ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک گاؤں والے جو دیندار اور بے تکلف حضرت مولانا گنگوہی ؒ کو پاؤں دباتے ہوئے دیکھا ـ کہنے لگا کہ مولوی لگا کہ مولوی جی ، جی تو بڑا خوش ہوتا ہوگا کہ میں پاؤں دبوا رہا ہوں ـ فرمایا کہ ہاں خوش تو ہوتا مگر نہ اس وجہ سے کہ میں بڑا ہوں ـ بلکہ راحت کی وجہ سے تو وہ کہتا ہے کہ بس تو تم کو پاؤں دبوانے جائز ہے کیا ٹھکانہ ہے اس فہم کا ـ
اقوال
( ملفوظ 66 )اصل ادب راحت رسانی ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں تو دوستوں سے کہا کرتا ہوں کہ اصل چیز راحت رسانی ہے ـ خواہ اسکا نام ادب رکھئے ـ یا تعظیم حضور ﷺ نے حضرات صحابہ کو اپنے لئے کھڑے ہونے سے منع فرمادیا تھا ـ کیا صحابہ کا جی چاہتا ہوگا مگر جب یہ معلوم ہو گیا کہ حضور ﷺ کو اس میں راحت ہے ـ
اس کے خلاف نہیں کرتے تھے ـ یہ ہے اصل ادب اور تعظیم ـ
15 ذی الحجہ 1350 ھ مجلس بعد نماز جمعہ
( ملفوظ 65 )بڑی مجلس میں ہو ایک سے مصافحہ کرنے کا مواخزہ
ایک نو وارد صاحب حاضر ہوئے اور حضرت والا سے مصافحہ کرنے کے بعد تمام مجلس سے مصافحہ شروع کر دیا ـ حضرت والا نے فرمایا کہ یہ طریقہ کس نے سکھایا ہے ـ اگر مجلس میں پچاس آدمی ہوں
ہوں تو اچھا خاصہ مشغلہ ہو جائے گا ـ اپنے اپنے کام چھوڑ کر تمھاری طرف متوجہ ہوں ـ ایک شخص سے مصافحہ کر لیا ـ سب کی طرف سے ہوگیا ـ آخر سلام کو الگ الگ کیوں نہیں کیا ـ معاشرت تو لوگوں کی بربادی ہوگئی ـ غرض ہر چیز کے اصول ہیں ـ ادنی سی بات ہے ـ پنکھا کھینچنا اس کے بھی آداب ہیں ـ
مثلا اگر کوئی پنکھے کے قریب آنے لگے اس وقت پنکھار روک دینا چاہیے ـ ورنہ مشین میں اور آدمی میں فرق ہی کیا رہا کہ آپ کے مزاج میں تو انگریزوں کا سا انتظام ہے ـ میں نے کہا کہ یوں کیوں نہیں کہتے کہ انگریزوں میں ہمارا سا انتظام ہے ـ انگریزوں نے بھی اسلام ہی سے یہ سبق سیکھا ہے ـ وہ اور کہاں سے لائے تھے ـ حیدر آباد دکن میں میں ایک بہت بڑے عہدے دار کے ساتھ ٹکسال دیکھنے گیا ـ ایک انگریز سیر کرانے والا تھا ـ ان کی خاطر سے بہت اہتمام کے ساتھ اس نے سیر کرائی ـ جب میں رخصت ہونے لگا تو میں نے اس انگریز سے کہاں کہ تمھارے اخلاق سے بڑا جی خوش ہوا ـ تمھارے اخلاق تو ایسے ہیں جیسے مسلمانوں
کے ہوتے ہیں ـ وہ عہدہ دار باہر آکر مجھ سے کہنے لگے کہ آپ نے عجیب طرز سے شکریہ ادا کیا کہ اس کی تعریف بھی کردی اور اس کو گھٹا بھی دیا ـ میں نے کہا کہ واقعہ ہے کہ یہ ہمارے گھر کی چیز ہے جو انہوں نے اختیار کر لی اس لئے ان کو ہمارے ساتھ تشبیہ دی جا سکتی ہے نہ کہ برعکس ـ
( ملفوظ 64 ) اپنے دینی کارناموں کی تفصیل میں نفس کا کید خفی
ایک صاحب نے حضرت والا سے عرض کیا کہ میں نے فلاں مقام پر ایک مدرسہ کا افتتاح کیا ہے ـ اس کے یہ انتظامات ہیں اور ایک جلسہ مدرسہ کا کیا گیا اور بڑی دیر تک اس کی تعریف کرتے رہے ـ
