ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل ملانوں کو لوگ بیگاری ٹٹو سمجھتے ہیں کہ پالان کسا سواری لی
ٹٹکاری دی چلدیئے اور یہاں پر یہ بات ہے نہیں ـ اسی وجہ سے خفا ہیں سو خفا ہوا کریں ـ
میں متکبروں کی وجہ سے اصول صحیحہ کو نہیں چھوڑ سکتا ـ میر ا ایسے لوگوں کے لئے بھی یہی معمول ہے کہ میں واسطہ سے گفتگو کرتا ہوں ـ اس لئے کہ واسطے سے جو بات چیت ہو گی اس میں مخاطب سامنے نہ ہو گا تو طبیعت میں اتنا تغیر نہ ہو گا جتنا کہ سامنے ہونے سے ہوتا یہ سب تجربہ کے بعد اصول قائم کیئے ہیں ایک ایسے ہی شخص کی کسی غلطی پر میں نے مواخزہ کیا تھا اور وہ بھی بالواسطہ اس نے یہاں سے جا کر گھر سے خط لکھا کہ علم کا ادب تھا ـ ورنہ میں انتقام لیتا اور اگر بلا واسطہ گفتگو ہوئی تو معلوم نہیں وہ شخص کہاں پہنچتا ـ درحقیقت یہ کام ہی ایسا ہے ـ اصلاح خلق کا اس کے ساتھ خوش خلق مشہور ہو ہی نہیں سکتا ـ مگر یہ ناگوری لوگوں کی اسی وقت تک ہے جب تک کہ بصارت نہیں ـ بصارت ہو جانے کے بعد ہزار جان سے قربان ہونے کو تیار ہوں گے ـ اس کی تائید میں ایک واقعہ بیان فرمایا کہ یہاں ایک شخص تھے ـ وہ آنکھیں بناتے تھے ـ
ان سے ایک رئیس نے فرمائش کی کہ میں اس علاج کو دیکھنا چاہتا ہوں چناچہ ایک شخص آنکھیں بنوانے آیا انہوں نے رئیس کو مطلع کیا ان کے سامنے سامان رکھا گیا ـ جب آپریشن ہونے لگا ـ مریض نے معالج کو گالیاں دینا شروع کیا مگر وہ اپنا کام کرتے رہے رئیس کو تعجب ہوا کہ تم کو نا گواری نہیں ہوتی وہ کہنے لگے یہ معزور ہے ـ اور میں جانتا ہوں کہ اب تھوڑی دیر میں یہ دعائیں دے گا ـ چناچہ جب آپریشن ہو چکا اس کے تھوڑی دیر بعد اس نے دعائیں دیں ـ
خطا معاف کرائی اور فیس پیش کی ـ یہ ہی صورت یہاں پر سمجھ لیجئے اور اگر یہ صورت نہ بھی ہو تو انتظار کس کو ہے ـ اگر بد اعتقاد ہوں تو ہوں اللہ تعالی نیت خالص عطا فرمائے ، لوگوں کے حسن اعتقاد سو اعتقاد سے ہوتا ہی کیا ہے ـ لوگ تو ایسوں سے خوش ہیں جیسے آج کل کے شاہ صاحب ہوتے ہیں کسی کو باوا کہدیا ـ کسی کو بیٹا بنا لیا ـ
بس یہ ان سے خوش اور وہ ان سے خوش اس کی مثال ہے ـ جیسے مرتشی اہلکار سے سب خوش ہیں اور جو رشوت نہ لے اس سے نا خوش یوں سمجھتے ہیں کہ جب اسنے لیا ہے تو کام ضرور کرے گا ـ چاہے نہ بھی کرے سو ہم سے تو ایسا نہیں بنا جاتا ـ چناچہ یہاں پر لوگ آتے ہیں ان سے بڑی چھان بین ہوتی ہے ـ یہ دیکھا جاتا ہے کہ کون طالب دنیا ہے اور کون طالب دین ـ اس چھان بین پر دہلی کا ایک واقعہ بیان فرمایا کہ مجھ کو مدرسہ عبدالرب کے جلسہ میں مدعو کیا گیا ـ ایک صاحب یہاں سے میرے ساتھ ریل میں سوار ہوئے ـ مجھ کو کچھ شبہ ہوا ـ میں نے پوچھا تو معلوم ہوا کہ یہ بھی جلسہ میں جارہے ہیں ـ میں نے کہا کہ آپ میرے پاس نہ ٹھریں ـ انہوں نے کہا کہ نہیں میں اور جگہ ٹھروں گا ـ
