ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ کسی کو بھی اپنے اعمال پر ناز نہ کرنا چاہیے ۔ قانون سے کسی کو وہاں نجات حاصل ہونا ذرا مشکل ہی ہے ہاں رحمت اور فضل پر مدار نجات ہے جب رحمت ہو گی تو یہ معاملہ ہو گا کہ فرماتے ہیں :
فاولئک یبدل اللہ سیئاتھم حسنات
حضرت حاجی صاحب فرماتے تھے کہ یہ سیئات ہمارے وہ اعمال صالحہ ہیں جن کے حقوق ادا نہیں کر سکے تو وہ ہمارے زعم میں حسنات ہیں اور حقیقت میں سیئات میرا ہی خود واقعہ ہے کہ ایک شخص تھے مجھ کو پنکھا جھل رہے تھے کبھی ٹوپی اڑا دی ، کبھی مار دیا وہ تو خوش تھے کہ
میں خدمت کر رہا ہوں سو ان کے نزدیک تو وہ خدمت کامل خدمت تھی مگر میرے دل سے کوئی اس وقت پوچھتا کہ وہ کیسی خدمت تھی ایسے ہی ہماری نماز ہے روزہ ہے ۔ اسی کو فرماتے ہیں :
فاولئک یبدل اللہ سیئاتھم حسنات

You must be logged in to post a comment.