حضرت والا نے سن کر فرمایا کہ جتلانے کیوں ہو کہ میں نے مدرسہ جاری کیا ـ جلسہ کیا کچھ خبر بھی ہے ـ
اسمیں نفس کی آمیزش ہو جاتی ہے ـ عرض کیا کہ بیان سے یہ مقصود نہیں فرمایا کہ تم کو کیا خبر اپنے مرض کی نفس وہ چیز ہے کہ اسکا کید خفی اہل نظر کو بھی بعض اوقات محسوس نہیں ہوتا ـ ایک بزرگ کسی درویش کے مہمان ہوئے ـ اس درویش نے خادم سے کہا کہ اس صراحی میں سے پانی لاؤ جو ہم دوسرے حج میں لائے تھے ـ ان بزرگ نے فرمایا کہ بندہ خدا تو نے دونوں حجوں کا ثواب برباد کیا تو کام کر کے جتلایا نہیں کرتے اور اگر دعاء مقصود تھی تو اس تفصیل کی ضرورت نہیں ـ بعض اوقات اپنے مرض کی خبر نہیں ہوا کرتی اور جگہ تم لوگوں لو روک ٹوک نہیں کی جاتی میں کرتا ہوں اس وجہ سے بدنام ہوں دوسرے لوگ عوفی اخلاقی کی وجہ سے
کچھ نہیں بولتے مجھ سے ایسے عرفی اخلاقی اختیار نہیں کئے جاتے ـ میں مکرر کہتا ہوں کہ یہ بھی نفس کی شرارت ہے کہ دعاء کے بہانے سے اپنی رؤیداد سنادی ـ حضرت نفس کے کید نہایت ہیں خفی ہیں ـ
عرض کیا کہ غلطی ہوئی فرمایا کہ اتنی سختی کے بعد آپ نے تسلیم کیا ـ
( ملفوظ 63 ) بے عقل لوگوں کا عہدہ پر آ جانا
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل تو اکثر بد فہم بد عقل ہی لوگ عہدوں پر ممتاز ہیں ـ ایک شخص کہتے تھے کہ لکھنو میں میو نسپل بورڈ کے قوانین بدلے گئے تھے ـ ان میں قبرستان کے متعلق بھی کچھ قوانین تھے ایک شخص کا انتقال ہوا ـ وارثوں نے قبر کی جگہ کے لئے درخواست کی تو حکم ہوتا جائے تین روز قبل ـ جنازہ کی مناسبت سے ایک قصہ بیان کیا کہ ایک گاؤں میں میں نے ایک حافظ صاحب نے کہا کہ مجھ کو نماز کی دعاء میں کچھ شبہ ہے ـ میں اس کو صحیح کر لوں تب پڑھاؤں گا ـ
گاؤں والوں نے نماز جنازہ کسی دوسرے شخص سے پڑھوا کر دفن کر دیا اور وہ حافظ صاحب دعاء صحیح کر کے اگلے روز فرماتے ہیں کہ اب لے آؤ ـ جنازہ میں نماز پڑھادوگا ـ میں نے جب یہ واقعہ سنا تو میں نے ان حافظ
صاحب کا نام حافظ جنازہ رکھ دیا تھا تو بعض باتیں ایسی بے ڈھنگی ہوتی ہیں ـ
( ملفوظ 62 )دارالعلوم دیوبند کی سرپرستی سے استعفاء کا واقعہ
ایک مدرسہ عربیہ کا ذکر تھا ـ اس سلسلہ میں فرمایا کہ علماء کو تو اپنے پڑھنے پڑھانے میں مشغول رہنا چاہئے ـ ( دیکھیئے جس قدر متمدن اور سیاسی قومیں ہیں ان میں بھی تقسیم عمل معمول ہے اگر ؎
سب ایک ہی طرف اور ایک ہی کام پر لگ جائیں تو ملک کا تمام نظام درہم برہم ہو جائے ـ اس مدرسہ کی سرپرستی میرے سر تھوپ دی گئی مگر وہاں سیاسیات کا زور ہو گیا ـ اس لئے میں یہ چاہتا رہا کہ کس طرح اس سے سبکدوش ہو جاؤں مگر اب موقع ہاتھ لگ گیا ـ اس لئے مستعفی ہو گیا اور یہ استعفی بعض ممبروں کی ایک تحریر کی بنا پر تھا ـ آخر تہزیب اور شائستگی بھی کوئی چیز ہے ـ اور اصل بات تو یہ ہے کہ جس چیز کا تحمل نہ ہو اس سے علیحدہ ہونا ہی مناسب ہے ـ مجھے ایسی چیزوں سے مناسبت بھی نہیں ـ
