ملفوظ 360: عطاء خدا وندی کے لیے طلب شرط ہے

عطاء خدا وندی کے لیے طلب شرط ہے ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ان کی رحمت کی کیا ٹھکانہ ہے وہ تو ہر وقت اپنے بندوں پر رحمت فائض فرمانے کو تیار ہیں حتی کہ مایوسین کی بھی امیدیں اور مرادیں بر لاتے ہیں فرماتے ہیں وھو الذی ینزل الغیث من بعد ماقنطوا وینشر رحمتہ ( اور وہ اللہ تعالی ایسا ہے جو لوگوں کے نا امید ہو جانیکے بعد مینہ برساتا ہے اور اپنی رحمت پھیلاتا ہے 12) وہاں کیا دیر ہے مگر اتنا ضرور ہے کہ دیکھتے ہیں کہ یہ بھی کچھ کرتا ہے وہاں پر عطاء کے لیے قاعدہ طلب شرط ہے عدم طلب کے متعلق فرماتے ہیں انلز مکمو ھا و انتم لھا کر ھون ـ اور اس طلب کی استعداد تام پیدا ہوتی ہے کسی کامل کی جوتیاں سیدھی کرنے سے اس راہ میں راہزم بہت ہیں بدوں راہبر کے بہت سے خطرات ہیں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جان تک جاتی رہتی ہے اور ہلاک ہو جاتا ہے شیخ اس خطرہ سے نکال کر منزل مقصود پر پہنچانے کی تدابیر کرتا ہے اور دعا کرتا ہے اور اس دشوار گزار گھاٹی سے نکال کر لے جاتا ہے بدوں رہبر کے ایک قدم رکھنا بھی نہایت خطرناک بات ہے اسی کو فرماتے ہیں ؎ یار باید راہ را تنہا مرد ٭ بے قلا و زاندیں صحرا مرد ( راستہ کے لیے ساتھی چاہیے تنہا مت چلو ـ بغیر رہبر کے اس جنگل میں مت جاؤ )

ملفوظ 359: بے روزگاری کے لیے وظیفہ

بے روزگاری کے لیے وظیفہ ایک شخص نے عرض کیا کہ حضرت میں بے روزگار ہوں ایک تعویذ دیدیجئے فرمایا کہ ابھی ایک واقعہ تمہارے سامنے ہو چکا ہے جس سے تم کو معلوم ہو گیا کہ جمعہ کے روز تعویذ نہیں دیا جاتا پھر بھی تم کو سبق نہ ملا خیر روزگار کے لیے تعویذ نہیں ہوتا میں پڑھنے کے لیے بتاتا ہوں وہ پڑھ لیا کرو یا باسط دو اوپر ستر مرتبہ پانچوں نمازوں کے بعد پڑھ لیا کرو انشاء اللہ تعالی بہتر ہوگا ـ اسی سلسلہ میں فرمایا کہ آجکل لوگ وظالئف کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور اصل چیز یعنی دعا کو اختیار نہیں کرتے جو روح اور مغز ہے تمام عبادات کی اور ایک کام کی بات بیان کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ وظائف پڑھنے سے قلب میں ایک دعوے کی شان پیدا ہوتی ہے کہ ہم ایک تدبیر کر رہے ہیں بس ثمرہ گویا ہمارے قابو میں ہے اور دعاء سے شان عبدیت کا غلبہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالی سے مانگ رہے ہیں وہ چاہیں گے تو دیں گے بس دعا بڑی چیز ہے ؎ بس ہے اپنا ایک بھی نالہ اگر پہنچے وہاں ٭ گرچہ کرتے ہیں بہت سے نالہ و فریاد ہم

