ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ پہلے جو بدعتی ہوتے تھے اللہ اللہ کرنے والے ہوتے تھے اللہ کے نام کی برکت سے ان کو علماء سے نفرت نہ تھی اور آج کل کے بدعتی تو بکثرت فاسق و فاجر تک ہونے لگے ہیں ۔ بعض تو ایسے بددین ہیں کہ ذکر و شغل تو کیا نماز تک بھی نہیں پڑھتے حالانکہ حضرات مشائخ رحمہم اللہ کی یہ حالت نہ تھی چنانچہ حضرت شیخ ردولوی رحمۃ اللہ علیہ نے تیس برس تک جامع مسجد میں نماز پڑھی مگر راستہ نہ معلوم ہوا ۔ مطلب یہ کہ یاد نہ رہتا تھا کہ ایک خادم آگے آگے حق حق کہتا چلتا تھا تب آپ مسجد میں جا کر باجماعت نماز ادا کرتے تھے ، یہ تھے اللہ والے کہ استغراق کی یہ حالت مگر نماز باجماعت مسجد ہی میں پڑھتے رہے ۔
( ملفوظ 498) صفات الہی کے عقیدہ میں اجمال بہت اچھا ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ عوام کا عقیدہ صفات کے متعلق بہت اچھا ہے کہ وہ اجمال کی صورت میں سمجھتے ہیں کہ خدا حاضر ناظر ہے بس اتنا کافی ہے ورنہ آگے تفصیل گڑبڑ ہی ہے ۔
( ملفوظ 497)شیخ محی الدین ابن عربی کا دفاع
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت شیخ محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ کی عبارت میں تنگی ضرور ہے مگر کوئی مدلول شریعت کے خلاف نہیں ، لوگوں نے نہ سمجھنے کی وجہ سے شیخ کو بہت بدنام کیا ہے ۔ میں نے اپنے رسالہ التنبیہ الطربی میں ان کے خاص خاص اقوال کی توجیہ کی ہے مگر مجھ کو توجیہ میں دشواری پیش آئی ، ان ہی باتوں کو دیکھ کر ایک غیر مقلد نے مجھ کو لکھا کہ تم شرالقرون کے صوفیوں کی بہت حمایت کرتے ہو مجھ کو یہ بدتمیزی بے حد ناگوار ہوئی ، یہ کیا ضرورت ہے کہ شرالقرون میں سب شر ہی ہوں ۔
( ملفوظ 495 ) ایک بڑے عالم اور طریق کی حقیقت سے بے خبری
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اس طریق کی حقیقت سے بے خبری کی یہ حالت ہے کہ ایک بڑے عالم تھے اور درویش بھی سمجھے جاتے تھے ، میں بھی ان سے ملا ہوں ، شروع میں تو ہمارے بزرگوں کے معتقد تھے ، آخر میں آ کر کسی قدر بدعت کا رنگ غالب ہو گیا تھا مگر تھے سادہ اور نیک ، انہوں نے ایک ذاکر سے پوچھا کہ کچھ ذکر و شغل کرتے ہو اس نے کہا کہ جی ہاں دریافت کیا کہ کچھ نظر بھی آتا ہے انہوں نے کہا کہ نظر تو کچھ نہیں آتا کہنے لگے کہ خیر ثواب لیے جاؤ باقی نفع مقصود تو کچھ ہے نہیں مجھ کو تو یہ سن کر حیرت ہو گئی کہ عالم درویش ہو کر ایسی بات کہی اصل چیز تو ثواب ہی ہے جو تمام اعمال سے مقصود ہے اور ثواب کی حقیقت ہے ۔ حق تعالی سے قرب اور اس کی رضاء انہوں نے اس کی کیسے تحقیر کی اصل میں یہ فن بھی بڑا ہی نازک ہے اس میں بہت سنبھل کر قدم رکھنے کی ضرورت ہے ورنہ آدمی ٹھوکریں ہی کھاتا رہتا ہے ۔