اس لئے ایسی چیز گراں ہوتی ہے ـ اس تحریر کے بعد یہاں مدرسہ کے ممبران وفد کی صورت میں آئے تھے ـ ان میں وہ صاحب بھی تھے جن کی وجہ تحریر تھی ـ میں نے ان سے صاف کہدیا کہ مجھ کو اس آپ کی تحریر سے رنج پہنچا اور ہے رہے گا ـ آپ سے اس شکایت ہوئی ہے اور رہے گی ـ جب تک کہ اس کا تدارک نہ ہو گا اس پر معافی چاہی میں نے کہا کہ جس درجہ کی غلطی ہے اسی درجہ کی معزرت ہو اور چونکہ اس تحریرکا اعلان ہو چکا ہے ـ لہزا معزرت کا بھی اعلان ہونا چاہئے میں نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی سرپرست پر اعتماد نہ ہو تو ایسے شخص کو سرپرست بنایا جائے ـ جس پر اعتماد ہو وہ کوئی بھی ہو پھراختیارات اس کے وہی ہوں گے جو سابق سرپرستوں کے رہ چکے ہیں ـ اس پر ایک صاحب بولے کہ سرپرست کے تدین پر فہم پر اعتماد ہے مگر اہل غرض سرپرست کی رائے کو بدل دیتے ہیں ـ میں نے کہ کہ یہ شبہ تو مجلس عاملہ اور کارکنان مدرسہ پر بھی ہو سکتا ہے ـ آخر میں میں نے کہدیا کہ میں نہ اس غلطی کے اعلان کا منتظر ہوں نہ مستدعی ہوں نہ مشتاق ہوں اگر ساری عمر بھی آپ ایسا نہ کریں تو مجھے کوئی ضرورت نہیں ـ
صرف اپنی رضا کی شرط بطلائی ہے اور حضرت واقعہ تو یہ ہے کہ اب نہ سرپرستی کا وقت ھے نہ پا پرستی کا اب تو لطیفہ وقت اس کا ہے کہ ایک گوشہ میں خاموش گمنام ہو کر بیٹھ جائے ـ مولانا رومی فرماتے ہیں ـ
ہیچ کنجے بیدرو بے دام نیست جز بخلوت گاہ حق آرام نیست
( دنیا کا کوئی کونہ بغیر خطرات کے نہیں ہے ـ راحت خلوت گاہ حق کے سواکہیں نہیں ہے 12 )
( ملفوظ 61 )امام فن حضرت حاجی صاحب کے دو ملفوظ
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ہمارے حضرت حاجی صاحب فرمایا کرتے تھے کہ کسی نیک
عمل کر لینے کے بعد پھر جب کسی نیک عمل کی توفیق ہو تو یہ اس کی علامت ہے کہ پہلا عمل قبول فرما لیا گیا ـ تب ہی تو پھر جب کس دن یک عمل توفیق ہو تو یہ اسکی علامت ہے کہ پہلا عمل قبول فرما لیا گیا ہے ـ
تب ہی تو پھر عمل کی توفیق نصیب ہوئی ورنہ مطر و دو مخزول ہوتا ہے ـ حضرت اپنے فن کے امام تھے ـ مجتہد تھے ـ عجیب و غریب تحقیقات ہوتی تھیں ـ ایک شخص نے حضرت سے عرض کیا کہ حضرت ذکر و شغل کرتا ہوں مگر کچھ نفع نہیں ہوتا ـ فرمایا کہ بھائی ذکر میں مشغول ہو اللہ اللہ کرنیکی توفیق دے دی گئی ـ یہ کیا تھوڑا نفع ہے ـ
( ملفوظ 60 )حضرت کی تواضع
ایک صاحب کی غلطی پر تنبیہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ میں تو خود ان آنے والے حضرات کی برکت سے م ستفیض ہونے کا متمنی رہتا ہوں ـ اس لئے کہ مجھ کو اپنی حالت خود معلوم ہے ـ کبھی اس کا وسوسہ
