( ملفوظ 20 ) ایک مجذوب طالب علم کا واقعہ

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اقطاب التکوین مجاذیب زیادہ ہوتے ہیں ۔ دیوبند میں ایک ولایتی مجذوب شہاب الدین تھے میری طالب علمی کا زمانہ تھا ہم طالب علم ان کو چھیڑا کرتے تھے کہ دعا کرو کہ فلاں فلاں جاتے رہے حالانکہ وہ تکوینا ان کے حامی تھے مگر کبھی برا نہ مانتے اور صرف یہ کہا کرتے تھے کہ خدا خیر کند خدا خیر کند ۔ جب ان کا انتقال ہوا تو میں نے ان کے مرنے پر افسوس ظاہر کیا تو غالبا مولانا شاہ رفیع الدین صاحب رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ایسے شخص کے مرنے پر کیا افسوس وہ تو فلاں فلاں کے موافق اور ہمارے مخالف تھے ۔ حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمہ اللہ مجاذیب کے بھی بڑے تھے وہ مجذوب صاحب مولانا کی اجازت ہی سے چھتہ کی مسجد میں مقیم ہوئے تھے ۔

( ملفوظ 19 ) آج کل کے نصاری کا تکبر

ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت قصبہ پھول پور ضلع اعظم گڑھ مولوی عبد الغنی صاحب کے مدرسہ میں ایک شخص پانی پینے آیا اس سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ کہاں جاؤ گے اس نے کہا کہ فلاں جگہ جلسہ ہے وہاں نصاری ہونے جا رہا ہوں ۔ مراد یہ تھی کہ انصاری ہونے جا رہا ہوں مگر غایت جہل سے دونوں لفظوں میں فرق نہیں کر سکا ۔ حضرت والا نے فرمایا کہ ٹھیک تو کہا کہ نصاری ہونے جا رہا ہوں یعنی متکبر ہونے جا رہا ہوں ، جیسا آج کل مشاہدہ ہے البتہ پہلے نصاری متکبر نہ تھے جن کے متعلق قرآن پاک میں ہے ” و انھم لا یستکبرون”

(ملفوظ 18) علماء کافر بتاتے ہیں ، بناتے نہیں ہیں

آج کل علماء پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ علماء لوگوں کو کافر بناتے ہیں ۔ میں کہا کرتا ہوں کہ ایک نقطہ تم نے کم کر دیا ہے ۔ اگر ایک نقطہ اور بڑھا دو تو کلام صحیح ہو جائے وہ یہ کہ وہ کافر بتاتے ہیں ( بالتاء) بناتے نہیں ( بالنون ) بنانے کے معنی کی تحقیق کر لو ، وہ اس طرح آسان ہے کہ یہ دیکھ لو کہ مسلمان بنانا کس کو کہتے ہیں اسی کو تو کہتے ہیں کہ یہ تم نے کسی مسلمان کو اول دیکھا کہ علماء اس کو یہ کہہ رہے ہوں کہ تو کافر ہو جا ۔ البتہ جو شخص خود کفر کرے اس کو علماء کافر بتا دیتے ہیں یعنی یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ کافر ہو گیا ۔
ترغیب دی جائے کہ تو مسلمان ہو جا تو اسی قیاس پر کافر بنانے کے معنی کفر کی تعلیم و ترغیب ہوں گے تو کیا

( ملفوظ 17 ) پٹھانوں کی شرافت

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہاں کے اطراف کے پٹھان نہایت خوش اعتقاد اور سب ہی بزرگوں کے خادم رہے ہیں ، ایک شخص نے یہ شرارت کی کہ بہشتی زیور لے کر بستی بستی پھرا ، پٹھانوں کو دکھلاتا ہوا کہ دیکھو ! اس میں لکھا ہے کہ مغل پٹھان شیخ سید کی ٹکر کے نہیں ۔ گویا ان کو اشتعال دلاتا تھا مگر سب نے بالاتفاق یہی جواب دیا کہ وہ اپنے گھر سے نہیں کہتے جو اللہ رسول کا حکم ہے ۔ وہ لکھتے ہیں اور بیان کرتے ہیں اس میں کسی کو چون و چرا کی گنجائش نہیں واقعی یہ شرافت کی بات ہے غیر شریف تو خدا معلوم کیا سمجھ بیٹھتے ۔

( ملفوظ 16 )فرشتوں کو دیکھ کر مرغ کا بولنا ضروری نہیں

ایک صاحب نے تعجب سے سوال کیا کہ حضرت سنا ہے کہ مرغا فرشتوں کو دیکھ کر بولتا ہے ، کیا فرشتے اس کو مکشوف ہوتے ہیں ؟ فرمایا کہ ہاں انکشاف کا ہونا کیا بعید ہے مگر یہ ضروری نہیں کہ ہر بار بولنے کا یہی سبب ہو یہ بھی ممکن ہے کہ کبھی طبعی طریق پر بولتا ہو ۔ اس پر فرمایا کہ یہ تحقیق تو ہو گئی اور وہ مرغا جس وجہ سے بھی بولتا ہو مگر میں پہلے آپ کو اس بولنے کی وجہ پوچھتا ہوں ، آپ کو بیٹھے بٹھلائے کیا نظر آیا جو آپ ایک غیر ضروری سوال لے کر چلے ، کیا خاموش بیٹھا رہنا ، آپ کے نزدیک گناہ ہے ، عرض کیا کہ غلطی ہوئی معافی چاہتا ہوں ہوں فرمایا کہ معافی کو تو معاف کر چکا ، خدانخواستہ انتقام تھوڑا ہی لے رہا ہوں مگر کیا متنبہ بھی نہ کروں آخر جواب تو ملنا چاہیے ۔ آخر اس سوال میں اور اس تحقیق میں حکمت کیا ہے اس کے نہ معلوم ہونے پر کیا نقصان تھا اور معلوم ہونے پر کیا نفع ہوا ، ان صاحب نے اس پر کوئی جواب نہ دیا ، فرمایا کہ کیا گیا ، آپ لوگوں کو خواہ مخواہ بے ضرورت کلام کرنا اس وقت کے اس سوال سے آپ کی بے حد طبیعت منقبض ہوئی اس ہی لیے آنے والوں کے ساتھ شرط لگا دیتا ہوں کہ یہاں پر زمانہ قیام میں مکاتبت مخاطبت نہ کی جائے جہاں کسی کے ساتھ رعایت کی وہی سر چڑھ جاتا ہے یہ رعایت کا نتیجہ نکلتا ہے ۔ ( انا للہ و انا الیہ راجعون )