( ملفوظ 495)حضرت حاجی صاحب اور صوفیاء کی عظمت
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو تقریر کے وقت جوش ہوتا تھا ، آواز بلند ہو جاتی تھی اور تقریر سے فراغت کے بعد بے حد ضعف ہو جاتا تھا مگر تقریر کے وقت یہ حالت ہوتی تھی :
ہر چند و خستہ و بس ناتواں شدم ہر گہ نظر بروئے تو کردم جواں شدم
اور کیوں نہ ہو فرماتے ہیں :
خود قوی ترمی شود خمرکہن خاصہ آں خمرے کہ باشد من لدن
( وہ جوش اور قوت اور ہی کسی چیز کی بدولت ہے یہ وہ دولت ہے کہ بادشاہوں کو بھی نصیب نہیں ) ۔ ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ اگر بادشاہوں کو اس دولت کی خبر ہو جائے تو ” لجادلونا بالسیوف ”
یعنی تلوار لے کر ہم پر چڑھ آئیں کہ لاؤ ہم کو بھی دو کیا لیے بیٹھے ہو مگر خبر نہ ہونا مضر نہیں البتہ انکار نہ کرنا یہ سخت خطرناک چیز ہے ۔ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ اس طریق کا انکار نہ کرے چاہے معتقد بھی نہ ہو بلکہ یہ طریق اس قدر باوقعت اور باعظمت ہے کہ بعض بزرگوں نے فرمایا کہ اگر کوئی اس طریق کو مکرر و ریاء کی وجہ سے بھی اختیار کرے اس کی بھی قدر کرے اس لیے کہ اس کے دل میں اس طریق کی عظمت ہے تب ہی تو اس کو لیا گو مکر ہی سے سہی سو اس کو بھی حقیر مت سمجھو کیونکہ جس چیز کی قلب میں وقعت و عظمت نہیں ہوتی آدمی اس کو کسی طرح بھی اختیار نہیں کرتا ۔ دیکھئے ان حضرات میں حقائق کی کس قدر دقیق رعایت ہے
حکماء بھی ان حضرات کے سامنے جاہل ہیں اور جیسے اختیار کرنا دلیل عظمت کی ہے اسی طرح احکام کے مصالح اور حکمتوں کا تلاش کرنا اس کی دلیل ہے کہ اس کے دل میں احکام کی وقعت اور عظمت نہیں اگر کوئی شخص کسی کے نوکر سے اس کے آقا کے کاموں کے مصالح پوچھے تو وہ کہے گا کہ مجھ کو مصالح سے کیا غرض میں تو نوکر ہوں یا غلام ہوں حکم کی تعمیل کرنا میرا فرض منصبی ہے پھر مجھ کو معلوم بھی کہاں کہ کیا مصالح ہیں کیا مجھ سے آقا مشورہ لے کر کام کرتے ہیں جس کی وجہ سے مجھ کو مصالح معلوم ہوں اور علاوہ اس کے مصالح کے بیان کرنے میں جیسا اس وقت اہل تقریر کی عادت ہو گئی ہے ایک بڑی خرابی بھی ہے مثلا نماز کے مصالح بیان کیے جاتے ہیں کہ اس سے اتحاد بین الجماعت مقصود ہے سو اس میں خرابی یہ ہے کہ اگر یہ مصالح کسی وقت دوسری صورت سے حاصل ہونے لگیں گے تو وہ اصل نماز کو خیرباد کہہ کر الگ ہو جائے گا ۔ مثلا قلب میں جمع ہونے سے یہ مصالح حاصل ہو جائیں تو وہ قلب گھر کو اللہ کے گھر پر ترجیع دے گا ۔
( ملفوظ 494)ہر تواضع اچھی نہیں اور تواضع کی حقیقت