بھی نہیں ہوا اور نہ آتا ہے ـ کہ مجھ سے انکو کوئی نفع پہنچ رہا ہے ـ حتی کہ عین مواخزہ کی حالت میں بھی
اپنے مخاطب کو اپنے سے افضل سمجھتا ہوں ـ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے ـ مگر اصلاح کی ضرورت سے تادیب کرنا پڑتی ہے ـ
( ملفوظ 59 ) استفسار پر اپنی رائے کا اظہار کر دینا ہی ادب ہے
ایک نو وارد صاحب نے درخواست بیعت کی ـ حضرت والا نے بیعت کے متعلق اصول اور قواعد
بیان کر کے فرمایا کہ اب ان اصول اور قواعد کو سن لینے کے بعد جو رائے قائم کی ہو وہ بتلا دو ـ اس پر ان صاحب نے عرض کیا کہ جو حضرت کی رائے ہو فرمایا کہ قواعد بتلانے کے بعد استفسار کے جواب میں یہ کہنا کہ جیسے رائے ہو نہایت بد تہزیبی ہے ـ جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ استفسار لغو ہے کیا کلام کی معاشرت کا کوئی ادب نہیں ـ استفسار پر اپنی رائے کو ظاہر کرنا چاہئے ـ دوسرے لغو پر بوجھ ڈالنا خلاف تہزیب ہے ـ کام تو اپنا اور بوجھ دوسرے پر یہ کیا لغو حرکت ہے ـ مجھے کیا خبر کسی کی مصلحت کی اور جب خبر نہیں ـ میں کیا رائے دے سکتا ہوں ـ آدمی کو فہم سے کام لینا چاہئے ـ
دوسرے پر بوجھ ڈالنا یا ستانا یہ کو نسی عقلمندی کی بات ہے لوگوں میں فہم کا اس قدر قحط ہو گیا ہے کہ
موٹی موٹی باتوں کو نہیں سمجھتے ـ یہ کونسی باریک بات تھی ـ جس کا جواب خود نہیں دے سکے ـ مجھ پر بار
ڈالنا چاہتے ہیں ـ خود تجویز کر کے مجھ کو بتلانا چاہئے ـ اس پر بھی وہ صاحب خاموش رہے ـ حضرت والا کے مکر سہ مکر فرمانے پر بھی کوئی جواب نہیں دیا ـ فرمایا کہ اسوقت آپ یہاں سے اٹھ جائیے ـ آپ تکلیف پر تکلیف پہنچا رہے ہیں ـ جس وقت جواب سمجھ میں آجائے ـ اسوقت آئیے اور آکر مجھ کو اطلاع کر دیجئے وہ صاحب مجلس سے اٹھ کر چلے گئے ـ
15 ذی الحجہ 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم جمعہ
( ملفوظ 58 )تجدید دین کے کام پر اللہ کا شکر
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ طریق بالکل مردہ ہو چکا تھا ـ لوگ بیحد غلطیوں میں مبتلا تھے ـ بحمدللہ اب سو برس تک تو تجدید کی ضرورت نہیں رہی اگر پھر خلط ہو جائے گا تو پھر کوئی اللہ کا بندہ پیدا ہو جائے گا ہر صدی پر ضرورت ہوتی ہے ـ تجدید کی اس لئے کہ مدت کے بعد نری کتابیں ہی کتابیں رہ جاتی ہیں ـ اب تو خدا کا فضل ہے کہ وضوح ہو گیا اور کتابیں فی نفسہ تو کافی ہیں مگر لوگ اس میں تحریفیں کہ لیتے ہیں اور کتابیں تو در کنار قرآن پاک کو ھدی اور بینات فرمایا گیا ہے مگر اس میں بھی دیکھ لیجئے کہ لوگ معانی اور مطالب میں کس قدر گڑبڑ مچا دیتے ہیں ـ

You must be logged in to post a comment.