ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اگر قرآن و حدیث میں یا فقہہ میں یا آئمہ مجتہدین کے اقوال میں شبہ ہو اس کو پوچھ سکتے ہیں باقی دنیا بھر کے اقوال کی کہاں تک کوئی ذمہ داری کر سکتا ہے اور میں آپ کو خیر خواہی سے مشورہ دیتا ہوں کہ جو حالت واقعی پیش آ جائے اور اس کے متعلق ضرورت ایسی ہو کہ بدون سوال کیے ضرر کا اندیشہ ہو صرف اس کو پوچھنا چاہیے ایک اور بات بھی کام کی بیان کرتا ہوں وہ یہ کہ جو شاگرد پڑھ رہا ہو یا مطب کر رہا ہو اس کو تو حق ہے سوال کا لیکن مریض کو فن کے متعلق سوال کرنے کا حق نہیں اس کو تو اپنی حالت بیان کر دینے کا حق ہے اس کے بعد طبیب کا اتباع کرے جس زمانہ میں کوے کے مسئلہ کا شور و غل ہوا بہت لوگ مجھ سے پوچھتے تھے میں ان سے پوچھتا کہ کیا کھاؤ گے ، کہتے نہیں میں کہتا نہ بتاؤں گا نہ تم پر پوچھنا فرض ہے نہ مجھ پر بتانا فرض اور عقیدہ کا مسئلہ نہیں اور یہ عادت کہ غیر ضروری چیزوں سے جن میں غیر ضروری سوال بھی آ گیا ، اجتناب رکھو ، اسلام کی خوبی میں سے ہے ۔ حدیث شریف میں ہے :
من حسن اسلام المرء ترکہ ما لا یعنیہ
اس پر میرا ایک مستقل وعظ بھی ہے اس کا نام ہے ترک مالا یعنی اس میں بالتفصیل اس پر بحث ہے جس میں الحمد للہ مفید اور مضر کی تقسیم پوری کر دی گئی ہے اس کو دیکھ لیا جائے ۔
( ملفوظ 159 )ہر غصہ تکبر کی وجہ سے نہیں ہوتا
ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت کیا غصہ تکبر کی وجہ سے آتا ہے ؟ فرمایا نہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی غصہ آتا تھا تو کیا ( نعوذ باللہ ) وہاں بھی یہی منشاء تھا کبھی غیرت اس کا منشاء ہوتا ہے دینی یا دنیوی کبھی طبعا ضعف تحمل اس کا سبب ہوتا ہے ان دونوں میں کبر کا کوئی دخل نہیں البتہ اگر اس غصہ کے اقتضاء پر اس طرح عمل کیا جائے کہ وہ حد شرعی سے گزر جائے وہ تکبر ہے باقی امور طبعیہ میں انسان معذور ہے ۔
( ملفوظ 157 )نظم اوقات کیلئے دلیل
ملقب بہ اجمع الکلام فی انفع النظام ۔ ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل تو اکثر اہل علم سے بھی امید بہت کم ہو گئی کہ آئندہ ایسے امور کی اصلاح کریں جن میں عام ابتلا ہے کیونکہ یہ لوگ خود ہی قابل تربیت ہیں ۔ ایک طالب علم آئے تھے مراد آباد سے انہوں نے یہاں سے جا کر اعتراض کے طور پر لکھا کہ تم نے جو اوقات کا انضباط کیا ہے خیر القرون میں یہ انضباط نہ تھا اس لیے بس یہ سب بدعت ہے مگر جواب کے لیے نہ ٹکٹ تھا نہ کارڈ ، اگر ہوتا تو میں جواب لکھتا کہ تم نے جو مراد آباد کے مدرسہ میں پڑھا ہے وہاں پر بھی اسباق کے لیے اوقات کا انضباط تھا کہ 8 بجے تک فلاں سبق اور 9 بجے سے 10 بجے تک فلاں سبق اور 2 بجے سے 4 بجے تک فلاں سبق یہ بھی خیر القرون میں نہ تھا ۔ لہذا یہ بھی بدعت ہوا ، سو اس بناء پر آپ کا سارا علم جو بدعتی طریق پر حاصل کیا گیا ہے نا مبارک اور ظلماتی ہوا بلکہ اگر بدعت کے یہ معنی ہیں جو ان حضرت نے سمجھے ہیں کہ جو چیز خیر القرون میں نہ ہو تو خیر القرون میں تو ان کا بھی وجود نہ تھا پس یہ بھی مجسم بدعت ہوئے کیا خرافات ہے ۔ تحصیل علم کرنے والوں کے فہم کی حالت ہے عوام بے چاروں کی تو شکایت کی جائے جب کہ لکھے پڑھے علم کے مدعی اس زمانہ میں بکثرت اس قدر بد فہم اور کم عقل پیدا ہو رہے ہیں ان بزرگ کو بدعت کی تعریف بھی معلوم نہیں یہ انضباط کسی کے اعتقاد میں عبادت تو نہیں اس لیے ان کا خیر القرون میں نہ ہونا اور اب ہونا بدعت کو مستلزم نہیں ، میں نے حیات المسلمین روح ہشتم ( نمبر 3 ) میں ایسے انتظامات کے متعلق لکھ دیا ہے چنانچہ آیک آیت میں ہے کہ اس بات سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو ناگواری ہوتی ہے سو وہ تمہارا لحاظ کرتے ہیں ( اور زبان سے نہیں فرماتے کہ اٹھ کر چلے جاؤ ) اور اللہ تعالی صاف بات کہنے سے ( کسی کا لحاظ نہیں کرتے ( سورہ احزاب ) اسی واسطے خود فرما دیا :
اذا دعیتم فادخلوا فاذا طعمتم فانتشروا الآیۃ
اور اس مقام میں جس طرح شان انتظامی کی تعلیم ہے اس طرح حضور اقدس صلی اللہ علیہ و سلم کے اخلاق پر دلالت سے جیسا کہ یستحیی سے معلوم ہوتا ہے اللہ اکبر کیا انتہا ہے آپ کی مروت کی کہ اپنے غلاموں کو بھی یہ فرماتے ہوئے شرماتے تھے کہ اب اپنے کاموں میں لگو مگر یہ لحاظ اپنے ذاتی معاملات میں تھا ، احکام کی تبلیغ میں نہ تھا اور اس باب میں بہت نصوص ہیں ۔ اب یہاں کے قواعد اور ان ضوابط کے متعلق ایک غیبی لطیفہ سنئے ۔ ایک صاحب مخلص اور دوست یہاں پر مہمان ہوئے ان کے ساتھ ان کا ملازم ایک بے ریش لڑکا تھا ، قانون یہاں پر یہ ہے کہ شب کو بے ریش لڑکا خانقاہ میں نہیں رہ سکتا مگر چونکہ ان سے بہت خصوصیت کا تعلق تھا اور ان کی نگرانی پر اعتماد بھی تھا اس لیے ان سے کچھ نہیں کہا گیا بلکہ کہتے ہوئے شرمایا ۔ غرض یہ کہ وہ شب کو مع اپنے ملازم کے خانقاہ میں مقیم رہے صبح کو بعد نماز فجر کہنے لگے کہ رات بڑی ہی طبیعت کو انتشار رہا وہ یہ کہ میں نے رات کو خواب میں حضرت حافظ ضامن صاحب کو دیکھا کہ بہت خفا ہوئے ہیں کہ بے ریش لڑکے کو لے کر خانقاہ میں کیوں قیام کیا ، میں نے کہا کہ قانون تو یہاں کا یہی ہے مگر محض آپ کے لحاظ سے اس کا اظہار نہیں کیا گیا مگر آج معلوم ہوا کہ یہاں زندہ ہی منتظم نہیں مردے بھی منتظم ہیں ( مزاحا کہا گیا ) پھر میں نے کہا کہ اب سے امرد کو ساتھ مت لانا اور مجھ کو بھی اس خواب پر بڑا تعجب ہوا اس لیے کہ ان کو خبر بھی نہ تھی کہ یہ معمول ہے اس لیے قوت متخیلہ کا بھی احتمال نہ تھا
