( ملفوظ 10) فرمایا کہ آج صبح جس نالائق کو نکالا ہے اس نے بہت ہی ستایا ، ایسے جھوٹے شخص سے کیا خیر کی توقع ہوسکتی ہے ۔ ایک چھوٹے سے معاملہ میں اس قدر جھوٹ پھر جھوٹ پر جھوٹ مکان کے دروازہ پر سوتا تھا ایسے مکار شخص کا کیا بھروسہ ، ایسا شخص خطرناک ہے اور اگر دروازہ پر نہ بھی رہے مدرسہ ہی میں رہے تو کیا مدرسہ کے لوگ مفت کے ہیں کہ ان کو دھوکے دیتے رہو ، ستاتے رہو ۔ فرمایا کہ مجھے جھوٹ سے بڑی نفرت ہے اور کاذب سے نفرت ہونا بھی چاہیے اس لیے کہ اس سے تو کچھ امید نہیں نہ معلوم کس وقت کیا دھوکہ دے ۔
( ملفوظ 9 ) جن کے دفع میں عامل کی قوت خیالیہ کا اثر
ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت یہ جو عامل جن کو دفع کر دیتے ہیں یہ کس چیز کا اثر ہوتا ہے ۔ فرمایا کہ قوت خیالیہ کا اثر ہوتا ہے ۔ اسی کا تصرف ہوتا ہے ۔ عرض کیا کہ اگر وہ جن بھی اپنی قوت خیالیہ سے کام لے فرمایا ممکن ہے مگر انسان کی قوت دافعہ کا مقابلہ جن نہیں کر سکتے ان کی قوت دافعہ ایسی قوی نہیں ہوتی ۔
( ملفوظ 8 ) شریفوں کا زمانہ
فرمایا کہ ایک خط آیا ہے کچھ میوہ جات لانے کی اجازت چاہی ہے اور ان کی فہرست لکھ کر بھیجی ہے کتنی راحت کی بات ہے کہ پوچھ لیا پہلے ایک خط ان کا مجمل آیا تھا میں نے اس میں لکھ دیا تھا کہ اگر بنا دریافت کیے ہوئے بھیجو گے ، میں نہیں رکھوں گا ، واپس کر دوں گا ، اس پر یہ خط آیا ہے اب گھر پوچھ کر اور حکیم صاحب سے دریافت کر کے لکھوں گا کہ کون سی چیز کھا سکتا ہوں ۔ خواجہ صاحب نے خط دیکھ کر عرض کیا کہ حضرت شریفہ نہیں لکھا ۔ حضرت والا نے مزاحا فرمایا کہ شریفوں کا زمانہ بہت دنوں سے نہیں رہا۔
( ملفوظ 7 ) علماء کو لڑانا
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل علماء کو اپنی جنگ کی آڑ بناتے ہیں اور خود الگ رہتے ہیں ۔ میں ان کی رگوں سے خوب واقف ہوں ، جوابوں میں اس کی رعایت رکھتا ہوں اس لیے یہاں کے جوابوں سے خوش نہیں ہوتے ۔ ایک خط میں بطور شکایت لکھا آیا تھا کہ یہاں کی انجمن میں اتنےعرصہ سے مد زکوۃ کا روپیہ جمع ہے اگر لوگ ان سے صرف کرنے کو کہتے ہیں یا حساب مانگتے ہیں کوئی جواب نہیں دیتے ایسی صورت میں شرعی حکم کیا ہے ، میں سمجھ گیا کہ فتوی حاصل کر کے لوگوں کو دکھاتے پھریں گے اور فساد برپا کریں گے ، میں نے جواب میں لکھا کہ ان انجمن والوں سے اس کا جواب لے کر کہ ایسا کیوں کرتے ہیں سوال میں درج کرو اور پھر فتوی حاصل کرو ، اس جواب سے بھلا کیا خوش ہوں گے ۔ ایک اور خط میں لکھا آیا تھا کہ یہ معلوم ہوا ہے کہ بھوک کے وقت حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے شکم مبارک پر پتھر باندھا ہے کتب سیر کے بھی حوالے دیے ہیں ۔ پوچھا تھا کہ کیا یہ صحیح ہے ، میں نے لکھا کہ اگر صحیح ہوا تو تم کیا کرو گے ، مطلب یہ کہ غیر ضروری تحقیق سے کیا فائدہ ۔ ایک اور خط آیا تھا جو غیر ضروری مضمون اور تکلف سے بھرا ہوا تھا ، دیکھ کر بڑی قلب میں کدورت ہوئی ، سب مضمون تو محفوظ نہیں رہا کچھ محفوظ ہے ۔ لکھا تھا کہ احقر کو سخت تعجب ہے کہ آپ حضرات سے کوئی تعلق نہ رکھ کر کس طرح زندگی بسر کر سکتا ہے ۔ اسی طرح کا اور بھی مضمون تھا ، میں نے جواب میں صرف یہ لکھا کہ اس تمہید سے کیا فائدہ ہوا ، یہ کاتب فلاں شاہ صاحب کے سفارشی ہیں ورنہ میں ایسوں کی خوب خبر لیتا ہوں تاکہ دیکھوں کہ کہاں تک اعتقاد ہے ۔اسی سلسہ میں فرمایا کہ ان ہی شاہ صاحب نے ایک اور صاحب کو یہاں پر بھیجا ان سے یہاں پر بعض حماقتوں کا صدور ہوا جس سے مجھ کو اذیت پہنچی ، اتفاق سے وہ شاہ صاحب بھی بغرض ملاقات یہاں تشریف لائے تو واقعات معلوم کر کے کہنے لگے اس نے یہاں آ کر بڑی حماقت کی جی میں تو آیا کہہ دوں کہ اول حماقت آپ نے کی کہ اس کو خواہ مخواہ یہاں بھیجا ۔ اس نے جا کر ان ہی شاہ صاحب سے میری نسبت کہا کہ تم نے مجھے کہاں بھیج دیا وہ تو مجذوب ہیں ۔ حضرت والا نے تبسم فرما کر فرمایا کہ غنیمت ہے مجذوب ہی کہا مجنون نہیں کہا ۔
( ملفوظ 6 ) بلا ضرورت وقت صرف نہ کرنا چاہیے
مدرسہ دیوبند کے واقعات اختلافات کا اور معترضین کے اس اعتراض کا کہ یہ کیسے مولوی ہیں کہ آپس میں لڑتے ہیں ۔ ذکر فرماتے ہوئے فرمایا کہ اس پر میں نے ایک رسالہ لکھا ہے اس میں یہ ثابت کیا ہے کہ ہر نا اتفاقی مذموم نہیں ۔ ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت اس وقت اس پر کچھ تقریر فرماویں ، فرمایا کہ رسالہ ہوتے ہوئے تقریر کی کیا ضرورت ہے ، رسالہ دیکھ لیا جائے جس قدر اس میں وضاحت سے مضمون ملے گا میں اس وقت اس کا احاطہ بھی نہیں کر سکتا اور اس میں ایک اور حکمت بھی ہے وہ یہ کہ اس میں بلا ضرورت کیوں وقت صرف کیا جائے یہ بھی ایک کام کی بات ہے جو میں اس وقت بیان کر رہا ہوں یعنی لایعنی بات میں مشغول نہ ہونا چاہیے ۔ گو اس وقت اس مضمون میں یعنی بیان سے عذر کر دینے میں ایک گونہ تلخی معلوم ہو گی مگر مرض کا ازالہ ہمیشہ کے لیے ہو جائے گا بس اہل فہم کے لیے اشارہ کافی ہے ( یہ اس لیے فرمایا کہ مولوی صاحب میں بے ضرورت کاوش کا مرض تھا ) امید ہے کہ آپ سمجھ گئے ہوں گے ان مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت اس وقت بہت بڑا نفع ہوا ، حق تعالی حضرت کو جزاء خیر عطا فرمائیں ۔ اس اپنے مرض کی طرف مجھ کو التفات بھی نہ تھا ، فرمایا کہ میرا بھی جی اس وقت خوش ہوا کہ آپ نے قدر کی اور سمجھ گئے ۔
