ایک شخص کے جواب کے لئے دھمکی فرمایا کہ ایک خط آیا ہے لکھا ہے کہ بواپسی ڈاک اس عریضہ کا جواب دو اور اگر نہ دیا تو حشر میں دامن گیر ہونگا اور اس میں جواب کے لئے ٹکٹ بھی نہ تھے فرمایا کہ ٹکٹ نہ رکھنے پر اس شخص کا یہ خیال نہ ہوا کہ کہیں میں دامن گیر نہ ہوں کہ خواہ مخواہ کی اذیت دی ـ
اقوال
ملفوظ 349: سہو ونسیان اور حسد و عیب جوئی
سہو ونسیان اور حسد و عیب جوئی ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اس کا کون دعوے کر سکتا ہے کہ میرے تصنیف میں کوئی لغزش یا کوتاہی نہیں بشریت ہے سہو نسیان ساتھ لگا ہوا ہے لیکن اسی کے ساتھ مدعی نسیان کے متعلق یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ واقعی نسیان ہے یا قصد سے ایسا دعوے کیا گیا ہے سو اگر کوئی محض حسد کی راہ سے کسی پر اعتراض ہی کرنا چاہے وہ بھی ملوم ہو جاتا ہے اور اس کا کسی کے پاس کوئی علاج نہیں ـ بہت سے لوگوں کا یہی مشغلہ ہے کہ عیب جوئی میں لگے رہتے ہیں ـ عیب چین کی مثال ایسی ہے جیسے باغ میں کوئی پھول سونگنے کی غرض سے کوئی پھل کھانے کی غرض سے ـ کوئی سیر و تفریح کی وجہ سے جاتا ہے اور سور جو جاتا ہے سونگھتے سونگھتے جہاں چاپاںہ ہو گا وہیں پہنچ جائے گا – اسی طرح حاسد کی کسی خوبی پر نظر نہیں پڑتی ـ اگرچہ کتنی ہی خوبیاں ہوں ہمیشہ عیب ہی کی جستجو میں رہتا ہے ـ
ملفوظ 348: آج کل کے مصنفین
آج کل کے مصنفین ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ آجکل تو ہر شخص مصنف بنا ہوا ہے ـ بعض بعض مصنفین میرے پاس رسائل بغرض تنقید بھیجتے ہیں دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ کیوں اس شخص نے تکلیف اٹھائی اور وقت بیکار کھویا نام تک رکھنے کا تو سلیقہ ہوتا نہیں ـ حضرت مولاما محمد یعقوب صاحبؒ سے حضرت شاہ ولی اللہ رحمتہ علیہ کا مقولہ سنا تھا کہ سب سے پہلے کتاب کا نام دیکھو اگر اس کا نام موضوع کے مناسب ہو تو کتاب ورنہ کیوں وقت بھی ضائع کیا ـ واقعی کام کی بات فرمائی ـ یہ حضرات مبصر ہیں ان کی نظر حقیقت پر پہنچتی ہے ان کی معمولی معمولی باتوں میں علوم ہوتے ہیں ـ
ملفوظ 347: روزہ میں اگر بتی کی خوشبو سونگھنا
rozay-mai-agarbatti-ki-khashbu-songna روزہ میں اگر بتی کی خوشبو سونگھنا ایک صاحب نے سوال کیا کہ حضرت اگر کی بتی قصدا مسجد میں ایام رمضان المبارک میں دن کو جلا دی جاتی ہے اس سے روزہ میں تو فرق نہیں آتا فرمایا کہ قصدا تو اس کو نہیں سونگھتے عرض کیا کہ نہیں فرمایا کہ روزہ میں تو خرابی نہیں آتی مگر اچھا نہیں شب کو جلا لیا جائے ـ
ملفوظ 346: جاہل صوفیہ اور کوڑ مغزی
