ملفوظ 174: مکمل و مدلل بزرگ کا لطیفہ

 مکمل و مدلل بزرگ کا لطیفہ فرمایا ! کہ ساری دنیا عقلاء ہی سے بھری ہوئی ہے ایک اور صاحب کا خط آیا ہے ـ لکھتے ہیں کہ حضور بزرگ کامل و مکمل و مدلل ہیں مزاح فرمایا کہ بہشتی زیور جو مکمل و مدلل چھپا ہے اس وجہ سے بیچارے نے لکھا ہے کہ تم بھی مکمل و مدلل ہو ایک یہ بھی لکھا ہے کہ حضور مشرق ومغرب جنوب و شمال تمام دنیا بھر کے بزرگ ہیں اس نے جو لکھا ہے کہ حضور کامل مکمل و مدلل بزرگ ہیں ـ میں نے لکھ دیا ہے کہ نہ میں کامل نہ مکمل نہ مدلل یہ سب غلط ہے اور گر تمہارے نزدیک صحیح ہے تو اس دعوی کو مکمل و مدلل کرو پھر اس نے جو لکھا ہے کہ حضور ! مشرق و مغرب جنوب وشمال تمام دنیا بھر کے بزرگ ہیں میں نے لکھ دیا ہے کہ توبہ کرو توبہ ـ فرمایا کہ ایک شخص نے حضرت حاجی صاحبؒ کو خط میں القاب کی جگہ یہ لکھا تھا کہ رب المشرقین و رب المغربین ، حضرت نے وہ خط حاضرین کو پڑھنے کیلئے دیا ـ اب جو دیکھتا ہے ہنسی کی وجہ سے بے تاب ہو جاتا ہے ـ حضرت پڑھ کر کوئی سنا نہیں سکتا تھا ـ آخر وہ میرے پاس آیا

ملفوظ 173: ایک صاحب کی ایک روپیہ میں خلافت لینے کی خواہش

 

 

 ایک صاحب کی ایک روپیہ میں خلافت لینے کی خواہش فرمایا ! کہ ایک صاحب کا بڑے مزے کا خط آیا ہے لکھا ہے کہ ایک روپیہ نذرانہ کیلئے منی آرڈر کرونگا آپ چاروں سلسلوں کی اجازت دیکر بندہ کو بہرا مند فرمائیں ـ فرمایا کہ یہ ایک روپیہ میں خلافت لینا چاہتے ہیں ـ لفافہ پر پتہ ملاحظہ فرما کر فرمایا کہ آپ ماسٹر ہائی سکول بھی ہیں ـ مزاحا فرمایا کہ ہائے اسکول تو نے تباہ کر دیا ـ ان لوگوں کو اب بتلایئے اس بد فہمی اور کم عقلی کی کچھ حد ہے ـ ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تمسخرہ کی راہ سے لکھ رہا ہے فرمایا یہ بات نہیں اصل بات یہ ہے کہ روپیہ لیکر لوگ خلافتیں دیتے ہیں ـ میں نے اس قسم کے اکثر واقعات سنے ہیں یہ سب بے خبری کی باتیں ہیں یہ قدر ہے طریق کی ان لوگوں کی نظروں میں اور یہ وقعت ہے ان چیزوں کی ان لوگوں کے دلوں میں ـ میں اگر اس پر مطالبات کرتا ہوں اور اس طریق کی حقیقت کو ظاہر کرنا چاہتا ہوں تو مجھ کو بدنام کیا جاتا ہے کہ مزاج میں تشدد ہے سختی ہے ـ مجھ سے تو بے غیرتی نہیں اختیار کی جاتی ـ میں اگر ایسے کوڑ مغزوں کے ساتھ نرمی برتوں تو اس کا اثر مجھ ہی تک محدود نہیں رہے گا اس کا اثر طریق پر پڑیگا تو علاوہ بے غیرتی کے دین کے بھی خلاف ہو گا ـ کیونکہ طریق بدنام ہوتا ہے ایسے موقع میں سیاست کرنے پر جو شخص مجھ پر اعتراض کرتا ہے میں اس معترض ہی سے دریافت کرتا ہوں کہ ایسے شخص کے ساتھ کیا برتاؤ کیا جائے جس نے ایک روپیہ میں خلافت چاروں سلسلوں کی اجازت طلب کی ہے ـ حضرت دور بیٹھے رائے قائم کر لینا بہت آسان ہے ذرا یہاں پر رہ کر واقعات کو دیکھیں تب حقیقت معلوم ہو ـ