آج کل کی بعضی بے محل یا تکلف کی تواضع پر ایک حکایت فرمائی ۔ محمدی شاہ صاحب الہ آباد میں ایک ولایتی درویش تھے ان کے پاس ایک حافظ صاحب ایک ایسے شخص کے ساتھ آئے جو شاہ صاحب کے شناسا تھے ۔ شاہ صاحب نے ان کے ہمراہی سے ان کا تعارف پوچھا ، انہوں نے کہا کہ یہ ایک حافظ حاجی شخص ہیں آپ سے ملنے آئے ہیں ۔ حافظ جی نے تواضعا کہا میں کیا حافظ حاجی ہوتا ہوں میں تو ایک معمولی آدمی ہوں ۔ محمدی شاہ صاحب بگڑ گئے ، کہنے لگے اچھا تم یہ چاہتا ہے کہ تم حاجی نہ رہے ، تمہارا حج خبط ہو جائے اور تم کو قرآن یاد نہ رہے تم خدا کی ناشکری کرتے ہوں بہت ہی خفا ہوئے ، پھر جب کبھی یہ حافظ صاحب ان سے ملنے جاتے تو کہتے کہ آؤ ناشکرا حافظ ، ناشکرا لقب ہی ڈال دیا ان باتوں کو لوگ تواضع سمجھتے ہیں اگر تواضع ایسی ہی ارزاں ہے تو پھر اس قصہ میں بھی تواضع سمجھی جائے گی وہ قصہ یہ ہے کہ میں ایک مرتبہ الہ آباد سے کان پور کو سوار ہوا ، ریل میں چند نوجوان جنٹلمین اسی ڈبہ میں سوار تھے اور ایک منصف صاحب بھی سوار تھے ، یہ منصف صاحب پرانے اور سادہ وضع کے آدمی تھے ۔ ان جنٹلمینوں نے ان مصنف صاحب کو بنانا شروع کیا کہ ابتداء بے تکلفی کی منصف صاحب کی طرف سے ہوئی ۔ غرض ان جنٹلمینوں نے کھانے کا دستر خوان کھولا اور ایک نے منصف صاحب سے کہا کہ آئیے آپ بھی کچھ گو موت کھا لیجئے ، دوسرے ساتھی صاحب بولے کہ کیا واہیات ہے توبہ کرو توبہ کرو کھانے کو گو موت کہتے ہو تو وہ جواب دیتے ہیں کہ اپنے کھانے کو کھانا کہنا یہ بھی تکبر ہے ۔ اس حیثیت سے کہ وہ اپنا کھانا ہے تو موت ہی کہنا تواضع ہے ۔ فرمایا کہ اس قاعدہ سے تو اپنے کو نمازی کہنا اور مسلمان کہنا بھی تکبر ہو گا ۔ تواضع یہ ہو گی کہ میں نمازی کیا ہوتا میں مسلمان کیا ہوتا جس کا مطلب یہ ہے کہ میں بے نمازی ہوں میں کافر ہوں ، یہ بھی کوئی تواضع ہے البتہ اپنی نماز اپنے ایمان پر گھمنڈ نہ کرے کیونکہ ہم کو یہ نعمتیں باوجود عدم اہلیت کے عطا ہو گئیں تو نعمت کا تو اثبات کرے اور اہلیت کی نفی کرے اس کی ایسی مثال ہے کہ ایک بادشاہ ہفت اقلیم کا کسی چمار کو بیش قیمت موتی دے دے جو اس کی حیثیت سے کہیں زیادہ ہو تو اس کو لے کر وہ ناز کرے گا یا کہ خوف کرے گا اس وقت اس کی دو حیثیتیں ہوں گی ایک تو شاہی عطیہ ہونے کی اور ایک اس کو عطا ہونے کی تو کیا وہ اپنے کو موتی والا نہ کہے گا ، موتی والا ضرور کہے گا اگر نہ کہے گا تو عطیہ شاہی کی بے قدری اور ان کا الزام آئے گا مگر ساتھ ہی میں یہ بھی کہے گا کہ بادشاہ کی بڑی عنایت ہے کہ مجھ جیسے نااہل کو اتنی بڑی قیمتی چیز عطاء فرما دی ۔ اسی طرح ہم کہتے ہیں کہ ہم نماز پڑھتے ہیں اور ہم متکبر نہیں اس کو اپنا کمال سمجھنا تکبر ہے اور خدا کا عطیہ سمجھنا تواضع ۔ بس یہ خیال کر لے کہ یہ ہماری چیزیں نہیں خدا کی چیزیں ہیں جیسے شجاعت ہے حسن ہے ان کو اپنا کمال سمجھنا اور فخر کرنا تکبر ہے ان چیزوں کو خدا کی سمجھنا اور ان پر ناز نہ کرنا یہ تواضع ہے ۔