( ملفوظ 157 )دیہاتی سے دوسرا مواخذہ
سلسلہ کے لیے اس سے دو ملفوظ چھوڑ کر تیسرا پہلا ملفوظ دیکھو اسی دیہاتی شخص نے ایک گھنٹہ کے بعد آ کر عرض کیا کہ بخار کے لیے تعویذ دے دو ، یہ کہہ کر خاموش ہو گیا ۔ حضرت والا نے فرمایا کہ تم نے اس دوسری مرتبہ دھوکہ دیا اور اول مرتبہ کی بات باوجود کہہ دینے کے یاد نہیں دلائی ، میں یوں سمجھا کہ کوئی اور شخص ہے تو تم نے مخالفت کیوں کی ، اب اس مخالفت کی سزا یہ ہے کہ اگر تعویذ لینا ہے تو ایک لفافہ خرید کر اور اس پر اپنا پتہ لکھ کر اور اس میں یاداشت کا ایک پرچہ لکھ کر میرے پاس رکھ دو کہ مجھ کو فلاں چیز کے تعویذ کی ضرورت ہے مجھ کو دے دو ، میں ڈاک سے تعویذ بھیج دوں گا ، میں نے تدبیر بتلا دی ، یہ بھی میرا احسان ہے نہیں تو ناراضگی میں آدمی تدبیر بھی نہیں بتلایا کرتا تم نے کتنی مرتبہ ستایا اور کئی طرح کی تکلیف دی ۔
( ملفوظ 156 )چشتی اور نقشبندی مزاج کا فرق
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک مولوی صاحب نے حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے مشورہ لیا کہ میں چشتی سلسلہ میں بیعت کروں یا نقشبندی سلسلہ میں ، حضرت نے فرمایا کہ اچھا پہلے ایک بات بتلاؤ کہ ایک زمین میں تخم پاشی کرنا ہے اور اس میں جھاڑ جھونڈ بہت ہیں تو کس طریق سے تخم پاشی کرنا مناسب ہے آیا اول تخم پاشی کر دے پھر تدریجا زمین کو صاف کرتا رہے یا اول اس جگہ کو صاف کر کے پھر تخم پاشی کرے ، عرض کیا کہ حضرت میری رائے میں تو اول تخم پاشی کر دینی چاہیے پھر زمین کو صاف کرتا رہے ۔ فرمایا جاؤ نقشبندیوں میں جا کر بیعت ہو جاؤ ہمارے یہاں یعنی چشتیوں میں تمہارا کچھ کام نہیں کیونکہ نقشبندیہ میں اول تحلیہ بالحاء المہملہ ہے پھر تخلیہ بالخاء المعجمہ اور چشتیوں میں بالعکس پھر فرمایا کہ مذاق کا دریافت کرنا بڑے حکیم کا کام ہے پھر ایسی سہولت سے کیا ٹھکانا تھا ، حضرت کی فراست کا معقولات کو محسوسات کی صورت میں دکھلا دیا ۔
( ملفوظ 155 )حضرت کو قریب سے دیکھ کر لوگوں کا گرویدہ ہو جانا
ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ دور سے تو لوگ حضرت کو سخت خیال کرتے ہیں اور پاس آ کر رعایتیں دیکھ کر گرویدہ ہو جاتے ہیں ، فرمایا کہ جی ہاں واقعی میں تو اتنی رعایتیں کرتا ہوں کہ ان پر نظر کر کے یوں کہا کرتا ہوں کہ مجھ کو لوگ اگر مداہن کہیں تو ایک درجہ میں تو صحیح ہے مگر متشدد کہنا تو بالکل ہی صحیح نہیں ۔ یہاں پر ایک مرتبہ آ جائیں اور کچھ رہیں اولا