بلا ظاہری سب کے یہ بات میرے دل میں آگئی ـ اس لئے میں نے صف کہدیا اب دہلی پہنچے تو وہ بزرگ اسٹیشن سے میرے ساتھ بیٹھ کرمدرسہ آگئے ـ وہاں پر شربت وغیرہ پلایا گیا ـ وہ بھی شریک رہے ـ میں نے ان کی اس حرکت پر صبر کیا اور سمجھا کہ عام چیز ہے ـ کوئی حرج نہیں پھر شام کو کھانے پر موجود ہوگئے ـ مولانا عبدالعلی صاحب اپنے پاس سے مہمانوں کے کھانے کا انتظام فرماتے تھے مدرسے سے نہیں کرتے تھے اور مجھ کو اس کی اطلاع بھی فرمادی تھی کیونکہ سمجھتے تھے یہ شکی آدمی ہے ـ بڑی ہی رعایت فرماتے تھے ـ ان صاحب کو دستر خوان پر دیکھ کر بہت ناگواری ہوئی مگر مولانا کے سامنے کچھ کہنے کی ہمت نہ ہوئی ـ آخر ان سے کہا کہ آپ سے ایک بات کہنا ہے اور الگ لیجا کر ڈانٹا کہ یہ کیا نامعقول حرکت ہے ـ تم کو بدون دعوت کے کھانا کب جائز ہے ـ خاص کر تصریحا کہدینے کے بعد جب ان کا پاپ کٹا اب فکر ہوئی کہ اگر مولانا پوچھ بیٹھے کیا کہوں گا ـ مگر مولانا کچھ بولے نہیں سمجھ گئے کہ گئے تھے دو ـ اور واپس آیا ایک تو اسی واسطے گیا ہوگا ـ ایسے واقعات اکثر مجھ کو سفر میں پیش آتے تھے
اب تو مدت سے سفر ہی بند ہوگیا ـ سو سب قواعد ایسی ضرورتوں سے تجویز کئے گئے ـ ضرورت سب کچھ کراتی ہے جو ضرورتیں پیش آتی رہیں ـ ویسے قواعد و ضوابط مقرر ہوتے گئے ـ اب دو تین روز سے بعض مہمانوں کے لئے استثناء ہو رہا ہے ـ اور یہ استثناء تو قواعد کے خلاف مگر ان لوگوں کی محبت کی وجہ سے ان کو مستثنٰی قرار دے رکھا ہے ـ
( مراد ان مہمانوں سے طلبہ مدرسہ دیوبند و مدرسہ مظاہرالعلوم سہارنپور کے ہیں 12 جامع ) ان لوگوں سے تو خاص تعلق اور بے تکلفی ہے ـ بوجہ طالب علم ہونے کی اور اس قسم کے بہت سے استثناء ہیں ـ
اقوال
( ملفوظ 56 ) استفتاء میں دستخط کو ضروری نہ سمجھنا
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہاں پر جو استفتاء آتے ہیں میں جواب لکھ کر دستخط کو ضروری نہیں
سمجھتا ـ اس پر لوگ لکھتے ہیں کہ آپ نے جواب تو دیا مگر دسخط نہ کئے میں لکھتا ہوں کہ دو صورتیں ہیں یا تو میرا خط پہچا نتے تو دسخط کس طرح پہچانو گے ـ
( ملفوظ 55 ) عوام الناس کے لئے حضرت کے کچھ اور اصول