( ملفوظ 493) حضرت کی تعریف اور اس پر حضرت کا جواب
ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت ایک صاحب حضرت سے ایک مرتبہ ملے ہیں وہ دوبارہ بھی یہاں حاضر ہونے کو کہتے تھے ، دہلی ملے تھے ، حضرت کی نسبت کہتے تھے کہ یہ اس زمانہ کے بزرگوں میں سے نہیں ہیں ، پرانے بزرگوں میں سے ہیں ، ہر بات پر پرانے بزرگوں کی جھلک معلوم ہوتی ہے ، فرمایا کہ یہ ان کا حسن ظن ہے اور یہ تو بہت بڑی نعمت ہے جس کو انہوں نے میری طرف نسبت کیا ، تجھ کو اس کی اہلیت کہاں لیکن اگر واقع میں نہیں بھی ہے تب بھی فال نیک تو ہے دعاء کرتا ہوں کہ خدا پیدا کر دے ۔ مولانا ظفر حسین صاحب نے ہمارے حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی نسبت بھی یہی فرمایا تھا کہ حاجی صاحب اس وقت کے بزرگوں میں سے نہیں یہ تو جنید اور بایزید رحمہ اللہ کے زمانہ کے ہیں ۔ واقعی حضرت کی عجیب شان تھی ۔
( ملفوظ 492) حضرت رائے پوری کے پیر کی حضرت تھانوی کو عجیب دعاء
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ مولانا شاہ عبدالرحیم صاحب رائے پوری کے پہلے پیر کا نام شاہ عبدالرحیم تھا ، میں ان سے ملا ہوں انہوں نے مجھ کو دعا دی تھی کہ جسم ہمیشہ امیر رہے اور دل فقیر ، میں بحمد اللہ اس کو کھلی آنکھ دیکھ رہا ہوں ۔
( ملفوظ 491) دین اور دنیا کا فرق
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا دین کی باتوں میں تو کہا جاتا ہے کہ جی نہیں لگتا ، مزہ نہیں آتا ، احکام گورنمنٹ میں بھی جو کہ نفس کے خلاف ہوں کبھی کہا ہے کہ جی نہیں لگتا ، مزہ نہیں آتا ، مثلا گورنمنٹ حکم دے کہ مال گزاری داخل کرو ، یا ٹیکس داخل کرو ، اس وقت یہ کہہ کر الگ ہو جائیں کہ ہم داخل نہیں کرتے ہمیں مزہ نہیں آتا یہ جی نہیں لگتا ، ایسا کر کے دیکھیں جیل خانہ میں پہنچ جائیں ، جیل خانہ میں جا کر علم آ جاتا ہے ۔ اے صاحبو ! خدا کے ساتھ محبت نہ سہی مگر ان کی حکومت تو ہے یہی سمجھ کر احکام بجا لاؤ ، میں تو کہا کرتا ہوں کہ ایسی بیہودہ باتیں جو سوجھتی ہیں اس کا سبب ہے کہ نہ خدا کے ساتھ محبت ہے نہ خدا کی عظمت ہے اس لیے بہانے ڈھونڈتے ہیں مثلا یہ کہ جی نہیں چاہتا ، میں کہتا ہوں کہ ماں کے پیٹ سے ہی نکلنے کو کب جی چاہتا تھا ، دائی نے ٹانگیں پکڑ کر زبردستی کھینچ لیا تھا ، سودائی کا اتباع کیا مگر داعی کا اتباع نہیں کرتے ، اصل میں ان جذبات کے پیدا کرنے کے لیے صحبت کی ضرورت ہے ۔ یہ باتیں نہ کتابوں کے دیکھنے سے حاصل ہوتی ہیں نہ پڑھنے سے یہ تو کسی کی صحبت میں بیٹھنے سے حاصل ہو سکتی ہیں اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک مینڈک گندے چھچہ میں جس میں گندہ کیچڑ بھرا ہوا ہے رہتا ہے اور ایک مینڈک کسی کنویں میں جہاں پاک ہے رہتا ہے یہ کنویں کا رہنے والا مینڈک اس چھچہ کے رہنے والے مینڈک سے کہتا ہے کہ میاں کہاں اس گندگی اور ناپاک جگہ میں رہتے ہو ہم تو ایسی صاف اور شفاف اور پاک جگہ میں رہتے ہیں یہ گندگی کا رہنے والا مینڈک ۔ اس وجہ سے کہ اس نے وہ صاف شفاف پانی دیکھا ہی نہیں تکذیب کرتا ہے کہ میاں کیوں جھوٹ بولتے ہو بالکل یہی مثال ہے اس کی کہ دنیا دار دین دار کی تکذیب کرتا ہے چونکہ دین کا لطف جو عمل اور صحبت سے میسر ہوتا دیکھا نہیں اگر اس کی صحیح نظر سے دیکھ لیتے تو دنیا کو اس وقت کے دیکھنے سے بھی زیادہ دیکھنا مضر نہ ہوتا بلکہ مفید ہوتا اسی لیے میں نے ایک وعظ میں کہا تھا کہ تم نے آج تک یہ ہی سنا ہو گا کہ دنیا کی طرف توجہ نہ کرو یہ نہایت گندی اور ناپاک ہے مگر میں تعلیم دیتا ہوں کہ دنیا کی طرف خوب توجہ کرو تا کہ اس کم بخت گندگی سڑیل کی حقیقت تو معلوم ہو جائے گی ۔ یہ خوب توجہ تب ہی مفید ہو سکتی ہے جبکہ دین کو بھی دیکھ لو تا کہ موازنہ کر سکو ۔ اب چونکہ موازنہ کرنے سے پوری حقیقت دنیا کی بھی معلوم نہیں ( اس لیے دنیا کی طرف میلان ) پس اس کی اس طرف جھکنے اور دین سے اعراض کا سبب اس کی حقیقت سے بے خبری ہے اور اس کے ساتھ ایک اور سبب بھی ہے کہ دنیا نقد ہے اور دین ادھار مگر اس نقد میں وہ مزہ نہیں جو اس ادھار میں ہے ایسے ایسے لاکھوں نقد قربان ہیں اس ادھار پر کیونکہ وہ نقد ہے مگر مکدر اس قدر ہے کہ کوئی عاقل اس کو قبول نہیں کر سکتا ۔ اسی تکدر کے متعلق امام غزالی نے ایک عجیب بات فرمائی ہے کہ اگر دنیا میں کوئی عیب نہ ہو تو یہ کیا تھوڑا عیب ہے کہ ہاتھ سے بہت جلد نکل جانے والی ہے پھر اگر اس سے گہری محبت ہو گئی تو اس محبت کا خمیازہ مرنے کے وقت معلوم ہو گا جو وقت اس کے ہاتھ سے نکلنے کا ہے وہ خمیازہ یہ ہے کہ جو چیز محبوب ہوتی ہے اس چیز سے جدا کرنے والے پر طبعا غصہ ہوتا ہے اور موت کے وقت مفارقت ہوتی ہے مال سے جاہ سے اولاد سے اور وہ مفارقت ہوتی ہے امر حق سے پس ایسے وقت اس کا دم نکلتا ہے کہ اس کو وقت خدا تعالی بغض ہوتا ہے ( نعوذ باللہ ) اور سب خطرات اس وقت ہیں جب دنیا دل میں ہو ورنہ کچھ بھی مضر نہیں ۔ حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ اسی کو فرمایا کرتے تھے کہ دنیا کا ہاتھ میں ہونا مضر نہیں ، دل میں ہونا مضر ہے ۔ بطور مثال کے یہ پڑھا کرتے تھے :
آب در کشتی ہلاک کشتی است آب اندر زیر کشتی پشتی است
