ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت صاحب روحانیت کے غلبہ سے لطافت بڑھ جاتی ہے ، رنج کا بھی احساس زیادہ ہوتا ہو گا ، فرمایا کہ کینہ تو نہیں ہوتا ، رنج ضرور ہوتا ہے ۔ عرض کیا کہ اوروں سے زیادہ فرمایا کہ اوروں سے زیادہ حتی کہ اگر دشمن کو بھی بدحالی میں دیکھ لے گا تو اس کا دل پانی پانی ہو جائے گا ۔
( ملفوظ 29 )ایک طالب علم کے اخراج کا واقعہ
ایک طالب علم کی کسی نالائقی پر آج صبح حضرت والا نے اس کو مدرسہ سے نکل جانے کو فرمایا تھا ۔ اب بعد نماز ظہر حافظ اعجاز صاحب سے دریافت فرمایا کہ وہ نالائق دور ہو گیا یا نہیں ؟ معلوم ہوا کہ یہیں پر ہے اور معافی کا خواستگار ہے فرمایا کہ معافی تو ایسی ہو گی کہ وہ بھی یاد رکھے گاجھوٹ بولتا ہے پھر جھوٹ پر جھوٹ اس کی نالائقیوں کا ذکر فرماتے ہوئے فرمایا : حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمۃاللہ علیہ طالب علموں کو مارتے وقت بڑی ظرافت سے کام لیتے تھے ، فرمایا کرتے تھے کہ اس عصا میں یہ خاصیت ہے کہ اس سے مردے زندہ ہوتے ہیں ۔ مارنے کے وقت طالب علم کہتے کہ حضرت ہم مر گئے ، حضرت فرماتے مارنے ہی کے لیے تو مار رہا ہوں ۔ حضرت اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے واسطے معاف کر دیجئے ، فرماتے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہی نے تو حکم دیا ہے کہ ایسے نالائقوں کی خبر لو ۔ پھر فرمایا کہ اب جب سے معافی چاہنے کے الفاظ کان میں پڑے ہی جوش تو جاتا رہا ۔ ہاں رنج ہے اور اس کا بھی رنج ہے کہ میں نے اسے کیوں مارا ، فرمایا بات یہ ہے کہ ایسوں کو پڑھانے سے بھی کوئی فائدہ نہیں اگرچہ یہ مقتداء ہو گئے تو آئندہ اور خرابی کا اندیشہ ہے ، دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے ۔ ایک اور ایسا ہی نالائق تھا اس کی بھی حرکات ایسی ہی تھیں اس کو بھی مدرسہ سے نکلوایا تھا ، خدا معلوم یہ گاؤں کے رہنے والے جہاں کچھ دو چار حرف پڑھے اپنے کو کیا سمجھنے لگتے ہیں جیسے ایک گاؤں والے نے کہا تھا کہ میاں جی میرے لونڈے کو ڈھیر ( زیادہ ) نہ پڑھا دیجئے کبھی لوٹ پوٹ پیگمبر ( پیغمبر ) نہ ہو جائے مزاحا فرمایا کہ ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ اس نالائق کو ( ایک کاذب مدعی نبوت کا نام لیا ) میاں جی نے ڈھیر پڑھا دیا ( زیادہ پڑھا دیا ) کہ لوٹ پوٹ پیگمبر ( پیغمبر ) ہو گیا ۔ ایک گاؤں والے سے کسی نے پوچھا تھا کہ تیرا لڑکا انگریزی کس قدر پرھا ہے ، کہا یہ تو خبر نہیں مگر کھڑا ہو کر موتنے لگا ہے ( کوئی نصاب خاص ہو گا کہ کہ وہاں پہنچ کر کھڑا ہو کر موتنے لگتا ہے ) اب تم معلوم کر لو کتنا پڑھا ۔
( ملفوظ 28 ) تصوف کی پہلی منزل شکستگی ہے
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اگر صحبت شیخ سے کسی میں شکستگی پیدا ہو گئی تو سمجھ لو کہ کام چل گیا کیونکہ اس طریق میں پہلی منزل یہ ہے کہ فنا کی شان شکستگی کی شان پیدا ہو جائے اگر شکستگی نہ پیدا ہوئی تو سمجھ لو کہ بالکل محروم ہے ۔ مولانا فرماتے ہیں :
سالہا تو سنگ بودی دل خراش آزموں را یک زمانے خاک باش