معاملات دیکھیں پھر تو یقینا مانوس ہو جاتے ہیں ، بھلا متشدد سے بھی کوئی مانوس ہوا کرتا ہے ۔
( ملفوظ 154 )دیہاتی کے ایک زائد لفظ پر حضرت کی گرفت
ایک دیہاتی شخص نے آ کر عرض کیا کہ اجی بخار کا ایک اور تعویذ دے دو جس سے مفہوم ہوتا تھا کہ ایک تو مل چکا ہے دوسرا اور چاہیے ، فرمایا کہ دودھ تو دیا مگر مینگنیوں بھرا یعنی درخواست تو صاف لفظوں میں کی مگر اس میں ایک لفظ اور ملا دیا جس سے پریشانی ہوئی ۔ غرض یہ ہے کہ سیدھی بات نہ ہو افراط تفریط کلام میں ضرور ہو ۔ حضرت والا نے دریافت فرمایا کہ اور سے کیا مراد ہے اس پر تاویلیں کرنے لگا ، کلام کو کچھ بدلنے لگا ، فرمایا کہ بندہ خدا چپ رہ تو مت بول میں نے تو اپنے کانوں سے سنا ہے ۔ عرض کیا ہے کہ میں نے تو یہ ہی کہا تھا کہ بخار کا ایک اور تعویذ دے دو ، فرمایا بس اس اور ہی کا تو مطلب پوچھ رہا ہوں کہ اس کا کیا مطلب ہے ۔ عرض کیا کہ خطا ہوئی خطا کو معاف بھی تو کر دیا کرتے ہیں ، فرمایا کہ معاف کرتا ہوں انتقام نہ لوں گا بد دعا نہ کروں گا ، لوگوں میں تمہاری بد گوئی برائی نہ کروں گا مگر دل کو تو رنج ہو گیا اور رنج میں کام نہیں ہوا کرتا اور اگر دل کے رنج کے ساتھ کام کر بھی دیا تو اثر نہ ہو گا کیونکہ تعویذ وغیرہ کے اثر میں زیادہ تر دخل توجہ اور نشاط کو ہے ۔ پھر فرمایا معافی کے معنی یہ ہیں کہ انتقام نہ لے یہ معنی تھوڑا ہی ہیں کہ کام بھی کر دے اب دل سے جب اس رنج کا اثر جاتا رہے گا اس وقت کہنا تب کام ہو گا ۔ عرض کیا کہ اب کبھی ایسی بات نہ کہوں گا دریافت فرمایا اور کس طرح کہے گا عرض کیا کہ یوں کہوں گا کہ بخار کے لیے تعویذ دے دو ۔ فرمایا اچھا اس وقت یوں کیوں نہیں کہا تھا ۔
عرض کیا کہ اس وقت طبیعت نے یوں ہی کہا کہ یوں کہنا چاہیے ، فرمایا اب میری طبیعت یوں کہتی ہے کہ جو شخص پریشان کرے ، اس کا کام مت کرو جب تو نے اپنی طبیعت کا چاہا اب میری طبیعت کا چاہنا ہو لینے دو جا ، ایک گھنٹہ کے بعد آنا اور ٹھیک بات کہنا ، اس وقت کی گفتگو کے بھروسہ نہ رہنا مجھے اس وقت کی بات یاد نہ رہے گی اور یہ بھی کہہ دینا کہ مجھ سے فلاں غلطی ہو گئی تھی اب گھنٹہ کے بعد آیا ہوں وہ شخص چلا گیا ۔ فرمایا کہ یوں ان لوگوں کے دماغ درست ہوتے ہیں اب انشاء اللہ کبھی ساری عمر بھی مہمل الفاظ نہ بولے گا ، اسی سلسلہ میں فرمایا کہ ایک شخص آیا آ کر کہا کہ مولوی جی میرا بھی ارادہ تھا مرید ہونے کا ، میں نے کہا تھا یا ہے غرضیکہ وہ الٹ پلٹ ہو کر چل دیا ، بھائی اکبر علی مرحوم سے ملا ، انہوں نے پوچھا کیا ہوا کہا کہ جی کیا بتلاؤں تھا اور ہے میں پکڑا گیا ۔