ملفوظ 172: صاحب کشف کو کسی بھی وقت کشف ہو سکتا ہے

ملفوظ 172: صاحب کشف کو کسی بھی وقت کشف ہو سکتا ہے ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت کیا صاحب کشف کیلئے یہ ضروری ہے کہ ہر وقت نکشاف ہوا کرے ـ فرمایا کہ یہ تو ضروری نہیں مگر یہ احتمال ہر وقت ہے کہ نہ معلوم کس وقت نکشاف ہو جائے ـ

ملفوظ 171: شیخ کی طرف دیکھنے کا طریقہ

شیخ کی طرف دیکھنے کا طریقہ ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت شیخ کی طرف دیکھنا یا اس کی طرف نظر کرنا کیا اس سے برکت حاصل نہیں ہوتی ـ فرمایا ہوتی ہے لیکن طریق اس کا یہ ہے کہ ایسے وقت دیکھے ـ جب یہ دیکھ لے کہ شیخ اس کے دیکھنے کو نہیں دیکھ رہا وجہ اس کی یہ ہے کہ بلا ضرورت کسی شخص کی طرف ٹکٹکی باندھ کر دیکھنا اس کو مشوش کرتا ہے ـ اور یہ بات میرے ہی ساتھ مخصوص نہیں یہ امر طبعی ہے کہ اگر ایک شخص ایک شخص کو برابر دیکھے چلا جا رہا ہو تو اس کو شبہ ہوتا ہے کہ کوئی خاص بات ہے جو مجھ کو گھور رہا ہے ـ ہاں ! ایسے وقت شیخ کی طرف نظر کرنا کہ جس وقت اس کو علم نہ ہو اس کے دیکھنے کا کوئی حرج نہیں یا خود شیخ اس کی طرف متوجہ ہو یا کچھ پوچھے یا بتلائے اس وقت چونکہ شیخ خود متوجہ ہوتا ہے اس وقت دیکھنے میں بھی کوئی حرج نہیں ـ یہ میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ آج کل فہم اور عقل کا قحط ہے لوگ افراط تفرط میں مبتلا ہیں شاید اس سے بد فہم لوگ شیخ کے متوجہ ہونے کے وقت بھی اس طرف دیکھنے اور بولنے کو ادب کے خلاف سمجھ بیٹھیں ـ

