ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت بغیر کلمہ پڑھے ہی نماز فرض ہو جائے گی ، فرمایا کہ کلمہ پڑھے یا نہ پڑھے جب عزم کر لیا اور اطلاع کر دی کہ مسلمان ہے نماز فرض ہو گئی ہے ، عرض کیا کہ عزم کر لینے سے مسلمان ہو جاتا ہے ، فرمایا جی ہاں عزم کر لینے سے مسلمان ہو جاتا ہے ۔
( ملفوظ 39 )غیر مشہور شخص کے ہاتھ پر مسلمان ہونے کا مشورہ
ایک صاحب عمائد قصبہ میں سے حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ حضرت فلاں ہندو عورت مسلمان ہونا چاہتی ہے ۔ فرمایا کہ اس میں مشورہ کی کون سی ضرورت ہے ۔ عرض کیا وہ چاہتی ہے کہ یہاں پر حاضر ہو کر مسلمان بنوں ، فرمایا کہ تجربہ سے یہ معلوم ہوا ہے کہ
ایسے موقع پر غیر مشہور شخص مسلمان کرے مشہور شخص نہ کرے اس میں یہ مصلحت ہے کہ کوئی پوچھے گا بھی نہیں میری تو ہر حالت میں یہی رائے ہے ۔
( ملفوظ 38 )ایک دیہاتی کا گول مول جواب
ایک دیہاتی شخص آ کر حضرت والا کے قریب بیٹھا ، حضرت والا نے دریافت فرمایا میں نے پہچانا نہیں ، عرض کیا گاؤں میں رہوں ، کچھ سکوت کے بعد حضرت والا نے فرمایا ، بس عرض کیا بس فرمایا کہ اتنا کہہ دینا کہ میں گاؤں رہوں پہچان کے لیے کافی ہے ۔ اس پر وہ شخص خاموش رہا ، فرمایا بھائی جواب دو عرض کیا کہ میرے نزدیک اتنا ہی کافی ہے ، فرمایا کہ خدا تمہارا بھلا کرے ، صاف بات کہہ دے اچھا نماز کا وقت ہے ، مسجد میں جا کر نماز پڑھو ، عرض کیا کہ مجھ کو کچھ کہنا ہے ، فرمایا کہ جب تک پہچان نہ ہو گی میں بات نہ
کروں گا اور یہ کہہ دینا کہ میں گاؤں رہوں ، تمہارے نزدیک پہچان کے لیے کافی ہے میرے نزدیک کافی نہیں ، عرض کیا کہ کافی کسے کہتے ہیں ، فرمایا کہ کافی بھی میں ہی بتلاؤں ، جاؤ باہر کسی سے پوچھو ، یہاں کوئی ایسی چیزوں کا مدرسہ ہے کہ تجھ کو سبق پڑھاؤں پہلے تو ہوشیاری میں قدم رکھا تھا اب میاں کو اپنے جہل کا پتہ چلا وہ بھی اس طرح کہ اس کو بھی میرے ہی ذمہ سمجھا کہ معنی بھی میں بھی بتلاؤں بھلا ایسے کوڑ مغزوں کی کس طرح اصلاح ہو اور کس کس کا علاج کیا جائے اور جو خود اپنی اصلاح نہ چاہے اس کی تو نبی بھی اصلاح نہیں کر سکتے ہم بے چارے کس شمار میں ہیں ۔
( ملفوظ 37 ) ایک سائل کا واقعہ اور مجمل جواب سے تنفر
ایک سائل نے آ کر حضور والا سے سوال کیا ، فرمایا کہ دو چار پیسے تو دے سکتا ہوں اگر منظور ہوں تو صاف کہو روپیہ تو دے
نہیں سکتا وہ سائل اس پر خاموش رہا ، فرمایا کہ میں تو اپنا کام چھوڑ کر تمہاری طرف متوجہ ہوا اور تم کو اس کی پروا ہی نہیں ، بولتے ہی نہیں اگر منظور ہو تب کہہ دو نہ منظور ہو تب صاف کہہ دو یہ تو کوئی باریک بات نہیں ، عرض کیا کہ مجھ کو تو وہ ہزار روپیہ کے برابر ہیں ۔ فرمایا کہ اب بھی ادھوری بات کہی صاف بات کیوں نہیں کہتے ، تکلف کی باتوں سے کلفت ہوتی ہے میں اس سے زائد نہیں دوں گا ، اس پر وہ سائل اٹھ کر چل دیا ، فرمایا کہ یا تو ہزار کے برابر تھے یا سو کے برابر بھی نہ رہے ، توقع زائد مل جانے کی تھی مگر جب نا امیدی ہوئی چل دیئے ، اس واسطے تکلف کے جوابوں سے مجھے قناعت نہیں ہوتی ۔
