( ملفوظ 60 )بڑے بدعتی مولوی صاحب کا خواب

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بدعتی بھی عجیب چیز ہیں دین تو قلوب میں ہے ہی نہیں قلب مسخ ہو گیا ہے ہمیشہ اہل حق کے پیچھے پڑے رہتے ہیں نہ کچھ حدود ہیں نہ کچھ اصول جو جی میں آتا ہے بک دیتے ہیں ۔ ایک مرتبہ بریلی میں ایک بڑے بدعتی مولوی نے خواب میں دیکھا کہ دوزخ کی کنجیاں میرے ہاتھ میں رکھی گئی ہیں اور تعبیر اس کی یہ سمجھ رکھی تھی کہ وہ جس کو چاہیں کفر کا فتوی دے کر دوزخ میں بھیج دیں ۔ میں نے کہا کہ یہ تعبیر تو بالکل ہی غلط ہے یہ تو کسی کے قبضہ میں نہیں کہ کسی کو کوئی دوزخ میں بھیج دے بلکہ اس کا
مطلب یہ ہے کہ وہ لوگوں کو گمراہ کر کے دوزخ میں بھیج رہے ہیں ۔ پس وہ کنجی دوزخ کی موافق کیلئے ہے مخالفین کے لیے نہیں ۔

( ملفوظ 59 ) ہر وقت اور ہر موقع پر تبلیغ مناسب نہیں

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ دین میں تبلیغ اصل ہے اور درس و تدریس اس کے مقدمات مگر یہ شرط ہے کہ بلا ضرورت کسی مفسدہ میں ابتلاء نہ ہو جائے ورنہ سکوت ہی بہتر ہے ۔ چناچہ میں ایک مرتبہ ریل میں سفر کر رہا تھا ہر موقع پر
خیال رہتا تھا کہ لوگوں کو تبلیغ کرنا چاہیے ایک شخص ریل میں تھا اس کا پاجامہ ٹخنوں سے نیچا تھا میں نے اس سے کہا کہ بھائی یہ شریعت کے خلاف ہے اس کو درست کر لینا اس نے چھوٹتے ہی شریعت کو ماں کی گالی دی اس روز سے میں نے بلا ضرورت لوگوں کو کہنا چھوڑ دیا کہ ابھی تک تو گناہ ہی تھا اور اس صورت میں کفر تک کی نوبت آ گئی ۔

( ملفوظ 58 )دارس دینیہ میں صنعت و حرفت

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مدارس دینیہ میں میری رائے ہے کہ صنعت و حرفت ضرور تھوڑی سی ہونی چاہیے تا کہ اہل علم دنیا داروں سے مستغنی رہیں ۔ ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت واقعی اس میں بڑی حکمت ہے ۔ فرمایا کہ جی ہاں بڑی عمدہ چیز ہے بشرطیکہ تابع کے درجہ میں ہو کیونکہ احتیاج کی حالت میں اکثر اہل علم مالداروں سے مغلوب ہو کر بگڑ جاتے ہیں ۔

( ملفوظ 57 )مفید باتوں کی کثرت بھی بلا ضرورت مضر ہے

ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت اگر مفید باتیں ہوں تو کیا ان کی کثرت سے بھی تکدر ہوتا ہے ۔ فرمایا کہ ہاں اگر بلا ضرورت ہو حضرت شیخ فرید فرماتے ہیں :

دل زپر گفتن بمیرد در بدن

گرچہ گفتارش بود در عدن

جو کلام بھی غیر ضروری ہو اس سے قلب میں کدورت ہوتی ہے اور ضروری چیز کا معیار یہ ہے کہ اگر وہ نہ ہو تو کوئی ضرر مرتب ہو ۔

( ملفوظ 56 ) انگریزوں کے یہاں اکلیات ہیں عقلیات نہیں

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ مولانا دوسرے مذاہب و ملل یا قوانین و دستور العمل کے مقاصد عالی نہیں اس لیے ان میں فہم عالی کی بھی ضرورت نہیں اور اسلام کے مقاصد عالی ہیں اس لیے ان میں فہم عالی کی ضرورت ہے چنانچہ آج کل انگریز دانش مندی میں بڑے مشہور ہیں مگر بالکل مادیات میں مبتلا ہیں عقلیات کا ان کے یہاں پتہ بھی نہیں البتہ اکلیات کا ہر جگہ ظہور اور غلبہ ہے ۔