( ملفوظ 5 ) عربوں کی سادگی
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ہمارے یہاں لوگوں میں جاہ کا مرض عالمگیر ہو گیا ہے ۔ عرب میں اس وقت تک بے تکلفی اور سادگی ہے اور جاہ کا مرض اس تک ان لوگوں میں کم پایا جاتا ہے ۔ ایک بدوی آ کر شریف مکہ کو بے تکلف پکارتا ہے یا حسین یا حسین اگر جاہ کا مرض ہوتا تو لوگ صرف سیدنا سیدنا کہہ کر پکارتے مگر دونوں طرح کی عادت ہے ۔
( ملفوظ 4 )دور سے چیخ کر مسئلہ پوچھنا
ایک صاحب نے دور بیٹھے ہوئے بلند آواز سے عرض کیا کہ حضرت ایک مسئلہ دریافت کرنا ہے ، فرمایا کہ اتنی دور سے مسئلہ نہیں پوچھا کرتے ، کوئی مسئلہ بیکار نہیں تم کو بھی اذان دینی پڑے گی اور مجھ کو بھی جب مجمع کم ہو جائے گا اور قریب آ سکو گے تب پوچھنا اتنے انتظار کرو ۔
( ملفوظ 3)اعتکاف سے متعلق چند فقہی مسائل کا جواب
( ملفوظ 3 ) اسی ہجوم میں ایک صاحب نے کہا کہ حضرت فلاں صاحب کثرت مجمع کی وجہ سے دور ہیں ، ان کو چند مسائل دریافت کرنے ہیں ، اگر اجازت ہو تو میں ان مسائل کوحضرت سے دریافت کر لوں ، فرمایا ہاں ہاں فرمائیے ۔
سوال : معتکف مسجد کے اندر جھاڑو دے سکتا ہے یا نہیں کوئی حرج تو نہیں ؟
جواب : دے سکتا ہے کوئی حرج نہیں ۔
سوال : مسجد کے عقب میں بالکل ملا ہوا کنواں ہے اس میں سے پانی بھر کر حمام میں ڈال سکتا ہے یا نہیں ؟ دریافت فرمایا کہ مسجد ہی میں رہے گا ، عرض کیا جی مسجد ہی میں رہے گا ؟
جواب : بھر سکتا ہے ۔
سوال : مسجد سے باہر پیر نکال کر وضو کے وقت نالی پر دھوتے ہیں ، دریافت فرمایا اس
وقت رہتا مسجد میں ہے ، عرض کیا کہ جی رہتا مسجد میں ہے ؟
جواب : کوئی حرج نہیں ۔
سوال : مسجد کے فرش پر رہتے ہوئے مسجد کی نالی دھو سکتا ہے یا نہیں ؟
جواب : دھو سکتا ہے ۔
( ملفوظ2 )مصافحہ کے آداب اور نظم کی اہمیت
( ملفوظ 2 ) بعد فراغ نماز جمعہ حضرت والا مسجد کے مصلے سے اٹھ کر بارادہ سہ دری تشریف لے چلے ، لوگوں نے مصافحہ کرنا شروع کیا بوجہ کثرت ہجوم حضرت والا نے فرمایا کہ جو صاحب جہاں پر ہیں اطمینان سے کھڑے رہیں اور جو آگئے ہیں وہ مصافحہ کر کے چلتے رہیں خواہ کتنا ہی وقت صرف ہو میں جب تک سب سے مصافحہ نہ کر لوں گا اس وقت تک سہ دری میں نہ جاؤں گا مگر کسی نے بھی اس پر عمل نہ کیا اور ایک کے اوپر ایک گر رہا تھا اس کشمکش کی وجہ سے حضرت والا کو بھی سخت اذیت پہنچی ۔ حضرت والا مصافحہ سے ہاتھ روک کر سہ دری میں تشریف لے آئے اور فرمایا کہ طبائع میں کوئی نظم نہیں انتظام نہیں ۔ باوجود کہہ دینے کے بھی پرواہ نہیں کی جاتی ، پھر اس پر بدنام کرتے ہیں کہ اخلاق اچھے نہیں ان کی وجہ سے تکلیف اٹھاؤ ، مر جاؤ جب اخلاق اچھے ہوں میں نے یہاں تک کہا کہ میں خود آ رہا ہوں چاہے ایک گھنٹہ صرف ہو جائے مگر سب سے مصافحہ کر لوں گا گڑ بڑ نہ مچاؤ مگر گنوار دل سنتا کون ہے خدا کی پناہ کسی کے دکھ آرام کی پروا ہی نہیں جو اپنا جی چاہے کرتے ہیں ۔ آگے کوئی مرے یا جئے ان کی کیا خبر ایسی کشمکش میں انسان کا کھڑا رہنا مشکل ہے مجھ کو اندیشہ اپنے گر جانے کا ہو گیا تھا اور ادھر آنت اتر آئی جس کے بعد میں ایک منٹ بھی کھڑا نہیں ہو سکتا تھا ۔ یہ جس قدر بدعتیں ہیں سب میں تکلیف ہے یہ نماز کے بعد کا مصافحہ بدعت ہے اور جس قدر سنتیں ہیں سب میں دنیا کی بھی راحجت ہے اور آخرت کی بھی راحت ۔ اب جو لوگ نرمی کا مشورہ مجھ کو دیتے ہیں وہ آ کر اس منظر کو دیکھیں ۔ دوسری بات یہ ہے کہ مجھ کو یہ ہنگامہ خیز صورت اچھی بھی نہیں معلوم ہوتی ، طبعی نفرت ہے اس میں ایک شان ہے ترفع کی سی ریاست کی ۔ نیز اس بات کا ہر شخص کو خیال رکھنا چاہیے کہ دوسرے کو تکلیف نہ ہو اور جناب ایسی کھینچا تانی میں تو بیل بھی گر جائے نہ کہ آدمی سب اپنی اپنی جگہ کھڑے رہتے ہیں خود ہی پہنچ جاتا ، اب بیکار کھڑے ہیں ، کھڑے ہونے کی تو فرصت ہے اور مصافحہ کرنے میں عجلت کر رہے تھے کہ شاید پیچھے سے غنیم کی فوج آ رہی ہے جہاں حکومت ہے ذرا وہاں تو ایسا کریں البتہ پنجاب کے پیروں کے ساتھ ایسا معاملہ کیا کریں وہ اس خوش ہوتے ہیں مگر ہمیں تو اس سے مناسبت نہیں ہم نے اپنے بزرگوں کو دیکھا ہے ایسے رہتے تھے جیسے کوئی ہے ہی نہیں ۔ حضرت والا یہ فرما ہی رہے تھے کہ ایک شخص دیہاتی اہل مجلس کے کاندھوں کو پھاندتا ہوا مصافحہ کی غرض سے حضرت والا کی طرف چلا آ رہا تھا ، حضرت والا نے دیکھ کر دریافت فرمایا کہ بھائی وہیں سے کہو جو کہنا ہے اتنے مسلمانوں کو کیوں تکلیف دیتے ہوئے چلے آ رہے ہو ، عرض کیا مصافحہ کی غرض سے آ رہا ہوں ، فرمایا بندہ خدا اسی کا تو ذکر ہو رہا ہے ، کیا مصافحہ فرض ہے واجب ہے جس کی وجہ سے اتنے مسلمانوں کو تکلیف پہنچائی ۔ ایک مستحب کے لیے اس قدر اہتمام کیونکہ مصافحہ محض مستحب ہے اور تکلیف نہ پہنچانا فرض ہے اس کامطلق بھی خیال نہیں ۔ لوگ یہ بات ہی بھول گئے کہ کسی مسلمان کو اپنے سے تکلیف نہ پہنچے اور یہ کہ تکلیف کا پہنچانا گناہ ہے کچھ نہیں بدتمیز ہیں کچھ خبر نہیں جائز ناجائز کی پھر اس شخص سے فرمایا جاؤ ہٹو پیچھے وہاں جا کر بیٹھو ۔ فقہاء نے یہاں تک کہا ہے کہ کھانا کھانے کے وقت میں سلام نہ کرے میں نے اس میں غور کیا یہ راز معلوم ہوا کہ ممکن ہے.