( ملفوظ 15) جھوٹ بولنے پر پٹائی

ایک طالب علم نے جن کو قرض ادا کرنے کی تاکید کی گئی تھی ۔ حضرت والا کی خدمت میں ایک رقعہ پیش کیا کہ میرے ذمہ جو فلاں شخص کے چار روپیہ تھے وہ میں نے دیدئیے ہیں ۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ صرف دو روپے دیئے ہیں اس جھوٹ بولنے پر حضرت والا نے فرمایا کہ یہاں سے چلے جاؤ یہاں ایسے جھوٹوں کا کام نہیں وہ نہیں گیا ۔ فرمایا کہ اگر نہ جاؤ گے پٹو گے ، کئی مرتبہ فرمایا لیکن وہ نہیں گیا چناچہ پٹا ۔

( ملفوظ 14 ) آج کل کے اخبار فساد کی جڑ ہیں

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل اخباروں میں بڑی گڑبڑ ہے ، قریب قریب عدل کا تو نام ہی نہیں ملک میں فساد کا اصل ذریعہ یہ ہی اخبار بنے ہوئے ہیں ۔ بلا تحقیق واقعات کا مشتہر کر دینا تو ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ۔ ایک صاحب کہنے لگے کہ اخبار اگر حدود میں رکھا جائے تو خبریں تو سب حذف ہو جائیں ۔ میں نے کہا غلط ہے اگر ہمارے سپرد کر دیا جاوے تو حدود ہی میں رہے گا صرف ایک دو خبر الگ کر دینی پڑیں گی مگر اکثر کو باقی رکھیں گے اس پر ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت آج کل تو خریدار اسی مذاق کے ہیں ۔ اگر حدود کی رعایت کے ساتھ اخباری خبریں شائع ہوں تو غالبا پسند بھی نہ کریں ۔ اس پر فرمایا کہ واقعی اکثر خریدار از خردار بالدال ہو گئے اس ہی لئے خروار بالواؤ بن گئے ۔

( ملفوظ 13) کم ہدیہ میں ریاء نہیں ہوتی

فرمایا کہ ایک صاحب نے ہدیہ بھیجا مقدار اس کی دو آنہ ہے بھلا اس میں کیا ریا ہو سکتی ہے ۔

27 رمضان المبارک 1350ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم شنبہ

( ملفوظ 12) خیرالقرون ” قرنی ” میں ایک نکتہ

ایک سلسہ گفتگو میں ظرافتہ فرمایا کہ شیعہ مجلس تو کرتے ہیں مگر امام کے نام کی ایک بھی نہیں ، کہیں شیرمال کی ہوتی ہے کہیں جلیبی کی ہوتی ہے کہیں حلوے کی ہوتی ہے اسی پر غالبا خلافت کو خیال کیا ہو گا کہ خلافت بھی پلاؤ قورمہ کی ہوتی ہو گی جس پر جھگڑے فساد کرتے ہیں کہ حضرت علی کو اول ہی سے کیوں نہیں ملی مگر وہاں پلاؤ قورمہ کی خلافت نہ تھی مصیبت کی تھی اس لیے ان کو تو احسان ماننا چاہیے کہ حضرات خلفاء ثلثہ نے اتنے دنوں تک حضرت علی رضی اللہ عنہ کا بوجھ اٹھائے رکھا ۔ پھر ایک نکتہ فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے اس ارشاد میں کہ خیرولقرون قرنی ترتیب خلافت کی طرف اشارہ ہے ۔ یہ ایک لطیفہ ہے قرنی میں چاروں حضرات کے نام کے آخر حروف کو جمع فرمایا دیا ہے صدیق کا قاف عمر کی رے عثمان کا نون علی کی ے ۔

( ملفوظ 11 )حزن غیر اختیاری بڑی دولت ہے

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ جو حزن غیر اختیاری ہے وہ خود بخود معلوم ہو جاتا ہے اختیاری اور غیر اختیاری افعال میں بین فرق ہوتا ہے ۔ حقیقت میں بھی اور اثر میں بھی ۔ چنانچہ جو چیزیں غیر اختیاری ہیں ان کے صدور سے کبھی قلب پر کدورت نہیں ہوتی ۔ گو طبعی اثر ہو مگر وہ کدورت نہیں حزن ان چیزوں سے اختیاری ہو جاتا ہے یعنی اپنے خیال کو اس میں دخل دینا ، ، فکر کرنا ، غور کرنا وغیرہ اور حزن اضطرابی تو اتنی بڑی دولت ہے کہ اس سے قلب میں استعداد پیدا ہوتی ہے وصول الی الحق کی کیونکہ اس سے موانع وصول مرتفع ہوتے ہیں ۔