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ بعض لوگ قادیانی شیعوں کی کتاب بھیج دیتے ہیں کہ اس کا جواب لکھ دو انکی تو ایک سطر ہوگئی ـ یہاں ایک پہاڑ لد گیا چونکہ میرے یہاں اصول ہیں میں لکھ دیتا ہو کہ کتاب خود دیکھ کر ایک ایک شبہ کا جواب لیتے رہو خواہ کتنی ہی مدت لگے مگر اتنا کام کون کرے ـ اس جواب سے ان کا وضو شکست ہو جاتا ہے ـ مگر مدرسہ والے
ایسا ضابطہ کا برتاؤ نہیں کر سکتے اس لئے کہ کہیں لوگوں کو بد دلی نہ ہو جائے اور ان کو ضرورت ہے ـ خوش دلی کی تاکہ مدرسہ کی اعانت میں خلل نہ ہو اور اہل مدارس مو اکثر امور میں ایسی رعایتوں کی ضرورت ہوتی ہے ـ
چناچہ چندہ لیکر شکریہ ادا کرنا یہ بھی اسی کی رعایت کی ایک فرد ہے ـ میں نے اس شکریہ کے متعلق ایک مضمون بیان کیا تھا ـ میرٹھ میں مؤتمر الانصار کا جلسہ تھا ـ وہاں چندہ کی بھی تحریک کی گئی ـ میں نے اس تحریک کے ساتھ اپنے بیان میں یہ بھی کہہ دیا کہ ہم چندہ والوں کا شکریہ ادا نہکریں تے خواہ دو یا نہ دو اس لئے کہ شکریہ وہ ادا کرے جو خود منتفع ہو ـ جب یہ نہیں تو کیسا شکریہ ـ
لوگ سمجھتے تھےکہیہمضمون چندہ کے لئے مضر ہوگا ، مگر بہت مفید ہوا خوب روپیہ برسا ـ
( ملفوظ 54 )طلباء کے بارے میں حضرت کا ایک معمول
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میرا ایک یہ بھی معمول ہے کہ اگر کوئی طالب علم کوئی بات پوچھتا ہے تر لکھ دیتا ہوں کہ اپنے استاتزہ سے پوچھو مگر طالب علموں کا طبقہ بڑا ہوشیار ہوتا ہے ـ
جواب میں لکھتے ہیں کہ پوچھا تھا مگر تسلی نہیں ہوئی ـ میں لکھتا ہوں کہ اپنا شبہ اور ان کا جواب نقل کرو
اور تسلی نہ ہونے کی وجہ لکھو بس اس کے بعد ان کا سوال ختم ہوجاتا ہے
( ملفوظ 53 ) جواب میں اختصار ضروری ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جواب میں اگر اختصار نہ ہو تو یہ کام ڈاک کا روز کے روز کیسے ختم ہو سکتا ہے ـ میں زمانہ طالب علمی میں مدرسہ دیوبند میں فتاوی لکھا کرتا تھا ـ ایک سوال آیا بہت طویل تھا میں نے بھی اس پر بہت طویل جواب لکھا ـ حالانکہ مختصر جواب بھی کافی ہو سکتا تھا اور لکھ کر حضرت مولانا یعقوب
ٖصاحب ؒ کے سامنے دستخط کے لئے پیش کیا ـ دیکھ کر اور دستخط فرما کر فرمایا کہ معلوم ہوتا ہے کہ تم کو فرصت بہت ہے ہم تو جب دیکھیں گے کہ جب سامنے کاغزات کا انبار لگا ہوگا کہ اس وقت بھی ایسے ہی طویل مضمون لکھتے ہو یا نہیں ـ اب حضرت کا فرمانا یاد آجاتا ہے ـ
( ملفوظ 52 )سختی اور مضبوطی میں فرق
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ لوگ مجھ کو سخت بھی بتلاتے ہیں حالانکہ سختی اور مضبوطی میں بہت بڑا فرق ہے ـ میں سخت نہیں ہوں بحمد للہ اصول صحیحہ میں مضبوط ہوں ـ