ملفوظ 358: ایک شخص کی ادھوری بات پر مؤاخذہ

ایک شخص کی ادھوری بات پر مؤاخذہ ایک دیہاتی شخص نے آ کر تعویذ مانگا اور یہ نہیں بتلایا کہ کس چیز کا تعویذ حضرت والا نے فرمایا کہ میں سمجھا نہیں اس نے ذرا بلند آواز سے فرمایا کہ تعویذ کو آیا ہوں فرمایا کہ میں بہرا نہیں ہوں سن لیا مگر سمجھا نہیں ذرا باریک بات کو کم سمجھتا ہوں ( یہ مزاح سے مرمایا ) اس پر بھی اس نے یہ نہیں بتلایا کہ کس چیز کا تعویذ چاہیے فرمایا کہ جاؤ باہر سہ دری سے اور کسی معلوم کر کے آؤ کہ یہ میری بات پوری ہے یا ادھوری وہ شخص گیا اور دریافت کر کے آیا اور کہا کہ ستاؤ ( یعنی آسیب ) کا تعویذ دیدو فرمایا کہ اب بتلاؤ کہ میں بدوں بتلائے ہوئے کس چیز کا تعویذ لکھتا ـ تھی بھی ادھوری بات ـ اب تو کبھی ادھوری بات کہیں کسی کے پاس جا کر نہیں کہو گے کہا کہ نہیں ـ پھر حضرت والا نے مزاحا فرمایا کہ ایک کو تو جن ستا رہا ہے اس کے لیے تعویذ کی ضرورت ہے اور تو مجھے ستا رہا ہے ایک تعویذ میں اپنے لیے کروں تیرے ستاؤ سے بچنے کے لیے فرمایا کہ اس وقت جاؤ اور ایک گھنٹہ کے بعد آ کر پوری پوری بات کہنا کیونکہ پریشانی میں تعویذ لکھنے کو دل نہیں چاہتا اور مؤثر بھی نہیں ہوتا اس کے بعد فرمایا کہ یاد آ گیا آج جمعہ ہے تعویذ نہیں ملے گا ـ کل ظہر کے بعد آنا اور آ کر پوری بات کہہ دینا ـ آج کے واقعہ کے بھروسہ نہ رہنا مجھ کو آج کی بات یاد نہ ہے گی ـ وہ شخص چلا گیا ـ فرمایا کہ اس وقت ذرا سی گڑ بڑ تو ہوئی مگر اس شخص کو سبق مل گیا ـ اب کبھی ادھوری بات نہ کہے گا یہاں پر تو جو آتا ہے بحمداللہ خالی نہیں جاتا کچھ لے کر جاتا ہے تعویذ بلا تعلیم مل گئی یہ سب کچھ خرابیاں رسمی اخلاق کی بدولت ہو رہی ہیں مجھ میں یہ رسمی اخلاق ہیں نہیں اسی لیے میں بد نام ہوں خیر بد نام ہی کر لیں اصول کو کیسے چھوڑ دیا جائے ـ آج کل لوگ اہل اصول سے خوش ہیں اور اہل اصول سے خفا ـ اچھا ہے ایسے بد فہم اور کوڑ مغزوں کا خفا ہونا ہی اچھا ہے نجات تو مل جاتی ہے ورنہ سوائے ستانے کے ایسے شخصوں سے اور کیا امید ہو سکتی ہے ـ

ملفوظ 357: حضرت نانوتویؒ حضرت حاجی صاحبؒ کی زبان تھے

حضرت نانوتویؒ حضرت حاجی صاحبؒ کی زبان تھے ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ہمارے بزرگوں میں بحمداللہ ہمیشہ حقائق ہی رہے مخالفین کو بھی اس کا اقرار ہے ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ حضرت حاجی صاحبؒ کے حقائق کو مولانا محمد قاسم صاحبؒ نے بکثرت ظاہر فرمایا ـ حضرت حاجی صاحبؒ نے فرمایا تھا کہ ہر ایک بزرگ کو ایک خاص لسان دی جاتی ہے میری لسان مولوی محمد قاسم صاحبؒ ہیں ـ