( ملفوظ 153 )اجتماع سے طبعی تنفر
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بعض لوگوں کا مذاق ہے کہ جماعت کے لوگ جمع رہیں باہم ارتباط رہے مگر چونکہ اس اجتماع کے اغراض فاسد ہوتے ہیں اس لیے مجھ کو اس سے نفرت ہے بلکہ اگر اغراض فاسد بھی نہ ہوں مگر کوئی مصلحت بھی نہ ہو تب بھی انقباض ہوتا ہے جیسے گھر میں آج اوجھڑی پکی تھی سب نے کھائی مگر میں نے نہیں کھائی ۔ جب یہ خیال ہوتا تھا کہ یہ وہی ہے جس میں گوبر تھا جی ہٹ جاتا تھا ، گو جائز ہے بس اسی طرح بد فہموں کے اجتماع سے گو مباح ہی ہو جی گھبراتا ہے ایک دو دوست سمجھ دار فہیم ہوں دل بہلانے کو وہی کافی ہیں ایسے ہی بہت سے افعال مباح ہوتے ہیں مگر مجھ کو ان سے طبعا انقباض ہوتا ہے اور اس کے متعلق ایک حکایت بھی بیان فرمائی کہ ایک مولوی صاحب نے جن کو معتقدین کے ہجوم سے حظ ہوتا تھا میرے اس بیان پر ایک آیت پڑھی تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو حکم ہے :
و اصبر نفسک مع الذین یدعون ربھم الخ
میں نے کہا کہ اول تو مع الذین یدعون ربھم سے اس مجمع میں خاص قیود معلوم ہوتے ہیں ۔ دوسرے خود اصبر سے معلوم ہوتا ہے کہ اجتماع آپ کو طبعا گراں تھا کیونکہ صبر کی حقیقت ہے : حبس النفس علی ما تکرہ تو واصبر خود دلالت کر رہا ہے گرانی پر ۔ اجی صاحب آزاد ہی رہنا اچھا ہے دوسرے ہم لوگوں کے نفس کا کیا اعتبار اس کے تو پر قینچ ہی ہوتے رہیں تو سلامتی ہے ایسے سامان کو جمع ہی نہ ہونے دیں جس سے اسے موقع ملے ، ہاتھ پیر نکالنے کا ۔ اسی کو فرماتے ہیں :
نفس اژدھا ست اوکے مردہ است از غم بے آلتی افسردہ است
اگر ایسے ہی اس کو آزاد چھوڑ دیا جائے اور اس کی قوت کے سامان جمع ہوئے ہیں جن میں سے معتقدین کا ہجوم بھی ایک بڑا سبب ہے تو چند روز میں انسان فرعون بن جائے ۔ اس کو فرماتے ہیں :
نفس از بس مدحہا فرعون شد کن ذلیل النفس ہونا لا تسد
اس لیے طبیعت آزادی کو پسند کرتی ہے ہاں جن کو دکانداری کو ترقی دینا ہے وہاں ضرورت ہے اس سامان کی اور ڈھونگ بنانے کی اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ایسے بزرگوں کو دیکھا ہے کہ جو جامع تھے ظاہر اور باطن کے وہ ان چیزوں کو پسند نہ فرماتے تھے ۔ صاحبو ! ہماری عزت سامان سے نہیں اگر عزت ہے تو بے سروسامانی ہی میں ہے اس بے سروسامانی کے باب میں خوب کہا ہے :
زیر بارند درختاں کہ ثمرہا دارند اے خوشا سرو کہ از بند غم آزاد آمد