( ملفوظ 36 ) دوسرے کو خط لکھتے ہوئے گھورنا خلاف ادب ہے
فرمایا لوگ میرے کہنے سننے کو تو دیکھتے ہیں مگر آنے والوں کی حرکات نہیں دیکھتے ۔ اب ان صاحب کی حرکت ملاحظہ ہو جو بیٹھے ہوئے میرے خطوط گھور رہے ہیں ، سو ان کا فعل تو ایسا ہے کہ عام طور پر اس کی خبر نہیں ہو سکتی اور میں نے جو احتسابا بولنا شروع کیا وہ سب نے سن لیا اس پر مجھ پر الزام رکھا جاتا ہے کہ سخت ہے پھر ان صاحب کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ اول تو بدون اجازت کسی کے خط کو دیکھنا شرعا جائز نہیں ۔ دوسرے لکھنے کے وقت اس کی طرف متوجہ ہونا کاتب کے قلب کو مشوش کرتا ہے ۔ اپنی اس حرکت کا سبب بیان کیجئے ، عرض کیا کہ قصور ہوا حضرت معاف فرمائیں ۔ فرمایا معافی کو تو معافی ہی ہے میں تو پھانسی تھوڑا ہی دے رہا ہوں ، جاؤ اٹھو یہاں سے یہ قریب میں بٹھلا لینے کی خرابی ہے ۔ اسی سلسلہ میں فرمایا کہ یہاں پر گرمی کے زمانہ میں لوگ چارپائیاں ٹین کے نیچے ٹین سے باہر حوض کے قریب بچھا لیتے ہیں مگر معمول یہ ہے کہ اذان فجر کے وقت چارپائیں اٹھا لی جائیں تا کہ مسجد میں آنے والوں کو تکلیف نہ ہو اس لیے کہ وہ وقت اندھیرے کا ہوتا ہے ممکن ہے کہ کوئی ٹھوکر کھائے یا الجھ کر گر جائیں ، خطرہ کی بات ہے ۔ ایک روز ایسا ہوا کہ ایک طالب علم نے اپنی چارپائی نہیں اٹھائی ، بعد نماز فجر میں نے اس طالب علم سے مواخذہ کیا ، اتفاق سے اس وقت دو شخص امروہہ کے مہمان تھے ، ایک نے دوسرے سے کہا کہ یہ تو کوئی ایسی مواخذہ کی بات نہ تھی وہ بے چارے سن کر خاموش ہو گئے ۔ جب وہ یہاں سے وطن کو واپس ہوئے تو سہارن پور کی جامع مسجد میں شب کو ٹھرے کسی ضرورت کی وجہ سے بعد مغرب ایک برامدہ میں چلے ، کسی قدر اندھیرا تھا اور ایک چارپائی بیچ میں پڑی ہوئی تھی ، معترض صاحب اس میں الجھ کر گرے ، چوٹ آئی ، تب کہنے لگے واقعی ضرورت ہے اس انتظام کی ۔
( ملفوظ 35 )یہودیوں کی عداوت
ایک سلسلہ میں یہودیوں کے متعلق ذکر آ گیا ، فرمایا ایک صاحب ہرات کے رہنے والے یہاں آئے تھے ، بڑے آدمی تھے وہ بیان کرتے تھے کہ وہاں یہ لوگ اسلامی رعایا ہیں اس لیے کوئی حرکت اعلانیہ تو نہیں کر سکتے لیکن مخفی عداوت اسلام سے ان کو اس قدر ہے کہ ایک لڑکا پالتے ہیں اس کا نام محمد رکھتے ہیں بڑا ہو جانے پر اس کو نہایت ذلت سے قتل کرتے ہیں کیا ٹھکانا اس عداوت کا ۔
( ملفوظ 34 )صلوۃ اللیل اور صلوۃ تہجد میں فرق
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ یہ دو نمازیں الگ الگ ہیں ایک صلوۃ اللیل اور ایک تہجد تو سونے سے قبل تو صلوۃ اللیل ہو گی ۔ گو وہ بھی قائم مقام تہجد کے ہو جاتی ہے اور سونے کے بعد تہجد ہو گا جس کے خاص فضائل آئے ہیں لغت میں تہجد کے معنی ہیں :” القیام من النوم “
( ملفوظ 33 ) وساوس کا بہترین علاج
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ بہترین علاج وساوس کا یہی ہے کہ ان کی زیادہ پروا نہ کرے اور نہ ان کی طرف التفات کرے اس سے خود بخود دفع ہو جاتے ہیں ۔