جیسے ریشم کا رسا کہ نرم تو اس قدر کہ جس طرح چاہو موڑ لو اور مضبوط اس قدر کہ اگر اس سے ہاتھی کو بھی باندھو تو وہ بھی کچھ نہیں بنا سکتا ـ مضبوطی کو لوگ سختی سے تعبیر کرتے ہیں اگر اصول صحیحہ پر عمل کرے یا کہ کرواے تو اسمیں سختی کی کیا بات ہے ـ خیر یہ تو لطیفے ہیں ـ اصل یہ ہے کہ بدون قواعد اور ضوابط کے کام نہیں ہو سکتا ـ خصوص اس زمانہ میں جبکہ بدفہم دنیا میں بھرے پڑے ہیں اور ان لوگوں کو تو ہر دلعزیز ہی خوش رکھ سکتا ہے خوشی کا انجام وہ ہو گا جیسے ایک حکایت ہے ـ کہ ایک شخص ہر دلعزیز تھے کسی دریا کے کنارے پہنچ گئے دیکھا کہ ایک شخص اس کنارے بیٹھا رو رہا ہے ـ وہ دوسرے کنارہ
پر جانا چاہتا ہے اور ایک اس کنارے رو رہا ہے ـ وہ اس کنارے آنا چاہتا ہے ـ ان کے دل میں آیا کہ دونوں کو پار کروں اپنے قریب والے کو لیکر چلا جب نصف دریا میں پہنچا تو دل میں خیال ہوا کہ وہ بھی رو رہا ہے ـ اب اتنا ہی اس کا کام کروں ـ یعنی اس کو یہیں چھوڑ کر اتنی ہی دور اس کو لانا چاہیئے
تاکہ اس کی بھی آزادی نہ ہو ـ پس اس کو بیچ دریا میں چھوڑا اس کو لینے گیا یہ یہاں پر ڈوبنے لگا
جب اس کو لے کر اس طرف چلا اس کو ڈوبتے دیکھ کر اس کو چھوڑ کر اس کی طرف چلا اس کے پاس نہ پہنچا تھاکہ یہ ڈوب کر مر گیا ـ اب اس طرف لوٹا تو وہاں تک نہ پہنچا تھا کہ وہ بھی ختم ہواـ سو ہر دلعزیزی کا یہ نتیجہ ہے مجھ سے ایسی ہر دلعزیزی کی کوئی امید نہ رکھے میں ہرگز اصول صحیحہ کو نہیں چھوڑ سکتا ـ
لوگ تو یہ چاہتے ہیں کہ ہماری غلامی کیجائے مگر جب میں خود ہی دوسروں سے غلامی نہیں چاہتا
پھر ہی ان کی کیوں غلامی کروں ـ البتہ اصول صحیحہ کے تم بھی غلام بنو اور میں بھی ـ ان ہی اصول میں سے میرا ایک یہ معمول بھی ہے کہ ایک خط میں صرف ایک مضمون ہو البتہ اگر اس ایک ہی کے چند اجزاء ہوں تو دوسری بات ہے ورنہ اگر سب مستقل مضمون ہوں تو میں واپس کر دیتا ہوں کہ ایک خط میں ایک ہی سوال آنا چاہیئے ـ
( ملفوظ 51 )اصول ضوابط سے لوگوں کی گھبراہٹ
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل اصول اور قواعد سے لوگ گھبراتے ہیں ـ ایک محنتی ولایتی طالب علم مراد آباد سے یہاں پر آئے تھے انہوں نے واپس جا کر یہاں کے ضوابط کے متعلق غیر جوابی خط لکھا کہ قرون اولی میں ایسے قواعد اور ضوابط نہ تھے ـ اس لئے یہ بدعت ہیں ـ اول تو یہ ہی صحیح نہیں کہ قواعد ور ضوبط نہ تھے ـ ضروری قواعد ہمیشہ رہے ہیں ـ دوسرے میں پوچھتا ہون کہ جس مدرسہ میں ان طالب علم صاحب نے کتابیں ختم کی ہیں ـ خود وہاں ایسے قواعد تھے کہ صبح 6 بجے فلاں سبق اور سات بجے فلاں سبق تو انہوں نے خود علم بطریق بدعت حاصل کیا ہے ـ