جاہل صوفیہ اور کوڑ مغزی ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آجکل جاہل صوفیوں کے نہایت لچر استدلالات ہوتے ہیں وہ فن کو ثابت کرنا چاہتے ہیں مگر جاہل ہیں ثابت کرنے پر قادر نہیں ـ ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت وہ تو یہ کہتے ہیں کہ مغز ہمارے پاس ہے فرمایا کہ جی ہاں مگر کون سا مغز ایک قسم مغز کی کوڑ مغزی بھی ہے ـ
ملفوظ 345: وجد کی تعریف اور رونا نہ آ نے پر افسوس ہونا رونا ہے
وجد کی تعریف اور رونا نہ آ نے پر افسوس ہونا رونا ہے ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ حالت محمودہ غیر اختیاریہ کو وجد کہتے ہیں جو محمود ہے مگر ماموربہ نہیں انہوں نے عرض کیا یبکون ویزیدھم خشوعا ( اور یہ قرآن ان کا خشوع بڑھا دیتا ہے ) فرمایا گیا ہے کیا یہاں پر قصد سے رونا مراد ہے فرمایا کہ اس میں صرف فضیلت بکاء کی مذکور ہے اس کا امر نہیں اس لئے قصد سے رونا مراد نہیں ـ ایک صاحب نے عرض کیا کہ جس کو رونا نہیں آتا فرمایا اس کو بھی آتا ہے عرض کیا کہ کہاں آتا ہے فرمایا کہ رونا نہ آ نے پر افسوس ہونا یہ بھی رونا ہی ہے بعض کو فلیضحکوا قلیلا ولیبکوا کثیرا ( تھوڑے دنوں میں دنیا میں ہنس لیں اور بہت دنوں آخرت میں روتے رہیں ) سے بکاء کے ماموربہ ہونے کا اندیشہ ہو گیا ہے مگر وہ صورۃ امر ہے مگر معنی خبر ہے قیامت میں کفار کے وقوع بکاء کی خبر دے رہے ہیں ـ
ملفوظ 344: استعداد کتنے دنوں میں پیدا ہوتی ہے
استعداد کتنے دنوں میں پیدا ہوتی ہے ایک مولوی صاحب نے سوال کیا کہ حضرت استعداد کتنے دنوں میں پیدا ہو سکتی ہے فرمایا قد مختلف ہوتے ہیں بچپن میں قد پستہ ہوتا ہے رفتہ رفتہ بڑھتا ہے کیا کوئی یہ بتلا سکتا ہے کہ اس قدر قد کتنے دنوں میں ہو جائے گا نہیں بتلا سکتا ـ اس فکر ہی میں آدمی کیوں پڑے اور فی کل واد یھیمون ( وہ شاعر لوگ خیالی مضامین کے ہر میدان میں حیران پھر رہے ہیں 12) کا مصداق کیوں بنے میں دعوے سے نہیں کہتا مگر اللہ نے ایسے اصول دل میں ڈال دیے ہیں کہ بڑی سے بڑی بات آسان اور سہل ہو جاتی ہے اور اس ہی لیے کہا کرتا ہوں کہ اگر بڑی سے بڑی سلطنت بھی محققین کے ہاتھوں میں ہو تو اس کا انتظام ہو سکتا ہے اور کوئی بد نظمی بحمداللہ نہ ہو ـ
ملفوظ 343: اس راہ میں مٹ کر ہی کچھ ملتا ہے
اس راہ میں مٹ کر ہی کچھ ملتا ہے ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں نے فلاں مولوی صاحب کو لکھا تھا کہ اس طریق میں افعال مقصود ہیں انفعالات مقصود نہیں میں نے ان دو ہی جملوں میں تمام تصوف کی حقیقت اور روح بتلا دی تھی اور بیان کر دی تھی مگر ان مولوی صاحب نے کوئی قدر نہ کی ـ تعجب ہے کہ جب علم ہو کر بھی نہ سمجھے ـ بات وہی ہے جو میں کہا کرتا ہوں کہ ہر شخص چاہتا یہ ہے کہ کام