چوں تو یوسف نیستی یعقوب باش ہمچواو باگریہ و آشوب باش
فہم و خاطر تیز کردن نیست راہ جز شکستہ می نگیر و فضل شاہ
ہر کجا پستی است آب آنجارود ہر کجا مشکل جواب آنجارود
ہر کجا دردے دوا آنجارود ہر کجا رنجے شفا آنجارود
28 رمضان المبارک 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم شنبہ
( ملفوظ 27 ) آج کل بیعت کا صرف نام ہے
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ اجی حضرت بیعت کا نام ہی نام ہے سلسلہ و تعلق نہیں اور محبت اور عقیدت یہ بھی سلسلہ ہی کے نام ہیں جو آج کل قریب قریب کالعدم ہیں ۔
( ملفوظ 26 ) خیر کا مفضی الی الشر ہو جانا
ایک مولوی صاحب کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ جی ہاں کبھی خیر بھی مفضی الی الشر ہو جاتی ہے اور وہ اس طرح کہ اس خیر کا کرنے والا حقیقت سے بے خبر ہے مثلا خرچ کیا اور نیت یہ ہے کہ دوسرے دیکھ کر مجھ کو سخی سمجھیں تو خرچ کرنا خیر تھا مگر نیت کی وجہ سے ریا ہو گیا تو مفضی الی الشر ہو گیا ۔ وجہ وہی ہے کہ حقیقت ریا سے بے خبری یا عدم اہلیت اور اگر خرچ کی یہ صورت ہے کہ اظہار کر کے خرچ کیا مگر نیت یہ ہے کہ دوسرے بھی دیکھ کر اللہ کے واسطے خرچ کریں جس کا حاصل یہ ہے کہ اظہار سے ترغیب دینا مقصود ہے تو یہ خیر کا خیر ہیv رہا اس کی وجہ صرف حقیقت سے باخبری البتہ بخل کے علاج کے موقع پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ خرچ کرو چاہے ریا ہی ہو مثلا ایک شخص ہے بخل کے علاج کے لیے اس کی اجازت دی جائے گی کہ خرچ کرو ، گو ریا ہی سے ہو تا کہ اس کو عادت تو پڑے پھر اخلاص کی تعلیم کر دی جائے گی ۔
( ملفوظ 25 )اسرار کے اظہار میں خطرات
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اظہار اسرار میں بہت سے خطرات ہیں جو حضرات مغلوب الحال ایسا کر گئے اس سے بہت سے نا اہل اور بد فہم گمراہ ہو گئے ۔ یہ تو علمی ضرر ہے اور ایک عملی ضرریہ ہے کہ اس میں لگ جانے سے یہ خود اچھا خاصہ مشغلہ ہو جاتا ہے اور جو کام کرنے کے ہیں وہ رہ جاتے ہیں اس لیے میں کہا کرتا ہوں کہ ان چیزوں کی طرف تو التفات بھی نہ کرنا چاہیے ، اصل چیز التفات کی احکام کی اتباع ہے یہ بڑی چیز ہے ۔
( ملفوظ 24 )اہل سماع کی حالت فسق و فجور
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہ جو آج کل اہل سماع ہیں وہ اہل سماء نہیں ، اہل ارض ہیں کچھ خبر نہیں جو جی میں آتا ہے کرتے ہیں نہ احکام کی فکر نہ حدود کی پروا کہاں تک ان لوگوں کے افعال کی تاویل کی جائے ، کھلم کھلا فسق و فجور میں مبتلا ہیں ، آخرت کی تو ان لوگوں کو فکر ہے ہی نہیں خدا معلوم کیا دماغوں میں بھرا ہے ۔
( ملفوظ 23 ) دنیاکےجھگڑےاوراہل اللہ کاغم