مفوظ 170: ایک صاحب کی حاضری

ایک صاحب کی حاضری کیلئے نگران کی شرط ایک صاحب کی بے عنوانی پر حضرت والا نے ان کو خانقاہ میں آنے اور مکاتبت وغیرہ سے منع فرما دیا تھا ان صاحب نے ایک مولوی صاحب کے واسطے سے معافی چاہی تھی یہ ملفوظ صبح کی مجلس میں آج ہی درج ہو چکا ہے جس کا نمبر 162ہے اور جس میں حضرت وحشی کا قصہ مذکور ہے اب بعد نماز ظہر کی مجلس میں ان مولوی صاحب نے پھر سفارش فرمائی ـ حضرت والا نے فرمایا ایک صورت ذہن میں آئی ہے جس سے آنے کی اجازت ہو سکتی ہے اس لئے کہ خدانخواستہ مجھ کو بغض یا عداوت تھوڑا ہی ہے مقصود اصلاح ہے اور وہ صورت یہ ہے کہ اگر کوئی صاحب اسکے ذمہ وار بنیں کہ یہاں پر رہنے کے زمانہ میں انکو اپنے ساتھ رکھیں ، چلنے میں ، بیٹھنے میں ، کھڑے ہونے میں نماز میں ، کھانے میں ـ اگر مجھ سے مصافحہ کرنے آئیں تو نگراں صاحب ساتھ آئیں مجلس میں ساتھ لائیں ـ استنجے جائیں تو یہ ساتھ جائیں ان شرائط کے ساتھ ان صاحب کو آنے کی اجازت ہو سکتی ہے ـ فرمائیے کون صاحب ! اس پابندی کیلئے تیار ہیں دیکھوں کون صاحب ان کے ہمدرد بنتے ہیں یا محض مجھ کو ہی تختہ مشق بنایا جاتا ہے ـ مولوی صاحب نے عرض کیا کہ فلاں مولوی صاحب اس کو انجام دے سکتے ہیں فرمایا مجھ کو اس سے بحث نہیں جو صاحب پابندی کر سکتے ہیں وہ مجھ سے کہیں کہ میں کر سکتا ہوں ـ ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت میں اس کی پابندی کر سکتا ہوں حضرت والا نے دریافت فرمایا کہ معیت فی الاستنجا تک کی پابندی عرض کیا جی ہاں ! فرمایا بہت اچھا اجازت ہے بلا لیجئے ـ عرض کیا کہ ساتھ رہنے کے علاوہ اور تو کوئی میری ذمہ داری نہ ہوگی ـ فرمایا یہ بھی ذمہ داری ہے کہ اگر وہ کوئی ایسی حرکت کریں جو خلاف قاعدہ ہو یا دوسرے کی اذیت کا سبب ہو آپ بتلاتے رہیں سمجھاتے رہیں میرے لئے اس میں یہ سہولت ہے کہ اگر ان سے کوئی غلطی ہوئی تو میں قرین سے باز پرس کروں گا میرا تو جہاں تک ذہن پہنچتا ہے عین مواخذہ کے وقت میں بھی سہولتیں کرنے میں کوتاہی نہیں کرتا ـ اور میں اس کو عاصی نہیں سمجھتا ـ مگر عدم مناسبت سے جو کلفت ہوتی ہے اسمیں

ملفوظ 169: اسٹیشن پر سامان کا وزن کرنے میں تساہل

اسٹیشن پر سامان کا وزن کرنے میں تساہل ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت اسٹیشنوں پر اکثر بابو لوگ مال کا وزن کرنے میں تساہل کرتے ہیں اس کے ادا کرنے کی کیا صورت ہے جواب میں فرمایا کہ خود وزن کر لے اور جس قدر زائد ہو قانونی حساب معلوم کرکے اتنے کا ٹکٹ خرید کر چاک کر دے یہ صورت ادا کی ہو سکتی ہے ـ

ملفوظ 168: مرتد کے یہاں چوری

مرتد کے یہاں چوری ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت ان قادیانیوں کی کوئی کتاہ وغیرہ چرالے جائز ہے یا نہیں اس لئے کہ یہ مرتد ہیں ـ جواب میں فرمایا کہ مسئلہ تو کتاب میں دیکھا جائے مجھ کو اس وقت یاد نہیں ہاں یہ ضرور ہے کہ ایسی چوری کرنے کی میری تو نیت نہیں ـ

ملفوظ 167: ایک بدعتی کا قول

ایک بدعتی کا قول ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت ایک بدعتی مولوی یہ کہتا ہے کہ گاندھی کے پیچھے نماز پڑھنے میں اتنا نقصان نہیں جتنا دیوبندی کے پیچھے نماز میں ہے مزاحا جواب میں فرمایا کیونکہ گاندھی کے پیچھے نماز مکروہ بھی نہ ہو گی ـ ( یعنی نماز ہو گی ہی نہیں )

ملفوظ 166: بد فہمی اور بد عقلی کا کوئی علاج نہیں

بد فہمی اور بد عقلی کا کوئی علاج نہیں ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت جس شخص سے مسجد میں کھڑے ہو کر تکنے پر حضرت والا نے مواخذہ فرمایا تھا وہ مجھ سے یہ کہتے تھے کہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ دیکھنے سے بھی کسی کو تکلیف ہوتی ہے ؟ حضرت والا نے یہ سن کر فرمایا کہ جب فہم کی یہ حالت ہے اس کا کوئی علاج نہیں جب گھر کی عقل نہ ہو کوئی انتظام نہیں ہو سکتا ـ ایسوں کی غلطی پر اگر تسامح کیا جائے تو کیا امید ہو سکتی ہے ان سے کہ یہ خود سمجھ کر کوئی اذیت یا تکلیف نہ پہنچائیں گے بد فہم آدمی کا تو کسی حالت میں بھی انتظام نہیں ہو سکتا ـ