( ملفوظ 55 ) جھوٹ بولنے والے طالبعلم کیلئے سزا کی ضرورت

ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت کل جس طالب علم کو نکل جانے کے لیے فرمایا تھا وہ میرے واسطے سے یہ عرض کرنا چاہتا ہے کہ میرے لیے جو چاہیں حضرت سزا تجویز فرما دیں مجھے منظور ہے ۔ فرمایا کہ جو واقعہ اس وقت تک ہوا ہے وہ من و عن لکھے اس میں ذرہ برابر جھوٹ اور تلبیس نہ ہو ، لکھنے کے بعد پھر اس کو بغور دیکھے اس کے بعد پھر مجھ کو دکھائے اور یہ بتلائے کہ وہ اس واقعہ کو خود کیا سمجھاتا کہ میں پھر اس کے لیے آئندہ تجویز کر سکوں اور فرمایا کہ واقعہ لکھنا بھی تو اچھا خاصہ مجاہدہ ہے اور مشغلہ ہے ہفتہ بھر تو اس کے لیے چاہیے ۔ خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ حضرت ہے بہت نافع فرمایا کہ نافع ہی تو مشکل سے ملتا ہے پھر ان مولوی صاحب کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا کہ اس سے یہ کہہ کر پھر کہلوا بھی لیجیئے گا اس تقریر کو بھی سمجھ گیا یا نہیں کیونکہ آج کل سمجھ اور فہم کا بھی قحط ہے ۔

( ملفوظ 54 ) اعمال صالحہ کے ملکات راسخ ہونے کی ضرورت

بڑی ضرورت ہے کہ اعمال صالحہ کے ملکات راسخ ہو جائیں جس سے اعمال صالحہ کا بے تکلف صدور ہونے لگے یہ ایک بڑی تدبیر ہے ۔

( ملفوظ 53 ) ایک صاحب کی گستاخی کا ذکر

فرمایا کہ آج کل فہم کا تو قحط ہی ہو گیا ، بیعت کو تو فرض و واجب سمجھتے ہیں اور جو اصل چیز ہے اتباع اس کا نام نہیں اور عوام کی اس باب میں کیا شکایت کی جائے ۔ ایک شخص گنگوہ میں تھے مولوی آدمی مجھ سے مرید ہو گئے جس زمانہ میں ایڈریا نوپل عیسائیوں نے فتح کر لیا تھا انہوں نے مجھ کو لکھا کہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی بھی تثلیث کا حامی ہے ( نعوذ باللہ ) مجھ کو ان کی اس کی حرکت پر بے حد صدمہ ہوا اور میں نے اپنے تعلق کو قطع کر دیا ۔ ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت یہ تو بے ادبی ہے ، فرمایا کہ بے ادبی کیا مجھ کو تو اس کے کفر ہونے میں شبہ ہے ، کیا اس کو صرف بے ادبی کہیں گے کہ اپنے کو بندہ بھی نہ سمجھے پھر نہ ندامت نہ شرمندگی یہ بے ادبی ہے اور کیا ایسے شخص سے تعلق رکھا جا سکتا ہے اور ایسی بیعت کو کیا چولہے میں ڈالے ۔

( ملفوظ 52 ) ایک صاحب کی خواہش زیارت پر حضرت کا جواب

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک خط آیا تھا اس میں لکھا تھا کہ اللہ جانتا ہے کہ میرا آپ کی زیارت کو کس قدر دل چاہتا ہے میں نے جواب میں لکھا مگر میرا دل نہیں چاہتا ( انہوں نے کوئی بے عنوانی کر کے آنا چاہا ہو گا اور اجازت نہ ملنے پر یہ لکھا ہو گا حلانکہ ضرورت تھی اول اس کا تدارک کرنے کی )۔

( ملفوظ 51 ) 29کے چاند کی تمنا کرنا جائز ہے

ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت اس کی تمنا کرنا کہ 29 تاریخ کا چاند ہو کیسا ہے ؟ فرمایا کہ محنت کم ہو اجر پورا ہو تو اس کی تمنا کیا بری ہے ، کیا مشقت بالذات ہے ۔