ملفوظ 356: ایک مولوی صاحب کے بے اصول سوال پر گرفت

ملفوظ 356: ایک مولوی صاحب کے بے اصول سوال پر گرفت ایک مولوی صاحب ایک بے اصول سوال کے جواب میں فرمایا کہ یہ اصطلاحات آپ کو مبارک ہوں یہ ہی چیزیں تو اس طریق میں سد راہ ہیں آپ نے اس وقت ایک بیکار اور فضول سوال کر کے طبیعت کو منقبض کر دیا اب اگر متنبہ کرتا ہوں تو بد خلق مشہور ہوتا ہوں نہ متنبہ کروں تو اصلاح کیسے ہو ـ آخر کیوں آپ کو بیٹھے بٹھلائے ایسی بات سوجھی جس کے سر نہ پیر بے جوڑ ہانک دی ـ معلوم بھی ہے کہ اصطلاحات کا نام علم نہیں حقائق کا نام علم ہے ـ مولوی صاحب میں آپ کو ہمیشہ کے لیے متنبہ کرتا ہوں کہ کبھی ایسا فضول اور لغو سوال نہ کیا کیجئیے ایسی باتوں سے طبیعت مکدر ہو جاتی ہے اور پھر نفع خاک بھی نہیں ہوتا ایسا شخص جیسا آتا ہے ویسا ہی کورا لوٹ جاتا ہے ـ

ملفوظ 355: واعظ کے لیے با عمل ہونا

واعظ کے لیے با عمل ہونا شرط نہیں ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ واعظ کے لیے با عمل ہونا شرط نہیں ہے بے عمل پر بھی واعظ ہونا واجب ہے جیسے طبیب کا پرہیز گار ہونا شرط نہیں بد پرہیز پر بھی واجب ہے کہ مریضوں کا علاج کرے ـ

ملفوظ 354: رخصتوں پر عمل

رخصتوں پر عمل ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک معترض نے مجھ پر اعتراض کیا ہے کہ رخص (شرعی کی سہولتوں پر 12) پر عمل کرتا ہے مگر ہم رخص کو تو تمام عمر انشاءاللہ تعالی نباہ دیں گے اور دعوے سے عزائم پر عمل کرنے والوں کی چار دن کی چاندنی ہے اور بھائی صاف صاف بات یہ ہے کہ عزیمت میں محنت ہے اور محنت ہوتی نہیں اور کبھی کی بھی نہیں ـ بس عملی حصہ تو بہت ہی کم ہے ـ رہا علم تو یہ بھی خدا تعالی کی عنایت ہے کہ دو چار باتیں آ گئیں دوسروں کو بتلا دیتا ہوں کمال اس میں بھی نہیں ـ

ـ ملفوظ 353: ایک عورت کے عاشق کے خط کا جواب

ایک عورت کے عاشق کے خط کا جواب فرمایا کہ ایک خط آیا ہے لکھا ہے کہ ایک عورت کو اپنا کرنا چاہتا ہوں اس کے لیے کوئی وظیفہ براہ نواجش (نوازش) رحمانی بتلا دو تاکہ میری (سرسبزی) نکل آئے جواب میں فرمایا کہ نواجش (نوازش) یہ ہی ہے کہ توبہ کرو سر سججی(سرسبزی) ہی اسی میں ہے ـ ایک صاحب نے عرض کیا کہ توبہ کس بات سے فرمایا کہ عورتوں کے مسخر کرنے سے (اسی سلسلہ (حرف ز کو حرف ج سے بدلنے کے بارہ میں ) فرمایا کہ کبھی کبھی طبیعت میں طالب علمی کی شوخی آجاتی ہے مگر وہ ایسی ہے کہ جیسے کسی نے کہا ہے کہ ؎ وقت پیری شباب کی باتیں ٭ ایسی ہیں جیسے خواب کی باتیں