جیسے ایک شخص کے لڑکے کی شادی تھی لڑکے کے باپ نے ایک شخص سے دولہا کے لئے دو شالہ لے لیا ـ دو شالے والے بھی بارات میں ہمراہ گئے ـ قاعدہ ہے کہ لوگ دولہا کو دیکھنے کے واسطے آ کر پوچھتے ہیں کسی نے آ کر پوچھا کہ دولہا کون سا ہے دو شالے والے صاحب بولے کہ دولہا تو یہ ہے اور دو شالہ میرا ہے ـ لڑکے کے باپ نے کہا کہ میاں تم بڑے مہمل آدمی ہو اس کہنے کی کیا ضرورت تھی کہ دو شالہ میرا ہے کہنے لگے واقعی غلطی ہوئی اب احتیاط رکھوں گا ـ اتنے میں کسی اور نے دولہا کو آ پوچھا تو آپ کہتے ہیں کہ دولہا تو یہ ہے دو شالہ میرا نہیں ـ لڑکے والے نے کہا کہ میاں تم عجیب آدمی ہو ـ اس ہی کہنے کی کیا ضرورت تھی دو شالہ والے نے کہا کہ واقعی ضرورت نہ تھی اب یہ بھی نہ کہوں گا ـ اتنے میں کسی نے پھر آ کر دریافت کیا کہ دولہا کون ہے آپ کہتے ہیں کہ دولہا تو یہ ہے اور دو شالے کا کوئی ذکر ہی نہیں آخر لڑکے والے نے دو شالہ واپس کر دیا ـ غرض اس شخص کا کوئی انتظام نہیں ہو سکا کیونکہ گھر ہی کی عقل نہیں تھی ایک اور حکایت یاد آئی ایک رئیس نے نوکر رکھا جو اکثر کاموں میں کوتاہی کرتا بار بار کے مواخذہ پر یہ کہا کہ اصل میں مجھ کو یہ معلوم نہیں کہ میرے ذمہ کیا کیا کام ہیں مجھ کو ایک فہرست کاموں کی لکھ کر دیدی جائے ـ رئیس نے ایک فہرست بنا کر دیدی کہ یہ کام تم سے لئے جائیں گے منجملہ اور کاموں کے اس فہرست میں یہ بھی تھا کہ گھوڑے کے ساتھ چلنا پڑیگا جہاں کہیں ہم جایا کریں گے ـ ایک روز آقا سوار ہو کر چلے اور یہ ساتھ ہو لئے اتفاق سے شال گھوڑے سے گری آپ نے فورا فہرست نکال کر دیکھا اس میں یہ نہ لکھا تھا کہ اگر کوئی چیز گھوڑے سے گرے اس کو اٹھا لیا جائے آپ نے شال نہ اٹھائی جب منزل مقصود پر پہنچے آقا نے دیکھا شال نہیں دریافت کیا کہ شال نہیں کیا ہوئی کہتے ہیں حضور ! وہ تو فلاں فگہ گری تھی آقا نے مواخذہ کیا ـ اٹھائی کیوں نہیں آپ نے فہرست سامنے رکھ دی کہ اس میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ جو چیز گرا کرے اس کو اٹھا لیا جایا کرے اس لئے میں نے نہیں اٹھائی ـ آقا نے فہرست لے کر اس میں یہ بھی لکھ دیا کہ اگر کوئی چیز گر جایا کرے اسکو اٹھا لیا جائے پھر آقا سوار