کیا خرافات اعتراض ہے ـ اسی طرح ایک شخص نے کہا تھا کہ فلاں چیز حضور کے زمانہ میں نہ تھی ـ اس لئے بدعت ہے ـ میں نے کہا کہ اگر یہی مدار ہے بدعت کا تو تم بھی حضور کے سامنے نہ تھے ـ لہزا تم خود بھی بدعت ہو ـ
( ملفوظ 50 ) مدرسہ مقصود نہیں رضائے حق مقصود ہے
ایک صاحب نے مدرسہ دیوبند کے فتنہ حاضرہ کا ذکر کیا اور اپنی رائے کا بھی اظہار کیا کہ اگر ایسا ہو جاوے فتنہ بند ہو جائے ـ حضرت والا نے سن کر فرمایا کہ اگر آپ یہ مشورہ کارکنان مدرسہ کو دیں تو مناسب ہے ـ میرے سنانے سے کیا فائدہ مگر اتنا بتلائے دیتا ہوں کہ یہ مدرسہ دیوبند میں نیا فتنہ نہیں ہے ـ اس سے پیشتر بھی متعدد بار ایسا ہو چکا ہے مگر دفع ہو گیا اور وہ فتنہ اھل قصبہ کی طرف سے تھا ـ اہل قصبہ اپنا ایک ممبر بڑھانا
چاہتے تھے ـ اس پر میں نے حضرت مولانا گنگوہی کو لکھا کہ اگر بڑھ جائے تو ضرر ہی کیا ہے کثرت تو آپ کے خدام ہی کی ہے اور اگر ایسا نہ ہوا تو مدرسہ کو ٹوٹ جانے کا اندیشہ ہےـ حضرت نے جواب لکھا کہ مدرسہ مقصود نہیں ـ مقصود رضائے حق ہے اور نااھل ممبر بنانا اور کام سپرد کرنا دین کے خلاف ہے ـ سو اس پر
مواخزہ نہ ہو گا ـ کہ مدرسہ کیوں ٹوٹ گیا ـ اسکے ذمہ دار اہل فتنہ ہوں گے مگر اس پر باز پرس ہوگی کہ نااہل کو کام کیوں سپرد کیا گیا ـ
( ملفوظ 49 ) مذہب حنفی کے متعلق حضرت گنگوہی کا قول :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت مولانا گنگوہی فرمایا کرتے تھے کہ مجھ کو امام صاحب کا مذہب حدیثوں میں ایسا روشن نظر آتا ہے جیسا کہ نصف النہار میں آفتاب ـ
بات یہ ہی ہے معرفت کے لئے فہم کی ضرورت ہے ـ بدفہم لوگ شب و روز معترض رہتے ہیں ـ بینائی تو اپنی خراب اور آفتاب پر اعتراض ـ
(ملفوظ نمبر 48 ) علماء اور فقراء کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ علماء کو ضرورت ہے فقراء کی اور فقراء کو ضرورت ہے علماء کی خواہ مخواہ جماعت بندی کر رکھی ہے ـ ان دونوں فرقوں کی ضرورت کی ایک مثال ہے وہ یہ کہ بدون علم ﷽ظاہر کے ایسا ہے کہ جیسے حسین مگر ننگا اور بدون باطن کے ایسا ہے جیسے لکڑی کو قیمتی کپڑے پہنا دیئے جائیں سو دونوں کی ضرورت ہے مگر فقراء سے مراد اہل فن ہیں جو بقدر ضرورت اہل علم بھی ہیں ـ جہلا فقرا مراد نہیں ـ
14 ذی الحجہ 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم پنجشنبہ

You must be logged in to post a comment.