پیروں کے ساتھ ایسا معاملہ کیا کریں وہ اس خوش ہوتے ہیں مگر ہمیں تو اس سے مناسبت نہیں ہم نے اپنے بزرگوں کو دیکھا ہے ایسے رہتے تھے جیسے کوئی ہے ہی نہیں ۔ حضرت والا یہ فرما ہی رہے تھے کہ ایک شخص دیہاتی اہل مجلس کے کاندھوں کو پھاندتا ہوا مصافحہ کی غرض سے حضرت والا کی طرف چلا آ رہا تھا ، حضرت والا نے دیکھ کر دریافت فرمایا کہ بھائی وہیں سے کہو جو کہنا ہے اتنے مسلمانوں کو کیوں تکلیف دیتے ہوئے چلے آ رہے ہو ، عرض کیا مصافحہ کی غرض سے آ رہا ہوں ، فرمایا بندہ خدا اسی کا تو ذکر ہو رہا ہے ، کیا مصافحہ فرض ہے واجب ہے جس کی وجہ سے اتنے مسلمانوں کو تکلیف پہنچائی ۔ ایک مستحب کے لیے اس قدر اہتمام کیونکہ مصافحہ محض مستحب ہے اور تکلیف نہ پہنچانا فرض ہے اس کامطلق بھی خیال نہیں ۔ لوگ یہ بات ہی بھول گئے کہ کسی مسلمان کو اپنے سے تکلیف نہ پہنچے اور یہ کہ تکلیف کا پہنچانا گناہ ہے کچھ نہیں بدتمیز ہیں کچھ خبر نہیں جائز ناجائز کی پھر اس شخص سے فرمایا جاؤ ہٹو پیچھے وہاں جا کر بیٹھو ۔ فقہاء نے یہاں تک کہا ہے کہ کھانا کھانے کے وقت میں سلام نہ کرے میں نے اس میں غور کیا یہ راز معلوم ہوا کہ ممکن ہے
اس وقت گلے میں لقمہ ہو اور سلام کا جواب دیتے میں اٹک جائے ، پھندا پڑ جائے اور مر جائے جب بے موقع اور بے محل سلام کرنے کی ممانعت فرمائی گئی تو آج کل کی حالت دیکھ کر تو مصافحہ کو فقہاء حرام ہی کہتے ۔ اگر دین کی محبت ہے یا ہم سے محبت تو فرصت میں آ کر مصافحہ کیوں نہیں کرتے اور کیوں نہیں آتے جس کو مصافحہ کرنا ہو وہ گھر سے ملاقات کےقصد سے آ کر کیا کرے ، یہ کیا کہ آئے تو وہ نماز کو لاؤ یہ بیگار بھی کر چلو مجھ کو اس وقت اس قدر تکلیف ہوئی اور اذیت پہنچی کہ اس وقت تک حواس درست نہیں ہوتے ، مسجد ہی میں گھیر لیا ۔ ہوا رک رہی ہے روشنی کثرت ہجوم سے بند ہے ، آنت اتر آنے کی وجہ سے گرانی ہو رہی ہے ، میں کہہ رہا ہوں کہ ارے بھائی ٹھر جاؤ اور کئی مرتبہ کہہ چکا مگر جب کسی نہ سنا مصافحہ سے ہاتھ سمیٹ کر چلا آیا ، بے تنخواہ کے نوکر یا نافرمان نوکر جیسے ہوتے ہیں ایسے پیچھے پڑ گئے ، اللہ بچائے بے عقلی اور بد فہمی سے اب وہ لوگ آئیں جو مجھے سخت فرماتے ہیں ۔ اس واقعہ کو دیکھ کر فیصلہ کریں کہ کون بے رحم اور کون سخت ہے گھر بیٹھے تو فیصلہ کر دینا تو بہت آسان ہے لوگوں کی ان ہی بیہودہ حرکتوں سے حضرت رائے پوری کو سخت اذیت پہنچی ، بیماری میں آرام نہ مل سکا ۔ آخر حضرت نے یہی فرمایا کہ تھانہ بھون کی رائے صحیح ہے ۔ یہاں پر مرحوم مولوی محمد عمر صاحب تھے ، ان رعایات سے بیمار رہتے تھے ایک شخص نے میری اور ان کی دعوت کی ۔ مولوی صاحب کو جگر کا عارضہ تھا اس بھلے مانس نے چاول پکوائے ، وہ بھی کھانے کے قابل نہیں ، جب کھانے بیٹھے ، میں نے میزبان سے کہا کچھ اور بھی ہے کہا نہیں ، میں نے کہا کہ یہ تو کھانے کے قابل نہیں ، اب کیا کھائیں اور جب تم کو چاول پکانا نہیں آتا تھا تو کیوں پکایا سیدھی دال روٹی کیوں نہیں پکائی ، کہیں سے روٹی لاؤ کہا کہ روٹی تو نہیں پکائی ، میں نے کہا کہ ہم نہیں جانتے ، جب دعوت کی ہے تو کھلاؤ اور کہیں سے کھلاؤ ، بھوکے تھوڑے ہی جائیں گے اور کھائیں گے روٹی کہا کہ روٹی کہاں سے لاؤں ، میں نے کہا کہ گھر میں نہیں تو محلہ سے مانگ کر لاؤ گیا مصیبت کا مارا اور دال روٹی لایا ، خوب پیٹ بھر کر روٹی کھائی ۔ میں نے مولوی محمد عمر صاحب سے بھی روٹی کھانے کو کہا مگر وہ بہت خلیق تھے ، کہنے لگے اس کی دل شکنی ہو گی میں نے کہا کہ ہماری جو شکم شکنی ہو گی ، میں نے تو اس کی تادیب کے لیے یہی انتظام کیا جس سے اس کو ہمیشہ کے لیے سبق مل گیا ۔ گو میری پھر اس شخص نے کبھی دعوت نہیں کی ، تمیز کی ضرورت ہے اب یہی مصافحہ کا یہ واقعہ ہو رہا ہے ۔ ان گنواروں کو اپنی کوتاہی بالکل نہیں معلوم ہو گی ، مجھ کو ہی بدنام کریں گے اور کہیں گے کہ ملنے میں یا مصافحہ میں کیا سو سیکڑے خرچ ہوتے تھے ۔
(ملفوظ 1)دوسرے شخص کی مشغولیت کا خیال چاہیے
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمدللہ و کفی و سلام علی عبادہ الذین الصطفی
27رمضان المبارک 1350ھ
بوقت صبح پونے نو بجے یوم جمعہ
دوسرے شخص کی مشغولیت کا خیال چاہیے
(ملفوظ 1) حضرت والا اپنے خاص وقت میں اپنے کام میں مشغول تھے چند دیہات کے لوگ آ کر محض مجلس آرائی کے لیے پاس بیٹھ گئے ۔ فرمایا کہ خدا معلوم کیا ان گاؤں والوں میں عقل ہی نہیں ہوتی وہاں سے تو چل کر آئے تھے نماز پڑھنے کو اور آ کر بیٹھ گئے میرے پاس اگر کوئی ان کی کھیتی وغیرہ کے کام کے وقت ان کی چھاتی پر جا چڑھے تب حقیقت معلوم ہو جیسے خود فرصت ہے ۔ سمجھتے ہیں سب کو فرصت ہے ۔ میں کہا کرتا ہوں کہ پیروں کو ایسا بے حس سمجھتے ہیں جیسے بت ۔ یہ لوگ یوں سمجھتے ہیں کہ فنافی اللہ ہوں گے انہیں کچھ نہیں جیسے بت کو چڑھاوے چڑھاؤ جب رضی جوتے لگاؤ جب راضی تسبیح لینا غضب ہے جہاں ہاتھ میں تسبیح لی اور سب باتیں بے حسی کی رجسٹری ہوئیں فرمایا کہ آج مجلس میں خاص کے لیے بیٹھتا مگر اب نہیں بیٹھوں گا ، لوگ دق کریں گے وہ آ کر میرے پاس جمع ہوں گے میں بگڑوں گا دق ہوں گا اس لیے آج کا بیٹھنا ہی موقوف کر دیا ، یہ فرما کر حضرت والا مکان پر تشریف لے گئے ۔

You must be logged in to post a comment.