(ملفوظ 32 )جھوٹ بولنے کا علاج
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک خط آیا تھا اس میں لکھا تھا کہ مجھ کو جھوٹ بولنے کی عادت ہے میں نے لکھا تھا کہ اگر سوچ کر بولو تو کیا اس سے بچنا اختیار میں نہیں کیا تب بھی جھوٹ ہی بولو گے ، آج پھر بھی خط آیا ہے لکھا ہے کہ واقعی سوچ کر بولنا جھوٹ کا علاج ہے ۔ اب انشاء اللہ تعالی سوچ کر بولا کروں گا ، فرمایا کہ حضرت اختیاری اور غیر اختیاری کا مسئلہ نصف سلوک سے زیادہ ہے اور توسع کر کے کہتا ہوں کہ کل سلوک ہے دعوے سے تو کہتا نہیں مگر اکثر ہے یہی کہ جس کے ساتھ جو معاملہ کیا جاتا ہے اکثر صحیح نکلتا ہے اور اس میں دعوے کی چیز ہی کونسی ہے اللہ تعالی جس سے کام لیتے ہیں اس کی مدد فرماتے ہیں ۔
( ملفوظ 31 ) قیود لگانے سے شوق و محبت کا امتحان منظور ہوتا ہے
خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ حضرت دیوبند سے ایک قاری صاحب ( ان سے تعارف نہ تھا ) آئے ہیں وہ حضرت والا سے کچھ زبانی عرض کرنا چاہتے ہیں ۔ فرمایا کہ اس کی اجازت دینے میں مجھے کلام ہے اس واسطے کہ سلیقہ لوگوں میں آج کل ہے نہیں نہ معلوم میں کیا پوچھوں وہ کیا کہیں خواہ مخواہ بے لطفی ہو ۔ عرض کیا کہ حالات باطنی کے متعلق کچھ عرض کرنا نہیں ، فرمایا کیا کسی اور چیز میں پریشانی نہیں ہو سکتی اور کیا یہ صبح کا معاملہ طالب علم کا حالت باطنی کے متعلق تھا جس کا ابھی ذکر تھا آپ نے تو سارا ہی قصہ سنا ہے ۔ لیجئے جب آپ نے یہ بات شروع کرائی اور ذکر کیا تو کہتا ہوں ان کی پہلی کوتاہی سن لیجیئے جو بات یہاں پر آ کر پوچھی جاتی ہے یہ بذریعہ خط دیوبند میں رہتے ہوئے پوچھ سکتے تھے ۔ بسم اللہ ہی غلط اب فرمائیے آئندہ کیا سلیقہ کی امید ہو سکتی ہے اس کے تو یہ معنی ہوتے کہ اپنے تابع بنانا چاہتے ہیں کہ وہ پہنچ جائیں گے تو اجازت ہو جائے گی ، میں بے اصول بات کرنا نہیں چاہتا اور میرا تو اس میں کوئی حرج نہیں ان ہی کی مصلحت سے کہہ رہا ہوں ۔ خیر اگر زبانی ہی کہنا چاہیں کہیں مگر اس شرط سے کہ اگر الجھن کی بات نہ ہوئی تو زبانی گفتگو کرنے کی اجازت دے دوں گا اور اگر الجھن کی ہوئی تو اجازت نہیں دوں گا ، پھر خط و کتابت سے طے کریں کیونکہ اگر اس میں کوئی گڑبڑ ہوئی تو ستانے کو سامنے تو نہ ہوں گے اور اسلم صورت تو یہ ہے کہ واپس دیوبند جا کر وہاں سے خط لکھیں ۔ خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ اگر حوض والی مسجد میں جا کر قیام کریں اور وہاں سے حضرت کی خدمت میں خط بذریعہ ڈاک روانہ کریں اس کی اجازت ہے ، فرمایا کہ اجازت ہے حوض والی مسجد ہی سے سہی خوب آپ نے بھی خوض کیا ، ایسی قیود سے میرا مطلب تو حاصل ہے تا کہ میں بھی تو دیکھ لوں کہ کس قدر تعلق اور کتنی محبت ہے شوق کا امتحان سوق ہی سے ہوتا ہے ۔ تقید ایک قسم تقیید اور سوق ہی ہے ( سوق کہتے ہیں ہنکانے کو ) ۔

You must be logged in to post a comment.