ملفوظ 352: مصائب کے وقت بڑے گناہ کو سوچنا

مصائب کے وقت بڑے گناہ کو سوچنا ایک لطیفہ فرمایا کہ ایک خط آیا ہے اس میں لکھا ہے کہ میں بہت سوچتا ہوں کہ ایسا کون سا گناہ مجھ سے ہوا کہ جو اس قدر مصائب میں مبتلا ہوں جواب میں فرمایا کہ جب پریشانی نہ تھی اس وقت نہ سوچا کہ میرا کون سا عمل صالح تھا جس کی وجہ سے خوش عیش بنا رہا ـ اعمال حسنہ کو تو سب کو مقبول ہی سمجھتا رہا اور خوش عیشی میں موثر سمجھتا رہا وہاں نہ سوچا کہ کون سا عمل اس کا سبب ہو گیا تھا اور گناہوں میں امتیاز ڈھونڈتا ہے کہ کون سا گناہ سبب مصائب کا ہوا ـ لوگ گناہ صغیرہ کی تو کوئی اصل ہی نہیں سمجھتے حالانکہ وہ صغیرہ کبیرہ کے مقابلے میں صغیرہ ہے اپنی ذات میں تو صغیرہ نہیں مثال سے سمجھ لیجئے جیسے چنگاری اس میں کیا چھوٹی کیا بڑی چھپر پھونک دینے کے لیے تو چھوٹی بھی بہت ہے ـ (لطیفہ) فرمایا کہ ایک مولوی صاحب کا خط آیا ہے عجیب نام ہے قیاس گل ـ پھر فرمایا کہ گل بھی دو ہیں ایک پھول اور ایک حقہ کا گل ـ ایک مولوی حاحب نے عرض کیا کہ حضرت ! ایک چراغ گل بھی تو ہے فرمایا ہاں صحیح ہے پھر اسی پر مبنی کر کے فرمایا کہ ان مولوی صاحب نے جو عرف کے اتباع میں مجھ سے باتیں پوچھی ہیں ان میں مجھ کو دوسروں پر قیاس کر کے قیاس کو گل کیا ہے ـ

ملفوظ 351: اصلاح طالب سے چشم پوشی خیانت ہے

اصلاح طالب سے چشم پوشی خیانت ہے ایک خط کے سلسلہ میں فرمایا کہ حضرت اگر میں طالبین کی غلطیوں کی تاویلیں کر لیا کروں تو اصلاح اور تربیت ہی نہیں ہو سکتی ـ ان کے امراض سے اگر چشم پوشی کی جائے تو اعلی درجہ کی خیانت ہے برا ماننے والوں میں حس نہیں ـ رہا چشم پوشی کی فرمائش کرنے والے مجھ پر ایک قسم کا دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں مگر مجھ کو دبنے کی کیا ضرورت ہے کیا کوئی میرا کام ہے یا کوئی میری غرض ہے ـ ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت ایسا تو کوئی نہیں سمجھتا فرمایا کہ یہ تو میں بھی جانتا ہوں ـ کہ اس کا قصد تو نہیں ہوتا ـ مگر آخر عنوان بھی ایسا کیوں اختیار کیا جائے ـ جس سے اس قسم کا شبہ پیدا ہو سکتا ہے ـ اصل میں ان باتوں کا تعلق فہم سے ہے فہم بڑی دولت ہے اللہ تعالی کی جس کو عطا فرما دیں ـ میں مشقت سے نہیں گھبراتا جس قدر چاہے خدمت لی جائے ہاں بد سلیقگی اور بے اصولی سے گھبراتا ہوں کہ میں تو اس کی اصلاح کرنا چاہوں اور اس سے لوگ گھبرائیں پھر یہ کہ میں دوسرے کو بدوں اس کی طلب کے کبھی کوئی تعلیم نہیں کرتا ـ تو تعلیم کی درخواست کے بعد اس سے گھبرانا کیا ـ معنی حاصل یہ کہ میں تعلیم کے متعلق کسی کو خطاب خاص نہیں کرتا البتہ طلب پر خطاب خطاب خاص کرتا ہوں اور یوں تو بحمداللہ ہر وقت ہی عام اصلاحی تعلیم میرے یہاں ہوتی رہتی ہے جس پر بھی لوگوں سے لڑائی ہو جاتی ہے میں تو چاہتا ہوں کہ بندوں کا تعلق اللہ تعالی سے صحیح رہے اور لوگ اس کا احساس نہیں کرتے