فرمایا کہ آج کل یہ نئی نئی چیزیں دنیا میں چل رہی ہیں ۔ خصوص ہندوستان میں آئے دن ایک نیا ترانہ لے کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ سب کی ان میں شرکت ہو ۔ میں کہتا ہوں کہ تم کو ملک کی فکر قوم کا غم اور اہل اللہ کو ایک غم ایسا ہے اور ایک ایسی فکر ہے کہ اگر تم کو بھی وہی غم اور فکر لگ جائے تو واللہ سب جھگڑے بھول جاؤ مگر اس کی تو تم کو ہوا تک بھی نہیں لگی اور وہ لگانے سے لگتی ہے بدوں لگائے تھوڑا ہی لگ سکتی ہے اور وہ فکر اور غم ایسا ہے کہ جب حضرت ابراہیم ادہم بلخی نے سلطنت ترک کر دی تو وزیر نے حاضر ہو کر عرض کیا کہ سب ارکان پریشان ہیں پھر چل کر تاج و تخت کو سنبھالئے ۔ فرمایا یہ ظاہر ہے کہ فکر اور غم میں ایسے تعلقات کا حق ادا نہیں کر سکتا اس لیے معذور ہوں ۔ وزیر نے عرض کیا وہ ایسا کیا غم ہے کہ جس کا کوئی علاج ہی نہیں ، وزیر کے اصرار پر فرمایا کہ حق تعالی فرماتے ہیں :
فریق فی الجنۃ و فریق فی السعیر
( یعنی قیامت میں دو گروہ ہوں گے ایک جنتی اور ایک دوزخی )
یہ بتلاؤ میں کون سے گروہ سے ہوں گا یہ ہے وہ غم اس کا دفع کرو ؟ وزیر نے عرض کیا کہ حضور میں آپ کے غم اور فکر کو کیا دفع کرتا مجھے خود اپنی فکر پڑ گئ ۔ اسی سلسلہ میں بطور جملہ معترضہ کے فرمایا کہ اس فکر کے اثر پر یاد آ گیا ۔ ایک مرتبہ اکبر بادشاہ شب کو محل میں پڑا ہوا تھا ، آرام کا وقت تھا کہ دفعتا عارض کی وجہ سے روشنی گل ہو گئی تو بادشاہ کو قبر کی تاریکی کا خیال آ گیا کہ یہاں پر باوجود یکہ حشم خدم فوج پلٹن سلطنت حکومت سب ہی کچھ ہے مگر روشنی گل ہو جانے سے کوئی اس وحشت کو رفع نہیں کر سکتا تو قبر میںجہاں کچھ بھی نہ ہو گا دو گز گہرا گڑھا اور تنہائی ہو گی وہاں اس اندھیرے میں کیا حشر ہو گا ، صبح کو جو اٹھ کر دربار میں آیا بیربل نے دیکھا کہ بادشاہ کا چہرہ پژمردہ ہے اور ملال کے آثار ہیں ۔ بیربل نے عرض کیا کہ آج حضور کے مزاج کیسے ہیں ، فرمایا کہ آج شب کو یہ واقعہ پیش آیا اس سے یہ خیال قلب پر چھا گیا ہے ۔ بیربل نے عرض کیا کہ حضور یہ کون سی مشکل بات ہے ، میں آپ سے ایک بات پوچھتا ہوں وہ یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی عمر مبارک کتنی ہوئی ؟ اکبر نے کہا کہ تریسٹھ سال کی اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کو کتنا عرصہ ہوا ، کہا ہزار سال سے زیادہ ، بیربل نے عرض کیا کہ جس ذات نے تریسٹھ سال کے اندر تمام عالم کو منور اور روشن کر دیا اس ذات کو زمین کے اندر گئے ہوئے ہزار سال ہو گئے ، کیا باطن زمین آپ سے منور اور روشن نہ ہوئی ہو گی اور قبور باطن زمین میں ہیں ، ہر امتی کو انشاءاللہ قبر روشن ملے گی ۔ تھا تو بیربل ہندو مگر حقیقت کو کس عجیب عنوان سے بیان کیا ۔ اس قصہ میں دیکھئے اکبر جیسے آزاد شخص کو اس فکر نے کیسا پریشان کر دیا ، غرض اس فکر میں یہی خاصیت ہے ، میں اسی کو کہ رہا تھا کہ اہل اللہ کو وہ فکر اور غم ہے کہ اگر اس کی تم کو ہوا بھی لگ جائے تو تمام غم اور فکر اس کے سامنے گرو ہو جائیں ، واللہ ثم واللہ ان کے دلوں پر ہر وقت آرے چلتے ہیں جن کی آپ کو خبر بھی نہیں پھر ان کو ان فضول جھگڑوں کی کہاں مہلت کہ وہ ان میں پڑیں ان کو اگر اس غم و فکر سے مہلت ہو یا فرصت ہو تو ان غموں کو لے کر بیٹھیں ۔ اسی کو فرماتے ہیں :
اے ترا خارے بپا نشکستہ کے دانی کہ چیست
حال شیرا نے کہ شمشیر بلا برسر خورند
( تمہارے پیر میں کبھی کانٹا نہیں لگا تو تم ان حضرات کی تکلیف کا کیا اندازہ کر سکتے ہو جو تلواریں کھاتے ہیں )