کچھ نہ کرنا پڑے بزرگ اپنے سینوں میں سے دیدیں پہلے یہ تو معلوم کر لو کہ خود ان کو یہ چیز کیسے ملی ہے تم کو گھر بیٹھے بٹھلائے کہ کچھ کرنا دھرنا نہ پڑے کیسے مل جائے گی ـ کسی کی جوتیاں سیدھی کرو ناک رگڑو اس پر بھی اگر مل جائے تو بسا غنیمت ہے اس راہ میں تو مٹ کر فنا ہو کر کچھ ملتا ہے اسی کو مولانا فرماتے ہیں ؎ قال را بگذار، مرد حال شو ٭ پیش مردے کاملے پامال شو
ملفوظ 342:حق تعالی حاکم بھی ہیں حکیم بھی
حق تعالی حاکم بھی ہیں حکیم بھی ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حق تعالی کو ہر وقت اختیار ہے کہ اگر وہ چاہیں تو دوزخیوں کو جنت میں جنتیوں کو دوزخ میں بدل دیں ان کے اختیار میں ہے اور اگر وہ ایسا کریں تو وہی حکمت ہو یہی نہیں کہ فقط ضابطہ کی وجہ سے مان لیا جائے کہ وہ حاکم ہیں یہ تو بہت گھٹا ہوا عقیدہ ہے یہ عقیدہ بھی ہونا چاہئیے کہ حکیم بھی ہیں پھر کبھی کوئی اعتراض ہی قلب میں پیدا نہیں ہو سکتا اور اس پر بھی قادر ہیں کہ اگر چاہیں تو دوزخیوں کو جنت میں بھیج کر تکلیف دیں اور جنتیوں کو دوزخ میں بھیج کر راحت دیں ـ اختیار اور حکمت کو یوں سمجھ لیجئے گا کہ جیسے کسی کے یہاں الماری ہے اوپر کے درجہ میں کپڑے رکھے ہیں اور نیچے کے درجہ میں برتن ـ اب وہ کسی مصلحت کی وجہ سے کپڑوں کو اٹھا کر نیچے کے درجہ میں رکھ دے اور برتنوں کو اوپر کے درجہ میں رکھ دے تو اس کو اختیار بھی ہے اور حکمت بھی ہو گی ایسے ہی اللہ میں کی دو الماریاں ہیں ایک جنت اور ایک دوزح وہ جب چاہیں اور جس کے لئے چاہیں بدل دیں اس میں کسی کو مزاحمت کا کیا حق ـ اگر اس میں کوئی مزاحمت کرے تو وہ الماری کی مزاحمت اللہ ماری ہے ـ 20 رمضان المبارک 1350ھ مجلس بعد نماز جمعہ
ملفوظ 341: اشغال و مجاہدات صوفیہ بدعت نہیں
اشغال و مجاہدات صوفیہ بدعت نہیں ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت آج کل بعض خشک علماء بھی طریق اصلاح کے بعض اجزاء کو بدعت کہتے ہیں جیسے بعض ریاضات یا بعض اشغال فرمایا کہ بدعت کی حقیقت تو یہ ہے کہ اس کو دین سمجھ کر اختیار کرے اگر معالجہ سمجھ کر اختیار کرے تو بدعت کیسے ہو سکتا ہے پس ایک احداث للدین (دین حاصل کرنے کے لیے کوئی جدید بات پیدا کرنا 12-1)ہے اور ایک احداث فی الدین ( دین کے اندر کوئی نئی بات پیدا کرنا 12) ہے ـ احداث للدین معنی سنت ہے اور احداث فی الدین بدعت ہے ـ اس پر بحمداللہ کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا یہ زیادہ تر جہلاء صوفیہ کی بدولت بدنام ہوا ہے محض گدی نشین ہونا ان کے یہاں مقصود طریق ہے حالانکہ گدھی نشین ہیں گھوڑی نشینی انکو کہا نصیب ـ

You must be logged in to post a comment.