ہو کر چلے اور منزل ختم ہوئی تو ایک گٹھڑی سامنے لا رکھی دریا فت کیا کیا ہے عرض کیا دیکھ لیجئے کھول کر دیکھا کھول کر دیکھا تو گھوڑے کی لید ـ پوچھا یہ کیا ـ وہی فہرست سامنے رکھ دی کہ دیکھئے اس میں یہ لکھا ہے کہ جو چیز گرے اٹھا لو ـ سو ایسی بد فہمی کا کیا علاج ـ فرمایا کہ میں بعضوں کو یہاں رہتے ہوئے مکاتبت و مخاطبت سے منع کر دیتا ہوں پھر اگر وطن پہنچ کر خط و کتابت کریں اور مجھ کو خط و کتابت سے معلوم ہو جائے کہ سلیقہ پیدا ہو گیا تو مجھ کو ضد تھوڑا ہی ہے اجازت دیتا ہوں کہ یہاں آ کر بھی خط و کتابت کر سکتے ہیں ـ مقصود میرا ان لوگوں کی اصلاح ہوتی ہے کہ طبیعت پر سمجھنے سوچنے کا بوجھ پڑے فکر اور غور کی عادت ہو ـ دوسرے کو جو اذیت یا کلفت ہوتی ہے وہ بے فکری سے ہوتی ہے اور میرا عقیدہ تو وہ ہے جو حضرت حاجی صاحبؒ فرمایا کرتے تھے کہ آنے والے حضرات کے قدموں کی زیارت کو اپنی نجات کا ذریعہ سمجھتا ہوں کیونکہ میرا تو کسی دلیل سے بھی اچھا ثابت نہیں اور میرے پاس آنے والے اللہ کا نام لینے آتے ہیں یہ یقینا اچھے ہیں آہ ـ بھلا جس شخص کا یہ عقیدہ ہو وہ آنے والوں کو تحقیر کی نظر سے دیکھ سکتا ہے یا ایسا شخص کسی کے آنے سے گھبرائے گا ـ ہاں یہ ضرور ہے کہ رعایت اس کی کیجاتی ہے جو اپنی بھی رعایت کرے اور یہ جو لوگ سفارش کراتے ہیں یہ خود دلیل ہے کام نہ کرنے کی کہ خود کچھ کرنا نہ پڑے ایسا شخص اپنا بوجھ دوسروں پر ڈالتا ہے اور خود پلکا رہتا ہے اس سے طلب کا کم ہونا معلوم ہوتا ہے بڑی سفارش تو طلب ہے لوگوں کوعادتیں پڑی ہوئی ہیں ان کو چھوٹنا بڑا ہی مشکل ہے نہ اپنی تکلیف کا احساس نہ دوسروں کی ـ کہاں تک ان کی بے پرواہی اور بے فکری کی اصلاح کی جائے ـ فرمایا کہ عادت پر ایک حکایت یاد آئی یہاں پر ایک صاحب تھے برادری کے تھے ان کی عادت برادری کو گالیاں دینے کی تھی اتفاق سے ان کے یہاں شادی ہوئی اہل برادری ان کی اس حرکت سے ناراض تھے سب نے اتفاق کیا کہ کوئی ان کے یہاں شریک نہ ہو ان حضرت کو معلوم ہوا کہنے لگے کہ اب کبھی گالیاں نہ دیا کروں گا لوگوں نے کہا کہ اچھا ہم یوں تو اعتبار نہ کریں گے ـ شاہ ولایت میں چل کر عہد کرو کہ گالیاں نہ دیا کروں گا ساتھ ہو لئے ـ پہلے لوگ شاہ ولایت صاحبؒ کو بہت مانتے تھے وہاں پر پہنچ کر اگر کوئی بات طے ہو جایا کرتی تھی تو اس پر سب مطمئن ہو جایا کرتے تھے غرضیکہ یہ حضرت شاہ ولایت کے مزار پر پہنچے اور کھڑے ہو کر کہا کہ حضرت میری عادت گالیاں دینے کی تھی اب میں عہد کرتا ہوں اور تو بہ کرتا ہوں کہ آج کے بعد ان کی یوں توں کروں ان کو کبھی گالیاں نہ دیا کروں گا لوگوں نے کہا ارے پھر گالی دی ـ کہنے لگے اچھا اب ایسا نہ کروں گا پھر عہد اسی گالی کے ساتھ کیا تب لوگوں نے معذور سمجھا اور برا ماننا چھوڑ دیا اور سب نے شادی میں شرکت کی ـ مگر معلوم ہوتا ہے کہ تھے چالاک یہ ترکیب انہوں نے اسلئے کی کہ وہ یہ سمجھے کہ یہ ہمیشہ کیلئے منہ بند رکھنا پڑے گا ایسی ترکیب کرو کہ یہ معذور سمجھیں ـ