دل فریبان نباتی ہمہ زیور بستند دلبر ماست کہ باحسن خداواد آمد
اور اسی کو فرماتے ہیں :
نباشد اہل باطن درپے آرائش ظاہر بنقاش احتیاجے نیست دیوار گلستان را
بس وہ دولت حاصل کرنا چاہیے جس کے ہوتے ہوئے ان اسباب کی حاجت ہی نہ ہو ۔ ہمارے حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ ہی کو دیکھ لیجئے کہ اصلاحی عالم نہ تھے جو رفعت کا ایک بڑا ذریعہ ہے مگر ہزاروں لکھوں پڑھوں کو ان کے سامنے جھکا دیا گیا ۔ اسی چیز کو عارف شیرازی فرماتے ہیں :
شاہد آں نیست کہ موئے دمیانے دارد بندہ طلعت آں باش کہ آنے دارد
اس دولت کا خاصہ ایسا استغناء ہے جس کی نسبت کہا گیا ہے :
از بہر خورش ہر آں کہ نانے دارد وزبہر نشست آستانے دارد
نے خادم کس بود نہ مخدوم کسے گو شاد بزی کہ خوش جہانے دا
( ملفوظ 152 ) ایک صاحب پر مواخذہ ، بے فکری یا بد فہمی
ایک دیہاتی شخص نے آ کر عرض کیا کہ تعویذ دے دو اور یہ نہیں کہا کہ کس چیز کا تعویذ ، اس پر حضرت والا نے فرمایا کہ میں سمجھا نہیں پوری بات کہو ، اس نے پھر بھی یہی کہا کہ تعویذ دے دو ، فرمایا کہ میں اتنا ذہین نہیں ہوں کہ بدون پوری بات کہے سمجھ سکوں ۔ ایک صاحب نے جو مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے اس شخص سے کہا یہ بتلا دے کہ کس کام کے لیے تعویذ کی ضرورت ہے ۔ حضرت والا نے ان صاحب کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ تم یہاں اپنی کسی مصلحت یا غرض سے آئے ہو یا یہاں منیجری کرنے بیٹھے ہو ، آپ کو دخل دینے کے لیے کس نے کہا جو بات تم نے اس شخص کو بتلائی ، میں نہیں بتلا سکتا تھا آخر کوئی تو میری مصلحت ہو گی کہ جو میں نے نہیں بتلائی ، کیا اتنی بھی آپ کو سمجھ نہیں ، آپ تو اس سے بھی زیادہ کوڑ مغز ثابت ہوئے ، یہ طریق کہ دوسرے لوگ میری بات میں جوڑ لگایا کریں اس میں میری مصلحتوں کو پامال کرنا ہے یہاں بیٹھے تو ہیں اپنی مصلحت سے اور دخل دینا شروع کر دیا دوسرے کی مصلحتوں میں جن باتوں کا مجھ سے تعلق ہے اس میں کسی کو دخل نہ دینا چاہیے سب کان کھول کر سن لیں آخر بیٹھے ہوئے آپ کو کیوں جوش اٹھا اور بدون سوچے سمجھے یہ حرکت کیوں کی اور کیوں مجھ کمبخت کو پریشان کیا ۔ یہ سن کر وہ خاموش رہے ۔ تب فرمایا کہ میری بات کا جواب تو ہونا چاہیے عرض کیا کہ غلطی ہوئی ، فرمایا کہ یہ خوب سبق یاد کر لیا ہے کہ غلطی ہوئی بہت اچھا غلطی ہوئی اب میں پوچھتا ہوں کہ غلطی کا منشاء بد فہمی یا بے فکری ، عرض کیا کہ بد فہمی ، فرمایا تو چلو یہاں سے نکلو دور ہو کیونکہ بے فکری کا علاج تو ہو سکتا تھا فکر تو اختیاری چیز ہے مگر بد فہمی کا کوئی علاج نہیں ، فطری اور قدرتی چیز کو کون بدل سکتا ہے ۔ عرض کیا کہ معافی چاہتا ہوں فرمایا کہ معاف ہے مگر کیا معافی کے یہ معنی بھی ہیں کہ نالائقیوں پر متنبہ بھی نہ کروں ، کیا تمہارا غلام بن کر رہوں کہ جو جی میں آیا کر بیٹھے ، ایسوں کی کہاں تک اصلاح کروں ، آخری فیصلہ یہی ہے کہ میں بد فہموں سے تعلق رکھنا نہیں چاہتا ، فرمایا کہ میں جو یہ سوال کرتا ہوں کہ اس غلطی کا منشاء بے فکری ہے یا بد فہمی تو میرا خیال تو یہ ہوتا ہے کہ اگر بے فکری سبب ہے تب تو امید اصلاح کی ہے اور اگر بد فہمی سبب ہے تو امید اصلاح کی نہیں اور یہ جو لوگ جواب میں کہہ دیتے ہیں کہ بد فہمی اس غلطی کا سبب ہے سو یہ واقع میں غلط بات ہوتی ہے زیادہ تر سبب بے فکری ہی ہوتی ہے مگر ان کے اندر ایک چور ہے جس کو اللہ نے میرے دل میں ڈال دیا ہے وہ یہ کہ لوگ یوں سمجھتے ہیں کہ اگر یہ کہہ دیا کہ بے فکری سبب ہے تو اس پر جرم ثابت ہو جائے گا اس لیے کہ فکر کرنا اختیاری چیز ہے اور اگر ہم بد فہمی سبب بتلائیں گے تو چونکہ وہ غیر اختیاری چیز ہے اس پر معذور سمجھے جائیں گے اور جرم میں تخفیف ہو جائے گی اور یہاں اس کا عکس اثر ہوتا ہے اور واقعہ بھی یہی ہے کہ جو چیز اختیاری ہے مثلا بے فکری ہو تو اس کا علاج بھی ہے یعنی فکر تو اس میں تعلق رکھنے کی گنجائش ہے اور جو چیز غیر اختیاری ہے مثلا بد فہمی تو اس کا علاج بھی غیر اختیاری ہے اس میں تعلق رکھنے کی گنجائش نہیں ۔ چنانچہ میں کہہ دیتا ہوں کہ بد فہموں کی اصلاح کی امید نہیں لہذا میں خدمت سے معذور ہوں تب آنکھیں کھل جاتی ہیں ، فرمایا کہ معترضین اور سب کو معذور سمجھتے ہیں ان کی غلطیوں کی تاویلیں کرتے ہیں اور میری اصلاح کی کوئی توجیہ نہیں کرتے ۔
( ملفوظ 151 ) سرحد کے ایک نواب صاحب کا خط
فرمایا کہ ایک ریاست ہے وہاں سے کئی روز ہوئے ایک صاحب کا خط آیا تھا جواب کے لیے نہ ٹکٹ تھا نہ کارڈ اس میں لکھا تھا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ عامل ہیں ، میرا ایک کام ہے وہ آپ کر دیں اور میں اپنے آدمی کو آپ کی خدمت میں بھیج رہا ہوں ۔ میں نے اس خیال سے کہ کارڈ پر جواب دینے میں میرے تو تین ہی پیسے خرچ ہوں گے ان کا اگر آدمی آیا تو نہ معلوم کس قدر روپیہ صرف ہو جائے گا اس لیے کارڈ لکھ دیا کہ آپ آدمی بھیجنے کی ہر گز تکلیف نہ فرمائیں اور نہ کوئی خط اس سلسلہ میں روانہ کریں مجھ کو عملیات نہیں آتے ۔ ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت یہ مقام سرحد پر ہے اور یہ نواب ہیں جن کا خط ہے فرمایا کہ واقعی نواب ہیں اور ہیں بھی بے تکلف ، جی میں آ گیا تو گالیاں ہی دے دیں ۔ چنانچہ آج پھر ان کا خط آیا ہے سلسلہ قطع نہیں کیا وہی اصرار ہے کہ ہمارا کام کرو اگر ہمارا کام کر دیتے تو کیا جہنم میں چلے جاتے ۔ اب بتلائیے میں نے اس میں کون سا زہر ملا دیا تھا ، تین پیسے خرچ کیے اور گالیاں کھائیں ۔ میں نے جب کبھی بھی اپنے اصول کے خلاف کیا جبھی تکلیف پہنچی ، میں نے تو یہ خیال کیا کہ بے چاروں کا نقصان نہ ہو بلا وجہ روپیہ صرف ہو جائے گا لفافہ پر پتہ میں میرے نام پر لکھا ہے کہ فلاں ( یعنی اشرف علی ) عامل بھلا میرے کون سے اشتہار شائع ہو رہے ہیں ، بد تہذیب آدمی کوڑ معز بس اب جواب نہ دوں گا ، کیوں اپنے پیسے خراب کیے اور ماشاء اللہ اب کی مرتبہ بھی ٹکٹ ندارد بہت ہی اچھا ہو جو آ جائیں اور میں یوں کہوں دور ہو نالائق سرائے میں جا کر ٹھر مگر بحمد اللہ اس واقعہ سے عقلا کوئی ناگواری نہیں ، گو طبعا ناگواری ضرور ہے اور عقلا اس لیے نہیں کہ اس سے کوئی تعلق نہیں جس سے رعایت کی توقع ہوتی ایک اجنبی شخص ہے اس لیے کچھ بھی گرانی نہیں یہ بھی لکھا ہے کہ کب تم نے اپنے آپ کو ولی مشہور کیا ہے بڑا ہی کوئی بد فہم اور کوڑ مغز معلوم ہوتا ہے بھلا میں نے کب اپنے کو ولی مشہور کیا ہو گا ۔ اس سے بھی زیادہ سخت الفاظ لکھے ہیں اگر میں سچی بات بتلا دیتا ہوں جیسا اب بتلا دیا تھا کہ میں عامل نہیں تو لوگ یہ معاملہ کرتے ہیں ، میں نے تو نقصان سے بچانا چاہا کہ آنے میں بہت روپیہ برباد ہو گا ، وہاں سے یہ تبرکات ملے ، اللہ بچائے بد فہمی سے اگر ان سے کچھ اینٹھ لینا چاہے پھر کام بھی نہ ہوتا درست ہو جاتے اور خوش اور معتقد رہتے بلکہ اس وقت کام نہ ہونے پر یہی کہتے کہ جی ہماری قسمت کام نہ ہوا ان کے عامل ولی ہونے میں تو کچھ شبہ نہیں اور یہ بھی لکھا ہے کہ ہمارا کام کرنا پڑے گا تم کو تکبر ہے فرمایا کہ ایسے بد فہموں کو کسی کو دق کرنے میں بڑا مزہ آتا ہے ۔ ان لوگوں میں بد تمیزی بہت ہی بڑھ گئی ہے ، نالائق نے لکھا ہے کہ رجسٹری کیوں نہیں پہنچی ، میں امراء کی خاطر تو کرتا ہوں مگر وقعت نہیں کرتا ، میرے قلب میں ان کی عظمت ہی نہیں ہاں دل آزاری یا تحقیر بھی نہیں کرتا ۔ اب بھلا ایسے بد فہموں کا کیا کوئی علاج کرے اور کیا ایسے لوگوں کی کوئی اصلاح کر سکتا ہے ، ایک سیدھی اور سچی بات پر کس قدر طیش میں ہے ، کوئی اس نالائق سے پوچھے کہ کام بھی کرانا چاہتا ہے ، غرض مند بھی ہے اور اس قدر نخرے جیسے کوئی اس کے باوا کا نوکر ہے ، آ جائے ذرا جب بتلاؤں گا چھٹی کا کھایا پیا سب ہی اگل کر نہ جائے ۔

You must be logged in to post a comment.