( ملفوظ 490) حقیقت بتلانے سے نہیں عمل سے سمجھ میں آتی ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ شریعت مقدسہ کے حدود اس قدر پاکیزہ ہیں اور ایسے اصول ہیں کہ اگر وحی کے ذریعے سے بھی اطلاع نہ کی جاتی تو فطرت سلیمہ بھی اسی کی مقتضی ہوتی مگر چونکہ طبائع سلیمہ بہت کم ہیں اس لیے وحی کی حاجت ہوئی اور وہ سراسر حکمت ہی حکمت ہے مگر عقول عامہ کی ان حکمتوں تک رسائی مشکل ہے اور عمل سے پہلے محض بیان کرنے سے سمجھ میں نہیں آ سکتی ۔ البتہ عمل کر کے دیکھئے انشاء اللہ سمجھ میں آ جائے گی کیونکہ وقوع سے اس کا مشاہدہ ہو جائے گا مگر اکثر لوگ اس کے منتظر رہتے ہیں کہ پہلے حکمت سمجھ میں آ جائے تو عمل کریں اور حکمت اس کی منتظر ہے کہ یہ شخص عمل کرے تو میں سمجھ میں آؤں پھر علاوہ حکمت کے بڑی چیز جو عمل سے میسر ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ قلب میں اس سے اطمینان و سکون پیدا ہوتا ہے یہ سب سے بڑی حکمت ہے ۔ ایک شخص ہندو جو اب ایک بڑے عہدے پر مامور ہیں انہوں نے ایک بار مجھ سے کہا میں حقیقت کے باب میں متردد ہوں ، کسی حقیقت پر قلب کو سکون و اطمینان نہیں ہوتا ، اپنے مذہبی طریقہ پر خدا کی یاد بھی کرتا ہوں مگر اطمینان میسر نہیں ہوتا کوئی تدبیر
بتلائیے کہ جس سے اطمینان قلب میسر ہو اور حق واضح ہو جائے ۔ میں نے کہا کہ کثرت سے ” اھدنا الصراط المستقیم ” پڑھا کرو اور ایک بات اور کہنے کی ہے کہ وہ یہ ہے کہ اب تک اپنے مذہب کے طریقہ پر عمل کر کے دیکھا اور اطمینان نہیں ہوا ، اب ہماری شریعت کی تعلیم پر بھی عمل کر کے دیکھو ، اگر پھر بھی اطمینان نہ ہو ہم ذمہ دار حق سبحانہ تعالی کی ذات سے قوی امید ہے کہ انشاء اللہ تعالی اطمینان میسر ہو گا اور پھر مولانا رومی اس کو فرماتے ہیں :
ہیچ کنجے بے درد و بے دام نیست جز بخلوت گاہ حق آرام نیست
( دنیا کا کوئی کونہ بغیر تکلیف کے نہیں ہے صرف خلوت گاہ حق میں آرام ہے ۔ 12 )
میں تو یہ بھی کہتا ہوں کہ خواہ اعتقاد کے ساتھ نہ دیکھو بطور امتحان ہی کر کے دیکھ لو تو مولانا رومی اسی کو فرماتے ہیں :
سالہا تو سنگ بودی دلخراش آزموں را یک زمانے خاک باش
( برسوں تک تو پتھر بنا رہا ، آزمانے کے لیے چند روز خاک بن کر بھی دیکھ 12 )
بہت سی چیزیں ایسی ہیں کہ بدون کھانے کے محض بتلانے سے مزہ کی حقیقت نہیں معلوم ہوتی ۔ مثال سے سمجھ لیجئے جیسے ولایتی شخص کو جس نے کبھی آم نہ کھایا ہو آم کا مزہ نہیں بتلا سکتے ۔ ہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ میٹھا ہے وہ اس پر کہے گا کہ انگور جیسا میٹھا کہیں گے نہیں وہ کہے گا سیب جیسا میٹھا ، کہیں گے نہیں اب اس کے سمجھ میں آنے کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ آم اس کے ہاتھ میں دے کر کہا جائے کہ لے کھا کر مزہ سمجھ لے ۔ ایک اردو رسالہ کی ایک حکایت یاد آئی بہت سی سہیلیاں آپس میں جمع رہتی تھیں اور یہ وعدہ تھا کہ جس کا بیاہ پہلے ہو جائے وہ اس مزہ سے سب کو آگاہ کرے ، ایک سہیلی کا پہلے بیاہ ہوا ، شب گزر جانے پر صبح کو سب سہیلیاں جمع ہوئیں اور اس سے مزہ کے متعلق سوال کیا ، اب وہ بیچاری کیا بیان کرے بیان کرنے سے اس کی حقیقت سمجھ میں آ نہیں سکتی تھی تو اس نے یہ کہا :
بیاہ یوں ہی جب تمہارا ہوئے گا تب مزہ معلوم سارا ہوئے گا
دوسری حکایت ایک اندھے حافظ جی کو لڑکوں نے نکاح کی ترغیب دی کہ حافظ جی نکاح کر لو ، اس میں بڑا مزہ ہے حافظ جی نے کوشش کر کے نکاح کیا اور رات کو بی بی کے بدن سے روٹی لگا لگا کر کھائی ، مزہ کیا آتا صبح کو لڑکوں سے کہا کہ سسرو تم کہتے تھے بڑا مزہ ہے ہم نے تو روٹی لگا کر کھائی تھی ہم کو تو کچھ بھی مزہ نہیں آیا ، لڑکوں نے کہا کہ حافظ جی مارا کرتے ہیں ، آئی شب تو خوب بیچاری کو زدوکوب کیا تمام محلہ میں غل مچ گیا ، اہل محلہ نے حافظ جی کو برا بھلا کہا صبح کو پھر آئے کہنے لگے سسروں نے دق کر دیا ، کہتے ہیں کہ بڑا مزہ ہے کیا مزہ ہے ہم نے تو مار کر بھی دیکھ لیا ، کچھ بھی مزہ نہ آیا بلکہ خود ہی پٹنے سے بچ گئے ۔ تب لڑکوں نے مارنے کی حقیقت بتلائی کہ مارنے کے یہ معنی ہیں اور یہ مطلب ہے اب جو شب آئی اور لڑکوں کی تعلیم کے موافق عمل کیا تب حافظ جی کو حقیقت منکشف ہوئی کہ واقعی مزہ ہے صبح کو جو آئے تو مونچھ کا ایک ایک بال کھلا ہوا تھا اور خوشی میں بھرے ہوئے تھے تو حضرت کر کے دیکھنے سے حقیقت معلوم ہوتی ہے ایک اندھے حافظ جی کی دوسری حکایت ہے کہ ایک لڑکے نے کہا کہ حافظ جی تمہاری دعوت ہے پوچھا کیا کھلائے گا کہا کہ کھیر ، حافظ جی نے دریافت کیا کھیر کیسی ہوتی ہے کہا کہ سفید سفید ، دریافت کیا کہ سفید سفید کیسا ہوتا ہے کہا جیسا بگلہ دریافت کیا کہ بگلہ کیسا ہوتا ہے لڑکے نے اپنا ہاتھ حافظ جی کو کہنی سے پکڑ کر اور ہاتھ کے پہنچے کو جھکا کر کہا کہ ایسا ہوتا ہے ۔ حافظ جی نے جو ہاتھ پھیر کر دیکھا تو کہنے لگے کہ نہ بھائی یہ تو بڑی ٹیڑھی کھیر ہے یہ حلق سے نیچے کس طرح اترے گی ۔ اب حافظ جی کو سمجھانے کی ایک ہی صورت تھی کہ کھیر کا طباق بھر کر سامنے لا رکھتا کہ یہ ہے کھیر کھا کر دیکھ لو ۔ غرضیکہ جو چیز کر کے دیکھنے کی ہے وہ بیان میں کیسے آ سکتی ہے جب کھیر کی جو کہ حسی چیز ہے حقیقت محض بتلانے سے سمجھ میں نہ آئی تو دین جو کہ ایک معنوی چیز ہے کس طرح سمجھ میں آ سکتا ہے اس کو بھی کر کے دیکھو ۔

You must be logged in to post a comment.