ملفوظ 165: دوسروں کے حقوق کی گہری رعائتیں

دوسروں کے حقوق کی گہری رعائتیں فرمایا ! کہ مجھ کو بد نام تو کیا جاتا ہے مگر یہاں پر رہ کر دیکھا جائے کہ میں کس قدر رعائتیں کرتا ہوں اور آنے والے مجھ کو کتنا ستاتے ہیں یک طرفہ بات سن کر گھر بیٹھے فیصلہ دیدینا تو آسان ہے لیکن جب وہی باتیں اپنے کو پیش آئیں پھر اگر تحمل کر کے دکھائیں تو ہم جانیں البتہ اگر کسی کو حس ہی نہ ہو یا محض فوج ہی جمع کرنا ہو یا روپیہ ہی محض اینٹھنا مقصود ہو اور دکانداری ہی جمانا ہو تو ایسا شخص تو واقعی اس سے بھی زیادہ سخت سخت باتوں کا تحمل کر لے گا ـ مجھ سے تو یہ نہیں ہو سکتا بلا سے کوئی معتقد رہے یا غیر معتقد ہو جائے ـ میں تو یہاں تک رعایت رکھتا ہوں کہ یہاں پر مسجد میں ایسا قصہ ہوتا تھا کہ جہاں میں نماز کیلئے مصلے پر جانے لگا کوئی ادھر کو کھڑا ہو گیا کوئی ادھر کو کھسکا ـ مجھ کو ایسی باتوں سے اذیت ہوتی تھی ـ نیز اس سے ایک عظمت اور بڑائی کی شان معلوم ہوتی تھی ـ میں نے اپنے بزرگوں کو دیکھا کہ وہ ایسی باتوں کو پسند نہ فرماتے تھے نہ مجھ کو پسند ہیں ـ غرضیکہ لوگوں نے مجھ کو ایسا بنا لیا جیسے بھیڑیئے کو دیکھ کر بھیڑیں ادھر ادھر کو بھاگا کرتی ہیں ـ میں نے اپنے دل میں کہا کہ اے اللہ میں ہوا ہوں ـ آخر میں نے یہ انتظام کیا کہ لوگوں سے کہہ دیا کہ تم صرف اتنا کیا کرو کہ میرے مصلے پر آنے کیلئے مصلے کے مقابل ایک آدمی کی جگہ چھوڑ دیا کرو باقی حرکت مت کیا کرو ـ مگر اس صورت میں یہ ہوا کہ بعض صاحب میرے ساتھ ہو لئے اور اس خالی جگہ پر جا کھڑے ہوئے ـ اب یہ ظاہر ہے کہ پہلے پہنچنے والے بے چارے میری محبت کی وجہ سے کہ اس کو آنے میں کلفت نہ ہو ـ ایک آدمی کی جگہ چھوڑ دیتے تھے تو وہ جگہ ان کا حق تھی ـ مگر میرے اس قاعدے سے دوسروں نے نفع اٹھانا شروع کردیا مجھ کو اس پر بھی خیال ہوا کہ میں آلہ بنا ـ ان ساتھ ہو لینے والے حضرت کے مؤخر سے مقدم بنانے کا اس پر میں نے یہ انتظام کیا کہ یہ بھی مت کرو ـ اپنی اپنی جگہ ملے ہوئے بیٹھے رہو ـ میں جب آیا کروں گا جس جگہ سے جانا کندھے پر ہاتھ رکھ دیا ـ اس وقت تھوڑی سی جگہ مجھ کو جانے کی دیدیا کرنا ـ اس میں ان کی بھی رعایت مقصود تھی ـ وہ یہ کہ مجھ کو معلوم تھا کہ یہ لوگ اس کو گوارا نہ کریں گے کہ مجھ کو کوئی تنگی ہو اس لئے مجھ کو بھی ان کی یہ نا گواری گوارا نہ ہوئی اور بے تکلف اشارہ کر کے رستہ لینا تجویز کر لیا ـ یہ میں نے بطور نمونے کے بیان کیا ہے اور ہزاروں جزئیات ہیں کہاں تک احاطہ ہو سکتا ہے جن کی میں رعایت رکھتا ہوں زبان سے دعوی کرنا آسان ہے کر کے دکھلانا بہت مشکل ہے – اسلئے میں بھی چاہتا ہوں کہ دوسرا بھی میری راحت کی رعایت رکھے ـ