کرو ، محبت پیدا ہو جائے گی ۔
( ملفوظ 162 )اہل حق سے عناد نہ ہونا غنیمت ہے
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ یہ بھی نفع سے خالی نہیں کہ اگر انسان تائید بھی نہ کرے تو کم از کم اس کو اہل حق سے عناد تو نہ ہو ۔ یہ عناد بہت ہی خطرناک چیز ہے
( ملفوظ 161 )اجزائے دین کی حفاظت کا اہتمام
” ملقب بہ النجاح فی الاصلاح ” ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ فضولیات میں لوگ بکثرت مبتلا ہیں ۔ ایک صاحب نے لکھا کہ کیا مولوی ابوالخیر صاحب سے تمہاری کوئی گفتگو ہوئی جس میں وہ عاجز ہو گئے ، اس کو ضرور تحریر فرمائیں ، میں نے لکھا اگر تم کو وہ گفتگو نہ معلوم ہو تو کیا کچھ ضرر ہے اس پر جواب میں لکھتے ہیں کہ اس سوال میں میرے نزدیک اہمیت ہے اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا تھا کہ اللہ تعالی آپ کی عمر دراز کرے ، میں نے جواب میں اس پر یہ اضافہ لکھا کہ ہاں اس لیے کہ تمہاری ایسی بیہودہ درخواست پر نکیر کرتا رہوں ۔ اگر میں وہ گفتگو لکھ دیتا خدا جانے اس سے کیا نتائج نکلتے ۔ اسی طرح ایک شخص نے سوال کیا بے لکھا پڑھا آدمی تھا کہ اگر طالب اپنے شیخ کی صورت کا تصور کیا کرے تو یہ کیسا ہے ؟ میں نے لکھا کہ یہ مشغلہ مقصود بالذات ہے بلکہ جس طرح جہلاء میں متعارف ہے وہ تو مقصود بالذات ہے نہ معلوم لوگوں کو ان فضولیات اور خرافات میں کیا لطف آتا ہے یونہی بیہودہ ، بے کار وقت کھوتے ہیں کام کی ایک بات بھی نہیں ۔ ایک بزرگ نے بلا ضرورت کسی سے کوئی سوال کر لیا تھا اس پر تنبیہ ہوئی ، تیس برس تک روتے رہے کہ میں نے کیوں فضول سوال کیا ، بڑی ضرورت ہے صحبت کامل کی بدون اس کے دین کی حفاظت مشکل ہے ۔ بزرگوں نے حفاظت دین کا بڑا اہتمام کیا ہے خود حضرات صحابہ کے طرز سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو اس حفاظت کا کس قدر اہتمام تھا ۔ حضرت علی نے جمعہ کے روز نیا کرتا پہنا ، پھر قینچی لے کر کلائی پر سے آستین کاٹ ڈالی ، کسی نے پوچھا تو فرمایا کہ محض اس لیے کاٹ دی کہ میں اس کو پہن کر اپنی نظر میں اچھا معلوم ہوا ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو لوگوں نے دیکھا کہ مشک لیے ہوئے گھروں میں پانی بھرتے پھر رہے ہیں وجہ پوچھنے پر فرمایا کہ رومی قاصد نے میرے عدل کی مدح کی تھی اس کا علاج کر رہا ہوں ۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی زبان ہاتھ میں لیے اور مارتے دیکھا اور پوچھنے پر فرمایا :
ھذا اوردنی الموارد آخر کہ کیا چیز ہیں ؟ اگر صحابہ سے یہ چیزیں منقول نہ ہوتیں تو خشک لوگ یہ کہتے کہ ان صوفیوں کو جنون ہو گیا ہے اور ان کو تو اب بھی کہتے ہیں اتنا اہتمام تھا حضرات صحابہ کو جب کامیابی ہو سکی اب اس کی وجہ ذرا وہ لوگ بتلائیں جو اس طریق کو بدعت کہتے ہیں ۔ بات اصل یہ ہے کہ ہم نے امراض نفسانی کو پہچانا ہی نہیں اگر پہچانتے تو کچھ اہتمام کرتے ۔

You must be logged in to post a comment.