میں اس کا انکار نہیں کرتا کہ آپ کو فکر نہیں آپ کو بھی فکر ہے مگر فرق اتنا ہے کہ آپ کو دشمن کی فکر ہے اور ان کو محبوب کی فکر ۔ غرض اہل اللہ بے فکر نہیں ان کے دلوں پر فکر اور غم کا پہاڑ ہے جس نے ان کو تمام غموں اور افکار سے بیکار کر دیا ہے ۔ اسی وجہ سے وہ اس قسم کے تعلقات سے گھبراتے ہیں ۔ مولانا رومی اسی کو فرماتے ہیں :
خوو چہ جائے جنگ و جدل دینک و بد
کایں ولم از صلحہا ہم می رمد
( بھلے برے کے امتیاز میں لڑائی جھگڑے کی یہاں کہاں فرصت ہے کہ یہ دل تو صلح کی باتوں سے بھی بھاگتا ہے ، یعنی ہر فضول کام سے ۔
)
اور واقعی اگر آپ کو وہ غم اور فکر جو اہل اللہ پر غالب ہے چھو بھی جائے تو پتا پانی ہو جائے ، کیا ملک اور قوم کا ترانہ گاتے پھرتے ہو بھول جاؤ ان قصوں کو اور نکل جاؤ جنگلوں کو ۔
( ملفوظ 22 ) حزن سے ترقی باطن ہونے کی تحقیق
ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ حزن سے عبیدت میں شکستگی پیدا ہوتی ہے کہ بیٹھے ہوئے رو رہے ہیں یا پگھل رہے ہیں اور یہ خود ایک مستقل مجاہدہ بھی ہے اس لیے کہ تکلیف پر اجر کا وعدہ ہے ۔ ایک صاحب کا خط آیا تھا اس میں لکھا تھا کہ سفر کی وجہ سے معمولات پورے نہ ہو سکے اور اس پر قلق اور حزن ظاہر کیا تھا میں نے لکھ دیا کہ اصلاح میں جو کمی تھی وہ اللہ تعالی نے اس طرح پوری فرما دی وہ کمی یہ ہے کہ کبھی اس ناغہ نہ ہونے سے اعمال میں عجب پیدا ہو جاتا ہے تو اس ناغہ میں اس عجب سے حفاظت ہو گئی مگر اس سے مراد ہر حزن اور گریہ نہیں بلکہ جس حزن اور گریہ پر اجر ہے وہ ہے جو غیر اختیاری ہو مثلا کوئی مصیبت آ پڑی یا یہ کہ اعمال کے متعلق سعی میں لگا ہوا ہے ، کام کر رہا ہے اور پھر اتفاقا بلا قصد کے اس کے خلاف کا صدور ہو گیا ۔ اس پر حزن ہے غم ہے گریہ ہے یہ وہ حزن جو دس گھنٹہ کا حزن اور گریہ دس برس کے مجاہدہ سے زیادہ کام کا بنانے والا اور فضیلت رکھنے والا ہے ورنہ بجائے سعی اختیاری کے محض گریہ تو اس کا مصداق ہے ۔
عرفی اگر بگریہ میسر شدے وصال
صد سال می تواں بہ تمنا گریستن
( عرفی اگر رونے سے محبوب کا وصل میسر ہو جاتا تو وصل کی تمنا میں سو برس رو سکتے ہیں ۔ )
مگر بیکار یہ بھی نہیں ، گو اتنا بیکار بھی نہیں کہ اس پر اکتفا کر کے اعمال سے تساہل اختیار کر لیں ۔ خلاصہ یہ ہے کہ باوجود قصد تکمیل کے اعمال میں نقص رہ جائے اس پر اجر ہوتا ہے اور یہ بھی اس میں ایک رحمت ہے غور سے سن لیجئے ۔ وہ یہ کہ اعمال میں جو باوجود قصد تکمیل کے کوتاہی رہ جاتی ہے ۔ غور کرنے سے معلوم ہو سکتا ہے کہ وہ بھی اختیاری ہوتی ہے مگر یہ رحمت ہے کہ اس کے ساتھ معاملہ اضطراری کے مثل کیا جاتا ہے یہ کوئی نہیں کہ سکتا کہ یہ اختیاری نہیں مگر اس کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے اس کو اس وقت اس لیے بیان کر دیا کہ کبھی اس کو بالکل غیر اختیاری سمجھ کر اعمال میں جو کوتاہی کا صدور ہو چکا ہے اس کا موجب نقص نہ سمجھ کر اعمال کو کامل سمجھے اور بے فکر ہو جائے خسران میں پڑے اور میں جو کچھ اس وقت بیان کر رہا ہوں ، یہ سب حضرت حاجی صاحب کا صدقہ ہے ۔ حضرت اس آخر زمانہ میں اس فن کے مجدد تھے ، امام تھے ، مجتہد تھے ، ہر چیز کی حقیقت کو خوب سمجھتے تھے اور زمانہ کےلوگوں کی حالت سے بخوبی واقف تھے مگر باوجود اس طریق میں مجتہد ہونے کے حدود کی اتنی رعایت تھی کہ فتاوے میں علماء سے رجوع فرماتے تھے چناچہ جن لوگوں نے حضرت حاجی صاحب حضرت مولانا گنگوہی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ حضرت حاجی صاحب مولانا سے مسائل مسائل پوچھ پوچھ کر عمل کیا کرتے تھے اور مولانا بھی اگر کوئی شخص فتاوی شرعیہ کی معارضہ میں حضرت حاجی صاحب کا کوئی قول یا فعل پیش کرتا تو صاف صاف فرما دیا کرتے تھے کہ حضرت حاجی صاحب کو ان مسائل جزئیہ میں ہمارے فتوے پر عمل کرنا واجب ہے ہم کو ان مسائل جزئیہ میں حضرت حاجی صاحب کی تقلید جائز نہیں اور ہم ان مسائل کی وجہ سے حضرت حاجی صاحب سے مرید تھوڑا ہی ہوئے ہیں وہ اور ہی چیزیں ہیں جن کی وجہ سے ہم نے حضرت سے بیعت کی ہے اتنا بڑا شخص اتنا بڑا عالم حضرت کے کمالات باطنی کا اعتراف کر رہا ہے ۔ آخر حضرت میں کوئی چیز تو تھی ورنہ اگر حضرت میں کوئی چیز نہ ہوتی تو ایسے لوگ جن کی صاف بیانی کی یہ کیفیت ہے وہ کیا معتقد ہو سکتے تھے ہم کو اپنے بزرگوں کی ان ہی باتوں پر فخر ہے کہ ان کے یہاں ہر چیز اپنے مرتبہ پر رہتی ہے کوئی افراط تفریط نہیں ۔
( ملفوظ 21 )ذکر میں پہلا سا مزہ نہ ہونا
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک شخص نے مجھ سے شکایت کی کہ ذکر میں جو پہلے مزہ آتا تھا اب نہیں آتا ، میں نے کہا میاں مزا تو مذی میں ہوتا ہے یہاں کہاں مزا ڈھونڈتے پھرتے ہو جیسے مولانا فضل الرحمن صاحب نے ایسی شکایت کے جواب میں فرمایا تھا کہ تم کو خبر نہیں پرانی جورو اماں ہو جاتی ہے ۔ مطلب یہ کہ اول میں شوق کا غلبہ ہوتا ہے اور پھر انس کا اور مزہ شوق میں زیادہ ہوتا ہے ۔ خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ حضرت سنا ہے کہ حضرت مولانا گنگوہی نے ایک مثال فرمائی ہے کورے بدھنے کی کہ اول جس وقت اس میں پانی بھرا جاتا تو بڑا شور سا ہوتا ہے اور بعد میں پرانا پڑنے پر وہ شور نہیں ہوتا بلکہ سکون کا غلبہ ہوتا ہے اس لیے کہ اس کے رگ و ریشے میں پانی سرایت کر چکا ہے ۔ حضرت والا نے فرمایا واقعی عجیب مثال ہے عارفین کو حسن تمثیل کی میراث حضرات انبیاء علیہم السلام سے عطا ہوئی ہے ۔ قاضی بیضاوی نے بھی لکھا ہے کہ انبیاء اور حکماء کی باتوں میں مثالیں بہت ہوتی ہیں وہ حقائق کے تطابق پر اور محسوسات سے معانی کی توضیح پر قادر ہوتے ہیں ۔ ان کو ایک نور عطا ہوتا ہے جس سے ان کو حقائق کا انکشاف ہوتا ہے اسی سلسلہ میں فرمایا کہ مسئلہ قدر کی تحقیق کے لیے ایک شخص نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ وہ کھڑا تھا آپ نے فرمایا کہ اپنا پیر اٹھاؤ ، اس نے اٹھا لیا ، فرمایا کہ اب دوسرا اٹھاؤ ، نہیں اٹھا سکا ، فرمایا کہ بس اتنا اختیار ہے اور اتنا جبر دیکھئے حسی مثال سے ایک دقیق معنی کو کیسا واضح فرما دیا ۔ سبحان اللہ یہ ہیں علوم ۔

You must be logged in to post a comment.